Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 12 جون، 2016

ص و م ۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ


 
قارئین و  دوستو !  " ص و مکے بیج سے نکلنے والے لفظ، صوم ، سے الکتاب میں مرقوم ، صوما، 
صیاما، صیام، الصیام، فصیام ، فلیصمہ ، تصوموا ، والصائمین اور والصائمات ،  
ہیں  ، جو ذیل میں آیات الکتاب کا حصہ ہیں ۔  اِن کی عربی یہی رہے گی لیکن   ، تعقّل ، تفکّر اور تدبّر  نے فہم میں کافی تبدیلی پیدا کر دی ہے  ۔ کیوں ؟
شاید علم کی  کمی یا کثرت  ہو  !
اِن آیات اور اِن سے متصّل آیا ت  پر غور کریں ، اور اللہ سے ہدایت حاصل کریں  ، کیوں کہ اللہ کا دعویٰ ہے ،
إِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدَى  [92:12]
 شکریہ !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

1. يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ﴿البقرة: ١٨٣﴾
2. أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ فَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ وَأَن تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿البقرة: ١٨٤﴾
3. شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ يُرِيدُ اللَّـهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّـهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿البقرة: ١٨٥﴾
4. أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَائِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ عَلِمَ اللَّـهُ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَخْتَانُونَ أَنفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنكُمْ فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّـهُ لَكُمْ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّـهُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ ﴿البقرة: ١٨٧﴾
5. وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّـهِ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّىٰ يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِّن رَّأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ فَإِذَا أَمِنتُمْ فَمَن تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ ذَٰلِكَ لِمَن لَّمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَاتَّقُوا اللَّـهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ﴿البقرة: ١٩٦﴾
6. وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ إِلَّا أَن يَصَّدَّقُوا فَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِّنَ اللَّـهِ وَكَانَ اللَّـهُ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴿النساء: ٩٢﴾
7. لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّـهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَـٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَن لَّمْ يَجِدْفَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ذَٰلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّـهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿المائدة: ٨٩﴾
8. يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنتُمْ حُرُمٌ وَمَن قَتَلَهُ مِنكُم مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنكُمْ هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ أَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ أَوْ عَدْلُ ذَٰلِكَ صِيَامًا لِّيَذُوقَ وَبَالَ أَمْرِهِ عَفَا اللَّـهُ عَمَّا سَلَفَ وَمَنْ عَادَ فَيَنتَقِمُ اللَّـهُ مِنْهُ وَاللَّـهُ عَزِيزٌ ذُو انتِقَامٍ ﴿المائدة: ٩٥﴾
9. فَكُلِي وَاشْرَبِي وَقَرِّي عَيْنًا فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَدًا فَقُولِي إِنِّي نَذَرْتُ لِلرَّحْمَـٰنِ صَوْمًافَلَنْ أُكَلِّمَ الْيَوْمَ إِنسِيًّا ﴿مريم: ٢٦﴾
10. إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِوَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّـهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّـهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا ﴿الأحزاب: ٣٥﴾
 11. فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا فَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ذَٰلِكَ لِتُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴿المجادلة: ٤﴾
 

نوٹ : بالا دی گئی تمام آیات     کے حوالہ پر کلک کرنے سے آپ    ، اپلیکیشن  پر چلے جائیں گے ،
جس کے استعمال کا طریقہ ذیل لنک میں ہے :
 

٭- کمپیوٹر سے آیات تلاش کرنا آسان ہے


٭   -   یسرنا القرآن(فیس بک   فورم  )
 یسرنا القرآن فورم  میں ، دوستوں کے کمنٹس پڑھنے کے لئے سب سے اوپر پکچر پر کلک  کریں ۔   اور اگر کوئی  سمجھ نہ آئے تو سوال کر سکتے ہیں َ
٭   -  
یسرنا القرآن




