Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 6 دسمبر، 2022

توتو اور دادا بابا کی ٹوپی

  پیارے دوستو۔ آپ کو معلوم ہے کہ مجھے دادا بابا کی ٹوپی بہت پسندہے ۔

جب صبح صبح دادا بابا یا دادی ماں میرا پنجرہ کھولتی ہیں تو میں اُڑ کر اُن کی ٹوپی پر آبیٹھتا  ۔ٹھنڈے موسم میں یہ ٹوپی مجھے بہت اچھی لگتی ، پھر دادا بابا اپنا ھاتھ بڑھاتے تو میں اُن کے ہاتھ پر بیٹھ جاتا ہوں۔ دادا بابا اور دادی ماں بہت اچھے ہیں ، میں  کافی عرصے سے اُنہی کے ساتھ ہوں۔

جب بہت چھوٹا تھا ۔پہلے میں اپنے بابا اور ماما کے ساتھ رہتا تھا ۔ پھر ایک دن میری ماما کو کچھ ہو گیا وہ چپ چاپ لیٹی ہوئی تھی میں اُس کے پروں میں دُبکا ہوا تھا ، وہ ٹھنڈی ہو رہی تھی ، میرے بابا نے اُسےکھینچ کر اُٹھا  یاتو وہ   گھر سے باہر  نکل گئی ۔ بابا چلانے لگامجھے سمجھ نہیں آرہی ۔ صبح بابا ، ماما کواُٹھاتا  وہ اسی طرح اُڑ جاتی اور اپنی چونچ میں میرا کھانا لے کرآ تی۔ 

اُس دن بابا کو معلوم نہیں کیا ہوا وہ زورزور  سے چلا رہا تھا۔ میں نے گھر سے نیچے جھانکا تو ماں خاموش لیٹی ہوئی تھی اور بابا اُسے اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا ۔میں دوبارہ گھر میں دُبک گیا۔ بابا کا شور سُن کر کسی کی آواز آئی ۔ مٹھو کیا ہوا ؟ کیوں شور مچا رہے ہو ؟ ارے یہ کیا ہوا ؟
پھر پنجرے کا دروازہ کھلا ، ایک ہاتھ نے پہلے بابا کو پکڑا اور ایک چھوٹے پنجرے میں ڈالا پھر مجھے گھر سمیت اٹھایا اور بابا کے ساتھ رکھ دیا  ۔ 

دادا بابا کیا ہوا ؟۔کسی بچی کی آواز آئی ۔
برفی ،توتو کی ماما اللہ کے پاس چلی گئی شاید رات بہت سردی تھی۔ میں توتو اور اِس کے بابا کو چِکس کے کمرے میں رکھ دیتا ہوں ۔وہاں گرمی ہے ۔
دادا بابا بولے

لیکن توتو کو کھانا کون کھلائے گا ؟ ایک آواز آئی ۔

دادی ماں ، اُس کا بابا کھلائے گا ۔ اور کون ؟

پھر ہمیں ایک کمرے میں لے کیا جہاں چوں چوں کی آواز آرہی تھی۔ وہ کمرہ گرم تھا ۔

بابا ،یہ دادا بابا اور دادی ماں کون ہوتے ہیں ؟ میں نے پوچھا ۔

بابا کے بابا کو دادا بابا  اور بابا کی ماما کو دادی ماں کہتے ہیں ۔ بابا نے بتایا۔

واؤ ، اِس کا مطلب کے کہ یہ میرے بھی دادا بابا اور دادی ماں ہیں ۔میں خوشی سے بولا۔ 

اِس سے پہلے بابا جواب دیتے کہ اچانک اندھیرا چھا گیا اور مجھے سردی لگنے لگی ۔ بابا گھر سے باہر نکلے ، اندھیرے میں ہمیں کچھ نظر نہیں آرہا تھا، مجھے گھر سے باہر بابا کی آواز آئی،  گھر کِس طرف ہے مجھے کچھ نظر نہیں آرہا ۔ میں کیسے آؤں؟      

