Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 19 مارچ، 2017

مشرقِ بعید - لاہور تا کولمبو (سری لنکا)


مشرقِ بعید - اسلام آباد تا لاہور


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بیٹی کے  اسلام آباد ائر پورٹ پر تلخ تجربے کے بعد ، بوڑھے کو معلوم تھا کہ اُسے ایف آئی اے کی اُس نامعقول رویئے سے گذرنا پڑے گا ، لہذا اُس نے اپنے ایک یونٹ آفیسر کی مدد لی ، اُس نے ائرپورٹ پر  مہربانوں کے پروٹوکول کی مدد فراہم کی ، چنانچہ  موبائل آن ہوتے ہی ، انسپکٹر شکیل کا فون آیا ، "سر آپ کہاں ہیں ؟ فون بند مل رہا تھا میں پریشان تھا ،  میں ائر پورٹ پر آپ کا انتظار کر رہا ہوں ، آپ 10 بجے تک پہنچ جائیں "۔
بوڑھے نے اُسے بتایا ،" ہم ائر پورٹ   کی طرف آ رہے ہیں  ۔ "
" اتنی جلدی  !  "اُس نے حیرت سے کہا ۔" فلائیٹ تو رات ساڑھے بارہ بجے جائے گی ۔ اگر آپ نکلے نہیں ہیں تو ساڑھے نو بجے تک آجائیں "
بوڑھے نے اُسے بتایا ،" ہم ائر پورٹ  میں داخل ہو رہے ہیں ۔  "
 " ٹھیک ہے سر ، میں دومیسٹک کی طرف ہوں ابھی  پہنچتا ہوں۔"
ائر پورٹ پہنچ کر  ، ایک دوست کو فون کیا ، اُس نے   بتایا کہ اُس کا نمائیندہ ابھی پہنچتا ہے ، نمائیندے  کے ہمرا ہ  ، سامان سکین کرنے کے بعد ٹکٹ لاونج میں پہنچے ، تھوڑی دیر بعد  شکیل صاحب اور چیمہ صاحب پہنچ گئے ۔ اُنہوں نے  سامان اور ٹکٹ لے لئے ، تاکہ بورڈنگ کارڈ اور سامان بُک کروایا جا سکے ۔چم چم کے لئے ایک اور ٹرالی لی جس پر وہ بیٹھ گئی ۔

سری لنکن ائر لائن کے کاونٹر پر پہنچے ، تاکہ    یو ایل -186فلائیٹ  کے لئے بورڈنگ کارڈ  لئے جائیں اور  ایسٹ تِمُور تک کے لئے سامان بُک کرایا جائے ۔  وہاں معلوم ہوا کہ ساما ن صرف  سنگا پور تک جائے گا  کیوں کہ سنگا پور سے ایسٹ تِمُور کا کنکشن نہیں مل رہا ،  اتنے میں بیٹی کا فون آیا ، اُسے بتایا ، تو اُس  نے کہا ، کہ آپ سامان ایسٹ تِمُور تک بُک کروائیں ۔ ورنہ آپ کو سنگا پور باہر نکلنا پڑے گا اور آپ کے پاس سنگا پور کا ویزہ نہیں ، پریشانی ہو گی ، اُس نے یو این کے پروٹوکول آفیسر مسٹر طاہر خان کو فون کیا ، اور انسپکٹر شکیل ، بکنگ آفیسر کے سر پر سوار ہوگیا ، سری لنکن ائر لائن کے ائرپورٹ مینیجر کو پکڑا  ، پہلے تو اُس نے معذرت کی لیکن پھر ، ایسٹ تِمُور تک سامان بُک کرکے بورڈنگ  کارڈ دے دیئے  ۔


اب مرحلہ تھا امیگریشن کلیئرینس کا ، مسافروں کی لمبی لائن تھی ، ہم تینوں کو سائڈ سے لے جا کر  ، ایف آئی اے کے انچارج کے کمرے میں بٹھا دیا گیا ۔ تھوڑی دیر بعد ، انسپکٹر شکیل نے مجھے باہر بلایا ، جہاں امیگریشن آفیسر نے مکمل انکوائری کی ، شک تو اُسے بھی تھا کہ کہیں ، بوڑھا ، بڑھیا اور چم چم  خرگوش نہ بن جائیں ، جب اُسے اپنا تعارف کروایا اور بتایا کہ بوڑھے یا بڑھیا کو بمع چم چم خرگوش بننے کی کوئی خواہش نہیں تو اُسے یقین آیا ، یوں ہماری تصاویر  وزارتِ داخلہ کے سسٹم میں داخل ہوگئیں تاکہ ثبوت رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے ۔
یقین کریں کہ اگر انسپکٹر شکیل ہمارے ساتھ نہ ہوتا تو شاید ہم تینوں بھی ائر پورٹ سے واپس ہو رہے ہوتے ۔ میں حیران تھا کہ اتنی سخت امیگریشن چیکنگ کے باوجود ، پاکستانی کیسے بغیر ویزہ کے اُن ملکوں میں چلے جاتے ہیں ، جہاں کا ویزہ لینا لازمی ہوتا ہے ۔ بہر حال امیگریشن کلیئر ہونے کے بعد میں نے امیگریشن آفیسر سے پوچھا ،
