Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 10 جنوری، 2019

ممکن نہیں یزیدیت جیت جائے -6

توجوانو !
یہ یزیدیت کی ایک نہایت گھٹیا مثال ہے ۔
لیکن پترو کیا یہ ممکن ہے کہ محرّم کا مہینہ ہو اوریزیدیت جیت جائے ؟

 سوچو ؟؟؟؟؟؟؟
یہ کہہ کر بوڑھا اُٹھا، گم سُن   نوجوانوں کو اُس کی لاٹھی ، کی پکے فرش پر پڑھنے والی خفیف ضرب  سناٹے میں ، ٹک ، ٹک ،ٹک کر دور معدوم ہوتے سنائی دی لیکن اُن کے دماغ میں ابھرتی ہوئی گونج ، 
محرّم کا مہینہ ہو اوریزیدیت جیت جائے ؟
محرّم کا مہینہ ہو اوریزیدیت جیت جائے ؟
ماحول پر حاوی ہو گئی  !
چاروں طرف سکوت تھا ، کیوں کہ ایک لمبی جنگ تھی ۔ نہایت لمبی جنگ ،
ایاک نعبد اور ایاک نستعین کے درمیان ڈھنڈھورا  پیٹنے والوں کی !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پچھلے پارٹ:۔
 

ممکن نہیں یزیدیت جیت جائے -5

بوڑھا ، گویا ہوا !
 نوجوانو ! کچھ دنوں بعد ، لوہار کے  بیٹے کو ایک اور درخواست ملی ، 
" جنابِ عالی ! میرے پاس اِس شہر میں رہنے کو مکان نہیں  ، بے گھر  ہوں !"تو نوجوانو!
 لوہار کا بیٹا پھر  آب دیدہ ہو گیا ، اُس نے لوہار  کو وہ درخواست پڑھائی ، لوہار بھی آبدیدہ ہو گیا ، لوہار نے فیصلہ کیا ، کہ ٹڈّے کی طرح ہر شاخ پر پُھدکنے  والے  ،اِس اداس و غمین و پریشان حال نوجوان کو  گھر لازمی ملنا چاھئیے !
چنانچہ لوہار  کی اجازت پر ، لوہار  کے  بیٹے نے ، اُس  بے گھر نوجوان، کو گھر بنانے کے لئے ، صرف چار کنال کا پلاٹ  دان کر دیا ۔

  پہلی کہانی سنانے والے نوجوان  نے بے ساختہ کہا  " سراسر جھوٹ ہے ، وہ تو خود کروڑ پتی تھا ۔"
مردِ دانا و بینا  نے ، نوجوان کی طرف دیکھا ، اور دل میں سوچا، 
 اچھل کود کی کمائی کھانے والا ، شراب و شباب پر اُڑانے والا ،  وہ نوجوان کسی کا پتی نہیں بن سکا تو کروڑ پتی کیسے بنتا ؟
چنانچہ اُس نے بجائے اپنی سوچ کا اظہار کرنے ، داستان کو جاری رکھا !
  نوجوانو ، آپ یہ سوچ رہے ہوگے ، کہ درخواست لوہار کے بیٹے کو کی جاتی ، تو لوہار  بیچ میں کیسے آجاتا ؟ ہے نا حیرت کی بات !
شاید آپ کی مائیں آپ کو لے کر بچپن میں علیحدہ ہوگئی ، یا آپ کے دادا نے آپ کی ماؤں کے آگے ہتھیار ڈال دیئے ، اِسی لئے آپ ایک  مشرقی کنبے  کے بارے میں کم جانتے ہو۔
ہمارا مشرقی کنبہ ، جس میں اولاد چاہے دنیا کی نظروں میں کتنی ہی طاقتور یا بااثر کیوں نہ ہوجائے ، اپنے باپ کو ہمیشہ اپنا سر پرست سمجھتی ہے  اور باپ خاندان کا سربراہ رہتا ہے ، جس کی ابرو کے معمولی سے  اشارے پر اولاد اُس محفل سے کھسک جاتی ہے ، جہاں باپ اُن کا موجود ہونا پسند نہ کرے !
وہ ایسے خاندان کا سربراہ نہیں ہوتا ، کہ کینسر سے مرنے والی بیوی کی خواہش پوری نہ کر سکتا ہو اور  اکلوتا بیٹا ، صرف   پیسوں نہیں بلکہ عورتوں کی خاطر،  ماں  کے بستر مرگ کو چھونے بلکہ دفنانے تک نہ آسکتا ہو ۔
  نہ نہ   نوجوانو ! نہ ۔وہ معمولی  لوہار  ، ایک مشرقی قدروں کے ا مین خاندان کا سربراہ تھا ، جس کے بیٹے ملک پر حکمرانی کرنے لگے تھے ، لیکن اپنے  کاروبار اور خاندان  کو وہی چلا رہا تھا ۔اُس کے  دونوں بیٹے ملکہ کے اعلیٰ عہدیدار تھے ، لیکن  اپنے خاندان کا وہی سرپرست تھا ، بیٹے اپنے باپ کی سرپرستی میں بے فکر تھے ۔ اُس کے پوتے پوتیاں ، نواسے نواسیاں ، ہر چیز اُس سے مانگتے ، وہ اُن کے لاڈ اُٹھاتا ۔ بیٹے اُس کے سامنے سر جھکاتے ! مغربی اقدار کے پرستاروں کو یہ بات چبھتی  تھی ، کہ جن مشرقی اقداروں کو اُنہوں نے مغربی اقدار پر قربان کر دیا وہ اُن کے ملک میں کیسے پنپ رہی ہیں ؟

