Pages
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
پیر، 4 جون، 2018
براھما مرغیاں
بوڑھے نے جب ہوش سنبھالا تو گھر میں، دنبے کے بچوں کے ساتھ مرغیاں بھی دیکھیں۔ پھر بوڑھے کے بچوں نے مرغیوں اور چوزوں سے کھیلا کیوں کہ بوڑھا اور بڑھیا جب بھی پوسٹنگ پر نئے شہر جاتے۔ تو رنگ برنگے چار چوزے لے آتے ، جو زندہ بچتے تو مرغیاں بن جاتے ۔ جب بوڑھا ریٹائر ہوا اور اٹک میں پانی 22 بطخیں ، تین السیشن کتے ، کیڈٹ کالج کے مالک کو کیڈٹ کی خوشیوں کے لئے دے آئے ۔
اسلام آباد میں گھر میں رکھنے کی جگہ نہ تھی اور بچے کالجوں میں جانے والے تھے لہذا ، یہ پروگرام مؤخر کیا ۔ سب سے چھوٹی بیٹی فوج میں گئی تو چم چم بوڑھے اور بڑھیا کا دل بہلانے کو دنیا میں آگئی ۔
ایک دن بوڑھا ٹیرس پر کھڑا تھا کہ سڑک پر ایک چوزے بیچنے والا نظر آیا ۔ بوڑھا جلدی سے اترا تاکہ چم چم کو چوزے دکھائے ۔ چم چم نے پہلے تو حیرت سے چوزوں کو دیکھا ، بوڑھے کو دیکھا ، چوزے والے کو دیکھا اور ہاتھ بڑھا یا ۔ چوزے والے نے زرد رنگ کا چوزہ چم چم کو دیا ، چم چم نے چوزے کو مچلتے دیکھ کر پہلے تو ہاتھ پیچھے کیا اور پھر چوزہ پکڑ لیا ۔ بوڑھے نے دو چوزے خریدے اور اوپر آگیا ۔ چوزہ دیکھتے ہی بڑھیا نے شور مچایا ۔۔ یہ کیا لے آئے ؟
بھی چم چم نے مانگے میں نے خرید لئے ۔ کتنے کے ملے 5 روپے کے دو ۔
ایک ایک روپے میں ملنے والے چوزے وہ آپ کو پانچ روپے میں دے گیا ۔
زوجہ یہ 2010 ہے ، 1994 نہیں ۔چم چم نیچے اترتے ہے چوزوں کوپکڑے وہ ہاتھ نہ آئے تو چینخے ۔ بوڑھا اور بڑھیا خوش ہوں ۔ یوں اب چم چم کہ ماں روزانہ صبح چم چم کو ہمارے گھر چھوڑ کر آفس چلی جائے اور چم چم چوزوں سے کھیلے ۔
اسلام آباد میں اپنے دوست کے گھر بڑھیا کے ساتھ گیا ہو ایف 6 کا رہائشی تھا ۔ اُس کے ہاں امپورٹٹڈ پہلوان نما مرغیاں دیکھیں دل خوش ہو گیا ۔
قیمت پوچھی ، بکرے کے برابر چوزوں کا پوچھا ۔ 200 روپے فی چوزہ ۔ اب کیوں کہ اُس کے والد کا ترکے میں چھوڑا ہوا 1500 گزکا گھر تھا ۔ لہذا وہ اپنی امارت کا اظہار کر سکتا تھا ۔ جی 9 کے کرائے کے گھر میں رہنے والا بوڑھا نہیں ۔
یہ 10 پونڈ کی مرغیاں ،امریکہ میں 1850 میں گوشت کے لئے پالی جانے لگیں ۔ اور یوں اِس کی اولادیں دیسی بن کر برصغیر میں بھی آگئیں ۔
2014 اگست میں بوڑھا ، ڈی ایچ اے 1 میں آگیا ، یہ بھی کرائے کا گھر تھا مگر بڑا اور لان کے ساتھ یوں بوڑھے نے ، طوطے ، کاک ٹیئل ، بجری ، لو بڑد ، فاختہ اور اصیل مرغیاں پال لیں اور ہاں ایک بلی اور پوڈل کتا بھی ، یہ سب چم چم کی فرمائش پر تھے ۔
