Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعہ، 12 جنوری، 2018

بچوں کا جنسی استحصال اور بچاؤ - 3

کم سن  بچیوں سے جنسی عمل کی داستان-
جب سے انسان وجود میں آیا ہے ،  تہذیب کے ارتقاء سے  رواں دواں ہے ،  شہرِ قصور جہاں  سے یہ گرد معصوم زینب  سے  جنسی زیادتی اور قتل سے اُٹھی   اور مزید قتل کا سبب بنی کوئی نئی بات نہیں، پہلے بھی
قصور کے مختلف علاقوں سے ایمان فاطمہ، فوزیہ ، نور فاطمہ ، ثنا ، أسماء اور لائبہ نامی بچیاں بھی جنسی زیادتی کا شکار ہوچکی ہیں ۔

 ایک بچے کے ذہن میں قصوں اور کہانیوں جن میں ڈرامائی ، تمثیلی ڈراموں، فلمی اور اسلامی کہانیوں کی صورت میں ڈالا جاتا ہے ۔ تو اُس کے ذہن میں رنڈی خانہ کھل جاتا ہے ۔ 
        جس میں ہر وہ عورت شامل ہے ، جو ماں اور بہن کے علاوہ ہوتی ہے ۔ 


یہ تمثیلی کہانیاں بائبل کے پنّوں میں ہوں  یا گیتا کے اشلوک یا  حوروں کی ہوں اور یا بخاری میں اسلامی سوئمبر  کی ۔
 سب اور اپنے اپنے پنڈتوں نے مذہبی لبادے اوڑھا کر مقدس بنایا   ہواہے ۔

جنسی عمل تو ایک مقدّس عمل ہے ، اللہ کی آیات میں سے ہے ،
هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا فَلَمَّا تَغَشَّاهَا حَمَلَتْ حَمْلاً خَفِيفًا فَمَرَّتْ بِهِ فَلَمَّا أَثْقَلَت دَّعَوَا اللّهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ آتَيْتَنَا صَالِحاً لَّنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ [7:189]
 
جس سے  مستفیدکوئی بالغ عورت کم سن بچے  سے ہو یا جوان مرد کسی  بچی کی سسکیاں سُن کر ذہنی تسکین محسوس کرے ۔ یا آپس میں رضامندی سے ایک دوسرے سے کھیلیں  ۔
لیکن تمام جنسی اعمال کے  گرد ، قیود و ضوابط  اخلاقی لبادہ اوڑھے گھومتی ہیں ۔لیکن  اِس میں اُس بچے کا کیا قصور ، زیر ناف بال نکلتے ہی وہ خود کو کسی بھی مؤنث کے ساتھ ، کتے ، گدھے ، گھوڑے ، بکرے یا مرغے کی طرح مستفید ہونا اپنا ، انسانی فرض سمجھتا ہے ۔جس  سے اُسے تعلیم  نہیں بلکہ ڈنڈے ، زور ، دھمکی یا جہنم کی نوید دے کر روکا جاتا ہے ۔

یورپی کرسچئنز  میں کہ چھلنی کی طرح فولادی چادر نہیں ہوتی کہ جس کے سوراخوں سے جنسی عمل  سے گذرا جائے وہاں ، جنسی عمل بس جنسی عمل ہوتا ہے ۔ ایک مرد اور عورت کا جس میں عمر کی کوئی قید نہیں ۔ مغربی ممالک کے کرسچیئنز میں ہر دوسرا انسان بے نام باپ کی اولاد ہے ۔ اولاد تو ہو گی چاہے قانونی جنسی عمل ہو یا غیر قانونی ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اِس غیر قانونی جنسی عمل کو اخلاقی ، سماجی ، معاشی یا مذہبی پابندیوں سے روکا جا سکتا ہے ؟ 

میرا خیال ہے کہ صرف ایک واحد ترکیب ہے اور وہ یہ ، کہ :-
بالغ ہوتے ہی بچوں کی شادی کردی جائے ، جس سے وہ آفاقی ہارمون ہیجان خیزی ، سکون پا جاتے ہیں ، جو جسم میں سنساہٹ پیدا کرتے ہیں ۔

