Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعہ، 11 جون، 2021

ہندوستان کا وزیراعظم اور اس بدحالی میں

 نوے برس کے ضعیف آدمی کے پاس کوئی پیسہ نہیں تھا۔

 مالک مکان کو پانچ مہینے سے کرایہ بھی نہیں دے پایا تھا۔ ایک دن مالک مکان طیش میں کرایہ وصولی کرنے آیا ۔ بزرگ آدمی کا سامان گھر سے باہر پھینک دیا۔
سامان بھی کیا تھا۔ ایک چار پائی ‘ ایک پلاسٹک کی بالٹی اور چند پرانے برتن ۔ پیرانہ سالی میں مبتلا شخص بیچارگی کی بھرپور تصویر بنے فٹ پاتھ پر بیٹھاتھا۔ احمد آباد شہر کے عام سے محلہ کا واقعہ ہے۔ محلے والے مل جل کر مالک مکان کے پاس گئے۔ التجا کی کہ اس بوڑھے آدمی کو واپس گھر میں رہنے کی اجازت دے دیجیے۔ کیونکہ اس کا کوئی والی وارث نہیں ہے۔
دو ماہ میں اپنا پورا کرایہ کہیں نہ کہیں سے ادھا ر پکڑ کر ادا کر دے گا۔ اتفاق یہ ہواکہ ایک اخبار کا رپورٹر وہاں سے گزر رہا تھا۔ اسے نحیف اور لاچار آدمی پر بہت ترس آیا۔تمام معاملہ کی تصاویر کھینچیں۔ ایڈیٹر کے پاس گیا کہ کیسے آج ایک مفلوک الحال بوڑھے شخص کو گھر سے نکالا گیا۔ اور پھر محلہ داروں نے بیچ میں پڑ کر دو ماہ کا وقت لے کر دیا ہے۔ ایڈیٹر نے بزرگ شخص کی تصاویر دیکھیں تو چونک اٹھا۔
رپورٹر سے پوچھا کہ کیا تم اس شخص کو جانتے ہو۔ رپورٹر ہنسنے لگا کہ ایڈیٹر صاحب ۔ اس بابے میں کونسی ایسی غیر معمولی بات ہے کہ کوئی بھی اس پر توجہ دے۔ اسے تو محلہ والے بھی نہیں جانتے۔ ایک وقت کا کھانا کھاتا ہے۔ برتن بھی خود دھوتا ہے۔ معمولی سے گھر میں جھاڑ پوچا بھی خود لگاتا ہے۔ اس کو کس نے جاننا ہے۔
 
ایڈیٹر نے حد درجہ سنجیدگی سے رپورٹر کو کہا کہ یہ ہندوستان کا دومرتبہ وزیراعظم رہ چکا ہے اور اس کا نام گلزاری لال نندہ ہے۔ رپورٹر کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا۔ ہندوستان کا وزیراعظم اور اس بدحالی میں۔ خیر اگلے دن اخبار چھپا تو قیامت آ گئی۔ لوگوں کو معلوم ہوا کہ یہ عاجز سا بوڑھا ہندوستان کا دوبار وزیراعظم رہ چکا ہے۔

وزیر اعلیٰ اور وزیراعظم کو بھی معلوم ہو گیا کہ گلزاری لال کس مہیب مفلسی میں سانس لے رہا ہے۔ خبر چھپنے کے چند گھنٹوں بعد‘ ریاست کا وزیراعلیٰ ‘چیف سیکریٹری اور کئی وزیر اس محلے میں پہنچ گئے۔ سب نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ آپ کو سرکاری گھر میں منتقل کر دیتے ہیں اور سرکار ماہانہ وظیفہ بھی لگا دیتی ہے۔

خدارا اس معمولی سے مکان کو چھوڑیے۔ مگر گلزاری لال نے سختی سے انکار کر دیا کہ کسی بھی طرح کی سرکاری سہولت پر اس کا کوئی حق نہیں ہے۔ وہ یہیں‘ اسی کوارٹر میں رہے گا۔ گلزاری لال کے چند رشتہ داروں نے منت سماجت کر کے بہر حال اس بات پر آمادہ کر لیا کہ ہر ماہ‘ پانچ سو روپے وظیفہ قبول کر لے۔ سابقہ وزیراعظم نے حد درجہ مشکل کے بعد یہ پیسے وصول کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ اب اس قلیل سی رقم میں کرایہ‘ کھانا پینا شروع ہو گیا۔

