Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 10 جون، 2024

فوجیانہ مزاح اور ایک جدی پشتی فوجی

 ڈاکٹر محمد اسماعیل جوئیہ  ۔ ہمارے شگفتہ گو  محفل کے  شگفتہ دوستوں میں سے ہیں ۔ آپ کہیں  گے بھائی  ضرور ہوں گے ۔ بڑھاپے میں ہمارے بھی کئی ڈاکٹر  دوست ہیں ۔ جیسے دانتوں کا ڈاکٹر ، آنکھوں کا ڈاکٹر ۔ کان ، ناک اور گلے کا ڈاکٹر ۔پھیڑوں کا ڈاکٹر ۔ذیابیطس کا ڈاکٹر اور اب قلب کا ڈاکٹر  ، وغیرہ وغیرہ ، ارےارےبھائی ذرا صبریہ سب ڈاکٹر تو ہمارے بھی دوست  ہیں ۔ لیکن یہ ادب کے ڈاکٹر ہیں اور مزے کی بات فوجیانہ مزاح کے باوردی ڈاکٹر بھی ہیں ۔

 شگفتہ گو  محفل  کا آغاز 28 ستمبر 2018 میں اللہ کی امان میں جانے والے ہنس مکھ دوست انجینئر آصف اکبر  اور ڈاکٹر عزیز فیصل نے شروع کیا ۔شائد دونوں شعر سنا سنا  کر  بور ہوچکے تھے۔ چنانچہ  مزاح میں نثر   کے لئے   مزاح کے نئے پودوں کی  آبیاری     کی کوشش میں اُنہوں نے اپنے باغیچہ میں ہمارا  بوٹا  بھی چن لیا ۔ گو یا ۔

 پتہ پتہ بوٹا   بوٹا  حال ہمارا    ۔۔۔۔

معذرت! یہ کیا بھیانکر غلطی سرزد ہونے لگی تھی ، اپنی یا اشعارِ اغیار کا اِس محفل میں قطعی داخلہ ممنوع  قرار دیا گیا تھا  ۔

پہلی محفل   مناثرہ کا آغاز  ۔ جناب آصف اکبر کے   دولت کدے سے  ہوا ،   پھر  ہر ماہ کے پہلے ہفتے کو متواترقہقہوں بھری یہ محفل لائن حاضر ہوتی   اور پھر کرونا نے سب کو آن لائن کردیا  ۔ کرونا کے اختتام  پر کبھی لائن حاضر اور کبھی آن لائن گھروں سے قہقہے بکھیرے جاتے ۔ لیکن 28 ستمبر کو جو سالگرہ منائی جاتی وہ آصف اکبر کی یاد میں منائی جاتی ، پہلے  شگفتہ گویاؤں  کی یہ محفل محدود تھی لیکن آہستہ آہستہ اِس میں حسب ذوق شگفتگین دوستوں کا اِس شرط پر اضافہ  کیا گیا ۔ کہ نثری ادبی حدود  میں رہنے والے  احباب کا انتخاب کیا جائے  یوں، ڈاکٹر محمد اسماعیل جوئیہ       کابوٹا  نہیں بلکہ  شجرِ سایہ دار بھی  اِس باغ میں لگا دیا  گیا  ۔

اور پھر نیوٹن کے سیب کی مانند ایک زناٹے  سے ، دو کٹھل  شجر مزاح سے 26 مئی 2025  کے گرم دن  میرے سر پر گرے۔

