Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 10 دسمبر، 2019

رومانس، ایک جملے میں پیدا کرنا اُس کی خصوصیت ہے

فیس بُک فرینڈ لِسٹ میں شامل   ایک اچھی  بھتیجی       صبیحہ کیانی (زرینہ صمد)
جس نے اپریل 2019 میں فرینڈ ریکوئسٹ بھیجی ،  جو بوڑھے نے، قبول کرکے   جواباً یہ پوسٹ ڈالی 

  اُس کے بعد  بھتیجی کی، چبھتی ، سوالیہ ، بیانیہ ، ذہانیہ ،جھنجھلاپا اور گنڈاسا    قسم کی پوسٹ  میری وال پر نظر آنے لگیں ۔
 کل     صبیحہ کیانی (زرینہ صمد) کی ایک پوسٹ پر، اُن کے فرینڈز کے  کمنٹس   ،  تحت الشعور سے شعور میں لے آئے ۔
 میرے خیال میں ،
" رومانس، ایک  جملے    میں پیدا کرنا صبیحہ کیانی  کی خصوصیت  ہے "

 انسانی معلومات جب ماضی کے اُفق پر ، ذہن کی گہرائیوں میں ڈوب جاتی ہیں ، تو ہوا کے دوش پر اُڑتا ہوا ایک لفظ ، اُن یادوں کو دوبارہ تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے ۔ 
 انسانی شخصیت  ، شعور اور تحت الشعور میں جمع یاداشت  کااظہار ہے ۔

پاکستان ملٹری اکیڈمی میں ، گریجوئشن کرتے ہوئے ، انگلش کے مضامین میں ایک مضمون  نثر (prose) کابھی تھا ۔ جِس میں رومانس کا  ایک مضمون  کھلی کھڑکی  (“The Open Window) بھی تھا  ۔اور مجھے یاد اِس لئے ہے کہ ہمارے انگلش کے  استاد میجر تصدّق  نے پڑھنے کی ذمہ داری مجھ پر ڈالی ۔   آپ بھی یہ   کہانی پڑھیں،  میں نے انگلش سے اپنے الفاظ میں ترجمہ کیا ہے اور پھر آخر میں وڈیو دیکھیں ۔ شکریہ

ذکاوت اور خباثت !


پیر، 9 دسمبر، 2019

یوتھیاپائی ۔ ہٹ دھرمی ۔ ملک بھی لیک کر گیا

ایک بہت ہی  معلومات رکھنے والے دوست نے پورے یقین کے ساتھ ، یہ   مضمون وٹس ایپ پر فارورڈ  کیا ۔جِس کو شائد اُس نےبھی  نہیں پڑھا  ۔ یوتھیوں میں ایک یہ اچھی بات ہے کہ وہ افواہوں پر اپنی عقل سے غور نہیں کرتے اور پھر شرمندہ بھی نہیں ہوتے ، اُس ملازم کی طرح ڈھٹائی سے  ڈٹ جاتے ہیں کہ جس سے گلاس ٹوٹ جائے تو وہ ماننے سے انکار کر دیتا ہے کہ گلاس اُس سے ٹوٹا ہے ۔
اچھا چلیں چھوڑیں اور   ناقدانہ   سوالات کی روشنی میں ۔ پڑھیں:

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
LINK THE FOLLOWING STORY WITH NEWS OF RECOVERY OF RS 7 TRILION AND IT MAY FALL IN PLACE
یوتھیا نیوز-1 :   فروری 2016 میں پانامہ لیکس کے آنے سے کچھ عرصہ قبل شریف خاندان کو بذریعہ عمر  چیمہ و ذاتی سورس پتہ چل گیا تھا کہ موجودہ متنازعہ فلیٹ پانامہ میں آ چکا ہے۔
   فروری 2015 میں پانامہ پیپرز  جرمن جرنلسٹ کو ای میل کئے گئے ۔پہلی سٹوری اپریل 2016 کو اخباروں کی زینت بنی۔  عمر چیمہ نے  " سرکاری و غیر سرکاری دستاویز کی مدد سے انویسٹی گیشن  جرنلزم   " فروری 2012 میں شروع کی ۔

وڈیو دیکھیں : پانامہ لیکس 
  صحافیوں نے پانامہ  کیسے لیک کی ؟

یوتھیا نیوز-2  :  پاکستان میں انکی اپنی حکومت تھی کوئی خوف نہیں تھا ، اصل خوف برطانوی قانون کا تھا۔  برطانوی قانون کو اِس سے غرض نہیں کہ جائداد خریدنے کے لئے رقم کہاں سے آئی ، بس وہ یہ دیکھتے ہیں کہ برطانیہ کو ٹیکس دیا یا نہیں ۔کچھ ٹیکس چوروں نے برطانیہ سے ٹیکس بچانے کے لئے  " نیازی سروسز " بنائی ۔جِس پر یوتھیوں کو فخر ہے ۔

یوتھیا نیوز-3 :  اگر برطانیہ میں تحقیقات ہوئیں تو پرابلم کھڑا ہو جائے  گا ، منی ٹریل نہیں ہے ۔ کھربوں پاؤنڈز کا کاروبار جائے  گا ۔ ۔ ۔ فلیٹ بیچو ۔
فلیٹ بیچنے اور پاکستان میں جائداد خریدنے کا بہتری طریقہ نیازی سروسز  کے وکیل یا مالک بتا سکتے ہیں ۔ کہ فلیٹ   بک جائے، اُس کی رقوم پاکستان لا کر جائداد خریدی جائے ۔ پھر فلیٹ بھی  پاس  رہے اور  جائداد  بھی ۔ 

