Pages
میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
جمعہ، 12 اگست، 2016
دھشت گرد اور وکیل !
ایک چھوٹا سا جائزہ !

حجاج کے نام, ایک پیغام!
برائے حج 1437 یعنی 2016 ، سعودی حکومت نے موبائل سم کارڈ sim کے لیے یہ
قانون بنایا ھے کہ آپ کو مکہ یا مدینہ میں سم کارڈ بازار دکانوں سے نہیں
ملے گا آپکو سم کارڈ کے لیے کمپنی کے آفس اپنے پاسپورٹ کے ساتھ جانا ھو گا,
جو کہ ایک مشکل عمل ھوگا-
آپ سے معلم( مکتب) کا آدمی پاسپورٹ ایرپورٹ پر لے لے گا تو آپ سم کارڈ کیسے لیں گے ؟
اور ائرپورٹ پر, فوٹو کاپی کا انتظام نہیں
"ضروری مشورہ"
پاکستان سے روانہ ہونے سے پہلے, سم کارڈ کے لئے اپنے پاسپورٹ کی 2 عدد فوٹو کاپی کروا لیں :
1- اپنے نام تفصیل والے صفحے کی,
2- جس صفحے پرحج ویزا لگا ہے ،
یعنی 4 فوٹو کاپی اور ایک بال پوائینٹ.
جب مکہ یا مدینہ ایئرپورٹ پر آپکی امیگریشن ہو جائے تو وہ آپ کے ویزے کا نمبر دیں گے (رقم الدخول )وہ آپ فوٹو کاپی پر ضرور نوٹ کر لیں ۔
سم کارڈ ایرپورٹ پر موجود کیاسک سے ہی لیں , اس سے آپ کے قیمتی وقت کی بچت ہو گی۔
اگر ائرپورٹ سے سم نہیں لی تو-
مکہ یا مدینہ منورہ معلم سے پاسپورٹ لیکر موبائل فون کمپنیوں کے آفس جانا پڑے گا -
جہاں آپ کو مکمل معلومات فراہم کرنے کے بعد سم کارڈ ملےگا جو کے ایک مشکل عمل ہے .
دعاؤں میں یاد رکھیں اور پیارے وطن پاکستان کی سلامتی امن اور ترقی استحکام کیلئے دعائیں ضرور کریں
مناسب سمجھیں تو اسے پھیلائیں
پاکستان سے روانہ ہونے سے پہلے, سم کارڈ کے لئے اپنے پاسپورٹ کی 2 عدد فوٹو کاپی کروا لیں :
1- اپنے نام تفصیل والے صفحے کی,
2- جس صفحے پرحج ویزا لگا ہے ،
یعنی 4 فوٹو کاپی اور ایک بال پوائینٹ.
جب مکہ یا مدینہ ایئرپورٹ پر آپکی امیگریشن ہو جائے تو وہ آپ کے ویزے کا نمبر دیں گے (رقم الدخول )وہ آپ فوٹو کاپی پر ضرور نوٹ کر لیں ۔
سم کارڈ ایرپورٹ پر موجود کیاسک سے ہی لیں , اس سے آپ کے قیمتی وقت کی بچت ہو گی۔
اگر ائرپورٹ سے سم نہیں لی تو-
مکہ یا مدینہ منورہ معلم سے پاسپورٹ لیکر موبائل فون کمپنیوں کے آفس جانا پڑے گا -
جہاں آپ کو مکمل معلومات فراہم کرنے کے بعد سم کارڈ ملےگا جو کے ایک مشکل عمل ہے .
دعاؤں میں یاد رکھیں اور پیارے وطن پاکستان کی سلامتی امن اور ترقی استحکام کیلئے دعائیں ضرور کریں
مناسب سمجھیں تو اسے پھیلائیں
جمعرات، 11 اگست، 2016
ایں پکوڑا است
کہتے ہیں کہ نصف صدی قبل کا قصہ ہے ۔ جب ایران سے ایرانی بلا روک ٹوک زاہدان سے کوئیٹہ پہنچ جاتے تھے ۔ اِسی طرح ایک ایرانی رمضان میں ، کوئیٹہ آیا ، اُس نے ایک دکان پر پکوڑے بنتے دیکھے ۔ دکاندار کے ہاتھ میں بڑا پیالہ تھا اُس میں سے وہ پکوڑے کا بیسن کڑھاؤ میں ڈال رہا تھا ، ایرانی کو صرف ایرانی آتی تھی ۔
اُس کے اور دکاندار کے درمیان جو مکالمہ ہوا ،وہ پڑھئیے
ایرانی: برادرِ من این چیست ؟
دکاندار: جانِ من ، ایں پکوڑاست !
