Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 9 جون، 2014

پاکستان کا دشمن




کیا پاکستان اور اُس کے عوام کے دشمن کو پہچاننا مشکل ہے ؟
یہ ایک ایسا سوال ہے جو سب سوچنے والے کے ذہن میں اُٹھتا ہے ۔
لیکن اِس کا جواب اتنا مشکل نہیں ۔
جب دشمن پاکستان کے عوام ، پاکستان کی  حفاظت کرنے والوں ، پاکستان کی قیمتی تنصیبات کو نقصان  پہنچائیں ، لوگوں کو اغواء کریں ، تو   جن کی زبان بند رہتی ہے ۔
جب پاکستان کے قانونی ادارے ، بھرپور کاروائی کریں اور ایسے لوگوں کو گرفتار کریں ، تو شور مچانے والے کہ کاروائی بند کریں اور لوگوں کو رہا کریں ۔
جب  پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہچانے والوں کو تفتیشی ادارے پوچھ گچھ کے لئے ، لے جائیں  تو انہیں فوراً  ، گمشدہ قرار دے کر  میڈیا  پر شور مچایا جائے ، کہ معصوم لوگوں کو رہا کیا جائے ۔

مجرم کون ؟ یہ فیصلہ کون کرے گا ،  پاکستان کی عدالتیں  ، گواہوں کی بنیاد پر ؟
مجرم پہچاننا مشکل نہیں ، صرف  قوموں کا ضمیر زندہ ہونا چاہئیے ، لاشوں اور زخموں پر سیاست کرنے والوں کو پہچانے ۔ 
گلا پھاڑ کر شور کرنے والوں کو پہچانیں ،
تفتیش سے پہلے ، ملزم کو معصوم قرار  دینا ، کسی بھی طور پر زندہ قوموں کی   پہچان نہیں   ۔

ہفتہ، 7 جون، 2014

ملزم حاضر ہو و و و و وو!

جناب عالی ،  کیا میں  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 

کون کہتا ہے  !
کیسے کہتا ہے !
کیوں کہتا ہے !
پیارے،  راج دلارے ، اَنکھیوں کے تارے  !



تم تو سرحد پار سے آنے والی اَمن کی آشا کے ہیرو ہو ، ہیرو !







بلتتسان کے نور بخشی

نور بخشیوں کا    سلسلہ کبرویۃ  ، صوفی طریقت   (جو سنّی و علویت  کا امتزاج ہے ) کا   شاگرد بنا،    جو   سید محمد  نور بخشی  شاہ کوہستانی ،سرینگر    کے  مرید وں کے امام سے خپلو ، میں سیکھا ۔ 
مجھے جو سب سے زیادہ  چیز پسند آئی وہ  اُن کا عملِ خود احتسابی ہے ، جو جماعتِ اسلامی کے عملِ خود سراہی کا متضاد ہے ۔
عملِ خود احتسابی   انسان رات کو سونے سے پہلے  اپنے دن بھر کی کوتاہیوں کا احتساب کرتا ہے ، اللہ سے معافی مانگتا ہے اور دوسرے دن اُن کوتاہیوں  کی درستگی کے  عمل   کا اللہ سے وعدہ کرتا ہے ۔ عملِ خود سراہی میں ، میں کہ آج میں نے کیا اچھے کام کئے۔اور کل کیا کرنے ہیں ۔
اگر آپ غور کریں تو معلوم ہوتا کہ اللہ  کو ہمارے اچھے کاموں کی خواہش نہیں ، وہ ہمیں بُرے کاموں سے منع کرنے کے لئے اپنے نبی اور رسول بھیجتا ہے ۔