" ایسٹ تِمُور میں پہنچنے کے بعد ویزہ لگتا ہے ،، مسافر جانے اور آنے دونوں کا ٹکٹ لے کر جاتا ہے ، اگر ویزہ نہیں لگے تو اگلی فلائیٹ سے واپس آجائے گا ؟"
تو اُس نے بتایا ،
" جس بھی ملک میں پہنچ کر ویزہ ملتا ہے ، ہم وہاں جانے والوں کو خصوصی چیک کرتے ہیں  کہ وہاں پہنچنے والے خرگوش نہ ہوجائیں ۔ پھر جب  خرگوش پکڑے جاتے ہیں اور ڈی پورٹ کئے جاتے ہیں تو پاکستان کی بہت بدنامی ہوتی ہے ! "
زیادہ تر خرگوش ، سعودی عرب  (جدہ  یا مدینہ ) سے واپس بھیجے جاتے ہیں اور دوسرے نمبر پر یونان ہے ۔ جہاں رزق کی تلاش میں جانے والے، اپنی ماں کے زیورات ، بہن کا جہیز یا  سود خوروں سے لیا گیا قرض ، لمبی لمبی داڑھیوں ، پیشانی کے درمیان  سیاہ نشان  والے ،انسانی سمگلروں  کی جھولی میں ڈال دیتے ہیں ، واپسی پر بوڑھا باپ یا  لاچار ماں    ، دولت کے سپنے دیکھنے والے نالائق بچوں کو ایف آئی اے ، پاسپورٹ سیل  کو دانہ دُنکا دے کر چھڑاوتے ہیں ۔
کیا اِس کے علاوہ اِس بدنامی سے بچنے کا کوئی طریقہ ہے ؟
کیوں کہ وزارتِ داخلہ ، ہر پاکستانی کو پاسپورٹ دے کر اپنی جیب بھر رہی ہے ، جو پاسپورٹ بنوائے گا اُس کا مقصد عمرہ کرنا یا ملک سے باہر اپنے لئے روزگار تلاش کرنا ۔
نوجوانوں   کے ہاتھ میں جب پاسپورٹ آتا ہے اُس کی خوشی کی بلندیاں ، مہاجر زادہ  سے زیادہ کون جان سکتا ہے ۔
پھر وہ سوچتا ہے کہ دوست کا بھائی  یا اگلی گلی میں رھنے  والا چاچا خوش قسمت کا بیٹا ، کیسے ملک سے باہر گیا اور اب ڈالر کما کر بھیجتا  ہے جس کی وجہ سے اُن کا کچا گھر اب پکا ہو گیا ہے ، پیدل چلنے والے  بھائی نے اپنے چھوٹے بھائی کو موٹر سائیکل دلوادی ہے اور اب وہ مزے کر رہا ہے ۔
یہ اٹھارہ سالہ پاسپورٹ ہولڈر ، گنوار بھی یہی خواب  دیکھنے شروع کر دیتا ہے ، اور حکومتِ پاکستان وزارت داخلہ کی صوابدید  سے کسی  انسانی سمگلنگ گروہ کے ہتھے چڑھ جاتا ہے ۔ اور پھر پولیس والوں ، ایف آئی اے اور امیگریشن والوں کی اوپر کی کمائی کا ذریعہ بن جاتا ہے ۔
میری رائے میں ، صرف ہنرمندوں اور پڑھے لکھے  طالبعلموں  کو  پاسپورٹ  دیا جائے جو غیر ممالک میں تعلیم کے لئے  جانا چاہیں ۔ ملازمت کے خوہشمند افراد کو  حکومت اِس طرح سپورٹ کرے کہ وہ انسانی سمگلروں کے ہتھے نہ چڑھیں ۔
وزیر اعظم کا یوتھ کے لئے ایک  انٹرن شپ پروگرام چل رہا ہے  ۔ جس میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو   نہ صرف مہارت دلائی جائے گی بلکہ اُن کو وظیفہ بھی دیا جائے گا ، اسی طرح کم تعلیم یافتہ ہنر مندوں کا پروگرام بھی اسلام آباد  میں غالباً ٹیکنیکل ایجوکیشن بورڈ  ایچ -8 ، میں چل رہا ہے ، حکومت کو چاھئیے کہ اِن میں  اچھے نمبروں سے کوالیفائی کرنے والوں کو ، بیرون ملک روزگار فراہم کرے ، اِس سے نہ صرف ملک میں زرمبادلہ آئے گا بلکہ  ہنرمند طالبعلموں کی اُن کی مہارت کے مطابق  بین الاقوامی  شعبوں میں رسائی بھی ہوگی ۔
تو ذکر ہو رہا تھا ،  امیگریشن کلیئرنس کا ،  وہاں سے فارغ ہوئے تو  شکیل اور چیمہ صاحب بھی ساتھ آگئے ، مزید پیسے دے کر  ،میں نے بڑھیا اور چم چم کو وی آئی پی لاونج میں بٹھا دیا اور خود  شکیل اور چیمہ صاحب کے ساتھ اکانومی لاونج میں بیٹھ گیا ہم  تینوں مختلف  موضوعات پر گفتگو کرتے رہے ۔