بوڑھے کی وقت گذاری کے لئے یہ مصروفیت اچھی تھی ۔
پھر 2018 میں بوڑھے نے تین پولش چوزے لئے ، اُس کے بعد ، پاجامے والے چوزے اور پھر امریکن مرغیاں ، جس کے انڈے 200 روپے میں مرغی بازار میں چوزے نکلوانے کے لئے فروخت ہوتے ۔ مرغی بازار کالج روڈ والوں نے یہ سب امپورٹڈ کے نام سے فروخت کئے ۔
ارے ہاں چم چم کے چنکو اور پنکو کی داستان آپ نے پڑھی ۔ نہیں تو دوستو آگے چلنے سے پہلے یہ ضرور پڑھیں ۔ چم چم کے چنکو اور پنکو۔
٭٭٭٭٭فہرست چوزہ /مرغ بانی ٭٭٭٭٭
اتوار، 3 جون، 2018
فرقہ اور مسلک ، ایک نئی توجہیہ
قبول کرتے ہی ایک پوسٹ پر نظر پڑی ۔
آج کل ہمارے تعلیم یافتہ مگر مذہبی لوگوں میں ایک نیا رویہ جنم لے رہا ہے۔مذہب پر گفتگو کرتے ہوئے جب آپ پوچھتے ہیں کہ آپ کا مسلک کونسا ہے تو آگے سے جواب آتا ہے ہم تو صرف اور صرف مسلمان ہیں۔ہمارا کسی فرقے سے کوئی تعلق نہیں۔ایسے لوگ شیعہ اور سنی دونوں طرف پائے جاتے ہیں۔(میری خوش قسمتی ہے کہ میں نجیب الطرفین ہوں دونوں طرف کے لوگوں ،علماء کرام اور اصحاب دانش سے یکساں روابط اور تعلقات ہیں۔کیوں کہ میرا کسی انسان سے تعلق صرف اور صرف انسانیت کی بنیاد پر ہوتا ہے۔رنگ،نسل،مذہب،عقیدہ،مسلک،ملک صوبہ،زبان اور معاشی و معاشرتی حیثیت کو میں کسی سے گفتگو میں رکاوٹ نہیں بناتا اورپھر کسی بھی مسلک کی خفیہ باتوں اور دوسروں کے بارے میں اصل جذبات اور احساسات ۔جو مجھ دے شئیر کیے جاتے ہیں میں اپنے دل میں رکھتا ہوں)۔حالانکہ یہ یعنی کہ خاص مسلک سے وابستہ نہ ہونا صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب آپ مجتھد مطلق بن جائیں اور پہلے سے موجود فرقوں اور مسلکوں سے ہٹ کر اپنی آراء؛مصادر شریعت سے اخذ کریں۔اس صورت میں آپ کا تعلق کسی فرقے سے نہیں رہے گا، البتہ یہ ہوگا اور ضرور ہوگا کہ آپ ایک نیا مسلک کھڑا کردیں۔(یہ کوئی بری اور بڑی بات نہیں بلکہ عین عقلی اور فطری بات ہے)اگر ایسا نہیں کرتے تو آپ کا تعلق کسی نہ کسی فرقے سے ہوگا۔
ایسے دوستوں سے مندرجہ ذیل سوالات پوچھیں آپ کو ایسے لوگوں کے مسلک اور فرقے کا اندازہ فورا ہوجائے گا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بالکل نہیں!
2۔یا پھر آپ دونوں کے قائل نہیں ہے؟
جی ہاں
3۔آپ کے نزدیک ماخذ دین قرآن اور حدیث ہیں یا صرف قرآن؟
نہیں الکتاب ، الحمد سے لے کر والناس تک ،
ذَلِكَ الْكِتَابُ لاَ رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ [2:2]
4۔آپ قرآن و حدیث کو ماخذ دین مانتے ہیں یا پھر قرآن وسنت کو؟
صرف الکتاب کو !