ورنہ اِس کے علاوہ تمام تدبیریں ناکام ہوجائیں گی ، کیوں کہ جنسی ہارمونز کی زیادتی  کسی  بھی انسان کو جنسی ذہنی مرض میں مبتلاء کر سکتی ہے ۔
ذرا سوچیں کہ ، پاکستان میں ہیرا منڈیاں بند کرنے سے پہلے کیا ، بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات ہوتے تھے ؟
جنسی ہارمون کی زیادتی ، بعض دفعہ پاکباز مسلمانوں  کو بھی اُس نہج پر لے آتی ہے  ، جہاں وہ اپنے جنسی اعضاء کو اپنے جسم سے اکھاڑ پھینکنے کی انتہا پر جا پہنچتے تھے ۔ لیکن پھر باڑے میں موجود  عورتوں سے عزل کرکے اپنی جنسی بھوک مٹاتے تھے ۔
یہ سلسلہ جاری و ساری ہے ، مشرقی پاکستان میں سنا ہے کہ  ، کہ کسی نیازی نے بنگالیوں کی نسلیں تبدیل کرنے کی بات کی تھی ،  ویسے نسلیں تو مارشل راستے پر بھی  بہت سے نسلوں کی ہوئیں  ، نیلی آنکھیں یونانیوں  کے نسلی نطفے کی خبر دیتی ہیں ۔
کیا اِسے روکا جاسکتا ہے ؟
ہر گز نہیں !
پاکستان میں ، عائلی قوانین  کے باوجود ، لونڈیاں اور داشتائیں رکھی جارہی ہیں ۔
ہیرا منڈی ختم ہونے کے باوجود ، پاکستان کے ہر شہر  میں  کنجری خانے کھلے ہوئے ہیں اور وہ بھی پولیس کی سرپرستی میں ۔
ملائیت خوش ہے کہ ہم نے پاکستان کو ایک پاک ملک بنا دیا ہے ۔
لیکن کیا ، زنا ، متعہ اور لواطت ختم ہو گئی ہے  ؟
جنس اللہ کی ایسی نعمت ہے کہ جس  کی دعا اور دوا کے  جائز  راستے بند کئے جائیں گے تو وہ  ، زیر زمین راستوں پر چلنا شروع ہوجائے گی !
اللہ کی یہ آیت نہ ختم ہوئی ہے نہ ہی منسوخ !



وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ ﴿23/5﴾ 
إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ 
﴿23/6﴾
  تبھی تو    
قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ  ﴿23/1﴾

مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُ  کواردو   فہم میں آپ داشتہ یا  رکھیل کہہ سکتے ہیں  ، جو ایک مرد کے ساتھ جنسی عمل کرنے کے بعد  کم از کم    ثَلاَثَةَ قُرُوءٍ تک کسی دوسرے مرد سے  جنسی عمل نہ کرے ۔ کیوں ؟

۔۔  ۔ ۔  وَلاَ يَحِلُّ لَهُنَّ أَن يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ۔ ۔ ۔ ۔ ﴿2/228﴾
عائلی قوانین  نے   ،مسلمانوںمیں کثرت الطلاق    ، افراد  کا خاتمہ کر دیا اور کثرت الزنا  مؤمنین کی تعداد بڑھا دی ہے ۔  کیوں کہ الْقُرْآنَ    کو انسانی لکھی ہوئی کتابوں اور قوانین نے   مَهْجُورً کر دیا ہے 
وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا  ﴿25/30﴾
جنسی افعال کا سمندر، پپو کے قاتل کی پھانسی اور ہیرا منڈیوں کے خاتمے سے   زیر زمین  راستوں پر چل پڑا ہے ۔ 
 اور زیر زمین راستوں میں سب سے زیادہ خطرناک  ، اُن معصوموں اطفال  (مذکر و مؤنث )  کو استعمال کرنا جنھیں علم ہی نہیں کہ عورات النساء کیا ہوتے ہیں  ؟
 سُورَةٌ أَنْزَلْنَاهَا وَفَرَضْنَاهَا وَأَنزَلْنَا فِيهَا آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ  ﴿24/1﴾
 سُورَةٌ جسے ہم نے نازل کیا   اور ہم نے فرض کیا ۔اور ہم نے اُس میں آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ   نازل کیں  یا کہ تم      ذَكَّرُونَ بنو !
قارئین ! مشہور ہے کہ  اچھی بات کہیں سے بھی ملے اُسے پکڑ لو شائد تمھیں ذہنی  فائدہ ہو  جو ہوسکتا ہے کی  مالی اور جسمانی فائدے میں بھی تبدیل ہوجائے ۔ ہر انسان  کی یہی سوچ ہوتی ہے کہ اچھی بات فائدہ مند ہوتی ہے ۔
اور انسانوں کا  یہ بھی  خیال  ہے کہ ،  
الْقُرْآنَ  محمد بن عبداللہ کے الفاظ ہیں  یا دوسروں کے خیال  یعنی اُن سے پہلے اچھے اور پاکباز لوگوں کے کہے کو  اپنا  (پلیگیار  ) بنا کر کہہ دیا ہے ، جن  میں ہو سکتا ہے کہ اچھی باتیں ہوں ، لیکن اُن پر عمل کرنا  انسان کے لئے لازم نہیں ! ویسے بھی  کچھ انسانی افعال  ذاتی ہوتے ہیں ، جس کا پرچار کرنا  دراصل برائی پھیلانا ہے ۔ اللہ انسان کے ایسے ذاتی اعمال پر پردہ ڈالتا ہے تم بھی ڈالو  اور چیزوں کو زیر زمین ہی رہنے دو، ویسے بھی :
٭- مسلمانوں کا اللہ   معاف کرنے والا ہے ، ویسے بھی دوزخ میں  چند دن کے بعد جنت ہی جنت  ہے جہاں ملائیت  کی سو لباسوں میں ملفوف  حوریں ہوگی ، مگر اُن کے لباس   کے آرپار دیکھا جاسکے گا ۔ اور مسلمان اُس کے جسم پر جوُں کی طرح رینگے گا ۔
٭- یہودی تو بُرے لوگ ہیں
٭-   اور رہے  کرسچیئنز ، اُن کے تمام گنا ہ اُن کے خداوند کرائسٹ نے اپنے اوپر لے لئے ہیں ، لہذا تمام کرسچیئنز  معصوم من الخطا ء ہیں ۔ لہذا دنیا کی سب سے زیادہ کرسچیئنز  خواتین   مُلّائی ، جنتی لباس میں پھرتی ہیں ۔ جن کو اُن کے جسم کا کچھ حصہ نظر نہیں آتا وہ گناہ گار ہیں ۔
اب رہی ایک اچھی مگر الکتاب کی خوفناک بات ، جو روح القدّس نے محمدﷺ کو بتائی :


الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِئَةَ جَلْدَةٍ وَلَا تَأْخُذْكُم بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ  ﴿24/2﴾
 الزَّانِيَةُ اور  الزَّانِي کو      دونوں میں  کُل  ایک کو    سو  دُرّے جلد پر لگاؤ  اور تمھیں اُن کے اوپر   اللہ کے الدین روّف  مت بنو   ۔ اگر تم اللہ کے ساتھ اور یوم الآخر پر ایمان رکھتے ہو ۔ اور اُن دونوں پر ہونے والے  ( سو  دُرّے) کے عذاب کو  مؤمنین کا ایک طائفہ  شہادت  کے لئے ہو ۔

الزَّانِي لَا يَنكِحُ إلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ ﴿24/3﴾
الزَّانِي ،  زَانِيَةً سے  یا  مُشْرِكَةً نکاح کرے گا  اور     الزَّانِيَةُ ، زَانٍ  سے  یا  مُشْرِكٌ نکاح کرے گا 
الْمُؤْمِنِينَ کے لئے وہ دونوں حرام ہیں ۔ 

   کیا  اِس مفتی کا فتویٰ  اللہ کی آیت کی ﴿24/3﴾ وضاحت ہے ؟
 


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ایک ارب ، گمنام باپوں کے امریکی بچے !


ہفتہ، 6 جنوری، 2018

ناقابلِ یقین، بیویاں !

 میری دوسری شادی ہوجائے گی سوچا نہ تھا معذرت دوستوں کو اطلاع نہ کرسکا اور آناً فاناً نکاح ہوا اور رخصتی ہوئی ۔ 

قصہ یوں ہے ، کہ ہماری بیگم نے  ایک قرانی فورم جائن کر لیا  ، جہاں محلے کی ساری خواتین  درس سننے کے لئے جایا کرتی تھیں ،  بیگم کو ایک بات بڑی عجیب لگی وہ یہ کہ وہاں پر آنے والی ساری خواتین کے شوہروں کی کم از کم دو بیویاں تھی، جنہیں ہم جولیوں کے لقب سے مخاطب کیا جاتا ، اورہم جولیاںساتھ  ساتھ درس پر آیا کرتیں  میری بیگم    کو اُن میں رتّی برابر بھی حسد یا مقابلے کا عنصر نظر نہیں آتا -
درس دینے والی آپا  کے سوال کا بہترین جواب دینے والی اپنی ہم جولیوں  کو سب سبحان اللہ کہہ کر ستائش سے نوازتیں ، درس والی آپا  کی دونوں ہم جولیاں بھی درس میں آتیں ۔کیوں کہ  وہ سب قرآنی سوچ پر تھیں۔ لہذا سادے کپڑے مگر اچھے سلے ہوئے  مناسب رنگوں کے انتخاب  کے ساتھ ، کوئی میک اپ نہیں ، میک اپ ضرور کرتیں مگر گھر میں صرف شوہر کے لئے  اور وہ بھی آنکھوں میں ہلکا سا سرمہ  لیکن  شوہر کے گھر سے ملازمت یا بزنس پر  نکلتے ہی منہ دھو کر سادہ چہرے میں رہتیں ، اِس سادگی نے اُن سب قرآنی خواتین کے چہرے پر ملکوتی حُسن پیدا کر دیا تھا ۔
میری بیوی میں پہلی تبدیلی تو یہ آئی کہ اُس نے اپنا تمام میک اپ کاسامان ، الماری میں بند کر دیا ۔ اور سرمہ لگانا شروع کر دیا ، پہلے دن میں جب گھر میں داخل ہوا اور بیوی کو سادے چہرے میں دیکھا  توخیال آیا شائد آنکھوں میں درد ہوگا اِس لئے سرمہ لگایا ہے ۔
پوچھا ،" بیگم اگر آنکھوں میں درد ہے تو بتاتیں  دوائی لیتا آتا "
بولیں ۔" نہیں بس ویسے ہی دل کر رہا تھا "
بولا، " خوب ، لیکن اچھا لگ رہا ہے "
اُس کے بعد  بیگم کے سرمے کا عادی ہوگیا ، دوسرا یا تیسر ادن تھا ، گھرمیں داخل ہوا  تو ایسا لگا  جیسے ماضی میں چلا گیا ہوں ۔ اماں تو خیر پرانے سٹائل کے کپڑے پہنتی ہی تھیں ۔ لیکن بیگم کو دیکھ کر لگا کہ بشریٰ خالہ، زیبن پھوپّی  اور شکورن تائی کے دور میں پہنچ گیا ہوں ۔
پوچھا :"کیا کہیں عورتوں کا فینسی ڈریس شو ہورہا ہے ؟
 