12:35 پر فلائیٹ تھی ،  پونے بارہ  بجے جہاز  میں بیٹھنے کا اعلان ہوا ،  دونوں صاحبان نے ہمیں  لاونج کے گیٹ تک چھوڑا ، ہم تینوں  لنک ٹنل سے  جہاز  تک پہنچے ،   خوشکل نمکین رنگت والے میزبانوں نے نمستے کے انداز میں ، مسکراتے ہوئے خوش آمدید کہا ،  سیٹوں تک راہنمائی کی ، 220 مسافروں کا یہ جہاز  ائر بس  320 کا تھکا ہوا ماڈل تھا  ۔ جس میں سامنے والی  سیٹ کی پشت   کے بجائے ، چھوٹی سی سکرین اوپر لٹکی ہوئی تھی ۔ جس کا چم چم کو بہت دکھ ہوا ۔ چم چم نے جہاز میں کھڑکی والی سیٹ پر قبضہ جمایا ، بڑھیا نے اُس کے ساتھ اور میں بڑھیا کے ساتھ بیٹھ گیا ، بڑھیا نے ائر ہوسٹس سے چم چم کے لئے کمبل کی فرمائش کی  اور چم چم نے ایپل کے جوس کی  ، جو اُس نے تھوڑی دیر بعد لاکر دے دیا ۔بوڑھے ، بڑھیا اور چم چم نے دعائے سفر پڑھی ، کہ سفر بخیر و عافیت گذرے ۔ جہاز  لاہور سے کولمبو  کے لئے روانہ ہوا تو چم چم اور بڑھیا   لاہور کی روشنیاں دیکھتی رہیں ۔پھر جہاز ہندوستان میں داخل ہوگیا ۔
 کھانا آیا ، ائر ہوسٹس سے پوچھا کہ کھانا کہاں سے لوڈ ہوا ہے ، اُس نے بتایا لاہور سے ، تو بے خوف ہوکر ، مچھلی ، سبزی اور چکن کا کہا جو اُس نے دے دیا ۔بنتِ انگور ، پسرِ جو  اور جوروءِ  واڈکا  ،بھی موجود تھی ، جو طلب گاروں کو پیش کی گئی ، ہم نے ہینڈ کیری میں بسکٹ اور ڈبل روٹی بھی رکھی تھی ، کہ اگر کھانا مشکوک ہوا تو نانِ جویں پر گذارا کریں گے ۔ مچھلی کا سالن بمع چاول  مزیدار تھا  ، سبزی اور چکن  بھی اچھا تھا ۔  کھانا کھا کر چم چم تو سو گئی  اور ہم دونوں بھی اونگھتے اونگھتے بالآخر سو گئے ۔  بوڑھے نے  ائرلائن سروس کو دس میں سے پانچ نمبر  دیئے ، کیوں کہ بوڑھے کا یہ اصول رہا ہے ،  رفاع یونیورسٹی   حاجی کیمپ اسلام آباد ، میں  پرسنل ڈویلپمنٹ کی کلاس میں جب پہلا سٹوڈنٹ سٹیج پر جاتا اور دو منٹ کی  سپیچ  ( ایلیویشن پِچ   ) ختم کرتا  تو بوڑھا اُسے  پانچ نمبر دیتا اور پھر اُس کے بعد    اُسے بنچ مارک بنا کر باقی سٹوڈنس کو نمبر دیئے جاتے ۔ بس یوں سمجھیں کہ اگر بوڑھا سری لنکن ائر لائن کے مقابلے میں پی آئی اے کو نمبر دے تو  وہ تین بنیں گے اور ائر بلیو ، ساڑھے تین ۔ اتحاد  ائر لائن چار اور امارات ائر لائن  ساڑھے چا ر ، سنا ہے کہ جدّہ کے علاوہ جانے والی،  اتحاد  ائر لائن اور امارات ائر لائن شائد    آٹھ نمبر حاصل کر لیں ۔لیکن عمرے پر  لے جانے والوں کی فلائیٹس تو دو نمبر بھی نہ لے سکیں ۔ حالانکہ عمرے پر جانے والوں سے سب سے زیادہ کرایہ لیا جاتا ہے ۔
  سری لنکا اور پاکستان کے وقت میں آدھے گھنٹے کا فرق ہے  چار گھنٹے اُڑنے کے بعد جہاز یعنی پاکستان کے  صبح کے  چار بج کر پینتیس منٹ اور  سری لنکا کے پانچ بج کر پانچ منٹ پر  بندرا نائیکے  انٹرنیشنل ائر پورٹ کولمبو پر اترا ۔  
آپ کے علم میں ہوگا کہ ، سری لنکا ایک جزیرہ ہے ۔ جس کی آبادی تقریباً  دو کروڑ ہے  اور رقبہ 65 ہزار کلو میٹر سکوائر  ہے ،   خواہ کا رقبہ  74 جہاں سے دنیا کے ہر ملک میں جہاز جاتے ہیں -
جہاز سے لنک ٹنل کے ذریعے لاونج میں آئے  ، جہاں سے ہمیں   کولمبو سے سنگا پور کے کاونٹر پر پہنچنا تھا ۔ کیوں کہ دو گھنٹے 20 منٹ بعد فلائیٹ تھی ، بورڈنگ کارڈز کیوں کہ لے چکے تھے لہذا پریشانی نہ تھی ۔ لیکن اُس سے پہلے واش روم کی تلاش تھی ، ڈیپارچر لاونج کے اوپر   بڑا  سار ریسٹ ایریا تھا ، جس کے ایک کونے میں واش روم تھے ، بوڑھا سامان کے پاس بیٹھا ، پہلے بڑھیا اور چم چم   گئیں ۔ دس منٹ بعد وہ واپس آئیں تو بوڑھا  گیا ، پتلون اور قمیض کو  ٹریک ٹراوزر اور   ٹی شرٹ میں تبدیل کیا  اور خود کو پرسکون پایا ۔
