Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 26 ستمبر، 2021

کیا جائداد کے وارث ثابت کرنے کے لئے صرف حرام کھانے والوں کی شنوائی ہوگی ؟

 

اُفق کے پار بسنے والے ، خالد مہاجر زادہ کے دوستو !۔قلم کے کٹہرے میں کھڑے ہو کر ۔

آپ بھی پڑھیں :۔ شکریہ

سوال: کیا سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے مطابق اب بیٹیاں یا انکے بچے اپنے حق وراثت سے محروم ہو جائیں گے؟ 

جواب : دو روز قبل سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کم از کم پندرہ سے زائد دوستوں نے یہی سوال مختلف طریقوں سے پوچھا ہے. میں نے سوچا کہ کیوں نہ اس پر ایک پوسٹ شئیر کر دی جائے. پہلے میں مختصراً اس دلچسپ کیس کا پس منظر سمجھانے کے کوشش کرتا ہوں۔

 عیسیٰ خان نامی شخص نے سن 1935 میں اپنی تمام جائیداد اپنی زندگی میں ہی اپنے دونوں بیٹوں کے نام منتقل کر دی بیٹیوں کو کچھ بھی نہ دیا۔اس وقت عیسیٰ خان کی زندگی میں کسی بیٹی نے بھی اس پر کوئی اعتراض نہ کیا۔

 اب پچاس ساٹھ برس گزرنے کے بعد چند برس قبل متوفی عیسیٰ خان کے نواسے اور نواسیوں نے یہ کہتے ہوئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا کہ انکے نانا یعنی عیسیٰ خان نے اپنی تمام جائیداد اپنے بیٹوں کو دے کر اپنی بیٹیوں کو انکے حصہ سے محروم کر دیا ہے۔ اپنی ماؤں کے توسط سے اب وہ یعنی عیسی خان کے نواسے نواسیاں جائیداد کے حقدار ہیں۔ اس کیس میں سول کورٹ اور دیگر اپیلوں سے لیکر ہائی کورٹ میں بھی نواسے نواسیوں کے خلاف فیصلہ آیا. نواسے نواسیوں نے سپریم کورٹ میں اپیل کر دی۔

کیس کی سماعت کے بعد دو روز قبل سپریم کورٹ نے بھی لوئر کورٹس کے فیصلوں کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے مختصر تحریری فیصلہ میں قرار دیا کہ بیٹیوں کو اپنی زندگی میں ہی یہ اعتراض اٹھانا چاہیے تھا اور عدالت جانا چاہیے تھا۔

 لیں اتنی سی بات ہے۔

 اگرچہ اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے میں ہمارے قانون وراثت کا کچھ حصہ شریعت سے متصادم ہے لیکن یہ سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ قانون، آئین اور شریعت کے عین مطابق ہے جس میں کوئی ابہام ہی نہیں ہے۔

 اب عیسی خان کے معاملے کو میں حالیہ قوانین کے تناظر میں ایک مثال کے ذریعے سمجھاتا ہوں. فرض کریں کہ دو سال قبل عیسی خان زندہ ہوتا اور وہ اپنی تمام جائیداد کسی ایک بیٹے کے نام منتقل کر کے باقی تمام بیٹے بیٹیوں کو محروم کر دیتا۔ جائیداد منتقل کرنے کے چند ماہ بعد وہ وفات پا جاتا پھر بھی اس کے وارثان اس جائیداد کو کلیم کرنے کا قانونی حق نہیں رکھتے جو کہ متوفی اپنی زندگی میں ہی کسی کے نام منتقل کر گیا. ضروری نہیں کہ عیسی خان نے اپنے کسی بیٹے کے نام ہی منتقل کی ہو. اگر اس نے اپنی زندگی میں بغیر کسی دباؤ کے اپنی مرضی سے اپنی تمام اولاد کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی دیگر شخص کے نام اپنی تمام جائیداد منتقل کر دی تو پھر بھی شریعت اور قانون کی رو سے اس کی زندگی میں یا اس کی وفات کے بعد اس کے شرعی وارثان اس منتقل شدہ یا فروخت شدہ جائیداد میں کوئی حق نہیں رکھتے. یاد رکھیں ایک شخص اپنی زندگی میں جب چاہے جتنی چاہے جس قدر چاہے اپنی جائیداد کسی بھی شخص کے نام منتقل کر سکتا ہے. اس پر کوئی قدغن نہیں ہے. وراثت کے قانون کا اطلاق صاحب جائیداد کی وفات کے بعد اس قدر جائیداد پر ہوتا ہے جتنی جائیداد چھوڑ کر وہ فوت ہوا. اس جائیداد پر قطعاً نہیں ہوتا جو وہ اپنی زندگی میں ہی کسی کے نام کر گیا. امید ہے کہ اب آپ عیسیٰ خان کے کیس اور حالیہ فیصلے کی صورتحال کچھ سمجھ گئے ہوں گے۔

