Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 23 مارچ، 2022

کرنسی نوٹ اور قائد اعظم



یہ 24 دسمبر 1957 کا واقعہ ہے جب سٹیٹ بینک آف پاکستان نے پہلی مرتبہ سو روپے مالیت کا ایسا کرنسی نوٹ جاری کیا جس پر بانی پاکستان محمد علی جناح کی تصویر چھپی ہوئی تھی۔ سبز رنگ کے اس کرنسی نوٹ کے دوسری جانب بادشاہی مسجد لاہور کا عکس تھا۔

یہ کرنسی نوٹ بیک وقت کراچی، لاہور اور ڈھاکہ (موجودہ بنگلہ دیش) سے جاری ہوئے تھے۔ اس نوٹ پر سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اس وقت کے گورنر عبدالقادر کے دستخط تھے جو اُردو زبان میں کیے گئے تھے۔ یہ پاکستان کے پہلے کرنسی نوٹ تھے جن پر کوئی انسانی تصویر شائع ہوئی تھی۔
محمد علی جناح کی تصویر والے اس کرنسی نوٹ کے جاری ہونے کے بعد علما اور دیگر افراد کی جانب سے شدید ردعمل بھی دیکھنے میں آیا تھا۔
اس سلسلے کی پہلی خبر 30 دسمبر 1957 کے روزنامہ جنگ میں شائع ہوئی۔ صدر مرکزی جمعیت علمائے پاکستان مولانا عبدالحامد بدایونی نے اس پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ بانی پاکستان کی زندگی میں ڈاک کے ٹکٹ پر اُن کی تصویر شائع کرنے کے معاملے پر مسئلہ پیدا ہوا تھا اور بانی پاکستان نے اس عمل کو ناپسند کیا تھا۔
ان کے مطابق بانی پاکستان نے اپنی زندگی میں یہی مناسب سمجھا تھا کہ ڈاک ٹکٹوں پر چاند تارے یا کسی مشہور پاکستانی عمارت کی تصویر دی جائے۔
اسی طرح کُل پاکستان دستور پارٹی کے صدر مولانا اسد القادری نے تمام ’اسلام پسند عوام‘ سے اپیل کی کہ وہ ایسے کرنسی نوٹوں کا بائیکاٹ کریں جن پر بانی پاکستان کی تصویر ہو تاکہ حکام کو مجبور کیا جا سکے کہ وہ جاری کردہ نوٹ واپس لیں۔
انھوں نے اس حکومتی اقدام کو مسلمانوں کے جذبات کی توہین کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ انتہائی غیر اسلامی طریقہ‘ ہے۔ انھوں نے صدر اسکندر مرزا اور وزیر مالیات سے اپیل کی کہ وہ عوام کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے ان نوٹوں کو واپس لے لیں۔
اسی خبر میں مرکزی جمعیت علمائے اسلام کے نائب صدر مولانا مفتی محمد شفیع کا بیان بھی شائع ہوا جس میں انھوں نے کہا کہ 25 دسمبر کو بانی پاکستان کے یوم پیدائش کے موقع پر بازاروں میں سو روپے کا نیا نوٹ محمد علی جناح کی تصویر کے ساتھ رائج کیا گیا ہے اور اسے بانی پاکستان کی یاد منانا قرار دیا جا رہا ہے۔
’انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ قائداعظم اور پاکستان، آج کل نادان دوستوں یا دانا دشمنوں کے ہاتھوں ایسے مظلوم ہیں کہ ان کی ایک ایک یادگار کو چن چن کر مٹایا جا رہا ہے اور ستم ظریفی یہ کہ یہ سب کچھ انھیں کا نام لے کر کیا جا رہا ہے۔‘
مولانا مفتی محمد شفیع کے مطابق بانی پاکستان اپنی فطرت و طبیعت میں جمہوری نظام کے خوگر تھے اور پاکستان میں اس نظام کو جاری کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے تھے۔ ان کو ’قائد اعظم‘ کہنے والوں نے ہی دس سال کے عرصے میں قصر جمہوریت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے، ہماری پارلیمنٹ اور گورنمنٹ سازشوں کا گہوارہ بن کر رہ گئی ہے۔
اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ ’قائداعظم کی نیکیوں میں ایک بڑی نیکی یہ بھی تھی کہ انھوں نے پاکستانی سکے پر اپنی یا کسی اور کی تصویر کو ثبت کرنا پسند نہیں کیا بلکہ اُن کے سامنے جب کسی نے یہ تجویز پیش کی تو انھوں نے اسے سختی سے رد کر دیا، جو ان کا نہایت حکیمانہ اور تعلیمات اسلام کے عین مطابق اقدام تھا اور دوسرے اسلامی ممالک کے لیے قابل تقلید عمل تھا۔‘
’اُن کی حیات میں اور اس کے بعد بھی آج تک ان کی یہ سنت حسنہ قائم رہی مگر آج ان کے یوم پیدائش پر اُنہی قائداعظم کے فدائیوں نے آخر کار اس کو بھی رخصت کر دیا اور سو روپے کے نئے نوٹ پر قائد اعظم کی تصویر چھاپ کر گویا قائد اعظم اور پاکستان کی بڑی خدمت انجام دی۔‘
اخبارات کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ کرنسی نوٹ پر قائداعظم کی تصویر کی اشاعت پر صرف دینی حلقے ہی معترض نہیں تھے بلکہ اس مہم میں اُن کا ساتھ دینے والوں میں تاجر حضرات بھی شامل تھے۔
31 دسمبر 1957 کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق سرگودھا کی آٹھ مختلف مذہبی اور دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ پاکستانی نوٹوں پر تصاویر چھاپنے کے متعلق سٹیٹ بینک آف پاکستان کی نئی تجویز حکومت پاکستان کے دستور کے رہنما اصولوں اور اس کی روح کے سراسر خلاف ہے حالانکہ پاکستانی حکام نے دستور کی وفاداری کا حلف لے رکھا ہے، ہم اس تجویز پر سخت احتجاج کرتے ہیں اور گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس قسم کی تجویز پر عمل درآمد نہ کریں جس سے پاکستانی سکوں پر کسی فرد کی تصویر چھاپنے کی رسم جاری ہو۔
’پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اور یہاں بادشاہت پرستی کی یادگاروں کو دوبارہ زندہ نہیں کرنا چاہیے۔‘
اس بیان پر حکیم مشتاق امیر جماعت اسلامی سرگودھا، رضا اللہ ثنائی صدر جماعت اہل حدیث سرگودھا، عبدالمجید مرزا صدر صرافہ ایسوسی ایشن سرگودھا، عبدالرحمن صدر کلاتھ مرچنٹ ایسوسی ایشن سرگودھا، محمد اسماعیل جنرل سیکریٹری جنرل مرچنٹ ایسوسی ایشن سرگودھا، میاں محمد شفیع سیکریٹری انجمن آرائیاں ریل بازار، میاں محمد طفیل جنرل سیکریٹری کریانہ مرچنٹ ایسوسی ایشن سرگودھا اور عبدالخالق صدر انجمن آرائیاں سرگودھا کے دستخط شامل تھے۔
اسی زمانے میں اخبارات میں قارئین کے مراسلات بھی شائع ہوئے جس میں کچھ قارئین نے علما کے احتجاج کی تائید کی تھی جبکہ کچھ لوگوں نے سٹیٹ بینک کے اس اقدام کو قابل تعریف قرار دیا تھا۔
اُسی زمانے میں کرنسی نوٹ پر بانی پاکستان کی تصویر چھاپے جانے پر معروف شاعر احسان دانش نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے یہ اشعار کہے۔


دیکھوں، دیکھوں، کیا عجوبہ ہے، ذرا دینا اِدھر
قائد اعظم کی ہے تصویر سو کے نوٹ پر

ذہن بھٹکا ہے یہ کس کا، یہ ستم کس نے کیا؟
میری خوش طبعی میں شامل زہرِ غم کس نے کیا؟