موبائل کھولا سگنل  وارید اور یو فون کے سگنل موجود مگر کمزور   ، وارید کی رومنگ آن کی  لیکن انٹر نیٹ ڈاٹا  آن نہیں ہوا ،  لہذا موبائل بند کر کے واپس لیپ ٹاپ بیگ میں ڈال دیا ، یہی حال بڑھیا کے زونگ کا تھا ۔ 
6 بج کر 25منٹ پر ڈور اوپن کا مژدا سنایا گیا ۔ایمبارکیشن  کاونٹر کے پاس پہنچے ، لائن سانپ کی طرح لمبی تھی ، جو تین فلائیٹس کے لئے تھی ۔ رینگتے ہوئے  سکیننگ مشین کے پاس پہنچے ،  نہ جیب میں موبائل نہ پرس یہاں تک کہ ہاتھ میں گھڑی تک نہ تھی ، لیکن والک تھرو گیٹ  ہڑبڑا کر جاگ گیا  اور لائیٹس بلنک کرنے لگیں  ۔ بڑھیا کے منہ میں بھی لوہا اور بوڑھے کے منھ میں بھی ، اُنہوں نے جوتے اتارنے کا کہا ، تو بتایا کہ جبڑا اتار کر دیں گے تو یہ خاموش ہوگا ۔چنانچہ  وہ مان گئے اور گذرنے دے دیا ۔
مسافر تین طرف جارہے تھے ، ہمیں دائیں جانب جانے کا کہا گیا ۔ ایک دروازے کے سامنے کاونٹر پر  ایک نمکین صورت  جوڑا کھڑا تھا ۔ بورڈنگ پاس اور پاسپورٹ دیئے ۔ چم چم کے پاسپورٹ کو دیکھ کر نوجوان نے  لڑکی سے سری لنکن زبان میں  کچھ بولا ، لڑکی نے  کہا ،"کوئی بات نہیں"  ،  اُس نے پھر کچھ کہا ، چم چم نے پوچھا " آوا ، یہ کیا کہہ رہے ہیں "
بوڑھے نے کہا ،" یہ کہہ رہے ہیں کہ چم چم 12 سال سے کم ہے تو وہ جہاز کی دُم پر بیٹھ کر جائے گی "
" نو وے ، میں جہاز کی دُم پر نہیں بیٹھوں گی " چم چم نے یک دم کہا " میں جہاز کے اندر بیٹھوں گی "

وہ دونوں ہنسے اور چم چم کو سمجھایا کہ 12 سال سے کم عمر والے پسنجر کو  ایمرجنسی ڈور کے سامنے بیٹھنے کی اجازت نہیں  ہے !
اور ہمیں ہال میں ایک طرف بیٹھنے کو کہا ، جب سب مسافر بیٹھ گئے   تو پھر سیٹوں کی ترتیب کے حساب سے پہلے 15 نمبر کے مسافروں کو جانے دیا ۔  لیکن ہمیں چم چم  کی وجہ سے پہلے جانے دیا ،  سب آرام سے اُٹھے کوئی بد نظمی نہیں ، آہستہ آہستہ چلتے ہوئے بس میں بیٹھے اور جہاز میں پہنچے ۔  ایک رو میں  8 سیٹیں  تھیں ، ہر سیٹ کے پیچھے وڈیو سکرین تھی ، جسے دیکھ کر چم چم خوش ہوئی کہ اب وہ مزے سے کارٹون دیکھے گی ۔ دن کا سفر تھا بادلوں اور سمندر کے علاوہ دور تک زمین نہ تھی – جہاز میں یورپیئن ٹورسٹ  زیادہ تھے ، سری لنکن ، فلپینی ،  ملائیشیئن  انڈونیشیئن ، انڈین اور بس ہم تین پاکستانی – سفر چونکہ سری لنکا سے سنگا پور کا تھا ، لہذا  سروس کے چھ نمبر ، لاہور تا سری لنکا کے مقابلے میں ائر ہوسٹس  کے  رنگ میکسی پاک  گندمی کے بجائے  دیسی گندم نما تھے ، قد بھی اچھے اور   کمر رشکِ کمر تھی ۔ انگلش کا لہجہ بھی بہتر تھا ۔ ورنہ  سندھیوں کی انگلش اور سری لنکن کی انگلش  میں زیاہ فرق نہیں ۔
ہاں  واپسی پر  کولمبو ائر پورٹ پر ایک سندھی نوجوان حیدرآباد کا ملا جو ملائیشیا سے کیمیکل میں  پی ایچ ڈی کرکے آرہا تھا  ۔ ہم سے تو اردو میں بات کی لیکن چم چم سے بہترین انگلش لہجے میں  باتیں کرتا رہا ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

چم چم ، بوڑھا اوربڑھیا اسلام آباد سے لاہور