یوتھیا نیوز-4 :-نواز شریف نے ملک ریاض کو بلیک میل کیا ، پاکستان میں کوڑی کوڑی کو محتاج کر دیں گے۔
یوتھیوں کے اُن داتا  ، ملک ریاض نے پاکستانی عوام کو دھوکا دے کر اور اہم عہدوں پر افراد کو رشوت دے کر بحریہ ٹاؤن کی جائداد بنائی ۔ وہ سب پاکستانیوں کے علم  میں ہے سوائے یوتھیوں کے ، اُسے کون کوڑی کوڑی کو محتاج کرسکتا ہے ؟  
مزید پڑھیں :  ملک ریاض بحریہ ٹاؤن: کا طریقۂ واردات!

 یوتھیا نیوز-5 :-جاؤ فلیٹ خریدو ، ہر طرح کا انتظام ہم کریں گے ، مجبور ہوکر ملک ریاض نے پانامہ لیکس سے تین ہفتے پہلے فلیٹ خرید لیا ۔ یوتھیا نیوز-6 : ملک ریاض کا برطانیہ میں اربوں پاؤنڈز کا کاروبار ہے ۔ ۔ ۔ اس وقت شریف خاندان جلد بازی میں تھا اور ملک ریاض بلیک میل ہو رہا تھا ۔
ملک ریاض نے برطانیہ  میں اربوں کیسے بنائے ؟ اپنے عمر چیمہ ،سمیت سارے صحافیوں کو چُپ لگ گئی ہے ، رہے یوتھیئے  !  تو  اُن کی  ، بقول اُن کے ۔ 

 یوتھیا نیوز-7 : مت ماری گئی ، برطانوی ایجنسیز/ قانون  کے ریڈار پر اتنی بڑی پراپرٹی کی خرید و فروخت آ گئی ۔ ۔ ۔ 
لہذا ، اپنے ملک ریاض کے اکاونٹ ، جائدادیں  اور اربوں پاونڈ کا کاروبار   فریز ہو ا!
یوتھیا نیوز-8 :پیسہ کہاں سے آیا ؟ تحقیقات شروع ہوئیں ، 2018 میں بات NCA  ، تک پہنچی ، تحقیقات کے دوران حسن نواز کو بھی بلایا گیا ۔  ملک  ریاض کے اکاؤنٹس فریز ہو گئے ، ملک ریاض نے بیرسٹر شہزاد اکبر کو ساری بات بتائی ،
NCA  ،  نیشنل کرائم ایجنسی ۔  برطانیہ

 یوتھیا نیوز-9 :میں (ملک ریاض)   بلیک میل ہوا ہوں ، تمہیں اُن کی مزید پراپرٹیز ، خفیہ بینک اکاؤنٹس ، جرائم کے اس قسم کے ثبوت فراہم کروں گا جو تم ساری عمر لگے رہو نہیں ڈھونڈ سکو گے ، مجھے میرا پیسہ پاکستان میں چاہئے ۔ ۔ ۔  یوتھیا نیوز-10 :ابھی تو ١٩٠ ملین پاؤنڈز پاکستان کو ملے ہیں ، یہ کچھ بھی نہیں ۔یوتھیا نیوز-11 : ایک فلیٹ چھوڑو یہاں تو 21 پراپرٹیز ، ڈی ایف آئی ڈی ، زلزلہ زدگان کا پیسہ اور مزید کی جائیدادیں سامنے آ گئیں ۔ ۔ ۔ ان کی ساری پراپرٹی برطانیہ میں ضبط ہونے جا رہی ہے ۔

NCA  ، نیشنل کالج آف   (یوتھیاپا ) آرٹ ،   کا بیان ۔

 یوتھیا نیوز-12 : ملک ریاض نے پلی بار گین کی ہے ، برطانیہ کے ساتھ ، اپنے سے بڑے مجرم کو پھنسا دیا ہے ، نشان دہی کر دی ہے ۔ آنے والے دنوں میں بہت بڑی سٹوری سامنے آنے والی ہے ۔ یہ برطانیہ میں بھی رسوا ہوں گے اور پاکستان میں بھی ۔ ۔ ۔
یقیناً پلی بارگین مجرم اپنا باقی پیسہ بچانے کے لئے کرتے ہیں ۔ بھاگتے چور کی   لنگوٹی سہی 

 یوتھیا نیوز-13 : پاکستان اور برطانیہ کو جو ثبوت مل چکے ہیں۔  NCA پھر کارروائی کرے گا لوٹا پیسہ پاکستان کو ملے گا ، جسے یہ ڈیل کا نام دیں گے ، حقائق برطانوی اخباروں سے پتہ چلیں گے ،
یقیناً ، چارٹرڈ جہاز پر دُبئی اور لندن بھیجا گیا پیسہ پاکستان کو ہی ملے گا ، تو کیا باجیاں پھر سلائی مشین بیچیں گی ؟

 یوتھیا نیوز-14 :شہباز شریف کے چیخنے  کی اصل وجہ یہ ہے ۔ ۔ ۔ یہ برطانیہ میں پلی بار گین کریں گے ، پلی بار گین چور کرتا ہے ۔ ۔ ۔
 یقیناً پلی بارگین ، چور کرتا ہے ،  کیا 50 روپے کا پلی بار گین چوری کا حصہ ہے ؟؟