ہفتہ، 11 جون، 2016

بکروں والی مسجد

مجھے یاد ہے ہمارے ابّا کے پاس ایک یاماہا موٹر سائیکل ہوا کرتی تھی۔ بھائی مجھ سے  بڑا ہے تو وہ موٹر سائکل کے پیچھے اور میں آگے بیٹھا کرتا اور ابّا ہم کو سکول چھوڑا کرتےتھے۔ 

راہ میں ایک قبرستان اور اس سے ملحق چھوٹی سی مسجد آتی تھی۔ قبرستان کے آخر اور مسجد کے ذرا پہلے ایک شخص چارپائی سے دو بکرے باندھے بیٹھا ہوتا۔ روزانہ صبح، جب موٹر سائیکل اس بکرے والے کے قریب پہنچتی ،تو ہمارے ابا دو بار سر کو جھکاتے۔
مجھے اس لیے معلوم ہوتا کہ ان کا چہرہ میرے سر سے آ ٹکراتا۔ 
وقت گزرتا گیا اور میں ترقی کر کے موٹر سائیکل کے آگے سے پیچھے آ گیا ۔ میں نے بھی بکرے والے بابے کے پاس، ابّا کی تقلید میں دو بار "بکروں والی مسجد" کے سامنے ، سر جھکانا شروع کر دیا ۔ وقت گذرتا گیا ، سکول سے کالج میں آنے کے بعد راستہ تبدیل ہو گیا ۔ لیکن جب کبھی اِس راستے سے گذرنا ہوتا ۔ تو خودکار نظام کے تحت "بکروں والی مسجد" کے سامنے سر جھک جاتا ۔ جس سکول میں، میں اور بھائی پڑھتے تھے ، وہ دور تھا ، گھر کے نزدیک بھی پرائمری تک سکول کھل گیا تھا ، جہاں دونوں بیٹے پڑھتے تھے ، بڑا چھٹی کلاس میں آیا ، تو اپنے پرانے سکول میں داخل کروا دیا ۔
ابّا نے مشورہ دیا ، کہ چھوٹے کو بھی وہیں داخل کروا دو ۔ تاکہ دونوں بھائی ایک ہی سکول میں رہیں ، چنانچہ دونوں بھائیوں کو اپنے پرانے سکول میں داخل کروا دیا ۔
بچوں کو داخل کروانے گیا تو سکول کا ماحول تبدیل ، ایک منزل سکول اب تین منزلہ بن چکا تھا ۔ نئے کلاس روم بن گئے ، ہمارے وقت صرف دو سیکشن ہوتے تھے ۔ اب چار سیکشن اور جونئیرز (پہلی سے پانچویں تک) کا الگ احاطہ اور گیٹ اور سینئیر سیکشن ( چھٹی سے میٹرک تک ) الگ ۔ پرانے اساتذہ ، نہیں تھے ، پرنسپل بھی تبدیل ، جونئیر سیکشن میں خواتین ٹیچرز بھی دیکھیں ۔

چنانچہ چھتیس سال بعد اسی راستے سے اپنے دونوں بچوں کو سکول چھوڑنے جاتا ہوں،چھوٹا آگے بیٹھتا ہے اور بڑا پیچھے  جو میرا روزانہ کا معمول ہے ۔

بچوں کو چھوڑتے ہوئے کوئی تیسرا دن تھا ، صبح "بکروں والی مسجد" کے سامنے گزرتے ہوئے ، جہاں اب بھی دو بکرے بندھے ہوئے تھے ، میں نے حسبِ عادت دو بار سر کو جھکایا تو اچانک ببلو نے مجھ سے سوال کیا:
" بابا آپ روزانہ یہاں سے گزرتے ہوئے، دو بار سر کیوں جھکاتے ہیں۔"
ذہن میں ماضی گردش کرنے لگا ، ہم نے اپنے والد سے ، کبھی سوال نہیں کیا ، جو وہ کرتے ہم دونوں بھائی چپ کر کے عمل کرتے ، بڑوں سے سوال کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا ۔ زیادہ ہوا تو دوستوں سے پوچھ لیا ، وہ بھی ایک جواب دیتے ،
" ہمیں کیا معلوم "
گھر میں جو رسومات اور مذہبی تہوار اُن پر چُپ کر کے عمل کرتے ، ہم کیا یہی رواج تھا اور اسلام کا حصہ بھی ۔ ویسے بھی سوال کرنے سے آدمی مذہب سے دور ہوجاتا ہے ۔