اِس بانگ کے ساتھ ۔"سر برائے تبصر ہ و تنقید"۔

باوردی/فوجیانہ مزاح ۔ ھو ھو اور ھاھا ۔یہ بھی کوئی بات ہوئی کبھی مزاح کو آپ نے فوجی وردی میں ملبوس دیکھا کے ۔ نہیں نہ کیسے دیکھا ہوگا ؟ کیوں کہ آپ یا آپ کے جد باوردی نہیں تھے ، ممکن ہے کہ چچا ، تایا یا بھائی ہوں گے تو آپ کو کیا لینا ۔ خیر میرا بچپن جب لڑکپن میں داخل ہوا ، تو ہمارے گورنمنٹ برکی مڈل سکول ایبٹ آباد  کے پیچھے ایک ڈرامہ ھال میں والد اپنے دوستوں کے ساتھ لے گئے جہاں بہت سارے فوجی مَفتی پہنے پہنے بنچوں پر  بیٹھے تھے ۔اور تمام جے جی اوز سرخ بلیذر اور ٹائی لگائے       کرسیوں پر اور سب سے آگے ایک لائن میں آفیسرز جو سارے ڈاکٹر تھے  سوٹ پہنے بیٹھے تھے  کہ بگل بجا اور  آرمی میڈیکل کو ر سنٹر کے کمانڈنٹ صاحب ، سیکنڈ اِن کمانڈ ، ایڈجوٹنٹ ، کواٹر ماسٹر کے ہمراہ ھال میں داخل ہوئے ، سب حاضرین کھڑے ہوئے ۔ سنٹر صوبیدار میجر نے سلیوٹ مارا  اور مہمانِ خصوصی   اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہوگئے ۔
سامنے سٹیج تھا جس پرمختلف پروگرام شروع ہوئے ، اُس کے بعد ھال کے تمام نوجوانوں نے زور زور سے قہقہے لگانے شروع کردیئے۔ اباکی طرف دیکھا تو وہ بس مسکرا رہے تھے۔ گھر آکر معلوم ہواکہ وہ سب سینیئر کی نقلیں اتار کر مذاق اُڑا رہے تھے ۔ اور سب ہنس رہے تھے ۔ یہ مذاق یا مزاح سے ہمارا پہلا تعارف تھا یہ کوئی 1962 کی بات ہے     ۔

سویلئن مزاح سے ہماراتعارف بچوں کے رسالوں کی حد تک تھا ۔ لیکن فوجی مزاح  چارلی چپلن  کی فلموں تک محدود ، جو اِسی ڈرامہ ھال میں اتوار کو دکھائی جاتی ، یاجب ہم سنٹر کے پریڈ گراونڈ میں پریڈ کرتے دیکھتے۔ جب   غور کیا تو   یہ انکشاف ہوا  کہ فوجی باوردی  مزاح تو ہمارے چاروں طرف بکھرا ہوا ہے ۔ جو ہمارے  والد کے بیٹ مین  سے شروع ہوتا  اور پھیلتا ہوا دوسرے  بیٹ مینوں تک چلا جاتا ۔ کیوں کہ یہ کلّی اِن پڑھ ہوتے ۔ اِن سے جو احمقانہ حرکات سرزد ہوتیں وہ مزاح کے طور پر محفلوں کی جان بن جاتیں ۔

نوجوانی میں کرنل محمد خان کی کتابیں سٹیشن لائبریری سے لے کر پڑھیں جو خالصتاً افسرانہ روئدادِ مزاح تھیں ۔اکیڈمی گئے تو پہلے مزاح پر مضمون  بقلم خود  فرسٹ ٹرم میں لکھا اور قیادت میگزین کی زینت بنا ۔ اُس کے بعد کئی مضامین لکھے ، کورس میٹس کے مطابق اُن میں مزاح ہوتا اور ہمارے خیال میں وہ آپ بیتی یا جگ بیتی ہوتی۔ اور   تنقید تو دور کی بات دیگر مضامین پر تبصرہ کرنے کی ہمت نہیں ہوتی ۔کیوں؟ ۔ کہ ایک گولہ فائر کرنے کے بعد دشمن کی طرف سے فی توپ 6 گولے کیسے بھگتے جاتے جب کہ مخالفین کے پاس دو یا تین نہیں بلکہ پوری  18 توپیں ہوں ؟

   لہذا ۔   ڈاکٹر محمد اسماعیل جوئیہ کےحکم پر کان لپیٹ  لئے وجہ کہ ڈاکٹر صاحب کو جو پہلا تراشا بھیجا اُسے  مزاح سمجھنا، توہینِ مزاح ہے ۔ 

جس پر جو کمنٹ ہم نے لکھا وہ ناقابلَ اشاعت تھا ۔ 

آج 10 جون کو ، میں نے غلطی سے ایک پوسٹ نیوز فیڈ میں ڈالی اور اُس نے ڈاکٹر صاحب کے دروازے پر دستک دی ۔ ڈاکٹر صاحب نے کواڑ کھولے بغیر وائس میسج بھیجا ۔ کہ آپ کے تبصرہ و تنقید کا انتظار ہے بے شک کتابیں  تھوڑا پڑھ کر تبصرہ لکھیں اور جہاں تنقید کی ضرورت ہو وہاں تنقید لکھیں شکریہ  
میں نے جواب دیا ۔