ایرانی: ہمدم ، چہ می گوئی ؟
دکاندار: گرمی سے بےدم ، تیل میں ڈبوئی ۔
ایرانی: فارسی نمی دانی ؟
دکاندار: لے جا کھائے گی تیری نانی ۔
اُس کے اور دکاندار کے درمیان جو مکالمہ ہوا ،وہ پڑھئیے
ایرانی: برادرِ من این چیست ؟
دکاندار: جانِ من ، ایں پکوڑاست !
ایرانی: ہمدم ، چہ می گوئی ؟
دکاندار: گرمی سے بےدم ، تیل میں ڈبوئی ۔
ایرانی: فارسی نمی دانی ؟
دکاندار: لے جا کھائے گی تیری نانی ۔
بدھ، 10 اگست، 2016
کیا عورت، گدھی ہے یا اُس سے بھی آگے ؟
نیہا دمیشا ۔
ایک اچھی سوچ رکھنے والی تعلیم یافتہ بچی ہے ، فیس بُک پر ایسے مضامین ، پوسٹ کرتی ہے ، جو ذہن کو الامثال کے ، حجر سے ضرب شدید لگاتے ہیں ۔ ایسی ہی ایک پوسٹ نے جھنجھلا کر رکھ دیا ، آپ بھی پڑھئیے
ایک اچھی سوچ رکھنے والی تعلیم یافتہ بچی ہے ، فیس بُک پر ایسے مضامین ، پوسٹ کرتی ہے ، جو ذہن کو الامثال کے ، حجر سے ضرب شدید لگاتے ہیں ۔ ایسی ہی ایک پوسٹ نے جھنجھلا کر رکھ دیا ، آپ بھی پڑھئیے
قرآن
کے احکاموں میں یہ کہاں لکھا ھے کہ عورت جھک کر ساری زندگی گزارے.....
آج اگر عورت نظریں جھکا کے بات کرے تو لوگ اس کو چور سمجھتے ھیں کہ جیسے کوئ مکاری کر رہی ھو.......
ایک صاحب نے کسی پوسٹ پر ایک کمنٹ کیا تھا مجھے وہ اچھا لگا آپ بھی پڑھیں۔ ۔ ۔ ۔
آج اگر عورت نظریں جھکا کے بات کرے تو لوگ اس کو چور سمجھتے ھیں کہ جیسے کوئ مکاری کر رہی ھو.......
ایک صاحب نے کسی پوسٹ پر ایک کمنٹ کیا تھا مجھے وہ اچھا لگا آپ بھی پڑھیں۔ ۔ ۔ ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
عورت اور
گدھوں میں کوئی فرق نہیں رکھتے مذہبی لوگ.... وہ عورت کو کمتر ثابت کرنے میں ہمیشہ
کامیاب رہے ہیں. اور ہماری ۸۰ فیصد
عورت مردوں کی غلام ھے نہ کھل کے بات کر سکتی ھے نہ اپنی بات منوا سکتی ھے.اب یہ
پڑھیں......