بولیں ۔" نہیں بس ویسے ہی ایسے کپڑے پہننے کو  دل کر رہا تھا "
بولا، " خوب ، لیکن اچھا لگ رہا ہے " 

 ایک دن کا ذکر ہے کہ میں گھر جلدی آگیا ، راستے میں مارکیٹ سے گذرا تو دور سے ایک خاتون نظر آئی ، اچٹتی نظر ڈالی  بیگم کی شباہت لگی  ۔ گھر آیا ، سلام کیا ،  امّاں  نے جواب دیا بیوی کی چہکتی آواز سنائی  نہیں دی ، امّاں نے  پوچھا ۔
" طبیعت ٹھیک ہے بیٹا ؟
جلدی گھر آگئے ہو ؟"
" امّاں ایسی کوئی بات نہیں  ایک دوست اِس طرف آرہا تھا اُس نے لفٹ دے دی ، گھنٹے کا سفر دس منٹ میں طے ہوگیا " کہتا ہوا  کمرے میں گیا بیگم نہیں تھیں ! 

میرا سات مرلے کا گھر ہے ، جو  بیگم نے  ڈیزائن کیا تھا   ۔ اوپر چار کمرے اور نیچے تین  کمرے بڑا لاونج   اورکچن ، ایک کمرے کو  ڈرائینگ روم  بنایا ہے ، جس میں 6 افراد کے بیٹھنے کی جگہ ہے ، مہمان آتے ہیں تو مرد ڈرائینگ روم اور عورتیں لاونج میں بیٹھتی ہیں ۔ بیگم کا کہنا تھا کہ کمرے صرف سونے کے لئے ہوتے ہیں، بڑے کمرے بناؤ تو پھر رہنے والے اپنے اپنے کمروں میں قید ہوجاتے ہیں ۔
میں آفس سرکاری بس پر جاتا ہوں جو سو گز دور مین سڑک پر آتی ہے اور سب کو لیتی ہوئی  آفس جاتی ہے اور واپسی پر یہی روٹین ہے۔ کار پر جاؤں تو وقت کی بچت ہوتی ہے لیکن پیٹرول ضائع ہوتا ہے پھر محلے میں دو اور افراد ہیں جنھیں لینا پڑتا تھا ، جلدی تو وہ کبھی نہیں نکلے ۔ ہمیشہ پانچ یا دس منٹ لیٹ ہوجاتے ۔  کوئی چھ مہینے پہلے کی بات ہے  گاڑی خراب ہو گئی پورا ہفتہ بس میں جانا پڑا ، ایسا مزا آیا کہ کیا بتاؤں  اور یوں بس کا عادی ہوگیا  ۔

کوئی دس منٹ بعد واش روم سے نکلا اور لاونج  میں  آیا  کہ دروازہ کھلا اور  بیگم داخل ہوئی،  یا وحشت ، تو اِنہیں ہی مارکیٹ میں دیکھا ۔ وہ چہرہ ہی نہیں تھا جو گھر سے نکلتے ہوئے نظر آتا تھا ۔
" آج جلدی آگیا ہوں ، کیا آپا کے ہاں ایک چکر نہ لگا آئیں ؟  میں نے بھائی صاحب سے کچھ باتیں ڈسکس کرنا ہیں"
" میں یہ سامان رکھ دوں ، پھر چلتے ہیں ، بچوں کو رہنے دیں وہ امتحان کی تیاری کر رہے ہیں ، امّاں آپ نے چلنا ہے  آپا کے ہاں ؟"  بیگم نے ایک سانس میں کہا اور کچن کی طرف بڑھ گئی وہاں سامان رکھا واپس آئی -
" چلیں " بولیں
" آپ نے تیار نہیں ہونا ؟" میں نے حیرانی سے پوچھا
" میں تیار ہوں ، امّاں چلیں !"  بیگم بولی
" نہیں بیٹا تم لوگ جاؤ ، میرا ارادہ نہیں " امّاں بولیں
بیگم میں ایک اور تبدیلی دیکھی ، کہ وہ جب بھی میرے ساتھ شاپنگ پر باہر جاتیں ، ساتھ بچے ہوں یا اماں  وہ کسی نہ کسی اکیلی خاتون کا انٹرویو ضرور لیتی ۔ درس پر جاتے ہوئے ڈھائی یا تین ماہ ہوچکے تھے ، میں نے یہی خیال کیا ، کہ اب بیگم نے بھی ہلکی پھلی تبلیغ شروع کر دی ہے ۔
پچھلے ہفتے کی بات ہے کہ بیگم نے کہا ،" آج کھانا باہر کھاتے ہیں "-