آج موڈ ہے شائد شام تک کتاب لکھ دوں وہاں سے اپنے مطلب کی لائنیں کشید کر لینا ۔ شکریہ

اب یہاں تک پہنچ کر میری سائیکل کے  کنگریاں اِس ناقابلِ عبور چڑھائی پر فیل ہونے لگیں  ۔ ڈاکٹر صاحب کے مشورے پر اب پیدل اِس چڑھائی کو چڑھنا پڑے گا ۔ دعا کریں کہ کامیابی ہو ۔

پہلی چڑھائی ۔ 

٭-باوردی مزاح ۔ڈاکٹر محمد اسماعیل جوئیہ ۔188 صفحات

دوسری چڑھائی ۔ 

٭-فوجیانہ  مزاح ۔ڈاکٹر محمد اسماعیل جوئیہ ۔135 صفحات

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 

 

 

 

 

 ٭

ہفتہ، 8 جون، 2024

شگفتہ گو ۔ آن لائن یا حاضر لائن

اُفق کے پار بسنے والے شگفتہ گو دوستو ۔   میری درخواست ہے کہ  حاضر لائن   ہونا مشکل ہے اور  آن لائن  حواس میں آنے کے بعد شامل ہو سکتا ہوں ۔ جو اگلی ڈیٹ لائن کراس ہونے تک جاری رکھی جاسکتی ہے 
ڈاکٹر نے عرصہ سے میری گولیوں کی تعداد بڑھائی ہوئی ہے ۔ میں جو گولیاں دوپہر کے کھانے کے بعد کھاتا ہوں وہ سخت غنودگی طاری کر دیتی ہے  ۔ اور میں دو بجے سے شام 6 بجے تک لازمی سوتا ہوں ۔ اگر نیند نہ آئے  اور بوجہ مجبوری غنوٹنا پڑھے تو بڑھیا کی آواز آتی ہے ۔ میری بات سن رہے ہو ، تو بند پپوٹوں سے جواب دیتا ہوں جی سن رہا ہوں۔

 کہاں سن رہے ہو ؟ یا خراٹے سنا رہے ہو ۔
بیوی سنتا کان سے ہوں اور جواب ، منہ میں دانت نہ ہونے کی وجہ سے ، ہاں اور ہوں  کی تال ہیں ۔ اور جب تال لمبی ہو تو مطلب کیا کہا ؟
آہ اُفق کے پار بسنے والے شگفتہ گو دوستو ۔ اگر جواب آں غزل زوجہ نہ دیا جائے تو، ایک ہزار ایک رات کا مرثیہ اُٹھنے کے بعد سننا پڑتا ۔
عقلمند کہتے ہیں ۔ کہ بیوی کو اپنی ساری دن کی مشغولیات بمع موبائل پر سننے والی معلومات شوہر کو سنانا فرض کفایہ ہے ۔ لہذا چپ کرکے سنتے رہو اور بیچ ہوں ہاں اور کیا لازمی کہو ۔ اور اپنے رائے کی پوٹلی کو بند رکھا وگرنہ ۔ ۔ ۔۔  آپ خود بھگتیں گے ! ایک عقل کی بات وہ یہ کہ بوڑھے کو سیاسیت یا مذھب کی روداد سنانا ریڈ لائن پھلانگ کر خود کو دلدل میں پھینکنا ہے ، جو وٹس ایپ کی وجہ سے بوڑھے کے معدے میں حلق تک ٹھنسی ہوتی ہے ۔
بڑھاپے میں نیند کم آتی ہے لہذا زبر دستی 24 گھنٹوں میں نیند کے 8 گھنٹے پورا کرنے کا مشورہ ماہر صحت کا ہے ۔  لیکن اگر صبح 4 بجے اُٹھنے کے بعد 8 بجے نیند آجائے تو مزید دو گھنٹے برے نہیں ۔
بوڑھے اور بڑھیا کے درمیان محائدہ (حدود وقیود) عرصے سے نافذہے جو بلا تردد و شکوہ قبول کرنا پڑتا ہے ۔ لہذا بوڑھے کو صرف ایک گھنٹہ کا آؤٹ پاس ملتا ہے وہ بھی پنجاب کیش اینڈ کیری ،انصاف گلی اور بنک تک ۔ ملٹری ہسپتال و سی ایم ایچ ، اے ایف آئی آر ایم کے لئے بڑھیا کے ہم رکاب ہوتا ہے ۔ ڈیفنس روڈ پر اچھلتے کودتے جانے اور آنے کی وجہ سے جوڑ جوڑ فریاد کرتا ہے ۔ باقی کسر ٹیل بون کی فریاد لوہے کی آرام دہ یا اذیت زدہ صوفے نکال دیتے ہیں ۔
آرتھو پیڈیاکس کی ہدایات کے مطابق کبھی بھی چالیس سال سے اوپر کے نوجوان اس انداز میں بیٹھا کریں جیسے سکول میں ماسٹر صاحب دیوار سے ٹیک لگوا کر کرسی بنوایا کرتے تھے ۔ لیکن آج کل افسرانہ صوفے پر بیٹھا بوڑھا یوں نظر آتا ہے کہ جیسے بس ٹانگوں کے نیچےسے ھاتھ نکل کر کان پکڑنے کی کسر باقی ہے اور صوفے سے اٹھتے وقت کراہِ اِبل بلبلا کر نکلتی ہے جسے سن کر نوجوان و بچے ایسے مسکراتے ہیں جیسے ہم مسکرایا کرتے تھے اور دل میں نصیحت کرتے بزرگو گھر میں بیٹھو یوں گھومنے کی کیا ضرورت جہاں بیٹھ کر اونٹ کی طرح چار قسطوں میں اُٹھنا پڑے اور پانچویں قسط کوئی ہمدرد ہاتھ سے کھینچ کر پورا کردے ۔ نہ آنکھوں والوں کو بصارت پکڑائی جا سکتی ہے اور نہ ہی اولو الاحبار  کو عبرت ۔ کیوں کے۔ ۔ ۔   