مجھے  نوربخشیوں کا خود احتسابی کا عمل بہت پسند آیا ۔ اور میں اپنی ایک بہت بڑی خطا سے پیچھا چھڑا پایا ۔
خطا یہ تھی کہ میں ، اپنے بچوں کی تقریریں ،  اتفاق اور اختلاف کی تقریریں خود لکھتا تھا ، بڑھیا تیاری کرواتی ۔ اور بچے پوزیشن لیتے ، 1993 میں بچوں نے تقریری مقابلے  پہلی اور دوسری  پوزیشن لی ، جس کا عنوان تھا
  ”دولت انسانی اقدار کی قاتل ہے“ یہ عروضہ اور ارمغان کے لئے  اور
 " عورتیں بہترین ٹیچر ہوتی ہیں "  ارسلان اور سائرہ کے لئے ، لکھوا دیا۔
میں نے فوراً دو موافقت میں اور دومخالفت میں تقریر یں لکھیں۔اُس سال چاروں بچے بوری میں بھر کر اپنے کپ لائے ۔
مجھے اطلاع ملی تو  یکم کو جوانوں کی تنخواہ لینے  خپلو جانے سے پہلے جلیبی شاپ سے  جلیبی اور گلاب جامن لئے  اور  خپلو میں اما م  صاحب کے لئے ، مٹھائی لے کر گیا ، امام صاحب نے مبارکباد دی۔
 " میجر صاحب آپ کے دو بچے حق پر مقابلہ جیتے ہیں اور دو بچے ناحق "  
میں اما م صاحب  کے چہرے کی طرف دیکھا ، اور اُن کی بات سمجھ کر مسکرایا ۔ وہ دوبارہ گویا ہوئے ۔
" لیکن میں اُن بچوں کی جیت کی مٹھائی ضرور کھاؤں  جو حق پر تھے " 
یہ کہہ  کر اُنہوں نے جلیبی منہ میں رکھی اور مجھے طریقت کا  عمدہ درس دے  دیا ،  چنانچہ اُس کے بعد میں بھی ہر کھانے والی  حلال کھانے والی چیز کسی کے ہاں سے بھی آئے ، اُسے   پہلے  مسلمان کرتااور پھر یہ کہہ کر کھا لیتا -
" اے اللہ ، اگر یہ  جائز ہے تو اِسے میرے بدن کا جزو بنا اور اگر ناجائز  تو اِسے میرے بدن سے بغیر فائدہ پہنچائے خارج کر دینا " 

 
اُن کی ماہانہ ہم نشینی میں کئی اچھی اور اصولی باتیں سیکھیں   ،  لیکن جو اہم بات سیکھی -
" میجر صاحب آپ نے اپنے خدا  کو اپنا جواب  دینا ہے اور میں نے اپنے خدا کو !  تو پھر ہم کیوں ایک دوسرے  سے جھگڑیں  ؟ "



نور بخشیوں کو ختم کرنے کے لئے ، اُن کا بے تحاشا قتل کیا گیا ، لیکن وہ اب بھی بلتستان میں موجود ہیں ۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


جمعہ، 6 جون، 2014

راجپوتانہ سے اُٹھنے والے مکڑ (ٹڈیاں)