   مجھے بہت سردی لگنے لگی       تھوڑی دیر بعد ، دادا بابا کی آواز آئی ، ارے لائٹ چلی گئی ہے توتو ،تو ٹھنڈ   میں نہیں بچے گا۔ میں اِسے اپنے کمرے میں لے جاتا ہوں اور کھانا بھی کھلاتا ہوں ۔

دادا بابا نے مجھے نکالنے کے لئے میرا گھر اُٹھایا کہ کھلے دروازے سے بابا باہر اُڑ گیا ۔اُس کے بعد بابا سے میں نہیں ملا ۔دادا بابا مجھے لے کر ایک بڑے کمرے میں آئے ۔ مجھے  ماما کی چونچ کی طرح کی ایک چیز سے بڑا مزیدار کھاناکھلایا ۔ اور مجھے گرم ہوا کےسامنے  رکھ دیا۔ بس اُس دن سے میں دادا بابا اور دادی ماں کے ساتھ رہتا ہوں ۔ یہ دونوں مجھے بہت پیار کرتے ہیں ۔

دادا بابا ایک میز پر بیٹھے ، اور ایک روشن سکرین کے سامنے کچھ کرتے ، اُس پر بدلتے رنگ مجھے بہت بھاتے ۔

جب اچانک اُس سکرین کے پیچھے سے آواز آتی تو میں ڈر کر یا توپردے پر بیٹھ جاتا یا دادی ماں کے سر پر ۔

ان کے ایک چھوٹی پوتی بھی ہے ، برفی ، جومجھے بہت تنگ کرتی ہے ۔میں بھی اُسے خوب نچاتا ہوں ۔جب وہ رونے کی ایکٹنگ کرتی ہے تو میں دادا بابا کی ٹوپی پر آبیٹھتا ہوں اور وہ پکڑ کر مجھےاپنی پوتی کو دے دیتے   ہیں وہ مجھے مٹھی میں بند کر کے گھماتی ہے۔ لیکن جونہی وہ مٹھی ڈھیلی کرتی ہے میں اُڑ کر دادا بابا کے مائیک کے سٹینڈپر بیٹھ جاتا وہ میرے پیچھے دوڑتی میں اُڑ کر پردے پر بیٹھ جاتا ۔

مجھے   کمرے سے باہر جانا بہت پسندہے لیکن دادا بابا کہتے ہیں کہ کوّے تمھیں کھا جائیں گے  اور کبھی کبھی دادی ماں مجھے پنجرے میں باہر لے جا کر دھوپ میں رکھ دیتی ہیں۔ میں خوب اپنے پروں کو جھاڑتا ہوں ۔

آج پتا ہے کیا ہوا ؟

آج کوئی بھی کمرے میں نہیں تھا میں اکیلا بور ہو رہا تھا ۔دادا بابا  لاؤنج  میں آئے میں فوراً اُن کی ٹوپی پر جا بیٹھا ۔ وہ اپنے کمرے میں داخل ہوئے ، اُنہوں نے ٹوپی اتار کر رکھی   ڈریسنگ  ٹیبل پر رکھی اور اپنے کمرے کے  واش روم میں چلے گئے۔تھوڑی دیر بعد نکلے میں ٹوپی پر بیٹھا تھا ، اُنہوں نے ہاتھ بڑھایا میں اُن کے ہاتھ پر جا بیٹھا اُنہوں نے  ٹوپی پہنی اورمجھے لے کر  لاؤنج  میں آگئے ۔ 

توتو یہاں بیٹھو ، میں برفی کو لے آؤں اور دادا بابا کمرے سے چلے گئے ۔

تھوڑی دیر بعد دادی ماں کمرے میں آئیں ۔پھر جب وہ باہر نکلنے لگیں تو میں اُن کے سر پر نہیں بیٹھا بلکہ آرام سے اُن کی سویٹر پر بیٹھ گیا ،  اُنہیں پتا تک نہ چلا، جب وہ گھر کا جالی والا  دروازہ کھول  رہی تھیں تو میں انتظار کر رہا تھا اور خوفزدہ بھی تھا کہ اُنہیں پتہ نہ چل جائے کہ میں اُن کے سوئیٹر پر بیٹھا ہوں۔