 امّاں دونوں بچے اور ہم  پار ک پہنچے ، شہر کا بہت بڑا پار ک ہے ، لوگ اپنی  اپنی فیملی کے ساتھ پارک میں پکنک منانے آتے  ہیں ۔ پارک میں پہنچے  اپنے پسندیدہ درخت کے پاس چادریں بچھا دیں ، میں اور بچے  پکنک بال سے کیچ کیچ کھیلنے لگے ، بیگم کی کوئی  ہم عمر سہیلی مل گئی وہ ، بیگم اور امّاں آپس میں باتیں کرنے لگیں ۔ اُن خاتون نے ہمارے ساتھ کھانا کھایا ۔  کھانے کے بعد  بیگم وہ خاتون اور دونوں بچے بال سے کھیلنے لگے ، امّاں اُنہیں دیکھ کر خوش ہو رہی تھیں میں امّاں کے پاس لیٹ آنکھیں موند لیں ، نجانے کب آنکھ لگ گئی  ، پیالیوں کی کھنک سے آنکھ کھلی ، چائے پی وہ خاتون اور بچے آپس میں ایس گھل مل گئے جیسے عرصے سے جانتے ہوں ، بعد میں معلوم ہوا کہ بیٹی کے سکول میں  ٹیچر ہیں ، عمر چالیس سال ہے ، ماں باپ ہیں  شادی نہیں ہوئی ہے ، کیوں کہ کوئی رشتہ ہی نہیں آیا ۔
بیگم نے بتایا  کہ میری  پرائمری اور ہائی سکول کلاس فیلو تھی ہم پورے دس سال، ایک ساتھ رہتے اور  ایک ہی میز پر بیٹھتے رہے تھے ،بیٹی کے سکول گئیں تو وہاں اچانک ملاقات ہوئی ، معلوم ہوا کہ کسی دوسرے سکول سے  یہاں پوسٹنگ ہوئی  تو

پرسوں  یعنی جمعرات کی بات ہے ، کہ بیگم نے کہا،
" میری خواہش ہے کہ آپ کی دوسری شادی کروا دوں ، میر ابوجھ بھی ہلکا ہوجائے گا ، اور ایک بے چاری کو ٹھکانہ اور اچھا شوہر مل جائے گا "
" تلاش کر لو کوئی خاتون مجھے بتادینا ، میں  تیار ہوں ، اُس کو سنبھالنا  تم ہی نے ہے ۔ " میں نے جواب دیا
" وعدہ ؟" بیگم بولی
" پکّا وعدہ " میں نے ہنس کر جواب دیا ۔
تو دوستو ! جمعہ کا دن تھا ، آفس سے واپس آیا ۔
بیگم نے کہا ،" آج کہیں چلنا ہے ، کپڑے میں نے رکھ دیئے ہیں نہا کر تیار ہو جائیں " 

میں نہا کر تیار ہوکر نکلا ، ہم سب روانہ ہوگئے ۔اور کوئی کلومیٹر دور بس سٹاپ کے بعد ایک محلے میں پہنچے ، وہاں ہمارا استقبال ایک بوڑھے مرد نے کیا گھر میں داخل ہوئے  زمین پر سفید چاندنی بچھائی ہوئی تھے ، وہ خاتون بھی شربت کے گلاس لے کر داخل ہوئی ، جو پکنک پر ہمارے ساتھ تھی ۔وہ بھی گلاس سب کو دے کر ایک طرف بیٹھ گئی ، ہم آٹھ افراد بیٹھے تھے  ۔ شربت پینے کے بعد  بیگم نےکان میں پوچھا-
" آپ اپنے وعدے پر قائم ہیں ؟ "
" کونسا ؟ " میں نے پوچھا ۔
" دوسری شادی ، جس کا آپ نے وعدہ کیا تھا ؟"
" قائم ہوں!  گھر چل کر بات کریں گے " میں نے مذاق میں ٹالتے ہوئے کہا ۔
" میں مذاق نہیں کر رہی ، آپ کہیں پیچھے تو نہیں ہٹ رہے " بیگم نے ٹھوس آواز میں کہا ۔
" نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں لیکن یہ کیا شروع کر دیا ہے ، یہاں !"میں نے ہکلاتے ہوئے کہا ۔
بیگم بولی " انکل  ، آنٹی    جیسا میں نے آپ کو کہا تھا کہ میں آپ کی بیٹی کو اپنی ہم جولی بنانا چاہتی ہوں ، میرے شوہر نے اُس کا انتخاب مجھ پر چھوڑا ہے ۔ کیا آپ لوگ رضامند ہیں ؟"
تو دوستو قصہ مختصر جب ہم گھر واپس ہوئے  تو پانچ کے بجائے  چھ افراد تھے ۔ دو بچے اور چار بڑے جن میں ایک دلہن تھی ۔ بیگم  گھر پہنچتے ہی اپنی ہم جولی کو اوپر کے کمرے میں لے گئی مجھے بھی اوپر آنے کا اشارہ کیا ، میں گیا تو کمرہ دلہن کے لئے سجایا جا چکا تھا ۔
کیا آپ نے کبھی ایسا سنا کہ ایک  عورت  نے اپنی ہم مزاج  عورت تلاش کرکے اپنے شوہر کی شادی کرائی ہو ، جس پر کل خرچ   دلہن کا  سادہ جوڑا ،دلہن  کے گھر ایک ڈش کھانا  اور چار کپڑوں میں دلہن کی رخصتی -
ہے نا،   ناقابلِ یقین ؟ 