بنجارے کی لاٹ سب کے ٹھاٹ لمبے لیٹا دیتی ہے ۔

--------------------------------------

سال2024 ، جون کا پہلا ہفتہ تاریخ 8 ۔   آن لائن وقت 11:11 بجے چھٹی کے بعد 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

ہفتہ، 6 اپریل، 2024

ربّ کی آیات کے ساتھ ایمان

صرف ہم اپنے ربّ کی آیات کے ساتھ ایمان لاتے ہیں جو ہمارے پاس آئی ہیں ۔

✅۔ ۔ ۔ ۔  ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ [2:127]

✅ ۔    رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَآ إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ [2:128]

✅۔ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنتَ العَزِيزُ الحَكِيمُ  [2:129]

✅۔ ۔ ۔ ۔۔ قُل اللّهِ وَهُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ وَلَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُخْلِصُونَ [2:139]

✅-۔ ۔ ۔ ۔  رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ  [2:201]

✅۔۔ ۔ ۔  ۔رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ [2:250]

✅۔ ۔ ۔  ۔ ۔ آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللّهِ وَمَلَآئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لاَ نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ وَقَالُواْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ   [2:285]

✅۔ لاَ يُكَلِّفُ اللّهُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلاَ تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلاَ تُحَمِّلْنَا مَا لاَ طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَآ أَنتَ مَوْلاَنَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ   [2:286]

✅۔ رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ  [3:8]

✅۔ رَبَّنَا إِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لاَّ رَيْبَ فِيهِ إِنَّ اللّهَ لاَ يُخْلِفُ الْمِيعَادَ [3:9]

✅۔ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا إِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ [3:16]

✅۔ رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ [3:53]

✅۔  وَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ ربَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ [3:147]

✅۔ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ [3:191]

✅۔ رَبَّنَا إِنَّكَ مَن تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ [3:192]

✅۔   رَّبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلْإِيمَانِ أَنْ آمِنُواْ بِرَبِّكُمْ فَآمَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ   [3:193]

✅۔ رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلاَ تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّكَ لاَ تُخْلِفُ الْمِيعَادَ [3:194]

✅۔ وَمَا لَكُمْ لاَ تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَـذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرًا [4:75]

✅۔   وَإِذَا سَمِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُواْ مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ [5:83]

 

✅۔ وَمَا لَنَا لاَ نُؤْمِنُ بِاللّهِ وَمَا جَاءَنَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن يُدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِينَ ۔ [5:84]