قانون اور شریعت کی رو سے بیٹیوں کو انکے حق وراثت سے محروم نہ ماضی میں کیا جا سکتا تھا اور نہ آج کیا جا سکتا ہے. ہاں یہ اپنے ہی ہیں جو انکو محروم کرتے ہیں۔

تحریر: چوہدری عامر عباس ایڈووکیٹ ہائی کورٹ. ....... قلم کٹہرا........ ٭٭٭٭٭٭٭٭

٭- پڑھیں ۔ آفاقی سچائیاں اور قوانینِ انسانی ۔

نوٹ: یاد رہے کہ آفاقی سچائی کا ایک گھونسہ قوانینِ انسانی پر چڑھائی ہوئی ملمع سازی کو ایسے جھاڑتا ہے ۔ جیسے سوکھے درخت ہو ہلانے سے پتے گرتے ہیں ۔


 
 

جمعرات، 23 ستمبر، 2021

القرآن کے پہلے حافظ ۔ مُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ

القرآن ۔
 روح القدّس (جبرائیل) نے مُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّين کو ، کائینات کے خالق کا ناقابلِ تبدیل حکم ، عربی میں قرءت کرکے صدیوں پہلے ۔اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ سے الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ تک پہنچایا ۔
 جسے مُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّين سے سننے والوں نے ، عربی میں حفظ کیا اور لکھ بھی لیا ۔جو کرہءِ ارض پر القرآن کہلاتا ہے ۔القرآن کیا جاتا ہے اور القرآن کہلایا جاتا رہے گا ۔

 ٭٭٭٭٭٭
اُفق کے پار بسنے والے ، خالد مہاجر زادہ کے دوستو !۔
یہ ناچیز سیاچین میں ڈیوٹی کے دوران کچھ ایسے واقعات کا شاہد ہے جس نے مہاجر زادہ کی زندگی کا رُخ موڑ دیا ۔اور اُس نے مُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّين   کے اِس دعویٰ کے بعد ۔ذَلِكَ الْكِتَابُ لاَ رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۔  خود کو القرآن  سے مضبوطی سے جوڑ لیا ۔
اللہ کا احسان ہے کہ 28 اگست 2021 کو ، اُس نے خالد مہاجرزادہ کو زندگی کے کچھ اور لمحات ، اِس دنیا میں گذارنے کا ایک موقع اور دے دیا ۔
٭۔24-09-2021 کی صبح 2:00 بجے مہاجرزادہ کی آنکھ کھلی ۔ اللہ کے حکم کے مطابق  عمل کیا اور لیپ ٹاپ پر یہ مضمون ڈھونڈا ۔
اور اِسے کاپی پیسٹ کر کے وٹس ایپ اور فیس بُک پر اُفق کے پار بسنے والے تما م دوستوں کو بھیج دیا ۔ 
اِس اللہ کی طرف سے دی جانے والی بشارت کے بعد کہ :۔

اگلے مضامین:۔
 
 
 
٭٭٭٭ ٭٭٭
 
   
 
 
 
 
 
 
 