مہاجرزادوں کا مقدمہ ۔ راجپوتانہ کے مکڑ ۔
 ایک متعصب " مکڑ" کا مضمون ، جو خود کو قائم خانی کہلاتا ہے اور اپنے ہندو آباء و اجداد پر فخر محسوس کرتا ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 جو لوگ اپنے آپ کو مہاجر قوم کہتے ہیں جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ بھائی آپ کو پاکستان بننے سے پہلے کس قومیت کے نام سے پکارا جاتا ہے تو بغل جھانکنا شروع کر دیتے ہیں۔
ایک دو نے جواب دیا کہ "ہندوستانی"۔
 تو  مہاجرزادہ  نے جواب دیا : بھائی، ھندوستانی کوئی قومیت نہیں ہے۔ انڈیا میں بسنے والے تمام لوگ ھندوستانی ہیں۔ جیسے لاہور میں بسنے والا ہر شخص کو لاہوری کہا جاتا ہے اسی طرح انڈیا کا ہر شہری "ھندوستانی" ہے۔
یہ حال ہے اس قوم کا ، جو صبح اُٹھی  تو پوچھا ۔" پاکستان بن گیا ۔ کمال ہے ہمیں معلوم ہی نہیں ہوا"
جس کے بارے میں یہ افواہ ہے کہ یہ ایک تعلیم یافتہ قوم ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک جاہل اور گنوار قوم ہے۔
مہاجر قوم اصل میں وہ لوگ ہیں جو انڈیا کے صوبے "اتر پردیش" سے ہجرت کرکے پاکستان آئے جن کی مادری زبان "اردو" ہے۔ "اتر پردیش" صوبے کا نام انگریزوں کے زمانے میں "متحدہ" صوبہ تھا۔ اسی لئے الطاف ھسین نے اپنی سیاسی مافیا کا نام "متحدہ قومی موومنٹ" رکھا۔
مسلمان کی کی آمد سے بھی پہلے "متحدہ" صوبے کا نام "ھند" تھا۔ مسلمانوں کے زمانے میں زیادہ تر دارالحکومت دہلی شہر ہوتا تھا۔ جو "ھند" صوبے کا سب سے بڑا شہر تھا۔ تو مسلمانوں نے برصغیر کے جس جس علاقوں تک حکومت کی ان سب کو بھی "ھند" کے نام سے پکارا اور منسوب کیا۔ اور "متحدہ" صوبے سمیت تمام برصغیر کے رہنے والوں کو "ھندی" کے نام سے پکارا۔ ھندی کے بطن سے فارسی اور عربی شوہروں کے بطن سے بیدا ہونے والی لشکری زُبان ، اَردوُ سے اُردو میں تبدیل ہوگئی ۔
جب برصغیر پر  مغرب سے آنے والے  حملہ آوروں نے یہاں کے رہنے والوں کو تاراج کیا  ۔اورفرغانہ کے بھگوڑے ، غزنی کے لٹیرے  اور   عورتوں کی پکار پر برصغیر کا 9/11  کرکے تورابورا بنانے والوں نے   ، "ھند" کو "ھنداستھان" کا نام دے دیا اور یہاں کے رہنے والوں کو "ھندی" کے بجائے "ھندو" کہا۔
آج کل یہ بھی غلط فہمی پھیل گئ ہے کہ ھندومت کو ماننے والوں کو "ھندو" کہا جاتا ہے تو یہ بات بالکل غلط ہے۔
ہندومت کے پیروکاروں کو اصل ميں "سناتنا دھرما" کہتے ہیں جو کہ سنسکرت کے الفاظ ہیں جن کا مطلب ہے ‘‘لازوال قانون’’.( کسی ھندو سے پوچھیں کہ اُس کا مذھب کیا ہے ۔ تو وہ خود کو سناتنا دھرما نہیں کہے گا  )
"ھندو" اور "ھندی" ان لوگوں کو کہا جاتا ہے۔ جن کی مادری زبان "اردو/ھندی" ہو اور ان کا وطن اتر پردیش/متحدہ صوبے ہو۔
یاد رہے کہ ھندی اور اردو ایک ہی زبان ہے۔ جس طرح شاہ مکھی پنجابی اور گرومکھی پنجابی ایک زبان ہے۔ ان میں فرق صرف رسم الخط کا ہے۔ بولنے میں دونوں زبانیں ایک ہی زبان ہيں۔( ایک نئی سوچ، اِس کے لئے" جودھا اکبر" دیکھیں )
یعنی پاکستان میں جن لوگوں کی مادری زبان "اردو/ھندی" ہے۔ اور وہ لوگ اتر پردیش صوبے سے آئے ہیں وہ پاکستان بننے سے پہلے "ھندو قوم" کہلاتے تھے۔
کیونکہ ایسے کبھی بھی نہیں ہو سکتا ہے ایک زبان بولنے والے گروہ کو کسی بھی نام سے نہ پکارا جاتا ہو۔ عربی ، ترکی ، مصری ، انگریزی ، فرانسیسی ، بنگالی  اور کئی زبانوں کے نام پر اقوامِ عالم وجود میں آئیں ۔ یہ خالد مہاجرزادہ کا فہم نہیں کائنات کے تخلیق کرنے والے واحد ربّ کا حکم ہے :
  وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّلْعَالِمِينَ ۔ [30:22]
 "ھندو" لفظ صرف ھندومت کے پیروکاروں کی طرف سے منسوب ہونے کے بعد ھندو قوم کے مسلمانوں نے اس لفظ سے پرہیز کرکے اپنے آپ کو ھندو قوم کے بجائے مسلمان قوم کا لقب دے دیا۔
پاکستان بننے سے پہلے ھندوقوم اپنے آپ کو مسلمان قوم ہی کہتی تھی۔