✅۔  وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا أَيْنَ شُرَكَاؤُكُمُ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ  [6:23]

✅۔ وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُواْ عَلَى النَّارِ فَقَالُواْ يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ  [6:27]

✅۔ قَالاَ رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ [7:23]

✅۔ وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ ۚ وَعَلَى الْأَعْرَافِ رِجَالٌ يَعْرِفُونَ كُلًّا بِسِيمَاهُمْ ۚ وَنَادَوْا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَن سَلَامٌ عَلَيْكُمْ ۚ لَمْ يَدْخُلُوهَا وَهُمْ يَطْمَعُونَ ۔ وَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَارُهُمْ تِلْقَاءَ أَصْحَابِ النَّارِ قَالُوا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ [7:47]

✅۔ أُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ ۔ قَالُوا إِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ وَمَا تَنقِمُ مِنَّا إِلَّا أَنْ آمَنَّا بِآيَاتِ رَبِّنَا لَمَّا جَاءَتْنَا ۚ رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ  [7:125]

✅۔ وَلَمَّا سُقِطَ فَي أَيْدِيهِمْ وَرَأَوْاْ أَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّواْ قَالُواْ لَئِن لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ [7:149]

٭

٭

٭

٭

٭۔

 

 


ہفتہ، 30 مارچ، 2024

قصص الانبیاء ۔ موسی ﷺ کا گھونسے سے قتل !

کیا موسیﷺ کا گھونسےکی ضرب سے دشمن کا قتل ، قتل عمد تھا یا قتلِ خطاء ؟

٭٭٭٭٭٭

القرآن کے پہلے حافظﷺ  کی تلاوت کردہ آیات ۔کے مطابق قصص القران میں پہلے حافظ ﷺ کی تلاوت کے مطابق
۔
*طسم  تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ نَتْلُو عَلَيْكَ مِن نَّبَإِ مُوسَىٰ وَفِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ    سے  وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَاسْتَوَىٰ آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ (سورۃ القصص)*۔   

 تک موسیٰﷺ کی بلوغت کے وقت ایک جذباتی فعل نے اپنے
*شِيعَتِ*  کے اُس کے
*عَدُوٌّ* کے خلاف واحد *اسْتَغَاثَ* کی شھادت کی بنیاد پر  صرف مکّہ مارنے  کی وجہ سے ایک شیطانی عمل کردیا ۔  
۔
* وَدَخَلَ الْمَدِينَةَ عَلَىٰ حِينِ غَفْلَةٍ مِّنْ أَهْلِهَا فَوَجَدَ فِيهَا رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلَانِ هَٰذَا مِن شِيعَتِهِ وَهَٰذَا مِنْ عَدُوِّهِ ۖ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِي مِن شِيعَتِهِ عَلَى الَّذِي مِنْ عَدُوِّهِ فَوَكَزَهُ مُوسَىٰ فَقَضَىٰ عَلَيْهِ ۖ قَالَ هَٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ ۖ إِنَّهُ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِينٌ قَالَ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَغَفَرَ لَهُ ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (سورۃ القصص)*۔
لیکن  مکّے کی ضرب سے وہ
*عَدُوٌّ*قتل ہو گیا ۔ جو یقیناً قتلِ خطا تھی قتل عمد نہیں تھا ۔ لیکن جب اپنے نفس پر  اپنے ہی ظلم کا احساس ہوا تو *بَلَغَ أَشُدّ* کے باوجود کسی بھی مجرم کی پشت پناہی نہ کرنے کا پختہ عہد کیا ۔
*قَالَ رَبِّ بِمَا أَنْعَمْتَ عَلَيَّ فَلَنْ أَكُونَ ظَهِيرًا لِّلْمُجْرِمِينَ*

۔*امْرَأَتُ فِرْعَوْنَ* کی کفالت میں بلوغت تک رہنے کے باوجودموسیٰﷺ  کو حکومت کے قانون کے خلاف کی جانے والی کی جانے والی اپنی نفسی غلطی  پر خوف کا احساس ہوا۔اور اپنے 
*شِيعَتِ*  کو جس کی موسیﷺ نے مدد کی پکڑنا چاہا ۔  

۔*۔ فَأَصْبَحَ فِي الْمَدِينَةِ خَائِفًا يَتَرَقَّبُ فَإِذَا الَّذِي اسْتَنصَرَهُ بِالْأَمْسِ يَسْتَصْرِخُهُ قَالَ لَهُ مُوسَى إِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِينٌ۔*۔