بدھ، 22 ستمبر، 2021

م ق ت ۔ اللہ کے عربی میں تین الفاظ

2021-09-19-

اُفق کے پار بسنے والے  ، پیارے پیارے  انسان دوست    بھائیو  اور بہنو  اور ۔
سب سے گھٹیا تکبّر اللہ کے نزدیک ، انسانی قول و فعل کا تضاد ہے ۔ جسے اللہ نے اپنے کلام میں  كَبُرَ مَقْتًا  ، مُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ  کو بتایا ہے:

الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَانٍ أَتَاهُمْ كَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللَّهِ وَعِندَ الَّذِينَ آمَنُوا كَذَلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ۔
  

اپنے  قول و فعل میں تضادرکھ کر اللہ سے جدل کرنا ہے ؟۔
اور افسوس کی بات یہ ہے کہ بغیر کسی اتھارٹی (سلطان) کے متکبرانہ انداز میں اللہ کی آیات  سے جدل کرنا ۔  اللہ کے نزدیک اورالَّذِينَ آمَنُوا ۔   ، کے نزدیکكَبُرَ مَقْتًا   ہے ۔
اللہ کی آیات جو الکتاب میں انسانوں کے لئے اللہ کی  عربی میں ہیں۔ اُن کا بالکل علم نہیں تراجم و تفسیر جن سے اللہ کی آیات کا فہم مکمل تبدیل ہوجاتا ہے ۔ لوگوں کو مرعوب کرنے کے لئے چھاپے پہ چھاپے لکھے جارہے ہیں اور عمل صفر ہے ۔

خود کو الَّذِينَ آَمَنُوا میں شامل سمجھنے والو، تمھارے قول و فعل میں تضاد کیوں ہے ؟

الَّذِينَ آَمَنُوا  اپنے بول کی اصلاح کر لیں !۔

٭٭٭ ٭٭٭٭

 



منگل، 21 ستمبر، 2021

ر ج م ۔ کلام اللہ کا ایک لفظ ، جس کا فہم سنگسار نہیں

٭٭٭٭

برائے اطلاع عرض ہے !
سورۃ الفاتحہ ۔  ایک  بہترین دُعا ہے جو الکتاب کے شروع میں  ہے ۔
اِس کے 36 الفاظ ، اُن کے  30 مادے  اور مادوں سے بننے والے اللہ کے 547 الفاظ ،کم از کم ایک اور زیادہ سے زیادہ  2،636 آئے ہیں ۔  یوں صرف اِن کی تعداد  الکتاب میں20،108 مرتبہ ہے ۔
 اِن کے علاوہ ، اللہ کے    1080 مادوں ، حروف اور ضمیر سے بننے والے  ۔تقریباً 14،166  الفاظ ہیں ۔ جو  الکتاب میں     77،701 الفاظ بن جاتے ہیں -

 وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ ﴿54:17﴾
   اللہ کی یہ آیات اپنی جگہ ایک اٹل  حقیقت  ہے  -  کہ    الذِّكْرِ کے لئے      الْقُرْآنَ آسان ہوتا رہتا ہے ۔

 

ہفتہ، 18 ستمبر، 2021

محمد رسول الله وخاتم النبيين کا پیغام- تکبّر کو اپنی زندگی سے نکالیں ۔

2021-09-18-

اُفق کے پار بسنے والے  ، پیارے پیارے  انسان دوست    بھائیو  اور بہنو  اور ۔
سب سے گھٹیا تکبّر اللہ کے نزدیک ، انسانی قول و فعل کا تضاد ہے ۔ 
مُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ نے قول و فعل کے تضاد رکھنے والے انسانوں کو اللہ کا حکم بتایا  :  ۔

خود کو الَّذِينَ آَمَنُوا میں شامل سمجھنے والو، تمھارے قول و فعل میں تضاد کیوں ہے ؟

اور ھاں سب سے پہلا کام وہ یہ کہ اپنی زندگی سے تکبّر  کو نکالنا ہو گا ۔ 

٭٭٭قول و فعل کا تضاد اللہ کے نزدیک  كَبُرَ مَقْتًاہے ٭٭٭٭

 

 


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