بیٹی کی شادی

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
٭1987 ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﭘﺮ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﺑﺪﺣﻮﺍﺱ ﺗﮭﺎ ﺟﺘﻨﺎ ﮨﺮ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ۔ ﺑﺎﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺕ ﺳﻮ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﻮﻥ ﺍﯾﻠﯿﺎ میرے دوستوں میں سے تھے. انہونے ﻧﮯ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺩﯾﺎ کہ " ﺟﺎﻧﯽ رئیس ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮫ, کرنا کسطرح ہے" . رئیس ﺍﻣﺮﻭﮨﻮﯼ ﻓﮑﺮ ﺳﺨﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻮ ﺗﮭﮯ۔ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﮯ ﺑﻮﻟﮯ " ﭘﮕﮍﯼ ﻭﺍﻻ ﺳﺐ ﮐﺮﺩﮮ ﮔﺎ۔ ﻻﻟﻮ ﮐﮭﯿﺖ ﺳﭙﺮ ﻣﺎﺭﮐﯿﭧ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ " ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﺤﺮ ﺧﯿﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﻏﻮﻃﮧ ﺯﻥ ہوگئے. کراچی شہر کے مشہور علاقے لیاقت آباد المعروف لالو کھیت کی سوپر مارکیٹ پہنچا تاکہ "ﭘﮕﮍﯼ ﻭﺍﻻ" ڈھونڈا جاسکے. ﺑﮍﯼ حیرانگی ﮨﻮﺋﯽ ﺟﺐ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﺭﺍﮦ ﭼﻠﺘﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎﺩﯾﺎ۔ ﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﮯ ﺁﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﻧﺌﮯ ﺑﺎﻭﺭﭼﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﺍﻧﭧ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ۔ ﺍﻭﭘﺮ ﻟﭩﮭﮯ ﮐﯽ ﻭﺍﺳﮑﭧ ﻧﯿﭽﮯ ﭼﺎﺭﺧﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﻟﻨﮕﯽ۔ ﺳﺘﺮ 70 ﮐﮯ ﭘﯿﭩﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ. ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺑﺪﻥ, ﺳﺮ ﺳﯿﺪ ﺧﺎﻥ ﻭﺍﻟﯽ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﻮﻧﺠﺘﯽ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺁﻭﺍﺯ۔ ﻭﮨﯿﮟ چارپائی ﭘﺮ ﭨﮏ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﻣﺪﻋﺎ ﮐﯽ۔ ﺭﯾﺌﺲ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﮰ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺯﮦ ﻗﻄﻌﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﮯ ﺑﻮﻟﮯ " ﺁﺝ ﮔﺮﻡ ﻣﺴﺎﻟﮧ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ, اسکو کہہ ﺩﯾﻨﺎ. یہ بتاؤ کہ ﺑﺎﺭﺍﺗﯿﻮﮞ ﮐﻮﮐﯿﺎ ﮐﮭﻼﻭﮔﮯ?" ﻣﯿﭩﮭﮯ ﮐﺎ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻧﻔﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﮨﻼﻧﮯ ﻟﮕﮯ "ﮔﺎﺟﺮ ﮐﺎ ﺣﻠﻮﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻦ ﺳﮑﺘﺎ " ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺍﻧﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺳﺐ ﺑﻨﺎﺭﮨﮯﮨﯿﮟ۔ﺧﻔﮕﯽ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﮯ " ﻣﯿﺎﮞ! ﺳﺐ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔۔۔۔۔۔ﻧﺌﯽ ﮔﺎﺟﺮ مارکیٹ میں ﮨﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻭﺍﻟﯽ۔۔ ﮐﮭﻮﮰ ﮐﯽ ﻣﺎﺭ ﺩﻭ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺫﺍﺋﻘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ۔ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺗﻮ ﺟﻮ ﺭﮐﮭﻮﮔﮯ ﮐﮭﺎﻟﯿﮟ ﮔﮯ۔ مگر ﭘﮕﮍﯼ ﻭﺍﻻ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﺧﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﻣﻞ ﺟﺎﮰﯾﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ ". ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ۔ﺩﯾﮕﺮ ﺍﻣﻮﺭ ﻃﮯ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﭼﻠﺘﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺑﯿﭩﮭﺎ " ﻣﯿﮟ ﺭﯾﺌﺲ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﭘﺮ ﺁ ﮔﯿﺎ۔ ﭘﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯿﺴﺎ ﭘﮑﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ " ۔ ﻧﺎﮔﻮﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﺁﺛﺎﺭﺳﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﺮﯼ ﻟﮕﯽ۔۔۔ﺍﻭﺭ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﻟﮕﺘﯽ۔۔ﮐﻮﺋﯽ ﻣﮩﺪﯼ ﺣﺴﻦ ﺧﺎﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﺎ ﮐﮧ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﺗﻮ ﻣﻞ ﺟﺎﮰ ﮔﺎ ﻣﮕﺮ ﭘﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮔﺎﺗﮯ ﮐﯿﺴﺎ ﮨﯿﮟ۔۔ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ۔ مگر ﭘﮕﮍﯼ ﻭﺍﻻ ﻧﮯ ﺭﯾﺌﺲ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﺎ ﻟﺤﺎﻅ ﮐﯿﺎ۔ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﺳﮯ دو تین ﺩﻥ ﻗﺒﻞ ﺭﺍﺕ ﺑﺎﺭﮦ ﺑﺠﮯ ﮐﺎﻝ ﺑﯿﻞ ﭘﺮﻧﮑﻞ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﭘﮕﮍﯼ ﻭﺍﻻ ﺧﻮﺍﻥ ﭘﻮﺵ ﺳﮯ ﮈﮬﮑﺎ ﺗﮭﺎﻝ ﻟﯿﺌﮯ ﻣﻮﺟﻮﺩ تھے. ﮐﺴﯽ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﻟﻮﭨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺑﻮﻟﮯ " ﻟﻮ ﻣﯿﺎﮞ ﺩﯾﮑﮭﻮ! ﮨﻢ ﮐﯿﺴﺎ ﭘﮑﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ " . تھال دیا ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺯﻭﮐﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ کر ﯾﮧ ﺟﺎ ﻭﮦ ﺟﺎ۔۔ ﯾﮧ ﮐﮩﻨﺎ سچ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻓﻨﮑﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺳﻨﺪ ﺗﮭﺎ. ﺑﺎﺭﺍﺕ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻗﺒﻞ مجھے ﻃﻠﺐ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﮯ " ﻣﯿﺎﮞ ﺑﻨﮍﮮ ﮐﯽ ﺩﯾﮓ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ " ۔ ﻣﯿﮟ ﺳﭩﭙﭩﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ " ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ " ۔ ﻭﮦ ﮨﻨﺴﮯ ﺍﻭﺭﺑﻮﻟﮯ " ﻣﯿﺎﮞ ﺩﻟﮩﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺟﺎﮰ ﮔﺎ۔ ﺧﯿﺮﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﮔﮯﮨﻢ " ﺗﻘﺮﯾﺐ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮔﻮﭨﮯ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﻭﺍﻟﮯ ﺧﻮﺍﻥ ﭘﻮﺷﻮﮞ ﺳﮯ ﮈﮬﮑﯽ ﺩﻭ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺩﯾﮕﯿﮟ ﺍﻟﮓ ﻻﮰ۔ ﺧﻮﺩ ﺳﻨﮩﺮﮮ ﻃﺮﮮ ﻭﺍﻟﯽ ﭘﮕﮍﯼ ﺍﻭﺭ ﺷﯿﺮﻭﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻋﺼﺎ ﺗﮭﺎﻣﮯ ﮐﺮﺳﯽ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺷﺎﮔﺮﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﮈﺍﻧﭧ ﮈﭘﭧ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﻣﮕﺮ ساتھ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺨﺸﺎ۔ ﺟﮩﺎﮞ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻓﺎﺭﻍ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮈﺍﻧﭧ ﻟﮕﺎﺗﮯ " ﻣﯿﺎﮞ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﮨﻮ؟ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﮩﻦ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﺍﺕ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﺰﺑﺎﻥ ﮨﻮ ﺗﻢ۔ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻮﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ۔ﮐﺴﯽ ﻣﯿﺰ ﭘﺮ ﮐﭽﮫ ﮐﻢ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ " ﺭﺧﺼﺘﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮﻭﮦ ﻏﺎﺋﺐ۔ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ۔ "ﮐﯿﺴﮯ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﻐﯿﺮ؟" ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺍﺳﺒﺎﺏ ﺳﻤﯿﺖ ﺟﺎ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﻭﻟﯿﻤﮧ ﺗﮭﺎ۔ ﭘﮭﺮ چوتھے دن دیگر مصروفیات. ﭘﺎﻧﭽﻮﯾﮟ ﺩﻥ ﻓﺮﺻﺖ ﻣﻠﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ یوہ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﮈﺍﻟﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﻣﻠﮯ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺳﺎﺭﺍ ﮐﺎﻡ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﺎ ﮐﯿﺎ۔ ﺧﺮﺍﺑﯽ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﯽ ﮐﮧ ﭘﯿﺴﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﻐﯿﺮﭼﻠﮯ ﺁﮰ. ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍﮰ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﮯ "ﻣﯿﺎﮞ! ﻟﮍﮐﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﮯ ﮨﻢ ﻧﮯ۔ الله ﺟﺎﻧﮯ ﺍﻥ ﭘﺮ ﮐﯿﺴﺎ ﻭﻗﺖ ﮨﻮ، ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﺁﺳﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ۔ ﻧﺼﯿﺐ ﮐﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺧﻮﺩﮨﯽ ﺩﮮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺟﯿﺴﮯ ﺗﻢ ﺧﻮﺩ ﺁﮔﺌﮯ ﮨﻮ ﻭﺭﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺮﺗﮯ ﺩﻡ ﺗﮏ ﻧﮧ ﺁﺗﺎ ". ﻣﯿﮟ ﺩﻡ ﺑﺨﻮﺩ ﭘﮕﮍﯼ والے ﺑﺎﻭﺭﭼﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻃﺮﮦ ﺩﺳﺘﺎﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﺎﻗﺎﺑﻞ ﯾﻘﯿﻦ ﻭﺿﻌﺪﺍﺭﯼ, ﻓﺮﺍﺧﺪﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﮐﻞ علی الله ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮﻣﯿﮟ اسکو ﻣﺎﻭﻧﭧ ﺍﯾﻮﺭﺳﭧ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﻧﭽﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﯾﮧ ﺑﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯﮐﯽ ﺭﻗﻢ ﺗﮭﯽ۔ ﺁﺝ ﺳﮯ تیس ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮯ ﺑﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﺁﺝ ﮐﮯ ﮐﻢ ﺳﮯ ﮐﻢ ﺑﮭﯽ ڈھائی ﻻﮐﮫ روپے ﺗﻮ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﻭ ﺭﻭﭘﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭼﮭﻮﮌﺩﯾﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻧﺼﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﻧﮕﮯ ﺗﻮ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ. ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﺮﻧﮯ ﺗﮏ ﺍﯾﺴﺎ ہی ﺭﮨﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻓﻮﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﯿﺰﺑﺎﻥ ﮨﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﮨﯿﮟ. الله رب العزت انہیں قبر میں کشادگی اور عالم برزخ میں انکی روح کو بہترین درجات عطا فرماۓ. آمین ۔.۔.۔.۔.۔..۔.۔.۔.۔.۔.۔.۔.۔.۔.۔.۔.۔.. ﺍﺏ آپ ﯾﮧ پگڑی والے کا ﻓﻘﺮﮦ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭼﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ موجود ﮨﯿﮟ? "ﻣﯿﺎﮞ! ﻟﮍﮐﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﮯ ﮨﻢ ﻧﮯ۔ الله ﺟﺎﻧﮯ ﺍﻥ ﭘﺮ ﮐﯿﺴﺎ ﻭﻗﺖ ﮨﻮ، ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﺁﺳﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ۔ ﻧﺼﯿﺐ ﮐﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺧﻮﺩﮨﯽ ﺩﮮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺟﯿﺴﮯ ﺗﻢ ﺧﻮﺩ ﺁﮔﺌﮯ ﮨﻮ ﻭﺭﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺮﺗﮯ ﺩﻡ ﺗﮏ ﻧﮧ ﺁﺗﺎ "
٭٭٭٭