گلزاری لال نندہ حیرت انگیز کردار کا انسان تھا۔ سیالکوٹ میں 1898 میں پیدا ہوا۔ اور 1998 میں احمد آباد میں فوت ہو گیا۔ جواہر لال نہرو کے انتقال کے بعد 1964 میں وزیراعظم رہا۔ اور 1966میں لال بہادر شاستری کے انتقال کے بعد بھی اس بلند پایہ منصب پر فائز رہا۔ بنیادی طور پر ایف سی کالج لاہور سے اقتصادیات کی تعلیم حاصل کرتا رہا۔ دراصل وہ اقتصادیات کا استاد تھا۔
گلزاری لعل نندہ  سب سے کم مدت کاوزیر اعظم رہا جو دونوں دفعہ 13 دن تھی۔
ممبئی اور احمد آباد کی یونیورسٹیوں میں پڑھاتا رہا۔ سیاست میں آیا تو یونین منسٹر‘ وزیر خارجہ اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن بھی رہا۔ متعدد بار لوک سبھا کا ممبر بھی منتخب ہوا۔ گلزاری لال کافلسفہ تھا کہ زندگی کو بہت سادہ گزارنا چاہیے۔ کسی شان و شوکت کے بغیر انتہائی قلیل رقم میں خوش رہنا ہی اصل امتحان ہے۔ویسے گلزاری لال سادگی بلکہ عسرت میں رہنے کی جو مثال قائم کر گیا اس کے لیے حد درجہ مضبوط کردار کی ضرورت ہے۔

نناوے سال کی عمر میں فوت ہوتے وقت‘ اس کے پاس کسی قسم کی جائیداد‘ کوئی بینک بیلنس اور کوئی ذاتی گھر تک نہیں تھا۔ بس ایک عزت و احترام کا وہ خزانہ تھا جو امیر سے امیر لوگوں کے پاس بھی نہیں ہوتا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہندوستان میں سیاست میں حد درجہ کرپشن ہے مگر اس کے باوجود ہمیں بارہا گلزاری لال جیسے کردار مل ہی جاتے ہیں ۔انڈیا میں کئی ایسے بلند سطح کے سیاست دان موجود ہیں جن کے اثاثے کچھ بھی نہیں ہیں۔
لیاقت علی خان اور سردار عبدالرب نشتر جیسے لوگ ہماری مملکت خداد نے بھی دیکھے ہیں ۔مگر اس سطح کی سادگی کی عملی مثال ہمارے ہاں دور حاضر میں  ڈھونڈنا تقریباً ناممکن ہے.
(منقول)

٭٭٭٭٭٭٭ 

جمعہ، 28 مئی، 2021

19 فروری تا 31 مئی ۔ داستان ایک سفرِ مسلسل

31 مئی ۔پنشنرز کے دن کو پاکستان میں پنشنرزکے حق میں تاریخ بدلنے کے لئے ،وہ تمام ستارے جو گردشِ قیادت کے تلاطم خیز ہیجان و فقدان سے بکھر چکے تھے ۔وہ دوبارہ   آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن کے مدار میں داخل ہورہے ہیں ۔ یا داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں ۔اُنہیں اِس بات کا احساس ہو چکا ہے کہ فردِ واحد کسی بھی تنظیم کا عقلِ کل نہیں ہوتا ۔  ہم کھلے دل سے ، اُنہیں خوش آمدید کہتے ہیں -

تنظیمیں سنیٹرل ایگزیکٹو کونسل، تنظیم کے دیگر صوبائی اور ڈویژنل عہدیداران اور پنشنرز کے مشوروں سے چلتی ہیں ورنہ پتوں کی طرح بکھر جاتی ہیں ۔ باقی عہدیداران کا تنا اور شاخیں رہ جاتی ہیں ، جن کا ننگ  چھپانے کے لئے اگلے موسمِ بہار کا انتظار کرناپڑتا ہے ۔ 