نومبر 2016 کی بات ہے بڑی بیٹی ، سائرہ نے یہ خبر سنا کر پہلا دھماکہ کیا ، کہ وہ وزیرستان اور دیگر ایجنسیوں میں یو این کے پلیٹ فارم سے کل جاکر آڈٹ شروع کرے گی ۔ اِس خبر نے پریشان تو کرنا تھا کیوں کہ آج تک وہاں کوئی خاتون آڈیٹر نہیں گئی اور علاقے بھی شورش زدہ تھے ، بہر حال سب خیر ہوئی اور اُس نے ورلڈ فوڈ پروگرام کے تمام آفسز کا کامیاب آڈٹ کیا ۔
جنوری 2017 کے پہلے ہفتے میں اُس نے خبر دی کہ وہ یو این کے پلیٹ فارم پر بہت دور جائے گی ۔
  کہاں جائے گی ؟ نہیں بتایا ۔
میں سمجھا شاید بلوچستان جانے کا ارادہ ہے ۔ کیوں کہ اسلام آباد سے بہت دور تو وہی بنتا ہے ۔
 15جنوری کو اُس نے دوسرادھماکا کیا کہ اُس نے ایسٹ تِمور اور ساؤتھ افریقہ کے لئے "یواین فوڈ پروگرام "کے لئے والنٹیئر کیا تھا ۔اب اُس کا ارادہ دنیا دیکھنے کا ہے ۔  ایسٹ تِمُور سے اُس کی درخواست منظور ہو گئی ہے اور وہ 20 جنوری کو فلائی کر جائے گی اور 17 جنوری کو اُس کے ٹکٹ اور یو این کا لیٹر آگیا ، بڑھیا پریشان کہ چم چم کو چھوڑ کر وہ  اتنی دور جا رہی ہے وہ اُس کے بغیر کیسے رہے گی ؟
20 جنوری کو جمعہ تھا ، ہم سب اُسے چھوڑنے ایرپورٹ گئے ، جب تک وہ چیک اِن نہ ہو ہمارا وہیں رہنے کا پروگرام تھا ، اُسے بورڈنگ کارڈ ملا، تو اُس نے کہا کہ ہم گھر چلے جائیں ، تو  ہم  گھر کی طرف روانہ ہوئے ۔ گھر سے ابھی کلومیٹر دور تھے تو اُس کا فون آیا کہ واپس آجائیں ، ایف آئی اے نے ایمبارکیشن کلیرنس نہیں دی ۔ کیوں ؟
بس اُن کی مرضی ، اُنہیں ڈر تھا کہ کہیں یہ خاتون وہاں جاکر خرگوش نہ ہوجائے ۔ کیوں کہ ایسٹ تِمُور کا ویزا نہیں ہوتا ، ٹورسٹ کو وہاں پہنچ کر دیا جاتا ہے ۔ اور یو این کے ملازمین کو بھی وہاں پہنچ کر انٹری ویزہ دیا جاتا ہے ۔
اُنہوں نے یہ جاننے کے باوجود کہ یو این کے ملازمین کے لئے ، " او کے ٹو بورڈ " کی مہر کی ضرورت نہیں ۔ اُسے کہا کہ " او کے ٹو بورڈ " کی مہر لگوا کر آئیں ۔ وہ اپنا سامان ٹرالی میں رکھ کر واپس ہوئی ، تو ایک خضر راہ نے اُسے پیش کش کی کہ وہ اُس کی مدد کر سکتا ہے ۔ وہ سمجھا کوئی عام خاتون ہے ۔ ٹکٹ ضائع ہونے اور ملازمت  پر  نہ جانے سے پریشان ہوگی  ۔ چلو اِس سے کچھ دانہ دُنکا جھاڑ لیتے ہیں ۔  (پروٹیکٹر فیس نہ ہونے کی صورت میں 5 ہزار روپے اور
" او کے ٹو بورڈ "   کے لئے 2 ہزار روپے  میں کام ہوجائے گا ) ۔ لیکن بیٹی  نے معذرت کر لی اور ایک طرف ہو کر ، یو این پاکستان کے پروٹوکول آفیسر کو فون کیا جس نے یہ سارا انتظام کیا تھا ۔ 
پروٹوکول آفیسر نے ، ایف آئی اے کے کرتا دھرتا سے بات کی ، ایف آئی اے والے  نے بیٹی سے پوچھا ،
"اِس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ وہ واپس آجائے گی ؟"
تو اُس نے جواب دیا ،
" میرا تین ماہ تک واپس آنے کا کوئی ارادہ نہیں  کیوں کہ وہ وہاں جاب پر جارہی ہوں۔"۔
ایف آئی اے کے آفیسر ، نے کہا ،
"آپ کے پاس پروٹیکٹر نہیں لگا ہوا "
بیٹی نے ، پھر پروٹوکول آفیسر کو فون کیا اُس نے بتایا ، کہ یو این ملازمین کے لئے پروٹیکٹر کی ضرورت نہیں ۔ جب ایف آئی اے کے آفیسر کو یہ قانون بتایا گیا  ، تو موصوف نے کہا ،
"ہاں اُسے معلوم ہے  ۔ لیکن  " او کے ٹو بورڈ " کی مہر ضروری ہے ۔ آپ نہیں جا سکتیں "۔
خیر ہم  بیٹی کو لے کر واپس ہوئے اور خوش کہ چلو اُسے ایک ہفتہ اور مل گیا ۔