لیکن یہ ہوا کیسے ؟
 درس والی آپا اپنے شوہر کے ساتھ ،شادی کے دوسرے سال حج پر گئیں ۔ اُن دونوں کا ارادہ تھا  کہ ایسا حج کریں گے جو
تَوْبَةً نَّصُوحًا بن کر  تمام گناہوں کا کفارہ ہو ، اُن دنوں حج  پر جانے والے اپنی مرضی کی رہائش اختیار کرتے ، لہذا اُن کے گروپ نے بھی  ایک عربی کے گھر میں رہائش لی ، جہاں عورتیں الگ اور مرد الگ ، عورتوں نے کچن کی ذمہ داری بھی سنبھال لی تھی ، حج سے پہلے اِن کے گروپ نے مدینہ جانا تھا اور واپسی پر حج کرکے پاکستان آنا تھا ، جب یہ مدینہ جانے لگے تو آپا کے شوہر کو  مکہ بدّو نے اپنے ساتھ رہنے کی خواہش ظاہر کی جو اُنہوں نے رد و قدح کے بعد قبول کر لی ، حج کے بعد یہ بدّو کے ساتھ اُس کی کار میں خصوصی اجازت نامے کے بعد مدینہ پہنچے ، آپا تو زنان خانے میں چلی گئیں ، جہاں بدّو کی چار بیویاں اپنے  17 بچوں کے ساتھ ہنسی  خوشی رہ رہی تھیں ۔
ساتواں دن تھا جب  ڈھابے سے  چائے پی کر آپا اور اُن کے شوہر ، مسجدنبوی کے فرش پر عصرکی نماز  کا انتظار کر رہے تھے ۔
آپا نے اپنے شوہر سے کہا، " میں چاہتی ہوں کہ آپ میری پسند کی عورت سے دوسری شادی کر لیں "
شوہر نامدار مذاق سے بولے، "میں تو تیسری اور چوتھی کے لئے بھی تیار ہوں ، لیکن پھر آپ کا  کیا بنے گا ؟"
" میں اُن کے ساتھ ہنسی خوشی رہوں گی ،لیکن آپ کہیں اُن کے خاطر میرے لئے  
تَمِيلُواْ كُلَّ الْمَيْلِ  نہ بن جانا ! " آپا نے خوش دلی سے جواب دیا ۔
" ارے نہیں  آپ ہمیشہ خاتونِ اوّل ہی رہیں گی ، وعدہ رہا " 
شوہر نامدار نے ہنس کر کہا ۔
"وعدہ رہا " آپا بولیں ۔
شوہر سمجھے شائد چار بیویوں کے بدّو گھرانے میں رہتے ہوئے بیگم  ، " اجتماعی شعور   یت   Collective Consciousness " کا شکار ہو گئی ہیں ، پاکستان واپس جا کر ٹھیک ہو جائےگی  ۔
اتنے میں اذان ہوئی تو آپا ، اُٹھ کر عورتوں کے حصے کی طرف چلی گئیں ،  اب عشاء کے بعد ہی دونوں نے واپس جانا تھا ۔ یہ روزانہ کامعمول تھا ۔چالیس نمازوں  کے بعد  گروپ کی واپسی مکّہ ہوئی ۔