اب یہاں
"بکروں والی مسجد" کے سامنے کے پاس سرجھکانا بھی ہمارے نزدیک خالصتاً تقلیدِ تواتر تھی  کہ ضرور یہ "مقدس بکرے"  ہیں تو ہمارے والد روزانہ صبح یہاں سے گزرتے دو بار سر جھکا لیا کرتے۔
میں نےبتایا ۔ " جن میں اور تایا ، دادا کے ساتھ یہاں سے گذرتے تھے ، تو دادا سر جھکاتے تھے ، تو ہم بھی جھکانے لگے "
"مگر کیوں ؟" ببلو نے پوچھا ۔
"  دادا سے پوچھا ہی نہیں " اور وہ خاموش ہو گیا۔
 
رات کو کسبِ معاش کے سلسلے ایسے کہ مجھے گھر آتے دیر ہو جاتی ہے اور بچے سوجاتے ہیں ۔ گھر آیا تو کھانا کھانے  بیگم نے بتایا،
"ببلو! ، آپ سے کچھ بات کرنا چاہ رہا تھا مگر انتظار کرتے کرتے سو گیا۔"

خیر، صبح جب ہم ٹھیک اس مقام سے گزرے اور میں نے عادتاً "مقدس بکرے"  والے مقام پر دو بار سر جھکایا تو ببلو نے گزشتہ روز والا سوال پھر دہرایا۔
" کل میں نے بتایا نا ، کہ یہ "مقدس بکرے"  ہیں۔ دادا بھی سر جھکاتے تھے" میں نے جان چھڑانے کے لئے کہا ،
"  آپ کی مرضی آپ جھکاؤ یا نہ جھکاؤ !"
 ببلو بولا ،
" بابا میں نے رات کو دادا سے پوچھا تھا کہ وہ ایسا کیوں کیا کرتے ہیں؟ "
"کیا کہا اُنہوں نے ؟"میں نے پوچھا ۔
" دادا نے بتایا ،  پہلی بار سر جھکا کر قبرستان کے پاس "السلام علیکم یا اہل القبور' اور دوسری بار، مسجد کے سامنے "السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ" پڑھتے تھے ۔ انہوں نے 
"مقدس بکرے"  والی کوئی بات نہیں بتائی "
ببلو کا جواب ، مجھے سُن کر گیا ۔
اُس نے پوچھا !
" بابا ! آپ کو یہ بات کس نے بتائی؟
کیا آپ نے کبھی دادا سے سوال نہیں کیا کہ وہ دو بار سر کیوں جھکایا کرتے تھے ؟"

اتنے میں سکول آ گیا اور وہ دونوں بھائی ہنستے مسکراتے  ہاتھ ہلاتے، مجھے شرمندہ چھوڑ کر سکول میں داخل ہو گئے۔

میں ادھیڑ عمر انسان ہوں اور اپنی زندگی کی شعوری عمر کی تقریباً چار دہائیاں !
میں نے سوال کی اہمیت اور تحقیق کی ضرورت جانے بغیر ہی گزار دیں!
میں سوچتا ہوں کہ مجھ میں اور جانوروں میں کیا فرق ہے !
(ماخوذ)
 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَا أُولَـٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ﴿7/179﴾


 

بدھ، 8 جون، 2016

گھریلو ملازمین ، برائے فوجی افسراں !