تو دوستو جوں ہی وہ  گھر سے باہر نکلیں میں  پھُر  سے اُڑا  اور جھولے پر بیٹھ گیا۔ 

اُف کیا بتاؤں کہ مجھے کتنا مزہ آرہا تھا۔ 

دادی ماں نے جو  مجھے دیکھا تو ایک چینخ ماری،  میں ڈر کر اُڑا اور سامنے والے درخت پر بیٹھ گیا ۔

 واپس آؤ تو تو ، واپس آؤ ، نہیں تو کوّے تمھیں کھا جائیں گی ۔دادی ماں چلائیں ۔

 مجھے تو کوئی کوّا نظر نہیں آرہا تھا۔ خیر میں نے اُڑان بھری اورچھت مینڈیر پر جا بیٹھا ۔ 

حمزہ اِسے پکڑو۔ دادی ماں نے حمزہ کو کہا  ۔

اِس  سے پہلے کہ حمزہ آگے بڑھتا ایک خوفناک کوّے نے مجھ پر حملہ کیا ۔ میں تیزی سے اُڑ کرجامن کے درخت پر جا بیٹھا۔ میں اپنی پھرتی پر خوش ہو رہا تھا کہ ایک اور کوّا جامن کے درخت میں گھُس آیا ۔ حمزہ نے شور مچایا ، وہ اُڑ گیا لیکن میں وہاں سے اُڑا اور  آم کے درخت پر جا بیٹھا۔ 

 تھوڑی دیر بعد گاڑی کی آواز آئی ،   تو دادا بابا کو گاڑی سے اترتے دیکھا ۔ میرا دل چاھا کہ دادا بابا کی ٹوپی پر جا بیٹھوں ، مگر برفی کو گاڑی سے اترتا دیکھ کر اپنا ارادہ بدل دیا اور سامنے بہت سارے درخت تھے اُن کی طرف اُڑا ، کہ آواز آئی ، "آنٹی وہ جا رہا ہے"۔

دادا بابا نے پوچھا ،"کیا ہوا "؟

۔"توتو اُڑ گیا ، اب اُن درختوں کی طرف چلا گیا ہے "۔دادی ماں بولیں ۔

اب وہ نہیں آئے گا ،کوّے اُسے مار دیں گے " دادا بابا بولے ۔

ایسا نہ بولیں میرے دل کو کچھ ہو جائے گا، میں اُسے بہت پیا ر کرتی ہوں ۔ دادی ماں بولیں ۔

دادی ماں میں بھی کرتی ہوں، اب کیا ہوگا؟ برفی بولی ۔دادا بابا  ، اُسے لے کر آئیں ۔

چل جھوٹی ، میں نے دل میں سوچا ۔ مجھے تنگ کرتی ہو یہ کیسا پیار ہے ؟

    میں ایک درخت سے دوسرے درخت پھر تیسرے درخت پر اُڑتا، سچ بہت مزہ آرہا تھا ۔لیکن ظالم کوّے میرے پیچھے پڑ جاتے ، جب میں خوب تھک گیا تو مین گیٹ کے سامنے بڑے درخت پر آکر بیٹھ گاجہاں کبوتر بیٹھے ہوئے تھے ۔

آنٹی توتو آگیا ۔ حمزہ کی آواز آئی    

درخت کے نیچے دادا بابا ،، دادی ماں اور برفی جمع ہوگئے ، حمزہ نے اشارہ کرکے سب کو دکھایا ۔ لیکن میں اُن کو نظر نہیں آرہا تھا ۔ کہ اتنے میں ایک گلہری میری طرف بڑھی اور اپنی ناک مجھے سونگھنے کے لئے بڑھائی ، میں نے اُس کی ناک پر کاٹنے کی کوشش کی تو وہ دور بھاگ  گئی ۔ تب سب نے مجھے دیکھا ، دادی ماں نے اپنی پیاری آواز میں مجھے پکارا۔ 

