Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 20 مارچ، 2016

خالص مٹی سے بنا ہوا گھر

خالص مٹی سے بنا ہوا گھر !
ہمارے بچپن میں ، اِس میں پنکھے نہیں لگائے جاتے تھے ۔ پانی کے مٹکے ، لکڑی پر تو نہیں مٹی کے تھڑے پر ، پٹ سن کی بوری یا خس میں لپیٹے ہوتے تھے ، پینے کے بعد جو پانی بچتا تھا ، وہ بوری پر ڈال دیا جاتا۔
کیا ٹھنڈا اور سوندھی خوشبو والا پانی ہوتا تھا ،
ہاں مٹکے اس طرح دھوپ میں بھی نہیں پڑے ہوتے تھے ۔
نیم کے درخت کی چھاؤں میں ہوتے ۔
ورنہ دھوپ میں تو پانی " بھاپ " مارتا ہے ۔  گرو جی

ہمارے بلاگروں کے بلاگر ، نجیب عالم شیخ عرف شیخو جنھیں میں پیار سے ، گرو ! کہتا ہوں کی لگائی ہوئی اِس پوسٹ نے چشمِ زدن میں ماضی میں دھکیل دیا ۔
اور یکے بعد دیگرے یادیں ، ذہن کے گوشوں سے چھلانگ مار مار کر باہر نکلنے لگیں ،
 بلکل ایسے جب دادی ، میر پور خاص میں گورنمنٹ کی طرف سے مہاجروں کو الاٹ کئے گئے اسی طرح کے کچی اینٹوں سے بنے ہوئے گھر میں مرغی کا ٹوکرا صبح صبح اٹھاتیں تو دس بارہ چوزے کُودتے ہوئے باہر نکلتے تو تین سالہ نمّو ، کو پہلے ہی وہ چارپائی پر بٹھا دیتیں وہ چوزوں کی شرارتوں پر کھلکھلا کر ہنستا ۔
" دادی ، وہ تالا تودا ، توترے میں ہے" نمّو چلاتا
" اُتے مُدے دو ، دادی اُتے مُدے دو"
بھورے ، سفید ، سرمئی چوزوں کی فوج میں ایک ہی کالا چوزہ تھا ، جو بہت سست تھا ، وہ دادی نے نمّو کو دے دیا تھا ۔
جب دادی چوزے کو نمُو کے ھاتھ میں چارپائی پر دیتیں تو وہ وہیں بیٹھا رہتا ، باقی تو بہت تیز تھے ، ایک تو نمّو کے ہاتھ سے باجرہ چُگتے وقت بہت زور کی ٹھونگیں مارتے اور دوسرے موقعہ پا کر چارپائی سے چھلانگ مار کر دوڑ جاتے ۔
نمّو کو چوزوں سے ڈر لگتا تھا ، کیوں کہ وہ
نمّو کے پاؤں پر ٹھونگیں مارا کرتے اور نمّو سمجھتا کہ وہ اُسے کھانے لگے ہیں ۔
کچی اینٹوں سے بنا ہوا یہ مکان ،
نمّو کےچچا کو الاٹ ہوا تھا اور نمّو چھٹیوں میں اپنی امی ، آبا ، آپا اور چھوٹے بھائی کے ساتھ ایبٹ آباد سے میرپورخاص چھٹیاں گذارنے آیا تھا ۔ یہ غالبا دسمبر1956 کی بات ہے ۔
دادی گھر کا پورا صحن لیپتیں ، گھر کے ایک کونے میں چولہا تھا ۔ پچھلے حصے کی طرف نکلنے والے دروازے کے باہر ، دادی نے کیکر کی پرانی ٹہنیوں کی دیوار بنا کر جامن ، امرود اور موگرے کے پودے لگائے تھے  اور سامنے کے صحن کے بیچوں بیچ نیم کا پودا لگا تھا جو عارضی مہاجر کیمپ سے ، اس مکان میں آنے کے بعد دادی نے لگایا تھا ۔ 