اتوار، 8 دسمبر، 2019

مسلم حکمران اور یوروپاکستانی پروپیگنڈا

 چند سال سے اس ملک کے ٹیلیویژن چینلز پر تعلیم کے نام پر سفید جھوٹ پر مبنی پروگرام چلائے جا رہے ہیں اور یہ باور کرانے کی کوشش ہے کہ جب یورپ میں یونیورسٹیاں کُھل رہی تھیں۔ تو مسلم بادشاہ تاج محل اور شالامار باغ بنا رہے تھے۔
 میری یہ تحریر مختلف مصنفین کے متعلقہ کالمز اور پروفیسرز، مورخین یا محققین کی تحقیق کے اس حصہ پر مبنی ہے جو میں نے ذاتی تحقیق کے بعد درست پائے، اس تحریر میں میرے اپنے الفاظ کم اور مندرجہ بالا شخصیات کے الفاظ زیادہ ہیں۔ تاریخ کی گواہی بعد میں پیش کروں گا پہلے بنیادی عقل کا ایک درس پیش کروں۔ان چینلز یا پروگرامز میں اگر کوئی سمجھ بوجھ والا آدمی بیٹھا ہوتا تو اسکو سمجھنے میں یہ مشکل نہیں آتی کہ مسلم دور کی شاندار عمارات جس عظیم تخلیقی صلاحیت سے تعمیر کی گئی، وہ دو چیزوں کے بغیر ممکن نا تھیں۔
 پہلی فن تعمیر کی تفصیلی مہارت، جس میں جیومیٹری، فزکس، کیمسٹری اور ڈھانچے کے خدوخال وضع کرنے تک کے علوم شامل ہوتے ہیں۔
دوسری کسی ملک کی مضبوط معاشی اور اقتصادی حالت، اس قدر مضبوط کے وہاں کے حکمران شاندار عمارات تعمیر کرنے کا خرچ برداشت کر سکیں۔
معاشی حوالے سے ہندوستان بالعموم مسلم ادوار اور بالخصوص مغلیہ دور (اکبرتا اور نگ زیب ) میں دنیا کے کل GDP میں اوسطاً 25% فیصد حصہ رکھتا تھا۔در آمدات انتہائی کم اور برآمدات انتہائی زیادہ تھیں اور آج ماہر معاشیات جانتے ہیں کہ کامیاب ملک وہ ہے جس کی برآمدات زیادہ اور درآمدات کم ہوں۔
. سترویں صدی میں فرانسیسی سیاح فرانکوس برنئیر  (1)(1656-1668) میں ہندوستان آیا ، اپنی کتاب(2)" مغل شہنشایت  میں سفر " اور کہتا ہے کہ  ہندوستان کے ہر کونے میں سونے اور چاندی کے ڈھیر ہیں۔اسی لئے سلطنت مغلیہ ہند کو سونے کی چڑیا کہتے تھے ۔