  آج اردو بولنے والے لوگ اپنے آپ کو "ھندو قوم" کہتے ہوئے شرماتے ہیں۔ اور مسلمان قوم تو پاکستان کی ہر قوم بنی ہوئی ہے۔ اس لئے وہ مہاجر قوم بن گئے۔ ہمارا ان کو مشورہ ہے کہ اگر وہ اپنے آپ "ھندو قوم" نہیں کہلانا چاہتے ہیں تو اپنے آپ کو "اردو قوم" کی حیثیت سے شناخت کریں۔ مہاجر کوئی شناخت نہيں اس سے لوگ آپ لاوارث اور حرامی قوم کہیں گے۔
ویسے بھی زبان ہر قوم کی شناخت ہے۔ جیسے سندھی زبان سندھی قوم کی شناخت، پنجابی زبان پنجابی قوم کی شناخت وغیرہ۔
 
انڈیا کے جھنڈے میں ، گول دائرے کا نشان راجپوت قوم کے لوگوں کے لئے ہیں کہ وہ اس بات کو سمجھیں کہ راجپوت قوم کی سرزمین میں سندھ اور پنجاب کا علاقہ بھی آتا ہے۔ راجپوت قوم کے کچھ لوگ انڈیا سے پاکستان آئے بھی ہیں تو وہ اپنے ہی علاقوں میں آئے ہیں۔ اپنی ہی علاقوں میں آنے جانے کو ہجرت نہیں کہا جاتا ہے۔ یعنی راجستھان/راجپوتانہ صوبے سے آنے والے مہاجر نہیں ہے۔  ( تحریر : عابد قائم خانی  عرف عابد قرانی )


جواب :
قائم خانی نے اپنے آپ کو " سن آف سائل" تسلیم کروانے کے لئے یہ ، نفرت انگیز مضمون لکھا ہے ۔
بنگلہ دیش سے لے کر دریائے سندھ تک سب "ھند استھان " کہلاتا تھا ۔ جو ھندوستان ہو گیا ۔
"چین و عرب ہمارا ہندوستان ہمارا "
یہ شعر سیال کوٹ  کے ، ایک ھندوستانی پنجابی شاعر نے کہا تھا ۔
لیکن اردو بولنے والوں کو ۔ پنجابی تحقیر میں" ہندوستانی" کہنے لگے ، آج بھی یہ پنجابیوں کی نظر میں ہندوستانی ہی ہیں ۔خالد مہاجرزادہ بھی اِسی تحقیر آمیز لفظ کو بچپن سے سن کر بڑھاپے کی منزل میں داخل ہوا ہے ۔
سندھ کے قائم خانی ہوں ، یا انڈیا سے آنے والی دیگر اردو بولنے والی قومیں ، اپنی علاقائی ہجرت کی وجہ سے مہاجر ہی کہلائی گئیں ۔  یہاں تک کہ، پنجاب میں پنجابی  مہاجروں کے گاؤں کے نام سے کئی گاؤں آباد ہیں ۔
لیکن  سندھ میں یہ راجپوتانی ہونے کے باوجود "مکڑ" کہلاتے ہیں ۔ یعنی "ٹڈیاں" جو راجپوتانہ کے صحراؤں سے اُٹھتی ہیں اور تمام ہریالی چَٹ کر جاتی ہیں ۔


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