اِس کے نیچے دادی نے چبوترہ بنایا تھا ، اُس میں پکی اینٹوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ڈالے تھے اور باورچی خانے کی طرف دو مٹکیاں رکھی تھیں جن میں سے ایک میں دادی سونف کا پانی بھی ڈالتیں جو خوشبو کے ساتھ ھاضم بھی ہوتا اور دائیں بائیں دو " گول"۔
 گول، سندھ میں استعمال ہوتا ھے مٹی کا بنا ہوا یہ بڑا مٹکا ہوتا ہے ، اِس میں پانی بھی بھرتے ہیں اور چوہوں سے بجانے کے لئے گندم رکھنے کے کام بھی آتا ہے ۔
اِس میں سے پانی نکالنے کے لئے ، دادی نے ناریل کے خول کے ساتھ لمبی لکڑی لگا کے پیالہ بنایا تھا ۔
صبح صبح سرکاری ماشکی آتا وہ دونوں مٹکے اور دو گول بھر جاتا ، جو سارا دن کی پانی کی سپلائی ہوتی ۔
یہی پانی صبح صبح ماشکی کے آنے سے پہلے پودوں کو بھی ڈالا جاتا اور لپائی کے کام بھی آتا ۔
نیم کے درخت سے اکلوتے کمرے اور باورچی خانے کے سامنے ایک دالان سا بنا تھا ، جو ایک فٹ اونچا تھا اور مزید ایک فٹ کی مٹی کی دیوار تھی، جس پر خصوصی لپائی ہوتی ، اور وہاں سے آگے جوتے لے کر جانا سختی سے منع تھا ۔
چوزے اور مرغی کو دادی نے استشناء دی ہوئی تھی کیوں کہ وہ مار کے ڈر کو ایک طرف رکھ کر اِس پوّتر جگہ گُھسنے کا جرم کر لیتی ۔ اگر انہیں صبح گھر میں روکا جاتا ، ورنہ ، دانہ ڈالنے کے بعد دادی انہیں باہر کا راستہ دکھاتی جہاں وہ اپنے دوسری ہم جولیوں کے ساتھ تفریح ایک دوسرے کے پیچھے بھاگنا اور لڑائی جیسا کھیل کھیلتیں ۔
نیم کے درخت کے دادی بتاتیں بہت سے فائدے ہوتے ہیں ، لیکن نمّو اور آپا نے اُس کا نقصان ہی دیکھا ، دادی نے بڑے شوق سے سکھائے ہوئے پھول اور نرم پتے سنبھال کر رکھے تھے جو شام کو اُبالے جاتے ، آپا اور نمّو کو ساڑھے پانچ فٹ دُرّانی دادی ، اپنی رانوں میں دبا کر ایک ہاتھ سے منہ کھولتیں اور دوسرے ھاتھ سے نیم بھرے پانی کے پیتل کے لوٹے کی ٹونٹی نمّو کے حلق تک پہنچا دیتیں ، غڑاپ غڑاپ کی آوازوں کے ساتھ جیسے کوئی پانی میں ڈوبتا ہے ۔ وہ کڑوا پانی لگاتار دو ماہ تک نمّو کے پیٹ میں جاتا ، پھر روتے چنگھاڑتے نمّو کو دادی پیار کرتیں اور اپنی تجوری سے اپنے ہاتھ  سے بنائی بالو شاہی کا چوتھائی چورا کر کے آپا اور نمّو کے منہ میں ڈالتیں ۔ آپا تو اِس ظلم کا شکار کم ہوئی کیوں کہ وہ اور چھوٹا بھائی ، امی کے ساتھ ، آدھا کلومیٹر دور خالہ کے گھر اکثر جاتے اور نمّو دادی کے پاس رہتا ۔
اِس کا فائدہ نمّو کو آج تک یہ ہوا ، کہ کھٹمل کی دہشت انگیزی سے یکسر اور مچھروں کی یلغار سے نمّو آج بھی بچا رہتا ہے ۔ 


جمعہ، 18 مارچ، 2016

ڈاکٹر رابعہ- حقوق نسواں بل : ایک عورت کے تاثرات

..حقوق نسواں بل کے ثمرات. ..