اِس کرہ ارض پر وہی نظام قائم رہتا ہے جو انسانوں کے لئے منفع بخش ہو ! (الکتاب)

-- -  مَا يَنفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ  ۔ ۔[13:17]  

جناب مصطفیٰ حسین خان صاحب نے 24 مئی کو تین ممبران کی میٹنگ میں بتایا ، کہ

 پنشنرز کو حکومتی عمائدین نے ایک بار پھر دھوکا دینے اور اُنہیں معیشت کے سمندر میں پچھلے دو سال کی طرح ۔ اِس سال بھی پھینکنے کی تیاری کر لی ہے ۔

 مختلف تجاویز کے بعد اُنہوں نے آئیڈیا دیا کہ ہمیں 30 مئی کو دھرنے کا اعلان کرنا ہوگا ۔ سیکریٹری جنرل نے تسلیم کیا کہ دھرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ۔ تمام پنشنرز تنظیموں کے عہدیداران سے عندیہ لینے کے بعد 30 مئی کے دھرنے کے لئے سیکریٹری جنرل نے وٹس ایپ پر ملک کے دیگر صوبوں کے پنشنرز اور عہدیداران سےایک سوال کے ذریعے  رائے مانگی ۔

کیا اسلام آباد کے تمام فیڈرل گورنمنٹ  کی ملازمتوں  سے ریٹائرڈ  پشنرز ایک فیڈرلی ریٹائرڈ پنشنر کے ساتھ اسلام آباد کے ڈی چوک میں 30 مئی کی صبح 8 بجے پرامن انداز میں دھرنا دے کر اپنے حقوق کی آواز بلند کرنا پسند کریں گے ؟؟؟

اگر آپ اِس سوال پر غور کریں تو یہ  سیکریٹری جنرل کی طرف سے نہیں بلکہ ایک فیڈرلی ریٹائرڈ پنشنرز کی طرف سے ، پنشنرز کی  PULSE (نبض) جانچنے کا ایک فوجی طریقہ تھا ۔ 

جس کو سب  تنظیموں کے عہدیداران نے سراہا ۔ کہ اب دھرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں  ۔

چنانچہ تمام تجاویز کو عملی جامع پہنانے کے لئے 25 مئی 2021 کو سنٹرل ایگزیکٹو کونسل کے ممبران کا اجلاس ہوا ، جس میں جناب رانا محمد اسلم ، میجر (ر) محمد نعیم الدین خالد ، جناب مصطفیٰ حسین خان، جناب اشفاق احمد ، جناب صفدر اقبال ، (ؤٹس ایپ پر) جناب بشیر احمد بلوچ اور جناب ڈاکٹر عامر بھٹی شامل ہوئے ۔

میٹنگ کے خاتمے کے بعد جناب بشیر احمد بلوچ نے نوٹیفیکشن دیا کہ :

آج 25 مئی مرکزی قائدین ، سی ای سی کی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں ڈی چوک اسلام آباد کا علامتی دھرنا اور پر امن احتجاج کی تجویز پر غور ہوا۔ جس میں 30مئی 2021 کو احتجاجی دھرنا صبح آٹھ بجے ہونا طے پایا۔

یہ نوٹیفکیشن ۔ سیکریٹری جنرل نے آل پاکستان پنشنرز ایسوسی کے تمام رجسٹرڈ ممبران ، متفق ممبران پاکستان ، پنشنران اور تمام پنشنرز تنظیموں ، ایسوسی ایشنوں ، سوسائٹیز اور گروپس کے عہدیداران کو وٹس ایپ ، فیس بک ، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر مشتہر کر دیا ۔

30 مئی کو اتوار کا دن ، کئی پنشنرز اور عہدیداران نے تجاویز دیں کہ دھرنے کادن اتوار کے بجائے سوموار 31مئی 2021 کر دیا جائے تو بہتر ہے ۔چنانچہ بشیر احمد بلوچ نے سی ای سی کے ممبران کو وٹس ایپ گروپ پر تجویز دی :