تو تو ، میری جان ،اب آجاؤ۔  دادی ماں نے ہاتھ اوپر اٹھاتے ہوئے کہا۔ آؤ میری تسبیح سے کھیلو۔ 

لیکن میر موڈ واپس آنے کا نہیں تھا ۔

برفی نے آواز دی توتو آجاؤ اب میں تنگ نہیں کروں گی ، سچی ۔

مجھے معلوم تھا کہ یہ نہیں مانے گی اور مجھے ضرور تنگ کرے گی ۔ 

دادی ماں نے کہا ، اِس کا پنجرہ اسے دکھاؤ یہ پہچان کر آجائے گا ۔

  دادا بابا نے مجھے پنجرہ دکھا   یا ، اُس میں میر کھانا پڑا تھا ۔ لیکن مجھے بھوک نہیں تھی ،پیار سے سیٹیاں  بجائیں ، آوازیں دیں لیکن میں درخت پر بیٹھا اپنے پر سنوارتا تھا ۔ پھر یہ سب لوگ تھک گئے تو مجھے ترس آ گیا ۔ میں اُڑ کر ٹیلیفون پر آکر بیٹھ گیا ۔ اور ان سب کو دیکھ کر مزے لے رہا تھا ۔

دادا بابا نے مجھے اپنی ٹوپی دکھائی ۔میرا دل تو چاھا لیکن میں ، بیٹھا رہا ۔

 میں کیوں اُڑ کر آؤں ،دادا بابا میرے پاس آئیں ۔میں نے سوچا اور میں دوسری طرف منہ کرکے بیٹھ گیا ۔اور ایک لمبی انگڑائی لی ۔

دادا بابا سمجھ گئے ، اُنہوں نے ایک لمبے ڈنڈے پر اپنی ٹوپی میرے پاس کی۔

 یہ ہوئی نا بات ، میں  فوراً اُڑ کر ٹوپی پر بیٹھ گیا ۔ 

دادا بابا نے آہستہ آہستہ ڈنڈا نیچے کیا اور ٹوپی میرے پنجرے کے عین  دروازے  کے پاس لے آئے۔پنجرے میں میرا کھانا، دال سیو، نمک پارے کا چورا اور  ریوڑیوں پر لگے ہوئے تل بھی تھے ، میں سوچ رہا تھا کہ اندر جاؤں ۔کہ   
  دادی ماں  کی آواز آئی  ، اب پکڑ کر پنجرے میں بند کر دیں ۔

واہ یہ کیا بات ہوئی ، میں فوراً اُڑ کر درخت پر بیٹھ گیا۔

دادی ماں   چلائیں ، تیزی دکھاتے نا ، اب پھر اُڑ گیا ہے۔

توتو ، اچھے توتو تنگ نہی  کرتےرات ہو رہی ہے اندھیرا ہو جائے گا اور تمھیں ٹھنڈ بھی لگے کی شاباش آجاؤ ، کہتے ہوئے دادا بابا نے، ایک چھوٹے ڈنڈے پر   ٹوپی آگے بڑھائی ۔

میں شرافت سے دادا بابا کی ٹوپی پر آکر بیٹھ گیا ۔ دادا بابا نے اُسی طرح مجھے اٹھایا اور دادی ماں کوکہا دروازہ کھولے رکھیں میں اور توتو گھر میں آرہے ہیں ۔ 