مصلحت، کہہ کر زبانِ حال سی دی جائے گی؟
کیا اسی تصویر سے رشوت بھی لی، دی جائے گی؟

دل لرز اٹھے، نہ کیوں اِس خواب کی تعبیر سے؟
رات دن ہو گی سمگلنگ بھی اسی تصویر سے؟

کیا مسلماں اس طرح بھی لائیں گے مجھ پر عذاب؟
کیا اسی تصویر سے جا کر خریدیں گے شراب؟

لوگ کیا کھیلیں گے میری روح کی تنویر سے؟
ملک بھر میں کیا جوا ہو گا اسی تصویر سے؟

کلمہ گو کیا یوں بھی لوٹیں گے مرا صبر و قرار؟
کیا اِسی تصویر سے چکلوں میں ہو گا کاروبار؟

نوٹ پر تصویر، دانشؔ انحرافِ دین ہے
یہ جنابِ قائد اعظم کی اِک توہین ہے


علما کے احتجاج کے باوجود کچھ ہی دنوں میں یہ معاملہ ٹھنڈا پڑ گیا اور وہ سلسلہ جو سو روپے کے کرنسی نوٹوں سے شروع ہوا تھا دیگر نوٹوں تک بھی وسیع ہو گیا اور پانچ روپے اور اس سے زیادہ مالیت کے تمام نوٹوں پر بانی پاکستان کی تصویر شائع ہونے لگی۔

یہاں اس بات کا ذکر بے محل نہ ہو گا کہ تین اکتوبر 1948 کو ریاست بہاولپور نے ایک ایسا ڈاک ٹکٹ جاری کیا تھا جس پر بانی پاکستان محمد علی جناح اور امیر آف بہاولپور سر صادق محمد خان عباسی کی تصاویر شائع کی گئی تھیں۔

یہ دنیا کا پہلا ڈاک ٹکٹ تھا جس پر محمد علی جناح کی تصویر شائع ہوئی تھی۔

پاکستان کے ڈاک ٹکٹوں پر بانی پاکستان کی تصویر باقاعدہ طور پر پہلی مرتبہ 25 دسمبر 1966 کو شائع ہوئی تھی۔ یہ دو ڈاک ٹکٹوں کا سیٹ تھا جن کی مالیت 15 پیسے اور 50 پیسے تھی۔


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

٭۔ پاکستان  کی قومی زُبان اردو ہو گی

بدھ، 9 مارچ، 2022

خوابی مفلوجیت

انسانی سوچیں انسان کے دماغ کے گلیشئر کی تاریک گزرگاہوں سے کچی نیند کے دوران ، بلبلوں کی طرح ابھرتی ہیں اور آہستہ آہستہ ذہن کے دریچوں پرآکر دس، تک دیتی ہیں ، اِن کا کُلّی تعلق ، جاگتی آنکھوں سے یا سماعت سے دماغ میں گھونسلے بنانا ہے ۔ 

بچپن سے لے کر دماغ میں یہ گھونسلے بنتے جاتے ہیں ۔ بچپن میں ماں ، بہنوںاور دیگر داستان گو کے بنائے ہوئے یہ ننھے منے گھونسلےدماغ کے مختلف خانوں میں جاکر اپنا قبضہ جماتے جاتے ہیں ۔      اِن میں زیادہ تر   لذت کے لئے ،کھانے پینے ، آسیبی یا ماورائی کہانیوں، یا حقیقی داستانوں کے تنکوں سے بنائے ہوئے ہوتے ہیں ۔

احسن الخالقین نے انسان کی پانچوں حسوں سے دماغ میں جانے والی معلومات ، اِن گھونسلوں میں پلنے والے تخیلاتی پرندے اُڑاتی رہتی ہیں ۔ لیکن گھونسلے برقرار رہتے ہیں ۔ 

  باہر کی دنیا سے  ،انسانی حسوں  سے ،  دماغ  کی اندورنی دنیا سے    اُٹھنے والی سوچیں ،  چشم زدن میں ذہن  میں چھلانگ لگاتی ہیں جن سے مختلف گھونسلوں میں بیٹھے  ،  خیالات کے پرندے ، ذہن  سے نکل کر ،ہوا میں اُڑنے لگتے ہیں ۔جو سامنے دیکھنے والوں کو مختف حرکات و تاثرات سے دکھائی دیتے ہیں۔