مجھے کئی فون آ چکے ہیں اور پرانے عقل مند لوگوں کی یہ تجویز آ رہی ہے کہ احتجاج اور دھرنے کی تاریخ تبدیل کر دو، یعنی 30مئی سے 31مئی کر دو، اتوار سے پیر کر دو مطلب ورکنگ ڈے میں، لہٰذا میں اپنے جانب سے یہ تجویز دیتا ہوں،دھرنے کی تاریخ 31 مئی کر دی جائے۔

چنانچہ ۔ کثرتِ رائے سے دھرنے کی تاریخ 31 مئی 2021 کر دی گئی ۔

31 مئی کا دن ہمیں بتائے گا کہ 31 مئی کے دھرنے کی کشش نے کتنے ستاروں کو سی ای سی کے ممبران نے اپنی جھولی میں بھر لیا ۔
وہ جہاز جس کی سمت ، یو ٹیوب ، فیس بُک ، انسٹا گرام اور ٹیوٹر پر ، حسد اور الزامات سے موڑنے کی پوری کوشش کی گئی- سنٹرل ایگزیکٹو کونسل   کے ممبران نے اپنی پوری دیانت داری ، لگن اور دن رات کی کاوشوں  سے  ، اُس کی پتوار کو قابو میں رکھ کر   ، سمت اُسی جانب رکھی   اب وہ انشاء اللہ  اپنے منزل پر پہنچنے والا ہے ۔ 

 میں سیکریٹری جنرل۔ سنٹرل ایگزیکٹو کونسل کے ممبران کو مبارکباد دیتا ہوں کہ اُن کی کاوشوں سے بالآخر حالات کے مدو جزر کا مقابلہ کرنے کے بعد ،اسلام آباد میں 31 مئی 2021 کو ہونے والے ۔ پنشنرز کے عظیم الشان اجتما عی دھرنے کے لئے ۔ حیدر آباد سے ، حیدرآبا ڈویژن کے متحرّک صدر ۔ سنٹرل ایگزیکٹو کونسل کے ممبر اور کواڑڈینیٹرصوبہءِ سندھ ،جناب بشیر احمد بلوچ کی روانگی نے ، آپا کے ممبران اور دیگر پنشنرز ایسوشی ایشن کے لیڈران کو یہ یقین دلوادیا کہ ،

آل پاکستان ایسوسی ایشن نے حکومت کو، یہ  احساس دلائے گی کہ  31 مئی کادن پنشنرز کی امنگوں کے مطابق ، پنشنرز کی پنشن میں اضافہ کروانے کے لئے ایک نہایت اہم سنگِ میل ثابت ہوگا ۔ 

کیوں کے :
پہلا قافلہ : جناب بشیر احمد بلوچ صاحب جمعہ المبارک کی قیادت میں شام راولپنڈی پہنچ چکا ہے

دوسرا قافلہ جناب ولی خان کی قیادت میں خیبر پختون خواہ سے شام 30 مئی کو پہنچے گا ۔

تیسرا قافلہ ۔ جناب حیدر علی خان ، چیئرمین آڈیٹر ایسوسی ایشن  خیبر پختون خواہ   کے پنشنرز کے ساتھ اسلام آباد پہنچ رہا ہے ۔

 چوتھا قافلہ : آل پاکستان ریٹائرڈ ایمپلائز ایسوسی ایشن کے صدر غفور علی بھٹی کی قیادت میں اسلام آباد پہنچے گا ۔ 

پانچواں قافلہ : شیخوپورہ  سے بسوں میں   ضلعی کوارڈینٹر رانا محمد اشرف خان اور صدر پنشنرز چودھری محمد الیاس کمبوہ ضلع شیخوپورہ کی قیادت میں اسلام آباد  پہنچے گا ۔

اسلام آباد سے 4 سے 5 گھنٹوں کی مسافت پر رہنے والے پنشنرز قافلوں کی صورت میں ھائیڈ پارک پہنچنے کے لئے 31 مئی کی صبح ۔تمام پنشنر تنظیموں کے عہدیداران بسوں اور ٹرین پر راولپنڈی پہنچ رہے ہیں ۔
جناب ڈاکٹر صغیرعالم سیاب عباسی ۔ اپنی تنظیم کے تمام ممبران کے ساتھ 31 مئی کے دھرنے میں شامل ہو رہے ہیں ۔ 