دادا بابا نے چالاکی یہ دکھائی کہ سب سے پہلے مجھ سمیت ٹوپی اند کی ، جونہی میں اندر آیا دادی ماں نے ایک دم دروازہ بند کر دیا۔میں واپسی کے لئے اُڑا لیکن جالی  کے دروازے میں پھنس گیا ، دادی ماں نے پکڑا اور مجھے ڈانٹتے ہوئے، نالائق  تمہیں کوے کھا جاتے یا سردی سے مر جاتے ، ہم سب روتے رہتے  ۔

مجھے پیار کیا اور  ٹی وی لاونج میں لے آئیں ۔پھر  مجھے میرے پنجرے میں بندکر دیا ۔

میں دو گھنٹے سے اُڑتا پھر رہا تھا ۔ سخت بھوک اور پیاس لگی تھی ۔مزے سے پانی پیا اور کھانا کھایا ۔ تھوڑی دیر بعد دادا باباآئے ۔ اور مجھے کھول دیا میں اُڑ کر اُن کے کندھے پر آبیٹھا ۔اور اپنے دادا بابا کو  بے تحاشا  پیاری کرنے لگا ۔ 


   

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

 

منگل، 29 نومبر، 2022

بیلجیئن سٹون فلیمش خرگوش

بیلجیئم کے فلیمش ریجن   سے نکل کر دنیا کے مختلف علاقوں  میں بطور پالتو خرگو ش اپنے وزن اور قد کے اعتبار سے فلیمش نسل کے خرگوشوں نے اپنی پہچان کروائی ۔ 

یہ غالباً سولہویں صدی میں بلجیئم کے شہر شینٹ میں پایا گیا ارے ہاں سٹون کا مطلب یہ نہیں کہ یہ پتھر کا بنا ہو تھا ، یا پتھر کے زمانے میں دریافت ہوا ۔ دراصل سٹون ڈچ کی کلو گرام یا سیر کی طرح وزن کا پیمانہ ہے ، جس کا متبادل یعنی ا سٹون    برابر ہے  3800 گرام یا8.4 پونڈ اور یا اپنے 4 سیر بنتا ہے ۔ گویا  شینٹ کے شہر میں فلیمش ایک سٹون ( 3.8کلوگرام) یا اِس سے بڑا ہوتا تھا ۔ لیکن نیوزی لینڈ وھائیٹ کی بھی کم و بیش یہی وزن ہوتا ہے ۔

بوڑھے نے خود اپنے سامنے جمشید ریبٹ فارم پر اپنے سامنے ایک نیوزی لینڈ خرگوش وزن کرواکراپنے چار دوستوں کے سامنے دیکھا ۔ اور حیران ہوا ۔  (ویل ڈن جمشید خان )

لیکن فلیمش سنا ہے کہ وزن میں10 کلو گرام تک جاتے ہیں ۔ لیکن مخصوص گھروں میں، جہاں بطور پالتو جانور پالے ہوئے اور چوری بھی ہوتے ہیں ۔

اِس بوڑھے نے بھی دو جوڑے خریدے تھے 40 دن عمر کے لیکن وہ جلد ہی اللہ کی امان میں خوب پیٹ بھر کر کھانے کی وجہ سے چلے گئے ۔

یوں بوڑھے نے اپنی تجربہ گا میں خرگوش کیسے پالے جائیں پر تجربے کئے ۔ اور مقامی سے امورٹڈ پر چھلانگ لگائی اور تمام تر احتیاط کے باوجود  لاکھ سے اوپر نقصان کیا ۔جبکہ بوڑھا ۔ دیسی خرگوش عرصے سے پال رہا ہے ۔

پڑھیں:  ربیتانو ( خرگوش پالنے والوں کی ) ٹریننگ

اب صورت حال یہ ہے کہ پاکستان میں مقابلہ ہے فلیمش پالنے والوں اور نیوزیلینڈ واھائیٹ پالنے والوں میں، اگر نیوزی لینڈ وھائیٹ خرگوش  پر ایک بھی کالا دھبہ آجائے تو وہ ، نیوزی لینڈ کی صف سے پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے ۔بالکل ایسے جیسے ایک مرد  مختلف   عورتوں سے  مختلف النسل بچوں کے  قبیلے کا سربراہ ہوتا ہے ۔ لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ جہاں سے یہ دنیا میں پھیلے ہیں وہاں صرف ماں بچے کی پہچان ہے ۔ہائے نیوزی لینڈ فیمیل   بے چاری نسلی امتیاز کا شکار ہو گئی ۔