دوستو ! فوج سے فوجی گھریلو ملازم ، کی حیثیت ختم کرنے سے ، فوجی آفیسروں کو سویلئین ملازم رکھنے کی اجازت ملی ، جس کی داستان تو کوئی فوجی آفیسر ہی سنا سکتا ہے ، ہم اِس تجربے سے نہیں گذرے ۔
سویلئین ملازم تو سویلئن ہی ہوتا ہے ۔ نہ معلوم موڈ بدلے اور کب دوڑ جائے ، یا چھٹی جائے اور واپس ہی نہ آئے ۔ اب بے چارہ ، فوجی آفیسر ایک نئے ملازم کی تلاش میں ، کبھی جاننے والوں کی منتیں کر رہا ہے اور کبھی والدین کی کہ کسی کو بھجوادو ۔ میرے دونوں ، بچے بھی اِسی پریشانیوں میں گذرے ، کہتے ہیں کہ فوجی کو اچھی بیوی تو ڈھونڈنے سے ملتی ہے ۔لیکن اچھا بیٹ مین (اب سویلئین ملازم) قسمت والوں کو ملتا ہے ۔ میرا کیوں کہ بوائز ہاسٹل چلانے کا چار سالہ تجربہ ہے ، جس میں ، میس کے ویٹرز کی طرز پر ویٹرز کی تربیت اور باورچی کی ، ایسی تربیت کہ ، اردگرد کے دوست ، دوپہر کا کھانا کھانے ہاسٹل آیا کرتے تھے ، بلکہ جس کالج کے ساتھ ہاسٹل منسلک تھا اُس کے پرنسپل سمیت کم و بیش سارے استاد ، لنگر کی دال کی بڑی تعریف کرتے اور شوق سے کھاتے ۔ گو کہ یہ ماضی کی بات ہے لیکن دوست اب بھی فون کرتے ہیں ،
" یار ، بیٹے کو NCB چاھئیے بڑا تنگ ہے، کوئی اچھا سا ڈھونڈھ دو، جو کم از کم سال دوسال ٹِک کر رہے "
اب سویلئین کہاں ٹِک کر رھتا ہے ، وہ تو پاؤں ٹکانے کے لئے گھر سے نکلتا ہے ، جو نہی ساز گار ہوا ملتی ہے پُھر سے اُڑ جاتا ہے ۔ پہلے تو سرکار بھی بضد تھی ، کہ نہیں ، NCB میٹرک پاس ہونا چاھئیے ، لیکن آہستہ آہستہ احساس ہوا ، کہ بیگم صاحبہ ، بیگم صاحبہ بننے کے بعد روٹی نہیں پکا سکتی ، مرچیں نہیں کاٹ سکتی پیاز نہیں چھیل سکتی ، برتن نہیں دھو سکتی ۔
تو دس جماعت پاس ، اللہ دتہ کیسے یہ سب کر سکتا ہے ؟
وہ تو انگریز ہی تھا ۔ کہ جو باورچیوں ، ویٹرس اور بیٹ مین ، اَن پڑھ ہی پسند کرتا تھا ۔ چنانچہ اب ، انڈر میٹرک گھریلو مازمین بنانے کی چھوٹ مل گئی۔
لیکن تربیت یافتہ ملازم کہاں سے آئے ؟
اب فوجی آفیسر تو الگ ریٹائرڈ آفیسروں کو بھی گھریلو ملازمین کی ضرورت پڑھ گئی ہے ، وہ جن کے بچے فوج میں ہیں اُنہیں تو میڈیکل اَن فٹ NCB مل جاتے ہیں ، لیکن کئی اب بھی ، پرانے دن یاد کر کے آہیں بھرتے ہیں ۔
پچھلے دنوں ، چند دوستوں کی مجلس میں ، اِس قومی مسئلے کے حل کی ذمہ داری مجھ پر ڈالی ، کہ ملازمین کا کیا حل نکالا جائے؟
میں نے گھر آکر سوچا اور پلان بنایا کہ کس طرح ، آم کے آم اور گھٹلیوں کے دام کھرے کئے جائیں ، یعنی دوستوں کو بھی ملازمین ملیں اور فوجی آفیسروں کو بھی تربیت یافتہ ملازمین مل جائیں ۔ اورانڈر میٹرک بچوں کو اچھاروزگار بھی مل جائے ۔ جہاں اُن کا مستقبل بھی محفوظ ہو ۔ اور والدین کو بھی سہارا ملے ۔ کہ
" نالائق بیٹا نہ صرف برسرِ روزگار ہو گیا ہے اُسے نہ صرف پنشن ملے گی بلکہ ، اب ہمارا علاج بھی مفت ہوتا ہے "۔
اگر آپ کے ارد گرد کوئی ایسا ضرورت مند کم پڑھا لکھا نوجوان ہو ، تو اُسے اِس ملازمت کے بارے میں ضرور بتائیں اور اِس بات کا خیال رہے ، کہ ایک گھریلو ملازم ، جو ایک طرح سے گھر کا حصہ جب ہی بنتا ہے ، جب وہ شریف ، نظریں نیچی رکھنے والا اور محنتی پاکستانی فرد ہو ، جس کا کوئی پولیس ریکارڈ نہ ہو اور نہ ہی وہ کردار کا مشکوک ہو !
8 جون 2016 کو میں نے روزنامہ جنگ راولپنڈی میں اشتہار دیا ۔ 