تو نوجوانو! اصل بات یہ ہے ، کہ لوہار نے ملکہ کا تاج   ، ملکہ سے عوام کی قوت سے خرید لیا تھا ، جس کی اُس کے نزدیک  لوہے سے بھی کم قیمت تھی اور وہ اُس نے اپنے پوتوں کو کھیلنے کے لئے دے دیا ۔ 
وہ نوجوان یاد ہے ، نا ؟
 جو درخواستیں اٹھائے پھرتا تھا! اُس نے پہلی بار مُلک   میں نوجوانوں کو گالیوں ، طعنوں ، جھوٹ اور  ناچنے کی تربیت دینا شروع کر دی ۔ تاکہ  مشرقی ملک میں مغربی اقدار  کے  تسلط کو پھیلایا  جائے ۔  جب اُس نے دیکھا کہ اخلاقی قدروں کی کمزور لوگ اُس کے ارد گرد جمع ہو گئے ، تو اُس نے اپنے محسن و مربّی پر  الزام لگا دیا ، کیا ؟
  " تاج ، لوہار کے بیٹے نے ،    اپنی بیٹی اور داماد کی مدد سے چرایا "
٭٭٭مزید پڑھیں ٭٭٭
پچھلے پارٹ:۔
  ٭٭٭٭٭٭
 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
   پارٹ - 4٭٭٭مزید پڑھیں ٭٭٭  پارٹ - 6
 