وزن اور جسامت میں چار فٹ اور تین انچ  لمبا، سٹون فلیمش یقیناً   اپنے 22 کلوگرام وزن کے ساتھ بازی  لے گیا ہے ۔

یقیناً ، اِس  بیلجیئن سٹون فلیمش  خرگوش کے روسٹ بنانے کی اجازت ہر گز نہ دے گی   ، لہذا اپنے دیسی ہی بہتر ہیں ۔یعنی مختلف النسل بروکن نیوزی لینڈ وھائیٹ ۔ کیا پتہ کی ماؤں کی تبدیلی سے اُن کا وزن اور قد بڑھ جائے اور یہ بھی مقابلے کے روسٹرم پر اپنی پوزیشن بنانے میں کامیاب ہوجائیں  ۔

٭٭٭٭٭٭٭جاری ٭٭٭٭٭٭

   مزید مضامین پڑھنے کے لئے جائیں ۔

 فہرست ۔ خرگوشیات  


پیر، 21 نومبر، 2022

ربیتانو (خرگوش ہالنے والوں کی ) ٹریننگ

٭ایک نئے ربیتانو نے ایک گروپ پر پوچھا:۔

How we start business of rabbit 🐰

میں نے اپنی رائے دی ۔
 ۔1۔ مقامی خرگوش کے پانچ فی میل بچے لیں ، جو آپ کو مبلغ 15 یا 16 سو کےپانچ مل جائیں گے۔

آپ ضرور سوچیں گے کہ میں امپورٹڈ  ریبٹ کا بزنس شروع، اور یہ مجھے مقامی خرگوشوں کے پیچھے دوڑا رہے ہیں ۔
تو پھر ایسا کریں کہ امپورٹڈ خرگوش لے لیں اورپہلے اُن کی رہائش گاہیں بنائیں ،  بہترین خوراک لیں ۔ تمام خرگوشوں کی بیماریوں کی دوائیں لیں ، بھئی قیمتی خرگوش ہیں کسی وقت بھی کچھ ہو سکتا ہے ؟

اور شروع ہوجائیں ایسے ہی جیسےآپ کوئی میکاؤ یا مور پالتے ہیں ۔اور روزانہ صبح اُٹھ کر ملازم سے پوچھیں سب ٹھیک تو ہے نا ؟

دیکھیں نا مقامی خرگوش کے بچوں کا جوڑا ،عمر 30 دن ، صرف 600 روپے میں مختلف رنگوں کا مل جاتا ہے اور سرخ آنکھوں والا سفید جوڑا 800 روپے میں ۔جب کہ امپورٹڈ خرگوش کے بچوں کی قیمت 2000 روپے (انگورا) ، نیوزی لینڈ وھائیٹ 4500 روپے جوڑا اور فینسی خرگوشوں کے بچوں کے جوڑے کے اِس سے اوپر قیمتیں ہیں ۔   

۔2۔   خرگوشوں کے بچوں  کو پنجروں میں رکھیں یا صحن میں چھوڑیں   اُن کی دیکھ بھال ، خوراک اور شکاری جانور یا پرندوں سے بچانے کا ضرور خیال رکھیں ، بلی اور چیل خرگوش کے بچوں کو اچک کر لے جاتی ہے ۔

۔3۔ اُن سے تربیت حاصل کریں ، خوراک ، دیکھ بھال اور بیماریوں کے بارے میں معلومات ۔