5۔آپ کسی مردہ امام کی تقلید کے قائل ہیں یا پھر زندہ مجتھد کے یا پھر سرے سے تقلید کے قائل ہی نہیں؟
الدین میں کسی انسان کی تقلید کا قائل نہیں ۔
مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُؤْتِيَهُ اللّهُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُواْ عِبَادًا لِّي مِن دُونِ اللّهِ وَلَـكِن كُونُواْ رَبَّانِيِّينَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ وَبِمَا كُنتُمْ تَدْرُسُونَ [3:79]
6 ۔آپ تین نمازوں کے قائل ہیں ،پانچ کے یا پھر سرے سے قائل ہی نہیں؟
نماز انسانی اختراع ہے ۔
اگر آپ فحش اور منکر سے بچے ہوئے ہیں تو آپ نے الصلاۃ کا اقام کیا ۔
7۔کیا آپ نے تفہیم دین کے لئے اپنے کچھ اصول وضع کیے ہیں اگر ہاں تو آپ نے مصادر شریعت سے کونسے ایسے مسائل اخذ کیے ہیں جو متقدمین سے بالکل الگ تھلگ ہیں؟
سب الکتاب میں درج ہیں وہیں سے فہم لئے ہیں ۔
8۔اگر نہیں تو شریعت یا فقہی احکامات پر عمل کس طرح کرتے ہیں؟
شَرَعَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَن يُنِيبُ [42:13]
مثلا نماز کا کونسا طریقہ؟
نماز کا قائل نہیں ۔
زکوة کی ادائیگی کس نصاب سے کرتے ہیں؟
زکاۃ کا کوئی نصاب نہیں ، اپنی بچت کا خمس اللہ کی راہ میں دیں ،
وَاعْلَمُواْ أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ إِن كُنتُمْ آمَنتُمْ بِاللّهِ وَمَا أَنزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ وَاللّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ [8:41]
زیارات مقامات مقدسہ کی کیا اہمیت ہے؟
زیارات کی کوئی اہمیت نہیں ۔
وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاءُ وَلَا الْأَمْوَاتُ إِنَّ اللَّهَ يُسْمِعُ مَن يَشَاءُ وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ [35:22]
نواقض وضو کیا کیا ہیں؟
الکتاب میں درج ہیں ۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَقْرَبُواْ الصَّلاَةَ وَأَنتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُواْ مَا تَقُولُونَ وَلاَ جُنُبًا إِلاَّ عَابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُواْ وَإِن كُنتُم مَّرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَآئِطِ أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُواْ مَاءً فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُواْ بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ إِنَّ اللّهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا [4:43]
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاَةِ فَاغْسِلُواْ وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُواْ بِرُؤُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَينِ وَإِن كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُواْ وَإِن كُنتُم مَّرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُواْ مَاءً فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُواْ بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ مَا يُرِيدُ اللّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَـكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ [5:6]
صرف دو عیدیں ہیں یا پھر زیادہ ان زائد عیدوں کی شرعی اہمیت اور مقام کیا ہے ؟یا پھر آپ کے خیال میں یہ سب ٹھیک ہیں اور ہرایک پر عمل کیا جاسکتا ہے اور آپ خود ہر ایک پر عمل کرتے ہیں ؟
یہ سب معاشرتی رسومات ہیں ، اِن کا الدین سے کوئی تعلق نہیں ۔ اور عمل کرنے پر کوئی حرج نہیں ۔
قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا أَنزِلْ عَلَيْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ تَكُونُ لَنَا عِيداً لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآيَةً مِّنكَ وَارْزُقْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ [5:114]
9۔جبر واختیار میں سے کس کے قائل ہیں؟یا جبر واختیار میں بیچ کے قائل ہیں؟
الکتاب میں اللہ نے جو اپنا جبر بتایا ہے اور جو انسان کو اختیار دیا اُس کی حدودمتعین کر دی ہیں ۔
هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ [59:23]
وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهَا إِلاَّ هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلاَّ يَعْلَمُهَا وَلاَ حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ يَابِسٍ إِلاَّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ [6:59]
خدا ہرجگہ ہے یا پھر عرش پر کرسی کے اوپر؟
اللہ ہر جگہ ہے ، خدا کا معلوم نہیں ۔
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَى ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَا أَدْنَى مِن ذَلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ [58:7]
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ [50:16]
10۔قیامت کے روز خدا کے دیدار کے قائل ہیں اگر ہاں تو کس مفہوم میں؟
وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتَابُ وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُم بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ [39:69]
خدا کی ذات اور صفات میں کیا تعلق ہے؟
هُوَ اللَّـهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۖ هُوَ الرَّحْمَـٰنُ الرَّحِيمُ ﴿59:22﴾
هُوَ اللَّـهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ ۚ سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ ﴿59:23﴾
هُوَ اللَّـهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ ۖ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ ۚ يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿59:24﴾
کیا غریبی و امیری خدا کی تخلیق ہے یا پھر یہ انسان کی غلط تقسیم کا نتیجہ ہے ؟
جی ہاں غریبی اورامیری میں اللہ کی شاء شامل ہے :
وَأَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلاَمَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَّهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا فَأَرَادَ رَبُّكَ أَنْ يَبْلُغَا أَشُدَّهُمَا وَيَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ وَمَا فَعَلْتُهُ عَنْ أَمْرِي ذَلِكَ تَأْوِيلُ مَا لَمْ تَسْطِع عَّلَيْهِ صَبْرًا [18:82]
انسانی رزق میں عدم توازن کا تعلق انسانی کسبِ معاش سے ہے ، جس کی وجہ سے عدمِ توازن پیدا ہوتا ہے ۔ اللہ نے اِس عدمِ توازن کو ختم کرنے کا یہ اصول بتایا ہے ۔
وَاللَّـهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ ۚ فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُوا بِرَادِّي رِزْقِهِمْ عَلَىٰ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ ۚ أَفَبِنِعْمَةِ اللَّـهِ يَجْحَدُونَ ﴿16:71﴾
تلك عشرة كاملة.