صبح 7 بجے سے 5 بجے تک ، میں موبائل پر مصروف رہا اور فون کی تعداد سے اندازہ ہوا ، کہ بے روزگار افراد کی کمی نہیں !
کئی تو بچوں کے والدین تھے ۔بچوں نے بھی  کئے جو اپنے گاؤں میں بے روزگار تھے یا دیہاڑی پر کام کر رہے تھے ۔چنانچہ ۔ ایس ایم ایس میسج کے ذریعے ، امیدواران کے آنے والے فون کے جواب میں ، یہ میسج دینا شروع کیا ۔



منگل، 7 جون، 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر 33 . کربلا یا کرب و بلا

کربلا ، محل وقوع اور وجہ تسمیہ .

عربی زبان کے یہ دو لفظ
کربل اور   کربلَة  معنی اور تلفظ کے لحاظ سے تقریبا یکساں ہیں یاقوت حموی لکھتے ہیں .
"
کربلآ جو مد کے ساتھ لکھا جاتا ہے اسی کا جڑواں کربلہ ہے " . (صفحہ 229 جلد 7 معجم البلدان )

پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ ارض طف کے میدانوں کی مضافاتی زمین کربلا کہلاتی تھی جو نرم ملائم زمین تھی اور غلہ پچھوڑنے کے کام آتی تھی اور اسی بنا پر کربلا کہلاتی تھی .

عربی میں فصل کو خاص کر گندم کی فصل کو پچھوڑنے یعنی بھوسہ اڑا کر صاف کرنے کو کربل کہتے ہیں اور جو مٹی ملے پانی میں (کیچڑ) مشکل سے چل کر آیا ہو اسے مکربلا کہتے ہیں.(صفحہ 720 المنجد طبع بیروت )
گندم کی طرح جب غلہ صاف کرتے ہیں تو کہتے ہیں (کربلت الحنت طہ )اور کربل نام ہے الخماس کی طرح کے پودوں کا اور یہ قسم یہاں بکثرت اگتی تھی یہ زمین زرعی تو نہ تھی لیکن سرخ پھولوں والے پودے جن پر ترش پھل لگتا ہے اور پتے ان کے کاسنی ہوتے ہیں بکثرت اگتے تھے . (صفحہ 229 جلد 7 معجم البلدان)
کربلا کی زمین جو طف کی زمین میں شامل تھی اور عربی اشعار میں کربلا کی بجاے طف کا نام ہی آیا ہے .شیعہ مورخ عمدہ الطالب فی النساب آل ابی طالب صفحہ 20 پر لکھتے ہیں کہ عون اور محمّد الاصغر اپنے چچا زاد بھائی حسین کے ساتھ طف کی لڑائی میں قتل ہوے .
فرزندان علی کی تعداد کا ذکر کرتے ہوے کہ ان کے 19 بیٹے تھے جن میں سے چند ان کی حیات میں فوت ہو گئے باقی 13 میں سے 6 طف کے مقام پر قتل ہوئے (صفحہ 25 )
عباس بن علی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں اور عباس طف کے مقام پر شہید ہوئے . (صفحہ 45 )
علامہ ابن حزم محمّد بن عبدللہ بن جعفر کے تذکرہ میں لکھتے ہیں . مقام طف پر قتل ہوئے . (صفحہ 61 جمرہ الانساب)

علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حسین کا قتل الطف کے مقام پر ہوا جسے کربلا کہتے ہیں- (صفحہ 198 جلد 8 البدایه )

الغرض کربلا ارض طف میں واقعہ تھا اور یہ عراق کی سر سبز و شاداب زمین کے ساتھ اور اس سے قدرے بلند زمین تھی.
مجم البلدان کے مصنف لکھتے ہیں کہ

" اور طف ،کوفہ کے پاس کی وہ میدانی زمین ہے جو صحراۓ شام کے راستے میں آتی ہے جہاں حسین بن علی مقتول ہوئے تھے اور یہ زمین سر سبز و شاداب اور زرخیز صحرائی زمین ہے جس میں متعد پانی کے چشمے بہتے ہیں.جن میں الصید ، القتقتانہ ، و ہمیہ چشمہ جمل اور اس جیسےاور کئی چشمے بہتے ہیں. (صفحہ 51 جلد 6 معجم البلدان یاقوت حموی مطبوعہ لزپرک 1867 )
اس ارض الطف کے ساتھ ساتھ ایران کے شہنشاہ شاپور نے ایک طویل عریض خندق اس غرض سے کھدوائی تھی کہ اہل عرب ان چشموں کو اپنے کام میں نہ لا سکیں ارض الطف میں ایسے بھی چشمے تھے جہاں مچھلیاں بکثرت تھیں اور یہاں مچھلی کا شکار بہت ہوتا تھا اس وجہ سے اس چشمے کا نام ہی عین الصید پڑھ گیا تھا .(صفحہ 51 معجم البلدان.)


یہ علاقہ دریاۓ فرات کی ساحلی زمین پر واقعہ تھا اور یہ زمین نرم اور ملائم تھی .کربلا کی زمین چونکہ نرم اور ملائم تھی اس لئے اسکا نام کربلا موسوم ہوا ،(صفحہ 229 معجم البلدان جلد 7 .)

جیسے پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ عمدۃ الطالب کے شیعہ مورخ نے اس بات کا بھی صاف الفاظ میں اظہار کیا ہے کہ حضرت حسین کو گھیر کر اس جگہ نہیں لایا گیا تھا بلکہ راستے میں جب ان کو اطلاع ملی کہ اب کوفہ میں ان کا کوئی ہمدرد اور مدد گار نہیں رہا اور ہانی بن عروه بھی بغاوت پھیلانے کے جرم میں قتل ہو چکے ہیں تو حسین نے اپنے موقف سے رجوع کر کے طے کر لیا کہ کوفہ کی بجائے سیدھے دمشق میں امیر المومنین یزید بن معاویہ کے پاس چلے جائیں . (صفحہ 179 عمدۃ الطالب)
اور وہ ملک شام کی طرف مڑ گئے یزید بن معاویہ کے پاس جانے کے لئے ، اور قادسیہ و کوفہ سے شام دمشق کا راستہ کربلا سے ہو کر جاتا ہے یہی شیعہ مورخ لکھتے ہیں 

"جب حسین کو گورنر کوفہ کا حکم ماننے کے لئے کہا گیا تو انہوں نے منع کیا اور یزید کے پاس چلے جانا پسند کیا " (صفحہ 179 )