میں بطور سیکریٹری جنرل ۔ اُن تمام میڈیا کوارڈینیٹرز  کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، جن میں سر فہرست :

جناب یعقوب گُل چیف میڈیا کوآرڈینیٹر  آڈیٹر ایسوسی ایشن پاکستان ۔

  جناب شیخ محمد علیم سینئر آڈیٹر ۔ پاکستان پنشنرز بینیفٹ گروپ
اور دیگر پنشنرز دوست جنہوں نے اپنی پوسٹ سے پنشنروں کے دل میں اپنا حق مانگنے کی امنگ جگائی اور اُنہیں احساس دلایا کہ اگر پنشنرز اپنے آرام دہ بستروں سے نکلیں اور اسلام آباد پہنچیں اور حکومت سے اپنا حق مانگیں۔
غرض کہ پنشنرز کا ایک سیلاب ہے جو حکومت کےپنشنرز مخالف  دیواروں
٭- پنشنرز پاکستان کی معیشت پر ایک بوجھ ہیں ۔
٭-پنشن کو ختم کردیا جائے ۔
٭ -خزانے  سےنہ لی گئی  74 سالہ پنشن کو غبن کر لیا جائے۔
٭۔ پنشنرز کی لی جانے والی پنشن پر بھی ٹیکس لگایا جائے۔
٭۔پراوی ڈنٹ فنڈ ہضم کر لو ۔
٭- گروپ انشورنس کی رقم خرد برد کر لو ۔
٭- بناولنٹ فنڈ بغیر ڈکار کے پی جاؤ ۔ 
کو ہمیشہ کے لئے نیست و نابود کرنے کے لئے بڑھا چلا آرہا ہے ۔
 
آ ل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن ۔ سنٹرل ایگزیکٹو کونسل کےممبران کی انتھک  کوششوں سے پنشنر تنظیموں کے اتحاد کی فضاء 31 مئی کو پاکستان کے پنشنرز اور گلوبل ورلڈ  میں بسنے والے   پنشنرز دیکھیں گے ۔


اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو والسلام ۔
سیکریٹری جنرل ۔ میجر (ر) محمد نعیم الدین خالد

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مزید پڑھیئے :

  ٭۔ایک پنشنر کے سوالات کے حل کا، دوسرا راستہ

٭۔ پاکستان کی ترقی میں ریٹائر ہونے والی سپاہوں کا کردار

   ٭۔  31مئی پاکستان کے تمام پنشنرز کا دن

 ٭٭٭٭واپس ٭٭٭ ٭

 

 

منگل، 25 مئی، 2021

31 مئی پاکستان کے تمام پنشنرز کا دن

 وفاقی بجٹ 2021/2022 میں پنشنرز کے لئے کوئی اضافی رقم نہیں رکھی گئی ۔ 

نیز ایک سیاست دان کی طرف سے مالیاتی بِل میں سب پنشنرز پر 10 فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز نے وفاقی گورنمنٹ اور صوبائی گورنمنٹ کے ملازمین بشمول ڈیفنس فورسز و سول آرمڈ فورسز اور دیگر ریٹائرڈ ملازمین جو پنشن لیتے ہیں میں خوف و ھراس کی لہر دوڑا دی ہے ۔

 کم تنخواہ یافتہ ملازمین بشمو ل تمام پنشرز پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اُن کا بلبلا اُٹھنا بلا سبب نہیں ۔ 18 ویں ترمیم کے مطابق اگر وفاقی حکومت نے اپنے ریٹائرڈ فیڈرل ملازمین کے پنشن میں اضافہ بجٹ 2021/2022 میں نہیں کیا تو صوبائی حکومتیں، اِس کی آڑ میں اپنے بجٹ میں پنشز میں اضافہ نہیں کریں گی ۔ 

لہذا صوبائی ملازمین اپنے دھرنوں اور ہڑتالوں سے پنشن میں اضافے کے خواب دیکھنا چھوڑ دیں۔

 چنانچہ اسلام آباد میں رہائش پذیر فیڈرل گورنمنٹ اور صوبائی گورنمنٹ کے تمام ریٹائرڈ ایمپلائز کو ،30 مئی کو اسلام آباد میں دھرنا دینا ہوگا !