کون سی چیز ہے جو مرد کو عورت پر ہاتھ اٹھانے پر مجبور کرتی ہے. . اس کے عوامل ہر دو طرف موجود ہو سکتے ہیں مرد میں بھی اور عورت میں بھی ..
مرد شکی، کڑوا، متشدد ،غصیلا، چڑچڑا ، ہائپر ہو سکتا ہے اور باہر کا غصہ اور جھنجھلاہٹ بیوی پر اتار سکتا ہے
اسی طرح عورت کا بد زبان یا پھوہڑ ، شکی یا بدکردار ہونا مرد کو غصہ دلانے کا موجب ہو سکتے ہیں. . لیکن کیا غصہ صرف مرد کو آتا ہے. . کیا غیرت صرف ایک مرد کا اثاثہ ہے ..
نہیں. .
دراصل یہاں دونوں اصناف کی تربیت کا فرق نظر آتا ہے ..
مرد طاقتور ہے .. چیخ چلا کر یا ہاتھ اٹھا کر غصہ نکال لے گا جبکہ عورت اپنے سے کمزور (عمومااولاد) پر چیخے چلائے گی اور ہاتھ اٹھائے گی ..
بہنے والی چیز کا اصول ہے کہ وہ نچلی سطح کی طرف بہتی ہے اسی طرح غصہ بھی طاقتور سے کمزور کی طرف رخ کرتا ہے .
جب تک عورت خود اپنی زات میں طاقتور نہ ہو .. خود کفیل اور مضبوط بیک گراونڈ کی نہ ہو وہ کمزور پارٹی رہتی ہے .. ایسے وقت میں اس کا ہتھیار صبر شکر اور مصلحت کوش معاملہ فہمی ہے نہ کہ زباں درازی و ہاتھا پائی ..
جب عورت خود کفیل ہوتی ہے تب مرد بھی اس سے مناسب برابری کا رویہ رکھنے پر خود کو مجبور پاتا ہے .. کیونکہ ایسی عورت اپنی کسی مجبوری سے نہیں بلکہ اپنی مرضی اور محبت سے اپنے مرد کے ساتھ رہتی ہے. .
اب ہوا کیا ہے !
اس حقوق نسواں بل نے عورت کے ہاتھ میں ایسی کلہاڑی پکڑا دی ہے جس سے وہ خود اسی شاخ کو کاٹ دیتی ہے جس پر اس کا آشیانہ قائم ہے ..

مرد غصے میں ہاتھ اٹھاتا تھا تو عورت چپ کر جاتی تھی ..گھر قائم رہتا تھا..
اب عورت کو شکایت کرنے کا ادارہ مل گیا اور موقع بھی ..
لو جی مار کھائی شکایت لے کر قانون کا دروازہ کھٹکھٹایا .. شنوائی ہوئی .
شوہر کو سبق سکھانے کی خواہش کو عملی جامہ پہنایا. .
دو دن گھر میں اکیلے راج کیا تیسرے روز غصے اور انا کے پہاڑ پر چڑھا شوہر گھر آتے ہی چار حرفی طلاق تین دفعہ منہ پر مار کر'' گھر میری جنت'' سے نکال باہر کرتا ہے ..
اس بل نے بھری پستول عورت کے ہاتھ میں دے دی ہے جس کا نشانہ شادی شدہ زندگی کی کنپٹی ہے. ...
مغربی ممالک میں'' مرا ہاتھی سوا لاکھ کا'' کے مصداق طلاق عورت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے..
جہاں طلاق کی صورت میں شوہر کی آدھی جائیداد بیوی کو مل جاتی ہے اور بچوں کا خرچ بھی شوہر کے ذمہ رہتا ہے. ..

ہمارے معاشرے میں جہاں بہن اور بیٹی پہلے ہی حق وراثت سے محروم رکھا جاتا ہے اور شرعی حق مہر کے نام پر بتیس روپے سولہ آنے طلاق کے تین لفظوں کی فیس مقرر کر دی جاتی ہے اور نان نفقہ حاصل کرنے کے لیے خاتون کو عدالتوں کے دھکے کھانے پڑتے ہیں وہاں یہ بل خاندان کی جنت میں سانپ کا کردار ادا کرے گا ..
عورت طلاق کی صورت میں نہ صرف گھر سے محروم ہوتی ہے بلکہ روپے پیسے کی محتاج بھی ہو جاتی ہے..
اس بل کی ذیلی شق میں طلاق دینے کی صورت میں شوہر کو بھاری جرمانے اور نان نفقہ کی فوری ادائیگی کا پابند بنایا جائے تو شاید یہ بل گھریلو تشدد کو روکنے اور گھر کو ٹوٹنے سے بچانے والا ثابت ہو سکے..