ﮐﺴﺎﻥ
ﺍﭘﻨﮯ ﮔﺪﮬﮯ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﺎﻧﺪﮬﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮨﻤﺴﺎﺋﮯ ﺳﮯ ﺭﺳﯽ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﮨﻤﺴﺎﺋﮯ
ﻧﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ؛
"ﺭﺳﯽ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ، ﻣﮕﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﺑﺘﺎﺅﮞ، ﺟﺎ ﮐﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻭ ﺗﻮ ﺭﺳﯽ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮮ ﮔﯽ"
"ﺭﺳﯽ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ، ﻣﮕﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﺑﺘﺎﺅﮞ، ﺟﺎ ﮐﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻭ ﺗﻮ ﺭﺳﯽ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮮ ﮔﯽ"
" وہ کیا ؟
" رسی مانگنے والے نے پوچھا ۔
ﮨﻤﺴﺎﺋﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ؛
"ﺍﭘﻨﮯ ﮔﺪﮬﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺍﯾﺴﯽ ﺣﺮﮐﺘﯿﮟ ﮐﺮﻭ ﺟﯿﺴﮯ ﺭﺳﯽ ﮐﻮ ﮔﺮﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﮐﺴﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮐﮭﻮﻧﭩﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗھ ﺑﺎﻧﺪﮬﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﮔﺪﮬﺎ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﯿﺌﮯ ﻭﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮐﮭﻮﻧﭩﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮐﮭﮍﺍ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ۔"
ﮐﺴﺎﻥ ﻧﮯ ﮔﺪﮬﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮨﻤﺴﺎﺋﮯ ﮐﯽ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺳﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺻﺒﺢ ﺑﺎﮨﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﮔﺪﮬﺎ ﻭﯾﺴﮯ ﮐﺎ ﻭﯾﺴﺎ ﮐﮭﻮﻧﭩﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﮯ۔
ﮐﺴﺎﻥ ﻧﮯ ﮔﺪﮬﮯ ﮐﻮ ﮨﺎﻧﮏ ﮐﺮ ﮐﺎﻡ ﭘﺮ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺎ ﺗﻮ ﻧﺌﯽ ﺍﻓﺘﺎﺩ ﺁﻥ ﭘﮍﯼ ﮐﮧ ﮔﺪﮬﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﺳﮯ ﮨﻠﻨﮯ ﮐﻮ ﺗﯿﺎﺭ نہیں ﮨﻮﺍ۔ ﮐﮭﯿﻨﭽﻨﮯ، ﺯﻭﺭ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﮈﻧﮉﮮ ﺑﺮﺳﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﻡ نہیں ﺑﻨﺎ ﺗﻮ ﮨﻤﺴﺎﺋﮯ ﺳﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ؛
" ﺑﮭﺌﯽ ﺗﯿﺮﯼ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﺩﯾﻨﮯ ﺗﮏ ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﺗﮭﯽ ﻣﮕﺮ ﺍﺏ ﻣﯿﺮﺍ ﮔﺪﮬﺎ ﮐﺎﻡ ﺗﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ، ﺍﺏ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭﮞ؟"
ﮨﻤﺴﺎﺋﮯ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ؛
"ﺁﺝ ﮐﺎﻡ ﭘﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﺳﮯ ﺭﺳﯽ ﮐﮭﻮﻟﯽ ﺗﮭﯽ؟"
ﮐﺴﺎﻥ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ :
" ﮐﻮﻧﺴﯽ ﺭﺳﯽ؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺑﺲ ﺭﺳﯽ ﺑﺎﻧﺪﮬﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﮐﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ، ﺍﺻﻞ ﺭﺳﯽ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺑﺎﻧﺪﮬﯽ ﺗﮭﯽ؟"
ﮨﻤﺴﺎﺋﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ؛
" ﮨﺎﮞ ﺗﯿﺮﮮ ﻧﻘﻄﮧ ﻧﻈﺮ ﺳﮯ ﺗﻮ ﺭﺳﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، ﻣﮕﺮ ﮔﺪﮬﮯ ﮐﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﺳﮯ ﺗﻮ ﺭﺳﯽ ﺑﻨﺪﮬﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ ﻧﺎﮞ !"
ﮐﺴﺎﻥ ﻧﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮔﺪﮬﮯ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮﻧﭩﮯ ﺳﮯ ﺭﺳﯽ ﮐﮭﻮﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﮐﺎﺭﯼ ﮐﯽ، ﺍﺱ ﺑﺎﺭ ﮔﺪﮬﺎ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﺴﯽ ﻣﺰﺍﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﻣﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﺎﻡ ﭘﺮ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ۔
ﮔﺪﮬﮯ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺭﻭﯾﺌﮯ ﭘﺮ ﮨﻨﺴﻨﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ!