 جس کے لئے متفقہ رائے سے اتوار 30 مئی کی تاریخ رکھی گئی ہے ۔

 اتوار اِس لئے کہ بوڑھے پنشنر نہیں چاہتے کہ اُن کے احتجاج اور درھرنے سے اسلام آباد کے رہائشیوں کو پریشانی ہو اور نہ ہی وہ حکومت کو آزمائش میں ڈالنا چاھتے ہیں ۔

وہ تو بس یہی چاہتے ہیں کہ حکومت وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے کی طرح اُن کی پنشن میں بھی 25 فیصداضافہ کردے ۔

لیکن بعد میں اتوار کے بجائے سوموار 31 مئی یعنی ورکنگ ڈے میں  احتجا ہونا  قرار پایا  ۔

 

تو مجھے یہ بتایا جائے کہ پنشزز کا اپنے حق کے لئے آواز بلند کرنا غیر قانونی کیسے ہو سکتا ہے ؟ 

محمدﷺ نے بھی تو اللہ کا حکم بتایا ہے ۔

 لَّا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَن ظُلِمَ ۚ وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا - سورۃ النساء48

اللہ، برائی کے ساتھ کہے جانے والے بلند اقوال سے محبت نہیں کرتا ۔ سوائے اِس کے جس پر ظلم ہو ۔ اور اللہ تو سمیع اور علیم ہے۔

 اسلام آباد کی حدود کے 4 گھنٹوں کی مسافت پر رہنے والے جفاکش بوڑھے پنشنرز جو تبلیغ کے سلسلے میں 40 روز اپنے گھروں سے دور رہتے ہیں ، اُنہوں نے پہنچنے کا عندیہ دے دیا ہے ۔

 دھرنا طویل ہونے کی صورت میں اسلام آباد کے صاحب ثروت پنشنرز نے اُن کی میزبانی کے لئے پنشنرز تنظیموں کے عہدیداران سے انتظامات کے سلسلے میں رابطے کر لئے ہیں ۔ اسلام آبادآنے والے نیشنل پریس کلب ایف 6 ون کے سامنے ہائیڈ پارک میں جمع ہوں گے ۔


جہاں تمام پنشنرز کے سربراہ اور دیگر غیر سیاسی ، مگر فلاحی عمائدین پنشنرز کی تکا لیف اور اُن سے ملازمت اور ملازمت کے دوران کئے گئے حکومتی وعدوں اور اُن کی خلاف ورزی کو اجاگر کرنے کے لئے تقاریر کریں گے - ہمیں یقین ہے کہ پے اینڈ پنشن کمیٹی کی سفارشات جس میں پنشن کے اضافے کا نوٹیفکیشن شامل کروانے کا وعدہ کریں گے -

 یوں ہمارے پروگرام کے مطابق یہ دھرنا انشاء اللہ مغرب تک ختم ہوجائے گا وگرنہ دھرنے والے سہ روزہ اور ہفت روزہ حکومت کو تبلیغ کرنے کا پروگرام بنالیں گے ۔

 پنشنرز کو معلوم ہے کہ اُن کی یہ کوشش 25 فیصد پنشن بڑھوانے کے لئے آخری کوشش ہو گی ورنہ 6 جون کو ڈرافٹ بجٹ تیار ہونے کے بعد وہ آئیندہ ساری عمر روتے رہیں گے تاوقتِ کہ کوئی پنشنر ہمدرد حکومت زمامِ اقتدار نہیں سنبھال لیتی ۔ 

لیکن آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن کے تمام عہدیداران اور پنشنرز یہ امید کرتے ہیں کہ ریاستِ مدینہ کے اصولوں پر نئے پاکستا ن میں قائم ہونے والی حکومت بجٹ 2021/2022 میں پنشنرز کی اشک سوئی کرتے ہوئے ۔ پنشن میں اضافے کا اعلان کرے گی 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اگلا مضمون پڑھنے کے لئے :۔

 ٭٭٭٭واپس ٭٭٭ ٭

 