اس بل کے پاس کیے جانے سے پہلے عورت کو خود کفیل کرنے کی کوئی سکیم شروع کی جانی چاہیے تھی .. ناخواندہ اور غیر ہنر مند عورت حقوق نسواں بل کے منطقی نتیجے . طلاق .. کے بعد کدھر جائیں گی. .
حکومت کو ہر شہر کی آبادی کے حساب سے مزید دارالامان اور یتیم خانے قائم کرنے چاہیے .. کیونکہ اب ان کی ضرورت ہمیشہ سے زیادہ ہو گی. ..

نیز خواتین کی ہنرمندانہ تربیت کے لیے بھی ضروری اقدامات کیے جائیں..

ٹوٹے گھروں کے یتیم و مسکین نما بچوں کی مفت تعلیم و تربیت اور ذہنی ٹوٹ پھوٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسے تعلیمی ادارے جہاں صرف ایسے ہی مخصوص مسائل میں گھرے بچے تعلیم حاصل کریں تاکہ دوسرے خوشحال گھروں کے بچوں کے مقابل وہ ذہنی الجھن اور احساس کمتری کا شکار نہ رہیں. .

دوسری شادی کروانے والی میرج بیوروز بھی کمر کس لیں.. اگلے چند مہینے میں دوسری شادیوں کا سیزن شروع ہونے والا ہے

ازواج خاندانی منصوبہ بندی کے آپریشن کا فیصلہ دیر سے کریں تا آنکہ طلاق کا خطرہ یا دوسری شادی کا خیال ٹل جائے. .
میری تمام بہنوں سے گزارش ہے کہ وہ شکایت درج کروانے سے پہلے آنے والے دنوں کا تمام حساب کتاب لگا لیں اور دنیا کی ٹھوکروں اور بھابیوں کے طعنوں کے پہاڑ کی اونچائی بھی ماپ لیں .. شوہر کے مزاج کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے ممکنہ رد عمل کا بھی اندازہ لگا لیں ..یاد رکھیں ''کمان سے نکلا تیر واپس نہیں آیا کرتا ''
ٹھنڈا پانی پئیں وضو کریں اللہ کریم کے سامنے اپنا مسئلہ پیش کریں اور اپنی طبیعت کی نرمی اور مصلحت کوشی کے ہنر کو آزمائیں. .ان شاءاللە افاقہ ہو گا

تمام بردان کے لیے بھی یہی مشورہ ہے کہ بھیا آپ بہت طاقتور مرد ہیں. . اس طاقت کو اپنی فیملی کو تحفظ اور اچھی زندگی دینے کے لیے استعمال کریں. . نا کہ انہیں دبانے کے لیے یا مارنے پیٹنے کے لیے .. .
اسی طرح طلاق کے الفاظ منہ سے نکالنے سے پہلے مندرجہ ذیل مسائل پر غور فرما لیں.. آج جو عورت آپ کی غیرت ہے کل اسے در در رلتے کیسے دیکھیں گے . اپنی بیٹی کو مطلقہ ماں کے تناظر میں کیسے بیاہ پائیں گے. اس کی تربیت اس کی ماں کے بغیر کیسے کر پائیں گے.
طلاق دینے سے پہلے چار گلاس ٹھنڈا پانی پئیں
وضو کریں.. ہو سکے تو غسل کریں
اور دل لگا کر نماز پڑھیں..
ہو سکے تو کچھ دیر گھر سے باہر سیر کر آئیں. .
اب سوچیں کیا اب بھی اتنا جوش اور غصہ باقی ہے .. ان شاء اللہ  آپ اپنے جوش پر قابو پا لیں گے اور ہوش کادامن تھام لیں گے

دعاگو. .
ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

جمعرات، 17 مارچ، 2016

بدھ، 16 مارچ، 2016

سلاسیم - مؤکلِ ماضی یا حال !