حج کے بعد واپسی کے دوسرے ہفتے ، آپا نے شوہر کوچھاپ لیا اور اپنی چہیتی سہیلی کو ہم جولی بنا کر لے آئیں ، شوہر کو  دوسری بیوی کےحجلہءِ عروسی  میں داخل  کرانے کے بعد ، سجدہءِ شکر کیا کہ  آج     تَوْبَةً نَّصُوحًا پوری  کر کے وہ اللہ کے سامنے سرخرو ہوگئیں ۔
اپنے شوہر کی تیسری شادی ، اُنہوں نے اپنی ہی ایک ایم اے پاس  شاگرد سے کی ، بانجھ ہونے کی وجہ سے طلاق ہوئی   ، بالوں میں چاندی اترنے لگی تھی، بھائی کے گھر بھاوج  کے رحم و کرم پر پڑی ہوئی تھی،ٹیچنگ سے جو کماتی  بھابی لے لیتی   اور وہ آپا  کے شوہر سے سات سال بڑی ہیں ۔شوہر نے بیگم کے مشن میں ساتھ دینے کے لئے تیسری شادی کر لی ۔
ہے نا،   ناقابلِ یقین ؟ 
مجھے بھی یقین نہیں آیا تھا  ، خواب سالگا تھا ۔ کیا ایسا بھی ہوسکتا ہے ؟
 جہاں  معاشرے میں ، شادی کے انتظار میں  بغیر جہیز کے بیٹھی ہوئی ، یتیم النساء  کے دکھوں سے عورتوں کو متعارف کروایا جاتاہے-

 جہاں درس دینے والیاں ، عورت کوصرف نماز روزہ حج زکاۃ  اور  تسبیح پر نہیں لگاتیں  ! بلکہ 
۔ ۔ ۔  فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً ۔ ۔ ﴿4:3﴾
 کے مطابق ، ہر عورت اپنی حیثیت کے مطابق ، دل بڑ اکر کے کم از کم ایک  یتیم النساء  کو اپنی ہم جولی بناتی ہے ۔ کیوں کہ وہ نہیں چاہتیں  کہ   ،اُن کا شوہر اللہ کی اِس تادیب کا شکار  ہوجائے !
ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ ﴿102:8﴾
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 





منگل، 2 جنوری، 2018

ملک ریاض اور زرداری پراجیکٹ

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کراچی میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاؤن کے3015 ایکڑ   میں مزید تعمیراتی کام پر پابندی عائد کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو کو سرکاری زمین کے نجی زمین سے تبادلے کی تحقیقات دو ماہ میں مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
 سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پیر یکم جنوری 2018  کو یہ حکم ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے مبینہ طور پر سرکاری زمین کے نجی زمین سے تبادلے اور اس کی غیر قانونی طریقے سے الاٹمنٹ کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران دیا۔
سپریم کورٹ میں محمود اختر نقوی نامی شہری نے ایک درخواست دائر کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ہزاروں ایکڑ سرکاری زمین ’کنسالیڈیشن‘ کے نام پر اپنے کنٹرول میں لا کر اس کا نجی زمین سے تبادلہ کر دیا ہے اور اس کارروائی کا مقصد بحریہ ٹاؤن کو فائدہ پہنچانا ہے جس کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔

سروے رپورٹ کے مطابق ایم ڈی اے کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کراچی میں فراہم کیا جانے والا کل رقبہ 12156.964 ایکڑ ہے جبکہ بحریہ ٹاؤن کو 1100 ایکڑ زمین کا این او سی الاٹ ہوا تھا ۔ بحریہ ٹاؤن کے زیرِ استعمال زمین ایم ڈی اے کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کو فراہم کی گئی  کل زمین: 9385.185  ایکڑ
وہ زمین جس پر تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے : 9140.260 ایکڑ
زمین پر جس پر تعمیراتی کام نہیں ہوا: 244.925 ایکڑ
ایم ڈی اے کی منتقلی نہ ہونے کے باوجود بحریہ ٹاؤن کے زیرِ استعمال زمین: 2271.79 ایکڑ
 
سماعت کے موقع پر عدالت کو قومی احتساب بیورو کے پراسیکیوٹر نے بتایا کہ سروے آف پاکستان سے بحریہ ٹاؤن کو دی گئی زمین کا سروے کرایا گیا ہے۔ اس سروے ٹیم میں ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی، ڈپٹی کمشنر ملیر اور بحریہ ٹاؤن کے نمائندے شامل تھے اور اس سروے میں بحریہ ٹاؤن کا نقشہ بنایا گیا ہے۔
عدالت میں پیش کی گئی سروے رپورٹ کے مطابق ایم ڈی اے کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کراچی میں فراہم کیا جانے والا کل رقبہ
12156.964 ایکڑ ہے جس میں سے عدالت نے 3015 ایکڑ رقبے پر تا حکمِ ثانی تعمیراتی کام پر پابندی عائد کی ہے۔
تاہم حکم نامے میں اس بقیہ 9141 ایکڑ رقبے کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی جہاں تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے یا جاری ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ بیرسٹر ضمیرگھمرو کا عدالت میں کہنا تھا کہ سرکاری زمین کا نجی زمین سے تبادلہ نہیں کیا جاسکتا اور ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو حکومت نے متعلقہ زمین الاٹ ہی نہیں کی اور اتھارٹی یہ زمین الاٹ کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔
نیب کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقاتی رپورٹ تقریباً مکمل ہے لیکن اس میں سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو سے کچھ معلومات لینی ہے اور بحریہ ٹاؤن میں شامل ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے کچھ دیہوں کی نشاندہی کرنی ہے تاہم سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو رضوان میمن نے ایسے کسی نقشے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔
پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ بحریہ ٹاؤن کو الاٹ کی گئی زمین کے سروے کا کام 27 جون کو شروع کیا گیا تھا جو 15 جولائی کو اختتام پذیر ہوا۔
عدالت نے اپنے حکم میں 3015 ایکڑ رقبے پر تا حکمِ ثانی تعمیراتی کام پر پابندی عائد کی ہے۔