ان میں سے ہر سوال کے آگے میں مسلک یا فرقہ لکھ سکتا تھا مگر نہیں لکھا۔تاکہ آپ خود سوچ سمجھ کر اپنے یا ایسے لوگوں کے مسلک کا اندازہ لگالیں جو بزعم خویش اپنے آپ کو مسلکوں سے آزاد سمجھ رہے ہیں۔
سکرچن شگری
دین میں فرقہ کرنے والے شیعاً
جمعہ، 1 جون، 2018
سیتا وائیٹ کا مقدمہ کیا تھا ؟
" ہماری دوستی کے نتیجے میں جب میں حاملہ ہوئی تو میں نے کئی مہینوں تک عمران خان سے چھپایا ، جب اسقاط حمل کا خوف ختم ہوا تو میں نے عمران خان کو بتایا کہ میں حاملہ ہوں ، عمران خان، پہلے تو غصہ ہوا کہ اُس کی اجازت کے بغیر اُس نے یہ قدم کیوں اٹھایا ؟ پھر کہا کہ چیک کرو لڑکی ہے یا لڑکا ، اگر لڑکا ہوا تو میں کرکٹر بناؤں گا ، لیکن اگر لڑکی ہے تو اسقاط کروا دو ۔
میں اپنے پیٹ میں پلنے والی بچے کی محبت میں مبتلاء ہو گئی تھی اِس لئے میں عمران سے دور رہی ۔
جب میں نے اُسے بچی پیدا ہونے کا بتایا تو وہ مجھ پر بہت غصے ہوا اور ہمارے تعلقات ختم ہو گئے ، میں کیلفورنیا میں اکیلی اپنی بچی کو پالنے لگی ۔
میری بچی کو باپ کے نام کی بہت ضرورت تھی مگر عمران خان اُسے اپنی بیٹی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھا اُس نے مجھ پر بہت غلیظ الزامات لگائے ۔ گو کہ ہمارے معاشرے میں اِن کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ، اِس کے باوجود مجھے بہت غصہ آیا کہ یہ کیسا مرد ہے جو اپنی بچی کو اپنا نام نہیں دینا چاہتا ۔
ٹیریان جیڈ جب 6 سال کی ہو گئی تو میں نے عمران خان پر دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ وہ ٹیریان کو اپنا نام دے ، کیوں کہ میں اُس کے باپ کا نام کاغذات میں اُس وقت تک نہیں لگا سکتی جب تک عمران تحریری طور پر تسلیم نہ کرے ، مگر وہ کسی طور پر تیار نہ تھا ، میں نے اُسے چیلنگ کیا کہ وہ اپنا ڈی این اے ٹیسٹ کروا لے تاکہ ، اُس کی سچائی ثابت ہو جائے کہ وہ ٹیریان کا باپ نہیں ، مگر وہ نہیں مانتا تھا ۔ جھگڑا 6 سال تک چلتا رہا ۔ ٹیریان لاس اینجلس کے سٹیٹ سکول میں پڑھتی رہی ۔
جب بھی وہ اپنے باپ کا پوچھتی تو میں اُسے ، عمران خان کی تصاویردکھاتی ، اکثر وہ عمران خان کی تصویر سینے سے لگا کر سو جاتی ، جس پر میری بہن اینا لوئیسا واہائٹ کو عمران خان پر سخت غصہ تھا ٹیریان جیڈ کا میں نے اُسے وارث بنایا تھا اُس نے اپنی بھانجی کو اپنے باپ کا نام دلانے کے لئے عمران خان کے خلاف لا س اینجلس کی عدالت میں کیس کر دیا ، جس کا فیصلہ جج نے 14 جولائی 1997 کو کیا جس کے مطابق ، عدالت نے کہا کہ ،

فیصلے کے بعد عمران خان کو میں نے فیصلے کی کاپی ای میل کی ۔ میں نے عدالتی فیصلے کے مطابق ٹیریان کے نام کے ساتھ خان کا اضافہ کیا ، کیوں کہ وہ پاکستان کے ایک پٹھان کی بیٹی ہے ۔
ٹیریان کو باپ مل گیا لیکن کیا عمران خان اپنی بیٹی کو پہچان سکے گا ؟
فیصلے کے بعد ، میر ا پروگرام پاکستان کی عدالت میں جانے کا تھا ، لیکن ایک دن اینا نے بتایا کہ عمران خان ، ٹیریان سے ملنا چاھتا ہے ۔