 اب تعمیرات والے اعتراض کی طرف آتے ہیں۔
  فن تعمیر کی جو تفصیلات تاج محل، شیش محل، شالامار باغ، مقبرہ ہمایوں، دیوان خاص وغیرہ وغیرہ میں نظر آتی ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ ان کے معمار جیومیٹری کے علم کی انتہاؤں کو پہنچے ہوئے تھے۔ تاج محل کے چاروں مینار صرف آدھا انچ باہر کی جانب جھکائے گئے تاکہ زلزلے کی صورت میں گرے تو گنبد تباہ نہ ہوں. مستری کے اینٹیں لگانے سے یہ سب ممکن نہیں، اس میں حساب کی باریکیاں شامل ہیں۔
 1631 تا 1648 میں بننے والا ،  پورا تاج محل 90 فٹ گہری بنیادوں پر کھڑا ہے۔ اِس کے نیچے 30 فٹ ریت ڈالی گئی کہ اگر زلزلہ آئے تو پوری عمارت ریت میں گھوم سی جائے اور محفوظ رہے. لیکن اس سے بھی حیرانی کی بات یہ ہے کہ اتنا بڑا شاہکار دریا کے کنارے تعمیر کیا گیا ہے اور دریا کنارے اتنی بڑی تعمیر اپنے آپ میں ایک چیلنج تھی۔جس کے لئے پہلی بار ویل فاونڈیشن (well foundation) متعارف کرائی گئی یعنی دریا سے بھی نیچے بنیادیں کھود کر ان کو پتھروں اور مصالحہ سے بھر دیا گیا، اور یہ بنیادیں سینکڑوں کی تعداد میں بنائی گئی گویا تاج محل کے نیچے پتھروں کا پہاڑ اور گہری بنیادوں کا وسیع جال ہے، اس طرح تاج محل کو دریا کے نقصانات سے ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا گیا۔


 عمارت کے اندر داخل ہوتے ہوئے اسکا نظارہ فریب نظر یعنی (Optical illusion ) سے بھرپور ہے۔
 مسلمان معماروں نے تعمیرات میں (well foundation)  اور (optical illusions) کا  ، استعمال  تاج محل میں  کر کے سترھویں صدی کے وسط میں مکمل کیا ۔جب کہ مغرب میں  تعمیرات  کا آغاز ، انیسویں صدی اور  بیسویں صدی میں کیا۔

مترجم  ،عیسائیوں کے دو گرجاؤں  کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتا ہے  ۔ 
ایک فرانس میںRue Saint Antoine    چرچ ہے اور دوسرا امریکہ میں نیویارک  کا Saint Louis Church Buffalo  چرچ ۔ اور تاج محل  کے میناروں کی بلندی ایک جیسی ہے ۔ (صفحہ۔ 295)
 لیکن  تاج محل عمارت بیک وقت اسلامی، فارسی، عثمانی، ترکی اور ہندی فن تعمیر کا نمونہ ہے۔ یہ فیصلہ کرنے کے لئے حساب اور جیومیٹری کی باریک تفصیل درکار ہے۔
آسڑیئن آرٹ اور فن تعمیر  کی مؤرخ  ،  پروفیسر ڈاکٹر  ایبا کوچ (Prof. Dr. Ebba Koch)   ویانا  یونیورسٹی،  نے حال میں ہی تاج محل کے اسلامی اعتبار سے روحانی پہلو واضح (decode) کئے ہیں اور بھی کئی راز مستقبل میں سامنے آ سکتے ہیں۔
کراسنگ بارڈر ۔مغل آگرہ جیسا یہ تھا  (ؤڈیو)

آج تاج محل کو جدید مشین اور جدید سائنس کو استعمال کرتے ہوئے بنایا جائے  کافی رقم خرچ کرنے کے باوجود  بھی ایسا بنانا ،  تقریباً ناممکن ہے۔

"ٹائل موزائیک" فن   میں چھوٹی چھوٹی رنگین ٹائلوں سے دیوار پر تصویریں بنائی جاتی اور دیوار کو منقش کیا جاتا ہے. یہ فن لاہور کے شاہی قلعے کی ایک کلومیٹر لمبی منقش دیوار اور مسجد وزیرخان میں نظر آتا ہے. ان میں جو رنگ استعمال ہوئے، ان کو بنانے کے لئے آپ کو موجودہ دور میں پڑھائی جانے والی کیمسٹری کا وسیع علم ہونا چاہئیے۔
یہی حال فریسکو پینٹنگ کا ہے، جن کے رنگ چار سو سال گزرنے کے باوجود آج تک مدہم نہیں ہوئے . تمام مغل ادوار میں تعمیر شدہ عمارتوں میں ٹیرا کوٹا (مٹی کو پکانے کا فن) سے بنے زیر زمین پائپ ملتے ہیں۔ اِن سے سیوریج اور پانی کی ترسیل کا کام لیا جاتا تھا. کئی صدیاں گزرنے کے باوجود یہ اپنی اصل حالت میں موجود ہیں۔
مسلم فن تعمیر کا مکمل علم حاصل کرنے کی کوشش کی جائے اور موجودہ دور کے سائنسی پیمانوں پر ایک نصاب کی صورت تشکیل دیا جائے تو صرف ایک فن تعمیر کو مکمل طور پر سیکھنے کے لیے پی ایچ ڈی (phd) کی کئی ڈگریاں درکار ہوں گی۔
کیا یہ سب کچھ اس ہندوستان میں ہو سکتا تھا، جس میں جہالت کا دور دورہ ہو اور جس کے حکمرانوں کو علم سے نفرت ہو؟؟ 
یہ مسلم نظام تعلیم ہی تھا ، جو سب کے لئے یکساں تھا، جہاں سے بیک وقت عالم، صوفی، معیشت دان، طبیب، فلسفی، حکمران اور انجینئر نکلتے تھے۔
 شیخ احمد سرہندی  ہوں یا جہانگیر ہو یا استاد احمد لاہوری ہو، یہ سب مختلف گھرانوں سے تعلق رکھنے کے باوجود ایک ہی تعلیمی نظام میں پروان چڑھے، اسی لئے ان سب کی سوچ انسانی مفاد کی تھی۔
 مزید بھی میں مغربی مصنفین کی گواہی پیش کروں گا، اسلئے کہ میرے ان "عظیم" صاحبان علم کو کسی مسلمان یا لوکل مصنف کی گواہی سے بھی بو آتی ہے۔