مقامی خرگوش پالنا سب سے آسان ہے کیوں کہ اُنہیں بیماریاں کم لگتی ہیں وہ اپنا علاج خود کرتے ہیں ، جڑی بوٹیوں سے اگر وہ پنجروں میں بند نہیں  اورآزاد کھلے پھرتے ہوں ۔ 
۔4۔ - جب یہ مقامی خرگوش  بالغ ہو جائیں ، تو اِنہیں بازار سے  میل خرید کر میٹنگ کروائیں ۔ لیکن ہفتہ میل کو الگ پنجرے میں رکھیں کہ وہ بازار سے  کوئی بیماری نہ  ساتھ لایا ہو ۔
۔5۔  جب فی میل بچے دیں تو اُن بچوں کی سٹڈی کریں اور اُن کا 45 دن تک سروائیول ریٹ دیکھیں ۔
۔6۔  اگر آپ کا سروائیول ریٹ 100٪ ہے تو نہایت اعلی ۔

۔7۔ اگر سرواوئیول ریٹ 75٪ ہے تو بہت بہتر ۔

۔8۔ اگر  سرواوئیول ریٹ50٪ سے کم ہے تو آپ ایک بار پھر اپنے پلان پر نظر ڈالیں ۔ کہ کہاں کہاں  غلطی ہوئی ۔ 

۔9۔ اگر اِس آن جاب ٹریننگ  کے بعد آپ سمجھتے ہیں کہ ، آپ امپورٹڈ ریبٹ پال سکتے ہیں اور  ریبٹ فارمنگ  کے بزنس میں قدم رکھ سکتے ہیں ۔
۔10۔  ایک بات یاد رکھیں ، جب آپ کسی بھی کام کو شروع کریں اور آپ اُسے درمیان میں چھوڑ دیں ، تو ہم اِسے نقصان کہتے ہیں ۔
۔10-1 ۔ جو آپریشنل ایکپینسیس کی صورت میں ہوتا ہے ، جیسے پنجرے و دیگر آئیٹم ۔
۔10-2 ۔ ایکپینڈینسس جیسے،  خوراک، دوائیں  وغیرہ بزنس کے سائز پر منحصر ہوتا ہے۔

۔11۔خرگوش صحراء میں بھی پایا جاتا ہے اور برفانی علاقوں میں بھی۔ علاقہ تبدیل کرنے کے لئے آپ کو خرگوشوں کے لئے درجہ حرارت بھی اُنہی کے آبائی ماحول کی طرح بنانا ہو گا ۔  

کوئی خوش قسمت فارمر ہوگا کہ جس کے خرگوشوں کی ابتداء میں موت نہ ہوئی ہو ۔اورموت کی بنیادی وجہ خرگوش کو بہت زیادہ   تیار یعنی دلیہ نما خوراک (یا ونڈا)  دینا ۔ سبز چارہ خرگوش سارا دن بھی کھاتے رہیں ، پیٹ کے اپھارے سے اُن کی موت نہیں ہو گی۔،

٭٭٭٭٭٭٭جاری ٭٭٭٭٭٭

   مزید مضامین پڑھنے کے لئے جائیں ۔

 فہرست ۔ خرگوشیات  

 

جمعہ، 11 نومبر، 2022

نیوزی لینڈ وھائیٹ اور پاکستانی فارمرز

ا یک خرگوش پال دوست، جس نے اپنے نیوزی لینڈ ریبٹس  بریڈرز(  عمر 6 ماہ )کے ایک جوڑے  وزن 7100 گرام کی  فروخت کے مندرجہ  ذیل  پلان بنائے ہیں :۔

٭۔پلان 1۔ میں1 جوڑا نیوزی لینڈ۔وزن 3500 گرام . قیمت مبلغ 1 لاکھ 40 ہزار روپے ۔مادہ85 ہزار روپے (60 فیصد) اور  نر 55 ہزار روپے(40 فیصد) میں فروخت   ہوگا ۔جو ایگریمنٹ کے بغیر ہو گا۔