بیٹی نے ہفتہ چم چم کے ساتھ گذارا  ، " او کے ٹو بورڈ " کی مہر  لگوائی گئی اور 27 جنوری کو بالآخر وہ   اسلام آباد سے  امارات ائر لائن پر دُبئی ، وہاں سے سنگا پور اور سنگا پور سے سِلک ائر لائن پر  ایسٹ تِمور ، پہنچی ، وٹس ایپ پر  اپنی تمام تصاویر بھیج کر اپنی ماں کو صورتِ حال سے اَپ ڈیٹ کرتی رہی ۔
ہماری ڈیوٹی یہ تھی کہ  چم چم  کو ہر جمعہ  اُس کے سکول سے لینا اور اپنے یہاں لے آنا اور سوموار کی صبح سکول چھوڑنا اور اگلے جمعہ تک وہ بابا کے پاس رہتی جہاں ، دادا اور دادو ، پھوپی اور چاچو   کے ساتھ وقت گذارتی اور ماما  کو  کبھی کپ کیک ، کبھی کیک اور کبھی تصاویر  بنا کر وٹس ایپ کرتی ۔
ابھی اُسے گئے ہوئے دو ہفتے ہی گذرے تھے کہ بیٹی کی یاد ستانے لگی اور بیٹی ماں کو یاد کرے ، تو بیٹی کا چم چم کو اپنے پاس بلانے کا پروگرام بن گیا ، بابا ، خالہ   اور پھوپی  نے اپنی مصروفیات کی بنا پر انکار کر دیا ،  چنانچہ قرعہ فال بوڑھے اور بڑھیا کے نام نکلا ، راستے کی طوالت ، طویل العمری ، ناسازی ءِ طبیعت    جیسا کوئی بھی تنکا کام نہ آیا ۔
بڑھیا  کو تو اسلام آباد سے 4 گھنٹے دُبئی او ر دُبئی سے آٹھ گھنٹے سنگا پور کا سفر ، سے ہی ہول اُٹھیں  پھر ائرپورٹ پر دس گھنٹے  گذارنے کے بعد اگلے دن پھر چار گھنٹے کا سفر ،  ہم سب سے زیادہ خوشی چم چم کو ہو ئی۔


ایک اور ٹاسک بھی کہ وہاں رہنے والے پاکستانیوں کے لئے تحفے ، بیٹی  کی خواہش کہ وہ ماں کے ہاتھ کے بنے ہوئے کھانے کھائے گی ، اُس کے لئے شان کے مصالحہ جات ، جس کا نتیجہ یہ ہوا ، کہ 30کلو فی نفر کے تین بیگ  جن میں صرف  مصالحے ، بیٹی  اور چم چم کے لئے کپڑے ،   بوڑھے اور بڑھیا    کے  تین  تین جوڑے ،    7 کلو کے ہینڈ کیری میں بوڑھے، بڑھیا  اور چم چم کے راستے کے لئےدو دو جوڑے ،   بوڑھے کا لیپ ٹاپ اور چم چم  کا بھالو ۔
اب تھا   بڑھیا کی صحت کا ٹیسٹ، کہ کتنے گھنٹے  سفر میں ایک جگہ بیٹھ کر گذارے جاسکتے ہیں ۔ بوڑھا 9 بجے گاڑی لے کر بڑھیا کے ساتھ اسلام آباد نکلتا ،   6 گھنٹے کی ڈرائیو برائے خریداری کر کے تین بجے  گھر پہنچتا  ، بڑھیا تو کھانا کھا کر لیٹ جاتی اور بوڑھا  ساڑھے تین  بجے گالف کھیلنے روانہ ہوجاتا ۔ 18 ہول کھیل کر مغرب کے بعد واپس آتا ۔ اورپھر کھانا کھا کر فیس بُک کے اکھاڑے میں کود جاتا ۔ 
13 مارچ صبح 7 بجے چم چم ، بڑھیا اور بوڑھا  ، مشرقِ بعید کے سفر کے لئے ، میٹرو  رینٹ اے کار  میں ، اسلام آباد سے لاہور کے لئے روانہ ہوئے ، ابھی لاہور میں داخل نہ ہوئے تھے کہ بڑھیا کی طبیعت خراب ہونا شروع ہوئی ، اُس نے واویلا مچانا شروع کر دیا کہ ، سی ایم ایچ چلو ، گیریژن میس جہاں  9 بجے تک سستانا تھا وہ اور سی ایم ایچ  تھوڑے فاصلے ساتھ ہی ہیں ،
1988 میں بوڑھا ،جب جوان تھا نوشہرہ سے گنری سٹاف کورس کر کے لاہور آیا تھا ۔ جہاں آرڈنینس ڈپو کے پاس باوانی ٹائپ گھر ملا تھا ۔ جو گیریژن میس اور سی ایم ایچ کے درمیان سمجھیں ۔  چنانچہ سامان کمرے میں  اتارااور  اُسی رینٹ اے کار میں سی ایم ایچ پہنچے ، جہاں ایک بجے ،  بڑھیا کو آئی سی یو میں ایڈمٹ کروایا ۔اُسے ڈاکٹر نے ڈرپ لگا دیں ،  بوڑھے نے اپنا اور بڑھیا کا موبائل بند کر کے اپنے پاس رکھ لیا ۔
اب کیا ہوگا ؟ بوڑھے نے سوچا ۔
 کیا بڑھیا کو لاہور رشتہ داروں کے پاس چھوڑ کر چم چم اور بوڑھا سفر کریں ، یا