پیر، 19 اپریل، 2021

19 فروری کو پنشنرز کی میٹنگ

  19 فروری کی صبح مجھے سبزواری کا فون آیا   کہ  میجر صاحب ،  اسلام آباد و راولپنڈی کے تمام  پنشنر کی  میٹنگ  ،جی سیون ٹو  اسلام آباد میں ،  رانا   محمد اسلم  ریٹائرڈ پی ایس  ٹو سیکریٹری وفاقی مذہبی امور کے گھر ہوگی  جہاں 22 فروری کی پریس کانفرنس کے انتظامات کے بارے میں  ، ڈسکشن ہو گی اگر آپ جاسکتے ہیں تو وہاں اپنے پنشنر ساتھیوں کے ساتھ پہنچ جائیں  اور باقی پنشنرز جن کو آپ جانتے ہیں اُنہیں بھی بتائیں ۔

بوڑھا عسکری 14 سے نکلا اور ٹھیک 3 بجے دوپہر رانا محمد اسلم کے گھر پہنچ گیا۔ بوڑھا پریشان کہ اسلام آباد و راولپنڈی کے پنشنرز یہاں کیسے سما سکیں گے؟

 گھر کے مغرب کی طرف خالی علاقہ تھا وہاں چل پڑا شاید وہاں کرسیاں وغیرہ رکھ دیں ہوں ۔جاکر دیکھا   وہ جگہ بالکل خالی تھی ۔ واپس رانا صاحب کے گھر آیا ڈور بیل  کا بٹن دبایا  کوئی جواب نہیں 5 منٹ بعد ایک اور صاحب موٹر سائیکل پر آئے ،  بوڑھے نے موبائل پر رانا صاحب کو فون کیا ۔ رانا صاحب باہر نکلے تعارف کروایا جہاں 20 کرسیاں پڑی ہوئی تھیں ۔ بوڑھے نے رانا صاحب سے پوچھا۔

رانا صاحب ۔ جن لوگوں کو وٹس ایپ پر یا موبائل پر دعوت دی ہے وہ یہاں سما جائیں گے ؟
رانا صاحب نے جواب دیا ، 

جو پہلے آئیں گے وہ بیٹھ جائیں گے باقی کھڑے ہو کر باتیں سُن لیں گے۔

یہ کہہ کر رانا صاحب اپنے ڈرائینگ روم میں چلے گئے۔ آہستہ آہستہ کرسیاں بھرنا شروع ہو گئیں ۔

یوں سمجھیں  کہ اسلام آباد کوپنشنرز اکٹھا کرنے کے لئے یہ پہلا قدم تھا ۔ جو رانا اسلم نے اٹھایا ۔ تمام شرکاء کسی نہ کسی تنظیم ، ایسوسی ایشن ، یونئین  یا آرگنائزیشن سے تعلق رکھتے تھے جو پنشنروں  کے حقوق کے تحفظ کے لئے ایک متحد  پلیٹ فارم بنانے کے لئے کوششیں کر رہے تھے تاکہ     11 فروری کو ملازمین کو 25 فیصد بڑھنے والی ماہانہ رقم جو بڑھتی ہوئی  مہنگائی  کے سیلاب کو روکنے کے لئے  احتجاج اور آنسوگیس  کے بادلوں سے گذر کر ملازمین حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے  اور آئین کے آرٹیکل 260 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خزانے کے امینوں کے کمینگی اختیار کرتے ہوئے ، پنشنرز کو محروم کردیا ۔

آئین کے آرٹیکل 260 میں وضاحت کے ضمن میں " سروس آف پاکستان " میں واضح کیا ہے کہ صدر پاکستان کے حکم سے سروس کرنے والے ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائر ملازمین کی پنشن میں اضافہ کیا جائے گا ۔ لیکن اگر صدرِ پاکستان منہ میں گھنگھنیاں ڈال کر بیٹھا ہو تو ملازمین  اُس کا منھ کھلوانے کے لئے وہ تمام حربے استعمال کرتے ہیں ، جن سےا ُن کی آہ و فغاں صدر پاکستان کےکان تک پہنچائی جاسکے ۔تاکہ اُس کے قلم میں جنبش آئے ۔ 