ابن صفی جاسوسی ناولوں کی دنیا میں ایک ایسا نام ہے جس سے شاید ہی کوئی ناواقف ہو۔ ابن صفی ایک ایسے قلم کار کے طور پر دیکھے جاتے ہیں جن سے مشہور زمانہ خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی بھی اپنے معاملات میں گاہے بگاہے تربیت لیتی رہی۔ ان کی وفات کے بعد یہ سہرا مظہر کلیم ایم اے کے سر جاتا ہے جنہوں نے ابن صفی کے قارئین کو جاسوسی ناولوں کی صورت میں بہترین تحفے دیے۔ جن میں سے ایک تحفہ اخلاقی تربیت کی صورت میں تھا۔ ویسے تو بہت سے قلم کاروں نے ابن صفی کے کرداروں کو استعمال کرنے کی کوشش کی لیکن مظہر کلیم ایم اے جیسی اخلاقی تربیت کوئی بھی نا کر سکا۔
ملتان سے تعلق رکھنے والے مظہر کلیم ایم اے کا شمار جاسوسی ناولوں کے قلم کاروں کے درمیان ایک خاص مقام رکھنے والے قلم کار کے طور پر ہوتا ہے۔ ابن صفی سے متاثر یہ قلم کار اب تک سینکڑوں جاسوسی ناول اپنے قارئین کو دے چکا ہے۔ پیشے کے لحاظ سے ایک وکیل کس طرح سے دور جدید میں ہونے والے واقعات کی خبر دے گیا اُن کا اندازہ آج ہمیں ہالی وڈ کی ایکشن سے بھرپور فلمیں دیکھنے سے ہوتا ہے۔ نجانے کیوں مجھے احساس ہونے لگتا ہے جن ناولوں سے حکومت پاکستان کو استفادہ کرنا چاہیے تھا اُن ناولوں سے مغربی ممالک نے استفادہ کیا۔
آج سے بارہ سال پہلے میں نے مظہر کلیم ایم اے کے ایک ناول کا مطالعہ کیا جو کہ شاید خیر و شر کے موضوع پر لکھا ہوا تھا۔ اس ناول کا نام تو مجھے یاد نہیں لیکن وہ الفاظ ضرور یاد ہیں جن کا میں اس مضمون میں ذکر کرنا چاہ رہا ہوں۔ مظہر کلیم ایم اے اپنے اس ناول کا آغاز نعمانی کے کردار سے شروع کرتے ہیں جو آج صبح ہی سے ایک قدیم کتاب کے مطالعے میں غرق ہوتا ہے۔ اس کتاب میں وہ ایک موکل کے بارے میں پڑھ رہا ہوتا ہے جس کا نام سلاسیم ہوتا ہے۔ کتاب لکھنے والا اس موکل کے بارے میں کہتا ہے کہ یہ دنیا کا طاقتور ترین موکل ہے اور اس سے کوئی بھی کام لیا جاسکتا ہے۔ اتنی دیر میں صفدر یا جولیا نعمانی کے فلیٹ پر آٹپکتے ہیں، اور نعمانی انہیں " سلاسیم موکل" کے بارے میں بتاتا ہے اور دریافت کرتا ہے کہ ایسا حقیقی زندگی میں ممکن ہے بھی یا نہیں کہ ایک موکل اتنا طاقتور ہو کہ اس سے دنیا کا کوئی بھی کام لیا جاسکتا ہو۔
سلاسیم نام کا یہ موکل پتا نہیں اوروں کو یاد رہا یا نہیں لیکن بحیثیت ایک قاری میرے ذہن کے کسی گوشے میں رہ ہی گیا۔ اس موکل سے میری ملاقات ناول پڑھنے کے پانچ یا چھ سال بعد ہوئی۔ ہوا یوں کہ میرے ایک دوست شاہ صاحب کے مرید تھے اور باقاعدگی سے ہر سال ماہ رمضان کا اعتکاف انہی کے پاس گزارتے تھے۔ میرے دل کو خواہش ہوئی کہ اس بار جب وہ اعتکاف ختم کریں تو ان کا استقبال کروں۔ میں دو سو کلومیٹر کا سفر کرکے شاہ صاحب کے پاس چولستان پہنچا جہاں شاہ صاحب اپنے چند ایک مصاحبین کے ساتھ رہتے تھے اور وہاں مسجد میں تقریبا پچاس یا اس سے زائد لوگ اعتکاف بیٹھے ہوئے تھے۔ میں اتنی تعداد دیکھ کر کچھ حیران ہوا لیکن خوش بھی ہوا کہ شاہ صاحب بلا کسی معاوضے کے اتنے لوگوں کی پچھلے دس دنوں سے خدمت کر رہے ہیں۔
خیر اسی شام چاند نظر آگیا، لیکن اعتکاف بیٹھنے والوں کو آنے والی صبح سے پہلے مسجد چھوڑنے کی اجازت نہیں تھی۔ میں اپنے دوست کے پاس مسجد میں جا بیٹھا، عشا کی نماز ہوئی تو شاہ صاحب نے امامت کرائی اورتمام اعتکاف بیٹھنے والے نماز کے بعد ذکر و اذکار کے لیے لائن میں بیٹھ گئے۔ کھجور کی گٹھلیاں بانٹی گئیں اور شاہ صاحب نے فرمایا کہ ایک لاکھ درود پڑھا جائے۔ تمام لوگ درود پڑھنے لگے تو میں نے ساتھ ساتھ کھجور کی گٹھلیوں پر درود پڑھنا شروع کر دیا۔ نیکی کرنا کسے اچھا نہیں لگتاہے۔ 
درود کا ایک لاکھ پورا ہوا تو شاہ صاحب نے فرمایا کہ (اُن کے نسبی) سلسلے کی حفاظت کے لیے " شاتل وجو" (میں نے صحیح لفظ میں ترمیم کر دی ہے) پڑھیں۔ یہ لفظ میرے لیے نیا تھا۔ لیکن میں نے محسوس کیا کہ بہت سے لوگ اس لفظ کو نہیں پڑھ رہے۔
ذکر و اذکار کی محفل ختم ہوئی تو میں نے اپنے دوست سے پوچھا کہ شاتل وجو کا کیا مطلب ہے، انہوں نے کہا یہ تو مجھے نہیں معلوم لیکن سنا ہے یہ کوئی موکل ہے۔ اسوقت میرے ذہن میں "سلاسیم " کا خیال تک بھی نہیں تھا۔
میں نے سن رکھا تھا کہ ماضی میں بہت سے بزرگ بھی اپنے کچھ کاموں کے لیے نیک و صالح جنات کو استعمال کیا کرتے تھے جنہیں وہ موکلات کا نام دیتے تھے۔ خیر میں نے شاہ صاحب کو ایک نیک صالح انسان سمجھا ہوا تھا تو میں انہیں انہی بزرگوں میں سے سمجھا۔ لیکن واپسی کے راستے میں، میں نے اپنے دوست سے پوچھا "شاتل وجو" کا مطلب تو پتا کر کے بتائیں۔ انہوں نے کسی خاص الخاص مرید کو فون کیا اور انہوں نے جو مطلب بتایا وہ میرے لیے ہوش اُڑا دینے کے لیے کافی تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ چہرہ بگڑ جائے۔