ٹیریان کی پیدائش کے بعد پہلی بار عمران نے ٹیریان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی ، ٹیریان خان، 6 سال کی عمر میں اپنے باپ کو ملی ۔ اُس کی خوشی کا عالم دیکھا نہ جاتا تھا ۔
قارئین :
2004 مئی میں ہارٹ اٹیک کی وجہ سے اچانک فوت ہو گئی اور اپنی 12 بیٹی ٹیریان خان کو اکیلا چھوڑ گئی ۔ اینا نے جمائما کو ٹیریان کے متعلق بتایا جس پر اُسے سخت صدمہ پہنچا ، کیوں کہ وہ بھی کافی عرصہ باپ کے نام کے بغیر رہی تھی ، جمائما کے باپ جیمز گولڈسمتھ (1933-1997) اور اُس کی ماں لیڈی اینا بل(1934) کے آپس میں تعلقات جن کی وجہ سے وہ اور اُس کے دو بھائی زیک اور بن پیدا ہوئے ۔ 1978 میں جیمز گولڈ سمتھ نے جمائما اور اُس کے دونوں بھائیوں زیک اور بن کو اپنا نام دیا ۔
22 جون 2004، کو مختلف وجوہات کی بنا پر جمائما نے عمران خان سے طلاق لے لی ۔لیکن بنیادی وجہ عمران خان کا ٹیریان کا چھپانا تھا ۔ جمائما ایک ہمدرد خاتون ہے اور وہ بے باپ کے ہونے کے درد کو اچھی طرح جانتی ہے ، چنانچہ اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ ٹیریان کو اُس کے دونوں بھائیوں کے ساتھ پالے گی ۔
گو کہ طلاق دیتے وقت عمران خان نے اُس سے لندن کا فلیٹ واپس لے لیا بلکہ بنی گالا میں اُس کے نام سے خریدی گئی ساڑھے تین سو کنال زمین اور عالی شان گھر بھی چھین لیا -
ٹیریان کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد جمائما ٹیریان خان کو اپنے گھر لے آئی ۔
کیا ٹیریان خان ، پاکستان آکر عمران خان کے خلاف مہم چلائے گی؟
یہ بات کسی سے چھپی ہوئی نہیں کہ عمران خان نے الیکشن 2008 اور 2013 کے نامزدگیوں کے فارمز میں اپنے دونوں بیٹوں کے نام ظاہر کئے لیکن ٹیریان کا نام چھپایا ۔
لاس اینجلس کورٹ کے اِس فیصلے کو عمران خان نے چیلنج نہیں کیا ۔
تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ عمران خان کا نعرہ ایک جھوٹ ہے ؟
یا سیاسی سٹنٹ ؟ کیوں کہ یہ نعرہ جہاں سے لیا گیا ہے ، اُس کا پیغام ہے ۔
کیا عمران خان الکتاب کی اِس آیت جو روح القدّس نے محمدﷺ کو مؤمین کی ھدایت کے لئے بتائی، :
1۔ اُسے معلوم نہیں ۔
2-وہاں تک نہیں پہنچا ۔
3- یا اُس کے سمجھانے والوں نے اُس سے چھپائی ؟
4- یا شائد ملاؤں نے اُسے بتایا ہو کہ یہ آیات1400 سال پہلے کی ہے اور بیٹوں کے لئے ہے بیٹیوں کے لئے نہیں !
ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُم بِهِ وَلَكِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا [33:5]
تم اُنہیں اُن کے باپوں کے نام سے پکارو ! وہ اللہ کے نزدیک انصاف ہے ۔اگر تمھیں اُن کے باپ کا نام معلوم نہیں پس وہ تمھارے الدین میں بھائی ہیں اور تمھارے موالی ہیں ، تم سے (نام پکارنے میں ) خطا ہو گئی تو تم پر کوئی گنا ہ نہیں ، سوائے جو تمھارے قلب عمداً (گناہ ) کرتے ہیں ۔ اور اللہ(خطاؤں پر ) غفور اور رحیم ہے۔
خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔

.png)