تو اُس *عَبَدَ الطَّاغُوتَ*  نے الٹا    موسیﷺ کوجبار اور غیر صالح  ہونے کا الزام لگا دیا ۔

۔*۔ فَلَمَّا أَنْ أَرَادَ أَن يَبْطِشَ بِالَّذِي هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا قَالَ يَا مُوسَى أَتُرِيدُ أَن تَقْتُلَنِي كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا بِالْأَمْسِ إِن تُرِيدُ إِلَّا أَن تَكُونَ جَبَّارًا فِي الْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَن تَكُونَ مِنَ الْمُصْلِحِينَ۔*۔

اِس الزام نے موسیٰ   کو مزید خوفزدہ کردیا ۔ جس کی خبر حکومت تک پہنچ چکی تھی ، اور ایک عبداللہ نے موسیٰ ﷺ کو اِس بات کی خبر دی ۔ کہ اُن کے خلاف ایکشن لینے کی تیاری ہو رہی ہے ۔ 

۔*۔ وَجَاءَ رَجُلٌ مِّنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ يَسْعَى قَالَ يَا مُوسَى إِنَّ الْمَلَأَ يَأْتَمِرُونَ بِكَ لِيَقْتُلُوكَ فَاخْرُجْ إِنِّي لَكَ مِنَ النَّاصِحِينَ۔*۔

لہذا موسیﷺ نے ، ریاست کے قانونِ  قصاص  یعنی   خوفزدہ ہوکر ،  اِس  ریاست کے قانون   کی حدود سے  باہر دوسری ریاست    *مَدْيَنَ*   کی طرف ھجرت کا ارادہ کیا ہے ۔


۔*۔ فَخَرَجَ مِنْهَا خَائِفًا يَتَرَقَّبُ قَالَ رَبِّ نَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ۔
وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَاءَ
مَدْيَنَ قَالَ عَسَى رَبِّي أَن يَهْدِيَنِي سَوَاءَ السَّبِيلِ
۔*۔

اور  مَدْيَنَ  کی طرف ،موسیٰ ﷺ  کی یہ آنکھیں بند کرکے کی جانے والی ھجرت نہیں  ،بلکہ اللہ کی طرف سے تھی ۔ 

۔*۔ وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا ۚ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۖ وَلَا تَنقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ ۚ إِنِّي أَرَاكُم بِخَيْرٍ وَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ مُّحِيطٍ وَيَا قَوْمِ أَوْفُواْ الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ وَلاَ تَبْخَسُواْ النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلاَ تَعْثَوْاْ فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ بَقِيَّةُ اللّهِ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ وَمَا أَنَاْ عَلَيْكُم بِحَفِيظٍ (سورة هود) ۔*۔
ھجرت کا یہ سفر جب مکمل ہو ا ۔
 

 ۔*۔وَلَمَّا وَرَدَ مَاءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسْقُونَ وَوَجَدَ مِن دُونِهِمُ امْرَأَتَيْنِ تَذُودَانِ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا قَالَتَا لَا نَسْقِي حَتَّى يُصْدِرَ الرِّعَاءُ وَأَبُونَا شَيْخٌ كَبِيرٌ۔*۔
اور موسیٰ ﷺ نے اپنا القصص شیخ کبیر (شعیب ﷺ) کو سنایا ۔توشعیب ﷺ کے اُن کا خوف دور کرتے ہوئے  *الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ* سے  قانون سے نجات حاصل کرنے کا بتایا ۔

۔*۔فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ قَالَتْ إِنَّ أَبِي يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا فَلَمَّا جَاءَهُ وَقَصَّ عَلَيْهِ الْقَصَصَ قَالَ لَا تَخَفْ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ۔*۔

  شعیبﷺ کی بیٹی سے شادی کے بعد  ایک معین مدت   گذارنے کے بعد  جب موسیٰ ﷺ آبائی ریاست  کے قوم فاسقین کی کی طرف جانے کا حکم ہوا ۔تو ڈر کر بولے میرے ہاتھ صاف نہیں۔

۔*۔ قَالَ رَبِّ إِنِّي قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ  ۔*۔