بدھ، 9 جنوری، 2019

ممکن نہیں یزیدیت جیت جائے -4

نوجوانو  !آپ  پڑھے لکھے ہو ، شرارت کے ساتھ بُردباری بھی آپ کے چہروں سے چھلک رہی ہے ،وہ محاورہ تو آپ سنے سنا ہوگا ،
دکھ جھیلیں بی فاختہ اور کوّے انڈے کھائیں !
لوہار کو یہ سب معلوم تھا  ،  اُسے معلوم تھا کہ ملک کی معیشت کو خون پسینہ فراہم کرنے والا، شہد کی مکھی کی طرح  طبقہ ،  ایک کمزور طبقہ ہوتا ہے ، طاقتور طبقہ وہی ہوتا ہے جو کاروباری طبقے اور عوام کے لگائے گئے ٹیکسوں پر موجیں کرتا ہے اور محلات میں رہتا ہے ، اور اپنی شان بڑھانے کے لئے خالص سونے کا تاج   اور جس میں چھین کر جوڑا ہوا ہیرا،     بادشاہ  یا ملکہ ، تخت ، تخت  والا کھیل کھیلتے ہیں ۔جس کی مدد وزیراعظم کرتا ہے  لیکن  تختہ دار پر وزیر اعظم چڑھتا   ، ملکہ اپنا تاج  سجائے بیٹھی رہتی  کیوں کہ وہ ہتھیار بند   محافظوں کے نرغے میں ہوتی ہے ، اُسے کون ہاتھ لگائے ؟  جوان  ملکہ ہو یا بوڑھی  مقدّس کہلاتی ہے ۔
تو نوجوانو !    اُس  مردم گذیدہ  بلکہ شاہان گذیدہ ، حالات کے تھپیڑوں   سے گذرنے والے  لوہار نے ،  حکمرانی تلاطم  کے سنڈاس    سے نکلنے والی باس کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا  اور اپنے  خاندان کو   حکمرانی کے لئے تیار کرنا شروع کر دیا ۔ 
لیکن کیا یہ ممکن تھا ؟
مگر ایک لوہار نے ممکن بنایا ۔ اُس نے نہ صرف    اپنے بیٹوں کو ملک  کے اعلیٰ عہدوں تک ، عوام کی مدد سے پہنچایا بلکہ اپنے برے وقت کے لئے ملک سے باہر ، ملکہ  کی حواریوں کی طرح  جائدادیں بھجوانا شروع کر دیں  ، جن جائدادوں کے لئے  ملکہ کے حواری تتلیوں کے پروں میں چھپا کر سفید پوڈر  باہر بھیجا کرتے تھے  ، لوہار نے اپنی کمائی ہوئی دولت ، ملکہ کے ہی خدّاموں  کے ذریعے باہر بھجوانا شروع کر دی ۔ 
 پہلی کہانی سنانے والے نوجوان کی آنکھوں میں بے یقینی کے سائے دیکھ کر بوڑھا ، گویا ہوا !
نوجوانو ! شاید اُس وقت  آپ  نیکر پہن کر ماں کی انگلی پکڑ کر سکول جاتے ہو گے، جب  لوہار کے بیٹے کو ایک درخواست ملی ،
  لوہار کا بیٹا آب دیدہ ہو گیا ، اُس نے لوہار  کو وہ درخواست پڑھائی ، لوہار بھی آبدیدہ ہو گیا ، لوہار نے فیصلہ کیا ، کہ ٹڈّے کی طرح 
ہر شاخ پر پُھدکنے  والے  ، اِس اداس و غمین و پریشان حال نوجوان کے خواب کو شرمندہءِ تعبیر کرنا چاھئیے !
چنانچہ لوہار  کی اجازت پر ، لوہار  کے  بیٹے نے ، اُس نوجوان کو اُس کے خوابوں کی تعبیر کو پورا کرنے کے لئے ، ایک چار ایکڑ زمین کا ٹکڑا دے دیا ۔
کچھ دنوں بعد ، لوہار کے  بیٹے کو ایک اور درخواست ملی ، 
" جنابِ عالی ! میرے پاس رقم نہیں  کہ میں اپنا خواب شرمندہءِ تعبیر کروں ، لاچار ہوں !"
  لوہار کا بیٹا آب دیدہ ہو گیا ، اُس نے لوہار  کو وہ درخواست پڑھائی ، لوہار بھی آبدیدہ ہو گیا ، لوہار نے فیصلہ کیا ، کہ ٹڈّے کی طرح ہر شاخ پر پُھدکنے  والے  ،اِس اداس و غمین و پریشان حال نوجوان کے خواب کو شرمندہءِ تعبیر کرنا چاھئیے !
 چنانچہ لوہار  کی اجازت پر ، لوہار  کے  بیٹے نے ، اُس نوجوان، کو اُس کے خوابوں کی تعبیر کو پورا کرنے کے لئے ، 50 کروڑ  ملکی کرنسی  جس کی مالیت، فرنگی کرنسی میں 23 کروڑ ڈالر بنی تھی ، جو آج ملکی کرنسی میں  2 ارب 80 کروڑ بنتی ہے  ۔  
کتنی  ؟    2 ارب 80 کروڑ
  پہلی کہانی سنانے والے نوجوان  نے بے ساختہ کہا  " ناممکن  ، یہ سب جھوٹ ہے "
 