 ول ڈیورانٹ مغربی دنیا کا مشہور ترین مورخ اور فلاسفر ہے. وہ اپنی کتاب story of civilization میں مغل ہندوستان کے بارے میں لکھتا ہے:
 "ہر گاؤں میں ایک سکول ماسٹر ہوتا تھا، جسے حکومت تنخواہ دیتی تھی. انگریزوں کی آمد سے پہلے صرف بنگال میں 80 ہزار سکول تھے. ہر 400 افراد پر ایک سکول ہوتا تھا. ان سکولوں میں 6 مضامین پڑھائے جاتے تھے. گرائمر، آرٹس اینڈ کرافٹس، طب، فلسفہ، منطق اور متعلقہ مذہبی تعلیمات. "
 اس نے اپنی ایک اور کتاب A Case For India میں لکھا کہ مغلوں کے زمانے میں صرف مدراس کے علاقے میں ایک لاکھ 25 ہزار ایسے ادارے تھے، جہاں طبی علم پڑھایا جاتا اور طبی سہولیات میسر تھیں.
  میجر ایم ڈی باسو نے برطانوی راج اور اس سے قبل کے ہندوستان پر بہت سی کتب لکھیں. وہ میکس مولر کے حوالے سے لکھتا ہے 
"بنگال میں انگریزوں کے آنے سے قبل وہاں 80 ہزار مدرسے تھے".
 اورنگزیب عالمگیر کے زمانے میں ایک سیاح ہندوستان آیا، جس کا نام الیگزینڈر ہملٹن تھا، اس نے لکھا کہ صرف ٹھٹھہ شہر میں علوم و فنون سیکھانے کے 400 کالج تھے۔ 
 میجر باسو نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ ہندوستان کے عام آدمی کی تعلیم یعنی فلسفہ، منطق اور سائنس کا علم انگلستان کے رئیسوں حتیٰ کہ بادشاہ اور ملکہ سے بھی زیادہ ہوتا تھا۔
جیمز گرانٹ کی رپورٹ یاد رکھے جانے کے قابل ہے. اس نے لکھا ،
" تعلیمی اداروں کے نام جائیدادیں وقف کرنے کا رواج دنیا بھر میں سب سے پہلے مسلمانوں نے شروع کیا. 1857ء میں جب انگریز ہندوستان پر مکمل قابض ہوئے تو اس وقت صرف روحیل کھنڈ کے چھوٹے سے ضلع میں، 5 ہزار  اساتذہ سرکاری خزانے سے تنخواہیں لیتے تھے." 
مذکورہ تمام علاقے دہلی یا آگرہ جیسے بڑے شہروں سے دور مضافات میں واقع تھے۔ انگریز اور ہندو مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ تعلیم کا عروج  اورنگزیب عالمگیر کے زمانے میں اپنی انتہا کو پہنچا. اورنگزیب عالمگیر   نے ہی پہلی دفعہ تمام مذاہب کے مقدس مذہبی مقامات کے ساتھ جائیدادیں وقف کیں. سرکار کی جانب سے وہاں کام کرنے والوں کے لئے وظیفے مقرر کئے۔  اس دور کے 3 ہندو مورخین سجان رائے کھتری، بھیم سین اور ایشور داس بہت معروف ہیں۔
سجان رائے کھتری نے "خلاصہ التواریخ"، بھیم سین نے "نسخہ دلکشا" اور ایشور داس نے "فتوحات عالمگیری" لکھی. یہ تینوں ہندو مصنفین متفق تھے کہ عالمگیر نے پہلی دفعہ ہندوستان میں طب کی تعلیم پر ایک مکمل نصاب بنوایا اور طب اکبر، مفرح القلوب، تعریف الامراض، مجربات اکبری اور طب نبوی جیسی کتابیں ترتیب دے کر کالجوں میں لگوائیں تاکہ اعلیٰ سطح پر صحت کی تعلیم دی جا سکے. یہ تمام کتب آج کے دور کے MBBS نصاب کے ہم پلہ ہیں۔
 اورنگزیب سے کئی سو سال پہلے فیروز شاہ نے دلی میں ہسپتال قائم کیا، جسے دارالشفاء کہا جاتا تھا. عالمگیر نے ہی کالجوں میں پڑھانے کے لیے نصابی کتب طب فیروزشاہی مرتب کرائی. اس کے دور میں صرف دلی میں سو سے زیادہ ہسپتال تھے۔
 تاریخ سے ایسی ہزاروں گواہیاں پیش کی جا سکتی ہیں،  ہو سکے تو لاہور کے انارکلی مقبرہ میں موجود ہر ضلع کی مردم شماری رپورٹ ملاحظہ فرمالیں،آپکو ہر ضلع میں شرح خواندگی 80% سے زیادہ ملے گی جو اپنے وقت میں بین الاقوامی سطح پر سب سے زیادہ تھی۔
لیکن انگریز جب یہ ملک چھوڑ کر گیا تو صرف 10% تھی. بنگال 1757ء میں فتح کیا اور اگلے 34 برسوں میں سبھی سکول و کالج کھنڈر بنا دیئے گئے. ایڈمنڈ بروک نے یہ بات واضح کہی تھی کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے مسلسل دولت لوٹی جس وجہ سے ہندوستان بدقسمتی کی گہرائی میں جاگرا. پھر اس ملک کو تباہ کرنے کے لئے لارڈ کارنیوالس نے 1781ء میں پہلا دینی مدرسہ کھولا۔ اس سے پہلے دینی اور دنیاوی تعلیم کی کوئی تقسیم نہ تھی۔ ایک ہی مدرسہ میں قرآن بھی پڑھایا جاتا تھا، فلسفہ بھی اور سائنس بھی۔
 یہ تاریخ کی گواہیاں ہیں۔
لیکن اشتہار و پروگرام بنانے والے جھوٹ کا کاروبار کرنا چاہے تو انہیں یہ باطل اور مرعوب نظام نہیں روکتا۔
 مجھے دہلی جانے کا اتفاق ہوا ہے اور ان تعمیرات کا مشاہدہ کیا ہے، آپ یقین کیجئیے کہ ان عمارات کے سحر سے نکلنا ایک مشکل کام ہوتا تھا اور فخر اور حیرانی ہوتی تھی کہ ان ادوار میں مشین کا وجود نا ہونے کے باوجود ایسے شاہکار تعمیر کرنا ناممکن لگتا ہے۔
 لاہور میں مغلیہ فن تعمیر پر کبھی نظر دوڑائیے، آپ انجینئرنگ کے کارناموں پر محو حیرت رہے گے کیونکہ جب یورپ یونیورسٹیاں بنا رہا تھا تو یہاں وہ تعلیمات عام ہو چکی تھیں۔
لیکن یہ موجودہ ظالم نظام جہاں ہمیں اپنی اعانت کے لئے اپنا کلرک بناتا ہے وہاں ہماری عظیم تاریخ کو بھی مبہم بناتا ہے۔
 تحریر کا اختتام کرنے کے لئے بہت کچھ ہے لیکن ایک سنہری قول سے اختتام کروں گا۔
"آج مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ انہیں ذرائع ابلاغ (Media) کا پروپیگنڈا بہا کے لے گیا"۔
تحریر: اعظم قدوائی صاحب
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
روح القدّس نے محمدﷺ خاتم النبیئن کو اللہ کی سنت  بتائی۔ 
وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَأَجْلِبْ عَلَيْهِم بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلادِ وَعِدْهُمْ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلاَّ غُرُورًا  ﴿17:64﴾
اور تو اپنی استطاعت سے اُن کو    ، اُن میں  اپنی آواز (پروپیگنڈہ)  سے اُکھاڑ  ، اور اُن پر اپنے خیالات بر اپنی مردانگی  کا پردہ ڈال    اور  اُن کے اموال اور اولاد میں شراکت کر اور اُس سے وعدے  کر ، الشیطان کے وعدے  سوائے مغالطے کے کچھ نہیں ۔

إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ ۚ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ وَكِيلًا ﴿17:65﴾
صرف میرے عباد پر تیرے لئے کوئی سلطان نہیں  ۔ اور تیرے ربّ کے ساتھ وکا لت  کافی ہے ؛
------------------------
نوٹ: مہاجرزادہ نے  ، گوگل کی مدد سے مصنف کے حوالہ جات ڈھونڈے   تاکہ مضمون کو مصدّق کیا جائے ۔ 
(1)۔ فرانسیسی سیاح فرانکوس برنئیر  (1)(1656-1668)
(2)۔ مغل شہنشایت  میں سفر ۔ہندوستان سونے کی چڑیا  کا ذکر  نہیں ، ہاں البتہ   سونے کی بہتات کو ذکر کیا ہے جو  باہر سے آنے والے  سونے یا چاندی کے سکوں  کے بدلے ہندوستان سے یہاں کا مالِ تجارت خریدتے ،  سونے کے یہ سکّے ،  لگان کی صورت میں اور بادشاہ ، امیروں ، راجوں کو منتقل ہوتے  اور مندروں  میں بتوں کو دان کئے جاتے ۔   فرانکوس 1656 میں ہندوستان آیا تھا ، جب تاج محل تعمیر ہوچکا تھا ۔ دارا اور اورنگ زیب آپس میں  تخت کے لئے  بر سرو پیکار تھے   ، دو سال بعد اورنگزیب  دارا کو ذلت آمیز شکست دینے اور  شاہجہاں  آگرہ میں ہی پابندِ زنداں کرنے کے بعد   پورے ہندوستان کا بلا شرکتِ غیرے بادشاہ بن چکا تھا ۔
اپنے ایک خط میں لکھتا ہے ، کہ ہندوستان  کے زوال کا سبب  کی اصل وجہ :
 جبکہ ، ہندوستان کے زوال کی اصل وجہ ہندوستان پر یورپی اقوام کا قبضہ اور ہندوستان کا سونا ، چاندی اور جواہرات اپنے اپنے مُلک میں چھین کر لے جانا تھا۔ وہ ملک جِس سے تجارت سونے اور چاندہ کے سکّوں میں کی جاتی  ، اب وہ  تانبے اور پیتل کے سکّوں اور کاغذی پرونوٹ  پر گذارا کرنے لگی ۔
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