لیکن اللہ کے قانون ، قانون قتل خطا کے مطابق اُن کے ہاتھ صاف تھے ۔یہی حقیقت موسیٰﷺ نے  فرعون   کو بنی اسرائیل  کے مجمع  میں بتائی۔

۔*۔وَنَزَعَ يَدَهُ فَإِذَا هِيَ بَيْضَاءُ لِلنَّاظِرِينَ قَالَ الْمَلَأُ مِن قَوْمِ فِرْعَوْنَ إِنَّ هَـذَا لَسَاحِرٌ عَلِيمٌ۔*۔ 

جیسا کہ پہلے آیت میں ہے کہ  أَقْصَى الْمَدِينَةِ سے   عبداللہ نے  آکر موسیٰﷺ کو نبا دی کہ آپ کے خلاف قتل کا قصاص لینے کی تیاری کی جاچکی ، جس نباء کی وجہ سے موسیٰ ﷺ نے ہجرت کی ۔پھر رجل مومن نے موسیﷺ کا ساتھ اور     يَوْمِ الْأَحْزَابِ سے خوف دلایا ۔


وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيْمَانَهُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُم بِالْبَيِّنَاتِ مِن رَّبِّكُمْ وَإِن يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَإِن يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُم بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ يَا قَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ظَاهِرِينَ فِي الْأَرْضِ فَمَن يَنصُرُنَا مِن بَأْسِ اللَّهِ إِنْ جَاءَنَا قَالَ فِرْعَوْنُ مَا أُرِيكُمْ إِلَّا مَا أَرَى وَمَا أَهْدِيكُمْ إِلَّا سَبِيلَ الرَّشَادِ ۔ وَقَالَ الَّذِي آمَنَ يَا قَوْمِ
إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُم مِّثْلَ يَوْمِ الْأَحْزَابِ (سورۃ غافر) 

       

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

 

اتوار، 17 مارچ، 2024

أتموا الصيام إلى الليل

 بروز جمعہ 15 مارچ 2024 ، میں نے مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا (جن میں حافظ ، قرآنی فکر، پرویزی فکر، انجینئر فکر اور شیخ فکر سے متاثر ) دوستوں کو افطار پر بلوایا ۔

 مردانہ بیٹھک میں سب بیٹھے ۔ ملازم نے 06:14 کے حساب سے میز پر افطاری لگا دی ۔ افطاری سے پہلے میں نے کہا باہر افطاری لگی ہے ۔ آپ میں سے جو چاھےاذان کے حساب سے افطاری کر سکتا ہے ۔ میں 7:00 کے بعد افطاری کروں گا ۔

 وہ سب میری ساتھ افطاری کے لئے انتظار کرنے لگے ۔

 

 اپنی اپنی فکر کے مطابق افطار پر منادلہ و مجادلہ شروع ہوا ۔ جب سورج غروب ہوچکا تو میں نے دس منزلہ فلیٹ کی کھڑکی سے اُنہیں مغرب کا منظر دکھایا ۔ اور کہا :
ہم
إِلَى اللَّيْلِ کا منظر دیکھیں گے بالکل ایسے جیسے ہمیں الْفَجْرِپر الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ دیکھنے کا حکم ہے جس کی بنیاد پر ہم اپنے الصِّيَامَ کا اتمام کرتے ہیں ۔

 سب دوستوں نے نظارہ دیکھا ۔

 میں نے صرف ایک جملہ کہا ،
" 5:00 سے 6:15 تک تقریباً ، 13 گھنٹے اور 15 منٹ بنتے ہیں ۔ 

اُفق کے پار بسنے والے   يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا دوستو !

مختلف فرقوں کے مطابق آپ نے إِلَى اللَّيْلِ کے فہم پر مختلف اذانیں سنی۔ جو 06:14 ، 06:20 اور 06:30 تک مسلمانوں کا روزہ افطار کرواتی رہیں ۔ آپ نے اللَّيْلِ کو بھی دیکھا ۔ کیا سوا 13 گھنٹوں کے انتظار کے بعد آپ مزید 45 منٹ تک بھوک و پیاس برداشت نہیں کر سکتے ؟

 اگر آپ نے جمہورکے غلط فہم کے مطابق الصوم مکمل نہ کیا ۔ تو اِس کا نقصان کس کو ہوگا ؟

 آپ کی کیا رائے ہے ۔ شکریہ

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