٭٭٭مزید پڑھیں ٭٭٭
پچھلے پارٹ:۔
  ٭٭٭٭٭٭

اتوار، 6 جنوری، 2019

شیور زدہ پی آئی اے کے مصنوعی انڈے و مرغیاں


ہمارے بچپن میں ہم نے ہمیشہ  ، کُڑک مرغی کو انڈوں پر 21 دن بیٹھ کر چوزے  نکالتے دیکھا ۔ گندے انڈے کم ہوتے تھے ۔ کیوں کہ مرغی کُڑک ہونے سے پندرہ دن پہلے والدہ مرحومہ  ،گرمیوں میں  انڈوں کو  دھو کر آٹے کے ڈبّے رکھتیں اور سردیوں میں  انڈے کھائے جاتے ، مرغی بے شک اپنے کٗڑک ہونے کا زور زور سے اعلان کرے ، بے چاری 7 دن بعد تھک ہار کر اپنا کُڑک پن ختم کرتی اور 10 دن بعد دوبارہ انڈے دینا شروع کر دیتی ۔ایک ہی مرغی کو سال میں دو بار ہی انڈوں پر بیٹھنے کی اجازت دی جاتی۔10 انڈوں سے زیادہ  انڈوں پر مرغی کو بیٹھنے کی اجازت نہ دی جاتی ، کیوں کہ   مرغی کے پروں کی حدود سے باہر نکلنے والے  انڈوں کے خراب ہونے کا سو فیصد چانس ہوتا تھا ، دیگر پرندوں کی طرح مرغے نے کبھی اپنی مرغی کا ہاتھ بٹانے میں کوئی دلچسپی کبھی نہیں دکھائی ۔ 
مرغی اور اُس کے چوزوں کو بکریوں کی طرح  جہاں تک ہمت ہو چُگنے کی اجازت ہوتی تھی ۔ 
مرغیوں کو گھر آئے ہوئے رشتہ داروں یا کام کاج کرنے والی ماسیوں کو تحفہ میں دینے کا رواج تھا ۔ ہاں مرغوں پر کسی کو نظر ڈالنے کی اجازت نہ ہوتی تھی ، جس کی یخنی اور گوشت مہمانوں کی آمد پر اُڑائی جاتی ، مرغے کے پر  کو مکئی کے سٹّے کے آدھے حصے میں لگا کر چڑی بنا کر ہوا میں اُڑئی جاتی ۔
مرغوں کو لڑانے کا تصّور گناہ  کےتندورکی آماج گاہ ہوتا ، جس کے کہیں نیچے جہنم کی آگ کی لپیٹیں مچل رہی ہوتیں ، ہاں اگر وہ خود سر بکف ہو کر  اپنی مرغیوں کو دوسرے مرغ کے نظرِ بَد سے بچانے کے لئے یُدھ کی بانگ دیں تو اُنہیں روکنا ایک صحتمندانہ تفریح سے خود کو محروم رکھنے میں شمار ہوتا تھا ۔
چِنکو اور پِنکو کر طرح وہ بھی اپنی حدود میں کسی اجنبی انسان تک کو داخل ہونے کی اجازت نہ دیتے ۔ اصیل ، دیسی ، سندھی ، مصری  مرغے مرغیوں کا راج تھا ، ابھی بدیسی  مرغے مرغیوں نے ہمارے مُلک میں قدم نہیں رکھا تھا ۔
پھر ہم نے سنا کہ ایوب خان نے مصنوعی انڈے اور چوزے پیدا کرنے کی مشینیں یہودیوں سے خرید لی ہیں ۔ جن کو،  پی آئی اے شیور کا نام ملا ۔ بس یہیں سے قومی ائر لائن کا زوال شروع ہوا  ۔ 