 بڑھیا کو رینٹ اے کار میں واپس اسلام آباد بھیج دیں جہاں گھر پر چھوٹی بیٹی 23 مارچ  کی پریڈ میں شمولیت کے لئے آئی ہوئی تھی ۔
بڑھیا سے پوچھا ، اُس نے واپس اسلام آباد جانے  کا کہا ،  شام 4 بجے  بڑھیا کی ڈرپس ختم ہوئیں ڈاکٹر سے اجازت لے کر واپس رینٹ اے کار میں  گیریژن میس کی طرف روانہ ہوئے ، راست میں چم چم نے  مال آف لاہور دیکھا تو  برگر کھانے کے لئے مچل گئی ۔بڑھیا کے لئے میس کو کھچڑی بنانے کا کہا اور خود چم چم کو لے کر  مال آف لاہور کی طرف پیدل روانہ ہوا اور بڑھیا کو بتایا کہ وہ شام 7 بجے تک سو جائے ، واپس آکر دیکھتے ہیں کہ ، کیا کیا جائے ۔
چم چم کے ساتھ ، مال آف لاہور پہنچا ، وہاں چم چم نے خوب دل بھر کر کھیلا ۔

سات بجے واپس کمرے میں پہنچے ، بڑھا سوئی ہوئی تھی اُٹھی   اور ہشاش بشاش ، بوڑھا کمر سیدھا کرنے لیٹ گیا ، چائے منگوائی دونوں نے پی اور آٹھ بجے ، ائر پورٹ کے لئے روانہ ہوئے ، موبائل آن کئے تو  میسجز کا طوفان آگیا ۔ چاروں بچے پریشان کہ۔
 ماں باپ اور چم چم لاہور میں کہاں غائب ہوگئے ؟
بتایا کہ تھکن کی وجہ سے آرام کے لئے موبائل بند کر دیئے تھے ، ابھی ائر پورٹ جا رہے ہیں  -
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہفتہ، 11 مارچ، 2017

نان سٹیٹ ایکٹرز ۔ پاکستان پر خود کش حملے !



 پاکستان کی تاریخ میں سب سے پہلا خودکش حملہ :
انیس نومبر 1995میں اسلام آباد میں قائم مصر کے سفارتخانے میں ہوا۔ مصری حملہ آور نے بارود سے بھرا ٹرک سفارتخانے کے احاطے میں اڑا دیا جس کے نتیجے میں چودہ افراد ہلاک ہوئے۔کہا جاتا ہے کہ اِس میں غیر ملکی نان سٹیٹ ایکٹرز ملوّث تھے ۔ کیوں کہ جب کوئی ملک حملے کی ذمہ داروی قبول نہیں کرتا تو الزامات نان سٹیٹ ایکٹرز پرڈال دیئے جاتے ہیں ۔
 پاکستان میں دوسرا خودکش حملہ،   8 مئی 2002 کو کراچی کے شیرٹن ہوٹل کے باہر ہوا جس میں فرانسیسی انجینیرز کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں گیارہ فرانسیسیوں سمیت چودہ افراد ہلاک ہوئے۔ یہ حملہ اس لئے بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستان میں یہ پہلا خودکش حملہ تھا جس میں ، نان سٹیٹ ایجنٹس ملوّث تھے  اور  خودکش حملہ آورایک  پاکستانی تھا ۔
 اس حملے کے بعد سن 2002میں ایک اور خودکش حملہ چودہ جون کو کراچی ہی میں ہوا۔ اس حملے میں بارود سے بھرا ٹرک امریکی سفارتخانے کے سامنے دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں بارہ افراد ہلاک ہوئے۔ سن 2003 میں صرف ایک خودکش حملہ ہوا۔ یہ حملہ پچیس دسمبر کو راولپنڈی میں ہوا اور حملے میں ہدف صدر جنرل پرویز مشرف تھے۔ اس واقع میں پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ سن 2005 میں پانچ خودکش حملے ہوئے جن میں ستاون افراد ہلاک ہوئے۔ ان حملوں میں سے چار حملے فرقہ وارانہ تھے جبکہ ایک حملہ وزیر اعظم پر اٹک میں ہوا۔
 سنہ دو ہزار پانچ میں خودکش حملوں میں کمی آئی اور صرف دو حملے ہوئے۔ یہ دونوں حملے فرقہ وارانہ تھے جن میں اکتیس افراد ہلاک ہوئے۔
 اگلے سال یعنی 2006میں ایک بار پھر خودکش حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ اس سال چھ حملوں میں لگ بھگ ایک سو چالیس افراد ہلاک ہوئے۔ ان حملوں میں صرف دو حملے فرقہ وارانہ تھے جن میں چالیس افراد ہلاک ہوئے۔ان دو حملوں کے علاوہ ایک حملہ امریکی سفارتخانے کے سامنے ہوا جب کہ باقی تین سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف ہوئے تھے۔ 
مبصرین کا کہنا ہے کہ اتنی تعداد میں محفوظ علاقوں میں خودکش حملوں سے صاف ظاہر ہے کہ امن و امان کی صورتحال حکومت کے ہاتھوں سے نکل گئی ہے۔ ایمرجنسی لگانے سے اگر یہ فدائی حملے رک سکتے تو یہ قدم گذشتہ سال اپریل یا مئی ہی میں اُٹھا لینا چاہئے تھا۔
 پاکستان میں صرف گذشتہ سال 2007 میں ہونے والے خودکش حملوں کی تعداد سینتالیس ہو گئی ہے۔ جبکہ ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریباً چھ سو ہوگئی ہے۔ اس میں بے نظیر بھٹو کی شہادت سمیت لیاقت باغ کا خود کش حملہ بھی شامل ہے۔ 
ان تمام حملوں کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کُل آٹھ فرقہ وارانہ حملے ہوئے اور اس نوعیت کا آخری حملہ آٹھ نومبر دو ہزار چھ کو ہوا جس میں علامہ حسن ترابی شہید ہوئے۔ اس کے علاوہ سات حملوں میں سیاسی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا۔جن میں  جنرل پرویز مشرف پر خودکش حملہ۔ دو ہزار چار میں وزیر اعظم شوکت عزیز پر اٹک میں جلسے کے بعد حملہ۔ دو ہزار سات میں وزیر داخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ پر چارسدہ کے جلسے میں حملہ اور بینظیر بھٹو کے قافلے پر دو حملے۔ ان حملوں میں سیاسی شخصیات تو بال بال بچ گئے لیکن ایک سو ستتر لوگ مارے گئے۔
 البتہ دسمبر 2007 میں بےنظیر بھٹو خودکش حملے کا شکار ہوگئی۔ سنہ دو ہزار دو سے اب تک کراچی میں نو حملے ہوئے۔ ان حملوں میں دو سو تیس افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے ایک سو پینتیس بینظیر کی ریلی میں اور سینتالیس دو ہزار چھ کی سنی تحریک کے مجمع میں حملوں میں جاں بحق ہوئے۔ باقی اڑتالیس لوگ فرقہ وارانہ حملوں میں ہلاک ہوئے۔
 پنجاب میں بارہ خودکش حملے ہوئے جن میں نوے افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے چھتیس افراد تین حملوں میں فرقہ واریت کی بھینٹ چڑہے۔ جبکہ باقی حملے سیکورٹی اہلکاروں پر ہوئے۔ ان بارہ حملوں میں سے سے پانچ حملے راولپنڈی میں ہوئے۔ جبکہ ان پانچ حملوں میں سے چار حملے فوجی ہیڈ کوارٹر کے بہت قریب تھے۔ 
بلوچستان میں صرف دو خودکش حملے ہوئے جس میں سینتالیس افراد ہلاک ہوئے۔ یہ دونوں حملے دو ہزار سات میں ہوئے۔ ایک حملہ کوئٹہ کی عدالت میں ہوا اور دوسرا حملہ چینی قافلے پر ہوا جس میں تیس افراد ہلاک ہوئے۔
 کے پی کے میں اب تک پینتیس خودکش حملے ہو چکے ہیں۔ ان حملوں میں تقریباً تین سو ستر افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے صرف ایک فرقہ وارانہ خودکش حملہ تھا جن میں انتالیس افراد مارے گئے۔ باقی بیشتر حملوں میں سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ 
اسلام آباد میں پانچ خودکش حملوں میں اکسٹھ افراد ہلاک ہوئے۔ ان حملوں میں سے ایک حملہ فرقہ وارانہ نوعیت کا تھا جس میں پچیس افراد ہلاک ہوئے۔ باقی حملوں میں میریٹ ہوٹل، ائرپورٹ اور سیکورٹی اہلکاروں پر حملے شامل ہیں۔ ان 63 حملوں میں سے چھیالیس خودکش حملے بندوبستی علاقوں میں ہوئے جن میں سات سو سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔ صرف سولہ حملے علاقہ غیر میں ہوئے جن میں نوے افراد ہلاک ہوئے۔  

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