نیب کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں لیکن ابھی اس تبادلے کے ذمہ داروں کا تعین کرنا ہے، جس کے لیے مہلت دی جائے۔ بورڈ آف ریونیو کے وکیل فاروق ایچ نائک نے بھی ان کے موقف کی تائید کی اور کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی نیب پر انگلیاں اٹھائے اور یہ دباؤ میں آ کر غلط لوگوں کو شامل کر لے اس لیے اسے آزاد چھوڑ دیا جائے۔ اس پر عدالت نے قومی احتساب بیورو کو ہدایت کی کہ وہ دو ماہ کے اندر رپورٹ مکمل کر کے عدالت میں پیش کرے -
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
Below is as Received... on WhatsApp
 Heard that today evening i. e. 1st January 2018 Sindh Rangers has entered Bahria Town Karachi on the orders of Supreme Court and stopped all sort of work and transaction۔

٭٭٭٭ ٭٭٭٭

شیشے کا گھر اور ہاتھ میں پتھر

ملک ریاض بحریہ ٹاؤن: کا طریقۂ واردات!

صحافت لیکس

 

پیر، 25 دسمبر، 2017

گوشہءِ سکون

 میں دوپہر کو پورچ میں بیٹھا تھا کہ اس دوران ایک روسی نسل کا خوبصورت لیکن انتہائی تھکا ماندہ سا چھوٹا کتا کمپاؤنڈ میں داخل ہوا. اس کے گلے میں پٹہ بھی تھا. میں نے سوچا ضرور کسی اچھے گھر کا پالتو کتا ہے.
میں نے اسے پچكارا تو وہ پاس آ گیا. میں نے اس پر محبت سے ہاتھ پھیرا تو وہ دم ہلاتا  ہوا  دروازے  کے پاس پڑے فُٹ میٹ پر بیٹھ گیا  اور میری طرف دیکھنے لگا ۔
میں جب اٹھ کر اندر گیا تو وہ کتا بھی میرے پیچھے پیچھے کمرے میں چلا آیا اور کھڑکی کے پاس اپنے پاؤں پھیلا کر بیٹھا اور میرے دیکھتے دیکھتے سو گیا.
میں نے بھی کمرے کا دروازہ بند کیا اور صوفے پر آ ن بیٹھا. تقریبا ایک گھنٹے نیند کے بعد کتا اٹھا اور دروازے کی طرف گیا تو اٹھ کر میں نے دروازہ کھول دیا. وہ باہر نکلا اور چلا گیا. .
اگلے دن اسی وقت وہ پھر آ گیا. کھڑکی کے نیچے ایک گھنٹہ سویا اور پھر چلا گیا. .
اس کے بعد وہ روز آنے لگا. آتا، سوتا اور پھر چلا جاتا. .
میرے ذہن میں تجسس دن با دن بڑھتا ہی جا رہاتھا کہ اتنا شریف، سمجھدار اور پیار کرنے والا کتا آخر ہے کس کا  ؟ اور کہاں سے آتا ہے؟
ایک روز میں نے اس کے پٹے میں ایک چٹھی باندھ دی. جس لکھ دیا: -
آپ کا کتا روز میرے گھر آکر سوتا ہے۔ آپ کو معلوم ہے کیا؟
اگلے دن جب وہ پیارا چھوٹا سا کتا آیا تو میں نے دیکھا کہ اس کے پٹے میں ایک چٹھی بندھی ہوئی ہے.
اس  کونکال کر میں نے پڑھا. . اس میں لکھا تھا،
یہ بہت اچھا پالتو کتا ہے، میرے ساتھ ہی رہتا ہے لیکن میری بیوی کی دن رات کی جھک جھک ،بک بک کی وجہ وہ سے سو نہیں پاتا اور روز ہمارے گھر سے کہیں چلا جاتا ہے. . . . . . اگر آپ اجازت دے دیں تو میں بھی اس کے ساتھ ایک گھنٹہ  آرام کرنے آ جاؤں ... ؟؟

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭












خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