مشینوں سے حاصل کئے گئے ، انڈوں اور مرغیوں کو کھانا مکروہ بطرفِ حرام قرار پایا ۔

 کیوں کہ ایک تو وہ مغرب کی دوشیزاؤں کی طرح  سفید تھے اور سب سے بڑا ظلم کہ مشینی انڈوں سے پیدا ہونے والیاں اور مزید ستم یہ کہ  مرغوں کے بغیر وہ دھڑا دھڑ انڈے دینے کی ماہر تھیں ۔ جن سے یتیم چوزوں کا ایک جم غفیر  2مہینے میں جوان ہو کر دو سے ڈھائی کلو گرام وزن کے ساتھ دکانوں پر بکنے لگا ۔
کہاں دس مہینوں میں جوان ہو کر سینہ پُھلا کر بانگ دینے والے طاقت  سے بھرپور ،   چِنکو اور پِنکو اور کہاں دو مہینوں کے یہ مشینی جوان !
 جس طرح دریا کے پانیوں سے بجلی نکال کر اُس کی خوردنی طاقت ختم کر دی ۔ اِسی طرح    حکمرانوں نے قوم کو پھُوکے انڈوں   کے کاروبار میں گروی رکھنے کی بنیاد رکھ دی ۔ 
آٹومیٹک رفتار سے بغیر کُڑک ہوئے انڈے دینے والی یہ مرغیاں،   دس بارہ انسانی بچوں کو جنم دینے والی خواتین کی طرح   اپنا وزن بے تحاشہ بڑھا کر  " اُمِ چکن " کے رُتبے پر فائز ہوکر  ، بڑے گوشت کے ناغہ کے دن  چھوٹا گوشت بن کر فوجی  لنگروں کی زینت بننے لگیں ۔جن کی ٹانگ سے بوٹیاں اُتارنے کی کوشش میں ٹانگ اُڑ کر کسی کے منہ پر لگتی یا پھر تاک میں بیٹھی ہوئی آوارہ بلّی  کے ہتھے  چڑھتی ۔
ہاں تو بات ہورہی تھی ، کڑک مرغیوں  کو انڈوں پر بٹھا کر سے  چوزے حاصل کرنے  کی ۔   بدیسی مرغیوں کی طرح دیسی مرغیوں نے بھی نخرے دکھانے شروع کر دئیے، جس کا اثر اُن کی اولاد پر بھی پڑا ، جنہوں نے کڑک ہوکر 21 دن جم کر بیٹھنے کو ڈھکوسلہ،  وقت کا ضیاع  اور جسم کے بے ڈول ہونے  سے بچانے کے لئے   کڑک ہونا ہی ختم کر دیا ۔  جس سے کہرام مچ گیا ۔
دیسی مرغوں کی نسل تقریباً ناپید ہونے کو تھی   اور دیسی مرغیاں تھیں کہ بس انڈے پر انڈے دیئے جا رہی تھیں  وہ بھی کسی مرغے کی منکوحہ ہوئے بغیر !
لہذا  پانچ پانچ ہزار چوزے نکالنے والی مشینوں سے متاثر ہو کر   چھوٹی چھوٹی   مشینیں بنائی جانے لگیں ، تاکہ مرغوں کو اپنی بغل میں دبا کر پھرنے والوں کی شان  میں کمی نہ آنے پائے ۔

دیسی الہڑ مرغیوں کی بہتات کی وجہ سے ، حکومت نے اعلان کیا کہ ایک مرغا اور ایک مرغی کے بجائے ، ہر گھر میں ایک مرغا اور چھ مرغیاں لازمی رکھی جائیں ۔ 
ویسے دیسی انڈے ، دسمبر کی اِس سردی میں 200 روپے درجن مل رہے ہیں ۔اگر چھ مرغیاں روزانہ انڈے دیں  تو مہینے میں  3 ہزار روپے کی  بچت ہو !
سنا ہے کہ اب  یتیم انڈوں کی زردی میں کولیسٹرول نہیں ہوتا ،اگر تھوڑا بہت ہوتا بھی ہے تو  اُن سے ڈاکٹروں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا ۔ ویسے بھی ناشتے  میں دو انڈے کھانے کے بعد دوپہر کے کھانے کی بچت ہوجاتی ہے ، یہ بھی قومی آمدنی  میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے ۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 
 ٭-پہلا جانباز - چوزہ - پیدائش و وفات
 ٭- انڈوں سے چوزے نکالنا 
 ٭- فیس بُک سے چِکن بُک تک  


معاشی مندی کی دنیا میں امریکی دانشمندی


جدید ترین ڈرون  قیمت : 2 کروڑ 80 لاکھ ڈالر
مہلک ترین میزائل قیمت : 70 ہزار ڈالر 
ڈرون کا  میزائل سمیت ٹارگٹ کی طرف جانے کا خرچہ : 3 ہزار 624 ڈالر فی گھنٹہ
 ٹارگٹ : یمن میں مارے جانے والے چند انسان ، جن کی زندگی کا انحصار ایک ڈالریومیہ کمائی سے بھی کم ہے ۔
 اِسے کہتے ہیں ،
 معاشی مندی  کی دنیا میں  امریکی دانشمندی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