میں نے اپنے دوست سے کہا یہ لفظ تو ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔  شاہ صاحب اپنے سلسلے کی حفاظت کے لیے ایک ایسے موکل کو کیسے استعمال کر سکتے ہیں جو کہ چہرہ بگاڑ دے۔ میرے دوست بھی جو شاید مطلب جاننے کے بعد ایسا ہی کچھ سوچ رہے تھے بولے مجھے نہیں اندازہ تھا کہ اس کا مطلب یہ ہوگا، بہرحال میں ویسے بھی ان لفظوں کو پڑھنے میں احتیاط سے کام لیتا ہوں نا معلوم مجھے لفظ موکل ہی کیوں مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ 

میں نے بھی اثبات میں سر ہلا دیا۔ سالوں پر سال گزر گئے۔ کہ میرا گزر ملتان سے ہوا۔ میں وہاں ایک پلازے میں کچھ شاپنگ کرنے کی غرض سے جا داخل ہوا، لیکن پہلے مجھے اپنی گاڑی بیسمنٹ میں پارک کرنی تھی۔ بیسمنٹ اپنے ڈیزائن کی وجہ سے منفرد سی تھی۔ بیسمنٹ کا ڈیزائن شاید اہرام مصر سے متاثر ہو کر بنایا گیا تھا اور دیواروں پر ایک ایسے شخص کی بھی تصویر بنی ہوئی تھی جس کا سر تو کسی گدھے کی مانند تھا لیکن دھڑ کسی انسان کی مانند۔ مجھے یہ تو نہیں معلوم تھا کہ اس شخص کا کیا نام ہے لیکن میں اس گدھے جیسے سر والے کو اہرام مصر کی دیواروں پر بنا ہوا دیکھ چکا تھا۔
اسوقت میرے ذہن میں کوئی بات نا آئی، لیکن جونہی ہی میں شہر سے باہر سکون کی راہ پر آیا تو میرے ذہن میں ایک خیال بجلی کی تیزی سے کوندا کہ یقینا یہ وہی موکل " شاتل وجو" ہے جس کو شاہ صاحب اپنے (نسبی) سلسلے کی حفاظت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جوں جوں میں اس بارے میں مزید سوچتا گیا میرا یقین اور پختہ ہو تا گیا۔
اس لفظ کا مطلب تھا کہ چہرہ بگڑ جائے اور اگر اس گدھے کے سر والے انسان کو دیکھا جائے تو اس کا بھی چہرہ بگڑا ہوا ہے۔ 