نیند کے دوران، یہ پرندے اُڑتے ہیں لیکن اِن کی اُڑان زیادہ تر ذہن کی فضاؤں میں رہتی ہے اور صرف دس سے بیس فیصد ، دوسروں کو محسوس ہوتا ہے ۔ جیسے بچوں کا نیند میں ہاتھ یا لاتیں مارنا ، ماں کے اوپر یا ساتھ سونے والے بھائی بہن ، باپ ، دادا دادی ،نانا  نانی کا شکایت کرنا کہ یہ رات کو بہت تنگ کرتا ہے یا کرتی ہے۔ جوانی سے لے کر بڑھاپے تک انسانی خواب میں اُڑنے والے     پرندے ، انسان کو تنگ کرتے ہیں ، جن کی وجہ سے اُس کی حرکات ، ساتھ سونے والا  انسان ہی محسوس کر سکتا ہے ، کیوں کہ اُس وقت کہ سونے والے انسان کے اعصاب پر حاوی ہوتے ہیں ۔

مثلاً  بوڑھے کا بچپن میں نیند میں اُڑنا ، اُس کا اکثر معمول رہا ہے کیوں کہ وہ دیومالائی کہانیوں کے زیر اثر اُڑتا  اور گرنے کی صورت میں خود کو بچانے کی کوشش کرتا اور اب تو سُپر مین ، سپائڈر مین  ، بھیانک کردار ، بچوں کے دماغ میں گھونسلے بناتے رہتے ہیں۔ جو نیند میں ، خوابی مفلوجیت کی کیفیت پیدا کرتے ہیں اور آپ قوت رکھتے ہوئے اُس بلا سے بپچھا نہیں چھڑا سکتے جب تک آپ کی آنکھ نہ کھلے ۔
ماہرینِ طب نے اِس خوابی مفلوجیت کو ختم کرنے کے لئے مختلف دوائیاں ایجاد کی ہیں ، تا کہ   آپ کچی نیند کر پرندوں سے پریشان نہ ہوں اور گہری نیند سوئیں ۔

٭٭٭٭٭٭

 

بدھ، 16 فروری، 2022

بشیر احمد بلوچ - چیئرمین آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن

 انجینئر  بشیر  احمد بلوچ۔  حیدر آباد الیکٹرک سپلائی کارپوریشن سے چیف انجنیئر (گریڈ 20 )میں ریٹائر ہونے والے ، ایک مخلص ، باہمت اور غریب پرور انسان ، جس کو گریڈ 1 تا 11 پنشنرز، دیہاڑی دار ، کنٹریکٹ ملازمین جو اُن کے ساتھ پورے پاکستان میں پاکستان کے عوام کی خدمت میں رات دن کوشاں رہے ۔

جن کا  پنشنرز کے تحفّظ  کے لئے  تبلیغی سفر ، ڈسٹرکٹ ، ڈویژن ، صوبائی عہدے سے آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن شروع ہوا اور وہ پاکستان کے سب سے زیادہ پنشنرز رجسٹر کروانے والے عہدیداران کی صف میں اوّل نمبر پر پہنچے اور بطور قائم مقام چیئر مین 3 جون 2011 اور پھر اپنی انتھک محنت اور کاوشوں سے  چیئر مین  آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن کی قیادت سنبھالی ۔

4 جون 2011 کو ملازمین اور پنشنرز اتحاد (GAEP) کی بنیاد اپنے سیکریٹری جنرل کے ساتھ مل کر ،اگیگا  تحریک کے  چیئرمین ملک سعید اعوان  اور  متحرّک   قائد رحمان علی باجوہ مل کر کئی پنشنرز جماعتوں  کے اختلاف کے باوجود ڈالی ۔
جس میں اُنہیں ،
ملازمین اور پنشنرز اتحاد ، گایپ  تحریک صوبہ سندھ کا صدر منتخب کیا گیا اور سیکریٹری جنرل کو اسلام آباد میں ہونے کی وجہ سےگایپ تحریک   کا مرکزی صدر منتخب کیا ۔
اگیگا کے قائدین ، رحمان علی باجوہ چیف کوآرڈینیٹر اور ملک سعید اعوان چئیرمین نے پنشنرز کا ساتھ دینے کا پورے خلوص سے  وعدہ کیا ۔ دیکھیں  وڈیو ۔ ہم پنشنرز کے ساتھ ہیں ۔
گایپ تحریک   کے قائدین نے  پورے ملک میں پنشنرز تنظیموں ، ایسوسی ایشنز ، سوسائیٹیز کے ساتھ اتحاد کی کوششیں جاری رکھیں۔  حکومت پاکستان کے ملازمین ، سیکریٹری فنانس اور صدر پاکستان  نے 10 فیصد پنشن بجٹ 2021-22 میں دے کر پنشنرز کی اشک سوئی کی۔
اگیگا کے  قائدین نے 3 فروری 2022 کو پے اینڈ پنشن کمیشن میں پنشنر زکی نمائندگی کرتے ہوئے  ۔ بورڈ کو پنشنرز کی تکالیف سے آگاہ کیا اور پاکستان کے تمام پنشنرز کی پنشن 50 فیصد بڑھانے کی درخواست دی ۔ دیکھیں وڈیو - رحمان باجوہ کا پنشنرز کے لئے درد
ملازمین کی ڈیمانڈ پوری نہ کرنے کی وجہ سے اگیگا  تحریک کے قائدین نے احتجاج کے سلسلے اور میٹنگز جاری رکھیں جن میں گایپ تحریک        کے کوآرڈییٹر  اور  مرکزی صدر   شریک ہوتے رہے ۔
جب اگیگا  تحریک کے قاعدین  نے 10 فروری کو تامرگِ دم دھرنے کی کال دی تو گایپ تحریک  نے جڑواں شہر کے پنشنرز کو اُن کی صحت کے پیش نظر  صرف احتجاج میں شمولیت کی کال دی ۔ لیکن اِس کے باوجود پاکستان بھر سے  پنشنرز کے باہمت نمائندے ، خیبر پختونخواہ، پنجاب سندھ اور بلوچستان سے پہنچ گئے۔
گایپ تحریک۔کی تین رکنی  ایڈوائزری کونسل نے جناب طارق مسعود کو پنجاب ، جناب عرش الاکبر کو خیبر پختون خواہ اور جناب دُر محمد بُگٹی کو بلوچستان سے صدور منتخب کئے اور 10 فروری 2022 کے احتجاج کے بعد تمام ملازمین و پنشنرز تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر اپنی اپنی تنظیموں  کے ساتھ متحد رکھنے کی ضرورت پر متفقہ رائے سے تمام صوبائی صدور کو ذمہ داریاں سونپنے کے لئے۔    
گائپ تحریک کے نمائندوں کی میٹنگ 9 فروری 2022کو رکھی گئی ۔جس میں جناب دُر محمد بُگٹی  اپنی صحت کی وجہ سے شریک نہ ہوسکے ۔ بلوچستان سے اُن کی نمائیندگی جناب  ملک سعید اعوان نے کی ۔ جس کے خاتمے پر اورسیکٹریٹ میں ہونے والی   رحمان علی باجوہ اور  سینئر بیروکریٹس  سے  ہونے والی میٹنگ کی  مفصل بریفنگ  جناب  ملک نسیم  نے دی کہ ، کیسے 10 فروری 2022 کے دھرنے کو ایک محدود جگہ پر اور ٹائم باؤنڈ بنانے کے لئے زور دیا جارہا ہے ۔ کیوں کہ  اگیگا  تحریک اور گائپ تحریک کے مرکزی کوآرڈینیٹر  رحمان علی باجوہ  نے میٹنگ میں، ملازمین کی 10 فروری 2021  کو عہدنامے پر کی جانے والی ڈیمانڈ   کی حکومتی قبولیت  یا  تا مرگِ دم ہڑتال پر ڈٹے رہنے  کے متفقہ فیصلے سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا تھا ۔ 
چنانچہ،  اگیگا  تحریک اور گائپ تحریک کے     چیئرمین  ، مرکزی صدر اور صوبائی صدور نے 10 فروری کو ہونے والے احتجاج کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔
حیدر آباد سے   10 فروری 2022 کے احتجاج  ،  کے لئے جڑواں شہر میں آئے ہوئے ،  جناب انجنیئر بشیر احمد بلوچ نے جس ثابت قدمی سےاگیگا  تحریک میں پنشنرز کی شمولیت کے لئے تقریر کی اُس نے خیبر پختون خواہ  اور  جڑواں شہر  سے ہزاروں پنشنرز کو  اسلام آباد پریس کلب گراؤنڈ میں  اکٹھا کر دیا ۔ 
10 فروری 2022 کو پنشنرز کا احتجاج اور پے اینڈ پنشنرز کمیشن میں فیڈرل ملازمین ، ریٹائرڈ چیف انجنیئر HIESCO اور میجر (ریٹائرڈ ) نعیم الدین خالد نے شرکت کی ۔
بشیر احمد بلوچ چیئر مین  آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن  نے
گریڈ 1 تا 11 پنشنرز، دیہاڑی دار ، کنٹریکٹ ملازمین کے حق میں بول کر پنشنرز اور ملازمین کا حق ادا کردیا ۔

جناب انجنیئر بشیر احمد بلوچ کو لاہور کی پنشنرز تنظیموں نے واپس حیدرآباد جاتے ہوئے اُن کی مشترکہ میٹنگ کی صدارت پر 16 اور 17 فروری کے لئے دعوت دی جو اُنہوں نے قبول کر لی ۔
گرینڈ الائنس ملازمین و پنشنرز تحریک 
پاکستان کے پنشنرز کے تحفّظ کے لئے ملازمین اور پنشنرز کا اتحاد 
آپ گایپ  تحریک سے اپنے مسائل کیسے حل کروانا چاھتے ہیں؟
٭۔ فیڈرل کیپیٹل اسلام آباد کے پنشنرز  ۔ ذمہ دار۔ مرکزی صدر
میجر (ر) محمد نعیم الدین خالد-03365500208
٭-  صوبوں کے  پنشنرز ۔ ذمہ دار ۔ صوبائی صدر ۔
سندھ ۔ جناب انجنیئر بشیر احمد بلوچ ۔03332621365
پنجاب۔ جناب طارق مسعود ۔03234895938
خیبر پختون خواہ ۔ جناب عرش ا لاکبر ۔  03468983111
بلوچستان۔ جناب دُر محمد بُگٹی ۔03366445201
گلگت بلتستان۔میجر (ر) محمد نعیم الدین خالد
اپنی رائے وٹس ایپ کریں ۔ شکریہ    
   
٭٭٭٭٭٭٭باقی  معلومات کے لئے انتظار فرمایئے ٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 

اتوار، 6 فروری، 2022

خواب جزیرے نہیں بلکہ عملی دنیا کے باسی

    اِس جگ بیتی میں سب سے اہم نکتہ 

 سست مگر درست‘ کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے ۔ تم کامیابی کے سب سے بلند زینہ پر پہنچ  سکتے ہو   ۔

دنیا کی امیر اور کامیاب ترین شخصیات میں سے ایک وارن بفٹ صرف 11 برس کے تھے، جب انہوں نے اپنا پہلا شیئر 38 ڈالر میں خریدا۔

 ایک دن بفٹ نے خود سے وعدہ کیا کہ 30 برس کی عمر میں انہوں نے کسی طرح کروڑ پتی بننا ہے اور اگر وہ اپنے اِس مشن   میں ناکام ہوا۔ تووہ  اوماہا کی سب سے  اونچی بلڈنگ سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لے گا ۔