ڈی چوک اسلام آباد میں ملازمین اور پنشنرز کے ہونے والے دھرنے نے صدرِ  پاکستان کے کانوں پر جوں کو رینگنے پر مجبور تو کردیا لیکن اُس کے طبلچیوں نے پنشنرز کی پنشنوں میں اضافہ   معیشت پر ایک گراں بار بنا کر اُسے صدر پاکستان کے لئے آرٹیکل کی خلاف ورزی کا راستہ دکھایا ۔ یوں پنشنرز بشمول اِس بوڑھے کے رانا صاحب کے لان میں بیٹھے ہوئی اپنی اپنی رائے حاضرین تک پہنچا رہے تھے ، اور یہ بوڑھا بھی اپنے 1993 میں سیاچین پر خدمت کرنے والے اِن پیڈ لانس نائیک محمد بوٹا  فرام چؤا سیدن شاہ ۔ کی خاطر   !

میٹنگ کیا تھی ؟ ایک بولنے کا مقابلہ ہو رہا تھا ۔

 وہاں وہاں ہر کوئی پوچھ رہا تھا کہ یہ سبز واری کون ہے اِس کا حدود اربعہ کیا ہے ؟ 

کسی کو نہیں معلوم تھا ۔ وہاں جو بھی کاروائی ہوئی اُس کی مکمل گُفتگو کی وڈیو میں نیچے ڈالتا ہوں ۔

 وہ دیکھ کر آپ سمجھ جائیں گے ۔ کہ 65 سے 70 سال کے سمجھدار ، لوگوں نے ایسوسی ایشن بنانے کے لئے کیا گفتگو کی اور یہ بیل کیسے منڈھے چڑھی؟

میٹنگ 19 فروری  کی 2021   کی وڈیو

میری سبزواری صاحب سے پہلے ملاقات نہیں ہوئی اور نہ ہی میں اُن کے بارے میں جانتا ہوں ، بس اتنا معلوم ہے کہ جب تین رُکنیِ کمیٹی نے ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد  الاؤنس کا اعلان کیا  تو پنشنرز کے لئے  پنشن  میں کسی بھی اضافے کا  اعلان کیا اور نہ ہی یہ نوید دی کہ اُن کی پنشن میں اضافے کا اعلان بجٹ 2021-2022 میں کیا جائے گا ۔

٭۔ پنشنرز حکومت پر بوجھ ہیں ۔

٭۔ ہر سال حکومت پنشن کی مد میں ہر سال اربوں روپے پنشنرز کو دیتی ہے ۔

٭- لاکھوں گھوسٹ پنشنرز ہیں ۔

٭۔ آئی ایم ایف نے تمام ملکوں سے پنشن کا نظام لپیٹ دینے کو کہا ہے ۔ اگر معاشی ترقی کی رفتار بڑھانا ہے ۔

کیا حکومت ، عوام کو ماموں بنا رہی ہے ۔ کہ اپنے  معاشی جموندروں کو قلابازیاں کھلوا رہی ہے ۔

 ایک ایک مشیر 35 لاکھ ماہانہ تنخواہ لے رہا ہے ،  وزیر اِس بہتی گنگا میں ،  دل بھر کر اشنان کر رہے ہیں ۔ اور اگر خزانہ خالی ہو رہا ہے تو ۔ پنشنرز کو پنشن دینے اور اُس میں حکومت کی معاشی ناکام کا مقابلہ  تو نہیں       ہاں سسکتی لائن سے اوپر  زندگی گذارنے کے معمولی سے اضافہ  نہیں کر سکتی ؟؟

کہاں ہے وہ دعوے مدینہ ریاست بنانے والے ؟؟

٭۔ میٹنگ 21 فروری 2021  

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مزید پڑھیئے :

  ٭۔ایک پنشنر کے سوالات کے حل کا، دوسرا راستہ

٭۔ پاکستان کی ترقی میں ریٹائر ہونے والی سپاہوں کا کردار

٭۔19 فروری تا 31 مئی ۔ داستان ایک سفرِ مسلسل

   ٭۔  31مئی پاکستان کے تمام پنشنرز کا دن

 ٭٭٭٭واپس ٭٭٭ ٭

 

 


  

 

 

 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