گویا فراعین مصر کے پاس کوئی ایسا علم تھا جس کے ذریعے وہ اپنی سلطنت کی حفاظت کرتے تھے اور اس کے لیے وہ اسی گدھے کے سر والے موکل " شاتل وجو" کو استعمال کیا کرتے تھے جس کی وجہ سے اہرام مصر کے اندر جا بجا اس گدھے کے سر والے موکل کی تصاویر بنی ملتی ہیں۔ 
یقینا جو بھی فراعین مصر کے بارے میں برا سوچتا ہو گا اس کا چہرہ بگڑ جاتا ہو گا جس کی وجہ سے تاریخ فراعین مصر کو ظالم اور جابر بادشاہوں کے طور پر دیکھتی ہے۔ اہرام مصر کی دیواروں پر اس موکل کی تصویر کنندہ ہونا بھی خارج از وجہ نہیں ہوگی۔ 

اہرام مصر کی تعمیر کا مقصد فراعین مصر کا ایک عقیدہ تھا جس کا نظریہ یہ تھا کہ ایک نا ایک دن دوبارہ فراعین مرنے کے بعد جی اُٹھیں گے اور دنیا پر حکومت کرنے لگیں گے۔ اہرام مصر کی تعمیر آج بھی دنیا کے لیے ایک عجوبہ ہے اور بہت سے محققین کا خیال ہے کہ اہرام مصر کی تعمیر میں نامعلوم مخلوقات کا ہاتھ ہے کہ ایسی عمارت بنانا ایک انسان کے ہاتھ کا کام نہیں ہے۔
مظہر کلیم ایم اے کے لکھے گئے ناول میں شاید اسی موکل کا ذکر تھا جو دنیا کا ہر کام کرسکتا ہے اور اسی ناول میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ دنیا میں صرف چند لوگوں کے پاس یہ موکل ہے۔ میں اپنے دوست سے کئی بار سن چکا تھا کہ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ ہمارا سلسلہ تمام سلسلوں پر حکومت کرتا ہے اور یقینا شاہ صاحب کی یہ سٹیٹمنٹ اسی سلاسیم موکل کی وجہ سے تھی جو ان کے تمام احکامات پر عملدرآمد کے لیے کام آتا ہے۔
اگر ان سب باتوں اور شواہد کو جوڑا جائے تو ہمیں اہرام مصر کی تخلیق کا راز بھی افشاں ہوتا ہوا معلوم ہوتا ہے کہ اہرام مصر کی تخلیق انہیں سلاسیم موکلوں کے ذریعے ہوئی ہو گی جو آجتک دنیا کے لیے ایک عجوبے کہ حیثیت رکھتا ہے 
****************
نوٹ: یہ مضمون میرے اِن بکس میں آیا ۔ جو غالباً کسی شاہ صاحب کے لئے لکھا گیا تھا تاکہ اُن کے مؤکل کو سلسلہ نسب ، فراعینِ مصر کے مؤکلان سے جوڑا جائے ، اور مزید جنھیں سامری کے قابو یافتگان سے رشتہ داریوں میں استوار کیا جائے ۔ 
مذہبی ذہنی مریضوں کی عقلوں کو سلب کرنے کے لئے یہ ایک بہترین مضمون تھا ، جس میں یقیناً مذہبی ٹوٹکوں کا بھی چھڑکاؤ کیا ہوا تھا ، معذرت کہ میں نے وہ ڈیلیٹ کر دیئے ہیں ۔
فراعینِ مصر کی دیواروں کی یہ تصاویر جو میں نے لگائی ہیں ، گوگل بھی آپ کو دکھا دے گا ، انہیں دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ اِن تصاویر کا پیغام کیا ہے ؟

( مہاجر زادہ) 
 ٭٭٭٭ ٭٭٭٭٭
مزید پڑھیں:   آپ کے اند رایک ہیر و ہے

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