 وارن بفٹ نے معاشیات کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ہاورڈ یونیورسٹی میں داخلے کےلئے اپلائے کیا، لیکن ان کی درخواست رد کر دی گئی، لیکن اس  نے ہمت نہ ہاری اور بعدازاں اپنی محنت اور ٹیلنٹ کے بل بوتے پر دنیا کی 10 امیر اور کامیاب شخصیات کی فہرست میں شامل ہوا، ہاورڈ یونیورسٹی آج بھی اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ وارن بفٹ کو داخلہ نہ دے کر انہوں نے یونیورسٹی کی تاریخ کا سب سے غلط فیصلہ کیا تھا۔

 بفٹ کی ہمیشہ سے خواہش تھی کہ وہ اپنی اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اُس وقت کے امریکا کے سب سے کامیاب سرمایہ کار بنجامن گراہم سے سرمایہ کاری کا علم حاصل کرے۔ اس  نے بنجامن کے ساتھ مفت میں کام کرنے کی درخواست بھی کی، لیکن وہ بھی رد کر دی گئی۔ 

بفٹ نے ہمت نہ ہاری اور جدوجہد جاری رکھی، اس  نے سرمایہ کاری کے مختلف آئیڈیاز خود سے تخلیق کرنا شروع کر دئیے اور اُنہیں باقاعدگی سے بنجامن کو بھیجنا شروع کر دیا۔ بفٹ کے نئے خیالات اور سرمایہ کاری میں رجحان سے متاثر ہو کر بنجامن نے بفٹ کو 12 ہزار ڈالر سالانہ تنخواہ پر نوکری پر رکھ لیا۔ یہ تنخواہ 1954ء میں کسی بھی اوسط درجے کے ملازم کی تنخواہ سے چار گنا زیادہ تھی۔بفٹ کو نوکری پر رکھنے کے صرف دو برس بعد بنجامن نے ریٹائرمنٹ لے لی۔ جبکہ بفٹ نے عملی طور پر سرمایہ کاری کے وہ تمام گُر استعمال کرنا شروع کردئیے جو اس  نے بنجامن سے سیکھے تھے۔

 بفٹ جب 26 برس کی عمر کو پہنچا تو اُس کی دولت ایک لاکھ چالیس ہزار ڈالر تھی۔ یعنی تیس برس کا ہونے میں ابھی صرف چار برس باقی رہ گئے تھے اور بفٹ ملین ایئر کا سٹیٹس حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔

٭۔ 1962ء میں ’سست مگر درست‘ کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے آخر وہ ساڑھے چار لاکھ ڈالر کا مالک بن گیا۔ صرف دو برس میں  بفٹ کی پارٹنر شپ کامیابی کی بلندیوں پر پہنچ گئی اور اُس کی کمپنی کی قدر 17 ملین ڈالر ہو گئی، جس میں بفٹ کی حصے داری 1.8 ملین ڈالر تھی۔ یوں وارن صرف 28 برس کی عمر میں کمپاؤنڈ افیکٹ کا استعمال کرتے ہوئے ملین ایئر کا سٹیٹس حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اور ایک وقت وہ بھی آیا کہ اُس  کی دولت کی کل مالیت 115 ارب ڈالر تک پہنچی گئی ۔

٭٭٭٭٭٭

اُفق کے پار بسنے والے باہمت اور نیک دل دوستو !۔کبھی آپ نے سوچا کہ جب آپ نے تعلیم چھوڑی اُس کے بعد چالیس سال کی عمر پر پہنچنے کے بعد آپ کی ذھانت ، لیاقت  تجربے  اور آمدنی میں اضعافہ  ہوا    یا آپ وہیں کے وہیں تھے جہاں سے آپ نے اپنا رزقِ کے حصول کا سفر شروع کیا ۔ 

یاد رکھیں ایک انمٹ داستانِ ہمت کا ایک سنہری اصول ۔

پریشانی اور رکاوٹیں انسانی ہمت کا راستہ نہیں روک سکتیں اگر وہ اپنے ارادے میں پختہ اور کامل یقین رکھتا ہو۔

رحمة للعالمين نے اِن عربی الفاظ میں انسانوں کو بشارت دی :۔

وَلاَ تَهِنُوا وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ [3:139]  

٭٭٭٭٭٭٭

  

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