ﮨﻢ ﺧﻮﺩ ﮐﺌﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﺎﺩﺍﺕ، ﺗﻘﺎﻟﯿﺪ ﺍﻭﺭ ﺭﺳﻢ ﻭ ﺭﻭﺍﺝ ﮐﮯ ﻏﻼﻡ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﺌﯽ ﻭﮨﻤﯽ ﺍﻋﻘﺘﺎﺩﺍﺕ ﮐﮯ ﻏﻼﻡ۔
ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﺌﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺳﺨﺖ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍُﻥ ﺧﻔﯿﮧ ﺍﻭﺭ ﻏﯿﺮ ﻣﺮﺋﯽ ﺭﺳﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﯾﮟ، ﺟﻮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮔﺮﺩﻥ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﮑﻨﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﮑﮍﮮ ﮨﻤﯿﮟ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﮐﮯ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔
ﮨﻤﺴﺎﺋﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ؛
"ﺍﭘﻨﮯ ﮔﺪﮬﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺍﯾﺴﯽ ﺣﺮﮐﺘﯿﮟ ﮐﺮﻭ ﺟﯿﺴﮯ ﺭﺳﯽ ﮐﻮ ﮔﺮﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﮐﺴﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮐﮭﻮﻧﭩﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗھ ﺑﺎﻧﺪﮬﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﮔﺪﮬﺎ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﯿﺌﮯ ﻭﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮐﮭﻮﻧﭩﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮐﮭﮍﺍ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ۔"
ﮐﺴﺎﻥ ﻧﮯ ﮔﺪﮬﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮨﻤﺴﺎﺋﮯ ﮐﯽ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺳﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺻﺒﺢ ﺑﺎﮨﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﮔﺪﮬﺎ ﻭﯾﺴﮯ ﮐﺎ ﻭﯾﺴﺎ ﮐﮭﻮﻧﭩﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﮯ۔
ﮐﺴﺎﻥ ﻧﮯ ﮔﺪﮬﮯ ﮐﻮ ﮨﺎﻧﮏ ﮐﺮ ﮐﺎﻡ ﭘﺮ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺎ ﺗﻮ ﻧﺌﯽ ﺍﻓﺘﺎﺩ ﺁﻥ ﭘﮍﯼ ﮐﮧ ﮔﺪﮬﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﺳﮯ ﮨﻠﻨﮯ ﮐﻮ ﺗﯿﺎﺭ نہیں ﮨﻮﺍ۔ ﮐﮭﯿﻨﭽﻨﮯ، ﺯﻭﺭ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﮈﻧﮉﮮ ﺑﺮﺳﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﻡ نہیں ﺑﻨﺎ ﺗﻮ ﮨﻤﺴﺎﺋﮯ ﺳﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ؛
" ﺑﮭﺌﯽ ﺗﯿﺮﯼ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﺩﯾﻨﮯ ﺗﮏ ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﺗﮭﯽ ﻣﮕﺮ ﺍﺏ ﻣﯿﺮﺍ ﮔﺪﮬﺎ ﮐﺎﻡ ﺗﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ، ﺍﺏ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭﮞ؟"
ﮨﻤﺴﺎﺋﮯ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ؛
"ﺁﺝ ﮐﺎﻡ ﭘﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﺳﮯ ﺭﺳﯽ ﮐﮭﻮﻟﯽ ﺗﮭﯽ؟"
ﮐﺴﺎﻥ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ :
" ﮐﻮﻧﺴﯽ ﺭﺳﯽ؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺑﺲ ﺭﺳﯽ ﺑﺎﻧﺪﮬﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﮐﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ، ﺍﺻﻞ ﺭﺳﯽ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺑﺎﻧﺪﮬﯽ ﺗﮭﯽ؟"
ﮨﻤﺴﺎﺋﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ؛
" ﮨﺎﮞ ﺗﯿﺮﮮ ﻧﻘﻄﮧ ﻧﻈﺮ ﺳﮯ ﺗﻮ ﺭﺳﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، ﻣﮕﺮ ﮔﺪﮬﮯ ﮐﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﺳﮯ ﺗﻮ ﺭﺳﯽ ﺑﻨﺪﮬﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ ﻧﺎﮞ !"
ﮐﺴﺎﻥ ﻧﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮔﺪﮬﮯ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮﻧﭩﮯ ﺳﮯ ﺭﺳﯽ ﮐﮭﻮﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﮐﺎﺭﯼ ﮐﯽ، ﺍﺱ ﺑﺎﺭ ﮔﺪﮬﺎ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﺴﯽ ﻣﺰﺍﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﻣﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﺎﻡ ﭘﺮ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ۔
ﮔﺪﮬﮯ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺭﻭﯾﺌﮯ ﭘﺮ ﮨﻨﺴﻨﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ!