اب دیکھئے اس بات کو ابو محنف نے کس انداز میں پیش کیا اور کیسا مسخ شدہ واقعہ بیان کیا.
کہتے ہیں کہ
" حسین اس مقام پر پہنچے تو ان کا گھوڑا یہاں رک گیا وہ اس پر سے اترے اور دوسرے گھوڑے پر چڑھے - مگر اس نے بھی ایک قدم نہ اٹھایا پھر تیسرے پر چڑھے وہ بھی نہ چلا اس طرح برابر سات گھوڑے بدلے مگر ان سب کا یہی حال ہوا کوئی بھی آگے کو نہ چلا یہ حال دیکھ کر آپ نے لوگوں سے پوچھا کہ اس مقام کا نام کیا ہے ؟
تو لوگوں نے کہا غاضریہ
تو پوچھا اس نام کے علاوہ بھی کوئی نام ہے ؟
تو کہا نینوا !
تو پوچھا اس نام کے علاوہ کوئی اور نام "
تو کہا شاطی الفرات !
تو پوچھا اس نام کے علاوہ کوئی اور نام ؟
تو کہا کربلا !


یہ سن کر آپ نے ایک آہ سرد کھینچی اور فرمایا کہ
" زمین "کرب و بلا" اب یہیں اتر پڑو!
یہی مقام ہمارے سفر کی انتہا ہے !
یہیں ہمارا خون بہے گا !
یہیں ہماری عزت و حرمت لٹے گی !
واللہ یہیں ہمارے مرد قتل کئے جائیں گے!
یہیں ہمارے بچے ذبح ہوں گے !
یہیں ہماری قبروں کی زیارت کو لوگ آئیں گے!
میرے نانا نے اسی تربت کا وعدہ کیا تھا !
آپ (نانا) کا قول غلط نہیں ہو سکتا.
(صفحہ 49 مقتل ابی محنف)

کربلا سے " کرب و بلا " گھڑ کر غیب دانی کی صفت جو سوائے خدا بزرگ بر تر کے کسی نبی اور رسول کو بھی حاصل نہ ہوئی کس طرح حضرت حسین سے منسوب کی.


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

٭٭٭واپس ۔شیطان نامہ  ۔ فہرست ٭٭٭





ہفتہ، 4 جون، 2016

ایک آپ بیتی ! ایک نصیحت

 عزم و ہمت کی یہ آپ بیتی یا جگ بیتی مجھے وٹس ایپ پر ملی ، گو کہ میں یہ پہلے بھی پوسٹ کر چکا ہوں اور آپ نے بھی یقیناً پہلے پڑھی یا سُنی ہو گی ۔
چلیں ایک بار پھر سہی !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 
 
A jobless man applied for the job of "sweeper" at Microsoft.

The HR interviewed him..

Then watched him cleaning the floor as a test.

"You are Appointed" he said.

"Give me your e-mail address and I'll send you the forms to fill in".

The man replied "But I don't have a computer, neither an email."

"I'm sorry", said the HR manager...

"If you don't have an email, that means u do not exist. And who doesn't exist, cannot have the job."

The man left with no hope at all.

He didn't know what to do, with only $10 in his pocket.

He then decided to go to the supermarket & buy a 10Kg tomato crate.

He then sold the tomatoes in a Door to Door round. In less than two hours, he succeeded to double his capital.

He repeated the operation three times, and returned home with $60.

The man realised that he can survive this way, and started to go everyday earlier and return late. Thus, his money doubled or tripled everyday.

Shortly, he bought a cart, then a truck, then he had his own fleet of delivery vehicles. 5 years later, the man is one of the biggest food retailers in the US .

He started to plan his family's future, and decided to have a life Insurance. He called an insurance broker, and chose a protection plan.

When the conversation was concluded, the broker asked him his email. The man replied, "I don't have an email."

The broker answered curiously, "You don't have an email, and yet have succeeded to build an empire. Can you imagine what you could have been if you had an email?!"

The man thought for a while and replied,
"Yes, I'd be an sweeper at Microsoft!"

Moral of the story:

1) Internet/email/bbm/whatsapp is not the solution to your life.

2) If you don't have facebook a/c., internet/email/bbm/whatsapp , and work hard, you can be a millionaire.

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