٭۔پلان 2۔میں ایک نر اور  2 مادہ جسے  1/2  پلان  کہا جاتا ہے ۔ میں  نیوزی لینڈ  ۔وزن 3500 گرام . قیمت مبلغ 1 لاکھ 40 ہزار روپے ۔یعنی فیمیلز  67 ہزار روپے  ا ور  نر 5 ہزار روپے ،میں فروخت ہوں گے، 25سالہ  ایگریمنٹ کے ساتھ۔

٭۔پلان 3۔میں ایک نر اور  4مادہ جسے  1/4  پلان  کہا جاتا ہے ۔    میں نیوزی لینڈ  ۔وزن 3500 گرام . قیمت مبلغ 1 لاکھ 40 ہزار روپے ۔یعنی فی  ماد ہ 33،750  اور نر 5000 روپے  میں فروخت ہوں گے، 25سالہ  ایگریمنٹ کے ساتھ۔

پلان4 ۔میں ایک نر اور  8مادہ جسے  1/8  پلان  کہا جاتا ہے ۔    میں نیوزی لینڈ  ۔وزن 3500 گرام . قیمت مبلغ 1 لاکھ 40 ہزار روپے ۔یعنی فی  ماد ہ 16،875اور نر 5000 روپے  میں فروخت ہوں گے، 25سالہ  ایگریمنٹ کے ساتھ۔

پلان 1/2،1/1، 1/4 اور 1/8 کےجوڑوں کے بائی بیک بچے ، جو آپ سے واپس خریدے جائیں گے :۔

پلان1/1۔میں   جوڑا نیوزی لینڈ۔وزن 3500 گرام۔قیمت خریدمادہ 21 ہزار روپے اور نر 5000 روپے ۔ 

پلان 1/2 ۔میں    نیوزی لینڈ۔وزن 3500 گرام۔ایک نر اور 2 فیمیلز13 ہزار روپے میں۔

پلان 1/4  ۔میں    نیوزی لینڈ۔وزن 3500 گرام۔ایک نر اور 4فیمیلز6،500 روپے میں۔

پلان1/8۔ میں    نیوزی لینڈ۔وزن 3500 گرام۔ایک نر اور8فیمیلز3،250 روپے میں۔واپس خریدا جائے گا ۔

اسی  طرح بائے بیک میں کسی بھی خرگوش کا وزن 2499 گرام ہوا تو وہ گوشت کیٹیگری میں بیچا جائے گا ۔میں لازمی بیچا جائے گا ورنہ ایگریمنٹ منسوخ سمجھا جائے  گا ۔

اب رہا ایگریمنٹ کا ایگریمنٹ پر عمل نہ کرنے والے کا۔بائے بیک میں تنزلی کا سفر

اگر آپ نے اپنے ایگریمنٹ کے مطابق، کمپنی کو 1/2 ۔ 1/4 یا 1/8 کے مطابق سال میں ، خرگوش نہ  دیئے تو آپ، خود بخود اگلے ایگریمنٹ میں چلے جائیں گے ۔

  ایگریمنٹ 25 سال ، ایگریمنٹ قائم  رکھنے  کے لئے آپ کم از کم سال میں ایک جوڑا واپس کریں گے ۔

٭٭٭٭٭٭٭

نیک دل ربیتانو۔ یہ ایک ایگریمنٹ ہے جو ایک کمپنی کا ہے ۔ اگر آپ کمپنی کے ایگریمنٹ سے متفق نہیں تو ایگریمنٹ نہ کریں ۔ لیکن جب آپ کمپنی کی پالیسی سے متفق ہوں اور آپ ایگریمنٹ کرتے ہیں تو اُس پرلازمی عمل کریں ۔ورنہ آپ ایگریمنٹ ختم کر دیں ۔

٭٭٭٭٭٭٭جاری ٭٭٭٭٭٭

   مزید مضامین پڑھنے کے لئے جائیں ۔

 فہرست ۔ خرگوشیات  


 

 

 



 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