ﮨﻢ ﺧﻮﺩ ﮐﺌﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﺎﺩﺍﺕ، ﺗﻘﺎﻟﯿﺪ ﺍﻭﺭ ﺭﺳﻢ ﻭ ﺭﻭﺍﺝ ﮐﮯ ﻏﻼﻡ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﺌﯽ ﻭﮨﻤﯽ ﺍﻋﻘﺘﺎﺩﺍﺕ ﮐﮯ ﻏﻼﻡ۔
ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﺌﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺳﺨﺖ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍُﻥ ﺧﻔﯿﮧ ﺍﻭﺭ ﻏﯿﺮ ﻣﺮﺋﯽ ﺭﺳﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﯾﮟ، ﺟﻮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮔﺮﺩﻥ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﮑﻨﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﮑﮍﮮ ﮨﻤﯿﮟ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﮐﮯ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔
((((( یہ رسی عورت کے گلے میں آج تک ھے.))))
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ تھا کسی احمق
کا ، گدھے اور عورت میں تقابلی جائزہ ! کہ
// عورت اور گدھوں میں کوئ فرق نہیں رکھتے مذہبی لوگ.... //
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
میری رائے میں !
یہاں اگر وہ ۔ یہ لکھیں ، " عورت اور گدھی " میں کوئی فرق نہیں رکھتے مذہبی لوگ تو زیادہ بہتر ہے ۔
کیوں کہ گدھی ، گدھے کے برابر کام بھی کرتی ہے ، اور پیٹ میں بچے کا بوجھ بھی اٹھاتی ہے ، پھر دودھ بھی پلاتی ہے ۔
لیکن عورت گدھی سے بھی دس ہاتھ آگے ہوتی ہے ۔
کیوں کہ عورت کے بچے کے متعلق باقی کاموں سے، گدھی آزاد ہے ۔
جیسے
ایک بچہ پیدا کرنا اور اُسے پالنا ،
دوسرا بچہ پیدا کرنا اور اُسے پالنا ،
تیسرا بچہ پیدا کرنا اور اُسے پالنا ،
چوتھا بچہ پیدا کرنا اور اُسے پالنا ،
اور اگر اِس سے زیادہ بچے ہوں ، تو اب عورت لامثال بن جاتی ہے ۔
کیوں کہ عورت پر یہ سارا بوجھ ، اُس کے مرد نے نہیں لادا ، بلکہ اُس کے خالق نے لادا ہے
ہاں اور جو عورت بانجھ ہے ، اُس کا مقابلہ گدھی سے کیا جاسکتا ہے !
آپ کی کیا رائے ہے ؟ یہاں اگر وہ ۔ یہ لکھیں ، " عورت اور گدھی " میں کوئی فرق نہیں رکھتے مذہبی لوگ تو زیادہ بہتر ہے ۔
کیوں کہ گدھی ، گدھے کے برابر کام بھی کرتی ہے ، اور پیٹ میں بچے کا بوجھ بھی اٹھاتی ہے ، پھر دودھ بھی پلاتی ہے ۔
لیکن عورت گدھی سے بھی دس ہاتھ آگے ہوتی ہے ۔
کیوں کہ عورت کے بچے کے متعلق باقی کاموں سے، گدھی آزاد ہے ۔
جیسے
ایک بچہ پیدا کرنا اور اُسے پالنا ،
دوسرا بچہ پیدا کرنا اور اُسے پالنا ،
تیسرا بچہ پیدا کرنا اور اُسے پالنا ،
چوتھا بچہ پیدا کرنا اور اُسے پالنا ،
اور اگر اِس سے زیادہ بچے ہوں ، تو اب عورت لامثال بن جاتی ہے ۔
کیوں کہ عورت پر یہ سارا بوجھ ، اُس کے مرد نے نہیں لادا ، بلکہ اُس کے خالق نے لادا ہے
ہاں اور جو عورت بانجھ ہے ، اُس کا مقابلہ گدھی سے کیا جاسکتا ہے !
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !
افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔


