Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 11 اکتوبر، 2021

بچہ اور بیداری ءِ فکر-2

تو اُفق کے پار رہنے والے میرے پیارے دوستو !

اب ہم آگے چلتے ہیں ۔

  بیداریءِ فکر کی پہلی منزل کی طرف جہاں بوڑھا ، آپ ہی کی طرح ایک ننھا  مُنّا  گوگو گاگا     یا غوں غوں اور غاں غاں تھا ، خوشی میں ہاتھ اور پیر چلاتا  تھا  ۔ جس اُسے ملنے والی تعلیم (سوائے لکھنے  او رپڑھنے کے ) باقی پانچوں حواسات سے اُس کے دماغ  کی ھارڈ ڈسک میں،ہر پلک جھپکنے پر سیکنڈوں کے حساب سے   تصویریں ، آوازیں اور کئی معلومات جمع کرتےجارہے تھے ۔ 

1-ناک میں گھسنےوالی  مہک  ۔

2۔جسم پر چھونے والے لمس ۔ 

3-سنائی دینے  والی آوازیں  ۔

4۔زبان سے حلق تک محسوس ہونے والے ہر منہ میں ڈالی جانے والی چیز کے  ذائقے ۔

5۔ آنکھوں سے دماغ میں جانے والی ،ہر پلک جھپکنے پر سیکنڈوں کے حساب سے   تصویریں ۔ 

 یہ سب نمو کے دماغ   میں لکھی جارہی تھیں اور یہ  پانچوں  بیرونی دنیا  سے ملنے والی  معلومات ،  بوڑھے کے جسم  حصوں ۔ناک ، کھال ،کان، زبان اور آنکھوں سے ، نمّو کے دماغ کی بلکل صاف تختی   (ھارڈ ڈسک )  پر تحریر    یعنی کتب ہو رہی تھیں، نمو جو اِن کا مرکز  تھا ہے اور اپنی موت تک رہے گا   اور یہ سب   معلومات سب ایک دوسرے سے منسلک تھیں  ۔

تو اُفق کے پار بسنے والے ، آج کے دن  اِس دنیا میں آنکھیں کھولنے والے  نمّو   کے پیارے دوستو ۔  

ذرا سوچیں کہ پہلا کردار تو نمّو خود ہوا اور دوسرا اہم کردار کون تھا ۔ جن کے درمیان اِن معلومات کا تبادلہ ہورہا تھا ؟
مشکل نہیں !
آئیں ایسا کرتے ہیں کہ نمّو کے ساتھ ، آپ اپنے اُس دور میں چلیں جہاں آپ کو آپ کے خالق نے نمّو ہی کی طرح آپ کو اِس دنیا میں بھیجا ۔

جاؤ بچے موج کرو !

بس یہ  سوال یاد رکھنا :   ۔ ۔ ۔ ۔ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۔ ۔ ۔ [7:172]
تمھارا جواب یہ ہی رہنا چاھئیے ۔ 
۔ ۔ ۔ ۔ بَلَى شَهِدْنَا ۔ ۔ ۔ [7:172]

 آسان لفظوں میں ۔ میرا  ربّ ۔رَبِّ الْعَالَمِينَ  ہے ۔ جو مجھے۔  رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ  ۔تک پہنچا  دے گا ۔ جس کی اہم صفات    شَاهِدًا اور مُبَشِّرًا اور نَذِيرًا  ہے  اور  وَكِيلاً و حَفِيظًا نہیں ۔ جن کا اکثر انسانوں کو علم نہیں   کہ   رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ  ۔ کا کام صرف الْبَلاَغُ الْمُبِينُ ہے ۔

 ہاں تو بوڑھا بتا رہا تھا  کہ اِس فلم کی اہم کردار ۔نمّو کی امی تھیں ۔جس سے نمّو کو اُس کی اندرونی دنیا  اور بیرونی دنیا میں    امن مل رہا تھا ۔ ہاں خوف کی لہر اُسے ضرور رُلاتی جب وہ بھوکا ہوتا یا گیلا ہوجاتا ۔ یاد آیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہوگا ۔ کیوں کہ سب اُمی بچوں کی تربیت اُن کی امی ہی کرتی ہیں ، جو ذہن کی صاف سلیٹ پر اپنی محبت کے نقش و نگار بکھیرتی ہیں ۔ کبھی ہنس کر اورکبھی  اپنے بچے کو گدگداکر ۔یہ تمام سین   بچے کے دماغ میں ریکارڈ ہورہے ہوتے ہیں ۔سوتے وقت یہ سین اُسے مسکرانے پر مجبور کر دیتے ہیں کیوں کہ اُس کا اُس وقت مکمل تعلق اُس کی اندرونی دنیا سے جڑا ہوتا ہے ۔ 

جس میں پیار اور محبت کی دنیا آباد ہوتی ہے  ۔ خوف اُسے چھو کر بھی نہیں گذرتا ۔ لیکن اُسے خوف  سے  تعارف  جلد ہی ہوجاتا ہے ۔  یہ اُس کی بھوک و پیاس اور بستر میں اُس کا گیلا رہنا نہیں ہوتا بلکہ اُس کی بیرونی  دنیا کی ایک ہستی  ہوتی ہے ۔

جس کا تعارف شائد ماں کراتی ہے ۔ مت رو ،ورنہ بابا آجائے گا ۔گویا اُس کی پر امن  زندگی میں اُس کے لئے خوف کا احساس پیدا کروادیا گیا ۔یہ خوف اُس نومولود کے امن کا قاتل ہے ۔

نمّو کو اچھی طرح یاد ہے کہ اُس سے بڑی بہن تھی او ر چھوٹا بھائی ۔ نمّو  شاید ڈھائی سال  تھا ، کھڑکی کے ساتھ رکھی ہوئی بنچ پر نمو چڑھا کہ باہر دیکھے ، کھڑکی کے ساتھ گذرنے والی سڑک پر بھیڑ بکریاں جا رہی تھیں ، نمو دلچسپی سے دیکھ رہا تھا کہ اُسے کتا نظر آیا جو بھڑبکریوں سے تین چار گنا فاصلے پر تھا ۔ وہ گھبرا کر پیچھے ہٹا اور بنچ سے فرش پر گر کر بے ہوش ہوگیا ۔معلوم نہیں بھیڑ بکریوں  سے لطف اندوز ہونے والا نمو  ، اُن ہی کی طرح ایک جانور ، کتُے سے کیوں خوفزدہ ہوا ؟
یہ خوف  کیسے اُس کے ذہن میں داخل ہوا  یا کس نے اُس کے ذہن میں بٹھایا ؟ 

جس نے اُس کی زندگی کے امن و سکون کو ،خوف میں تبدیل کر دیا  اور اُس کا پر امن سافٹ وئر تبدیل ہو گیا ۔

 یہاں تک کے جب وہ اپنی امی ،ابو ،  چچا ، بڑی بہن اور چھوٹے بھائی  کے ساتھ 1955 کی گرمیوں کی چھٹیوں(مئی ، جون  ،جولائی ) میں لاہور سے نوابشاہ پہنچا ۔تو ماموں کے  "کالو "نامی  گرانڈیل   کتُّے کی وجہ سے وہ کمرے سے باہر نہیں نکلتا ۔ لیکن ماموں زاد بہن بھائیوں کے کتُّے کے ساتھ پیار کرنے اُسے گدگدانے  اور  کھیلنے کی وجہ سے، نمو   کے ذہن سےبھی  کتے کا خوف نکل گیا ۔یہ سب مناظر اُس کے دماغ میں پانچوں حواس سے فلم کی صورت میں جمع ہورہے تھے   اور تصویر کے ساتھ منسلک ہوتے جارہے تھے ۔ اب معلوم نہیں کہ اِس دنیا میں پہلی بار اپنی موجودگی کا احساس دلوانے کے بعد نمو کے دماغ  میں  دادی کے گھر پہنچنے تک کتنے گھنٹے کی تصویریں  ریکارڈ ہو چکی ہوں گی ۔کیا اُن کو ریوائینڈ کرکے دیکھا جا سکتا ہے ؟  کیوں نہیں    بوڑھے کے فہم کے مطابق اُن کا ریموٹ کنٹرول آپ کے دماغ میں پوشیدہ ہے ، بس  آفاقی بیٹری چارج کرنے کی ضرورت ہے ۔

بلکہ جو روزانہ کے حساب سے 70 ہزار سوچوں کے جو بلبلے ذہن میں   بن رہے ہیں اُن کا کیا ہوگا؟

تو اُفق کے پار رہنے والے میرے پیارے دوستو !

 دماغ میں جو وڈیو ریکارڈ ہو رہی ہے  ۔ پانچوں حواس کی معلومات  سے بن رہی ہے اور سوچوں کے  جو بلبلےبن رہے ہیں وہ اِن حواسی معلومات  سے خود بخود بن رہے ہیں ۔

 آپ کی صبح صبح ، امی کی آواز سے یا گھڑی کے الارم سے یا کسی اور وجہ سے آنکھ کھلی ۔ اندازہً سوچوں کے کتنے بلبلے بنے ہوں گے ؟ 

علماءِ  الابدان کے مطابق  تقریباً 70ہزار سوچ کے" یعنی یا لایعنی " بلبلے  بننےاوردماغ کے کسی خانے میں محفوظ ہوگئے  ۔ وہ معلومات جو پانچوں حواس سے آپ کے دماغ میں پہنچی سوچ کا ایک بلبلہ نہیں بنائے گی ، اُس معلوم  یا نامعلوم لہر نے بلبلوں کا ڈھیر جنم دیا ہوگا۔۔

ناشتہ بننے کی خوشبو ۔منہ میں پانی آنا۔گھڑی کی طرف دیکھنا اور ، آپ کے دیر سے پہنچنے پر خجالت کا گذشتہ منظر، سرزنش ، راستے کی طوالت ۔ راستے میں ملنے والے لوگ  ، راستے سے گذرنے والے مناظر ، پرندوں ، جانوروں کی آوازیں ، پولیس کانسٹیبل کی وسل ۔سوچتے جائیں ۔ تو سوچ کے بلبلوں  کا جم غفیر  کے ذہن میں بن رہا ہوگا جو شاید پہلے سے موجود   واقعے سے لنک ہوتا جائے گا  ۔ اور آپ اُسے جھٹک دیں گے یہ کہہ کر۔ تو کیا ؟

  اور  پیارےدوستو ، رات کو آنکھیں بند کرکے نیند کی وادیوں میں کھونے سے پہلے ، کتنے بلبلے بنے ہوں گے نہیں معلوم نہ ؟؟

 بتاتا ہوں ذرا ٹہریں ابھی تو وہ بلبلے باقی ہیں  جو آپ کی بیرونی دنیا اور اندرونی دنیا  سے تعلق رکھتے ہوئے آپ کو نیند کے جھولے پر خواب کی وادیوںمیں لے جاتے ہیں ۔ یہاں تک کہ آپ کی اندرونی دنیا کا  آپ کی بیرونی دنیا سے مکمل رابطہ کٹ جاتا ہے ۔  اور آپ ۔ ۔ ۔ ۔ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۔ ۔ ۔ [7:172]  کے  مقامِ  ہست (Being)کے زیرو پوائینٹ    پر پہنچ جاتے ہو ۔

 صبح  یہ رابطہ جڑے یا نہ جڑے یہ آپ کے خالق (ہستی)  کی مرضی ہے ۔ کیا سمجھے؟؟

اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ [39:42]

ہستی  (اللہ)  کیا ہے ؟

       تمام وجود حیات کی لطیف تہوں کے نیچے دائرے میں پیچیدہ  ,لیکن مطلق  ہستی ہے، جو لاوجود ہے لیکن ماورائی ہے۔  یہ نہ توانائی ہے نہ مادہ۔ یہ خالص ہستی ہے،  وجودِ خالص  ہے۔  یہ خالص ہستی، تمام وجود کے نیچے پنہاں ہے۔  تمام اشیاء اس خالص وجود کااظہار ہے، جو تمام حیات کا اہم جزو ہے۔ ایک ابدی، لاوجود، مطلق ہستی،جو ہر تخلیق میں اپنے وجود کا اظہار کر رہی ہے۔

ہستی ہر جاہ موجود  (Omani-presence)اور  ”ہستی“ہر تخلیق کی حتمی حقیقت ہے اورتخلیق کی تمام پرتوں میں موجودہے۔یہ الفاظ، شامعہ (Smell) ، ذائقہ(Taste) ، لمسہ (Touch) ، تجربہ، حسِ اندازہ،  عمل اعضاء ، تمام مظاہر ِعامل اور افعال نیز تمام سمت میں خو ش قسمتی سے موجود ہوتی ہے۔  یہ انسان کے سامنے، پشت پر، اس کے دائیں و بائیں، اوپر اور نیچے، یہاں تک کہ اس کے اندر موجود ہوتی ہے۔ ہر جگہ اور ہرحالت میں ”ہستی“ تخلیق کا اہم جزو ہے اور اس میں داخل ہے،  خدا کی ہر جاہ موجودگی ان کے لئے ہے جو اسے سمجھتے ہیں، محسو س کرتے ہیں اور اسے اپنی زندگیوں میں زندہ رکھتے ہیں۔

ہستی کی پہچان اصل میں بیداریءِ فکر کا پہلا اور بنیادی جُزو ہے یہ اُس پیچیدہ اور طویل دھاگے کا سرا ہے ، جس کا کہیں راستے میں   آپ کی حیات کا خاتمہ اور ہستی سے  ارتکاز کے تعلق کی بتداء  ہے ۔ 

اِس سے پہلے اپنی اندورنی دنیا کی  پہچان !!

اگلا مضمون : اندرونی دنیا کی پہچان

٭٭٭٭مزیدمضامین  پڑھنے کے لئے  فہرست پر واپس  جائیں ۔ شکریہ ٭٭٭٭

 پچھلا مضمون :   انسان۔ بچہ اور بیداریءِ فکر

 


اتوار، 3 اکتوبر، 2021

توشہ خانہ کے سراغرساں ۔ صحافی رانا ابرار خالد

   اٹھائیس ستمبر 2021کو دن دس بجے اسلام آباد کے نواحی علاقے کے ایک مکان میں تین خواتین داخل ہوتی ہیں اور ’ڈینگی سروے‘ کا کہہ کر معمر خاتون خانہ سے ان کے صحافی بیٹے سے متعلق سوالات کرتی ہیں۔ 

گفتگو کی آواز سے مکان کے ایک کمرے میں سوئے صحافی کی آنکھ کھل جاتی ہے اور وہ اجنبی خواتین سے آنے کا مقصد دریافت کرتے ہوئے ان کی شناخت کا ثبوت طلب کرتے ہیں، جس پر وہ خواتین رخصت ہو جاتی ہیں۔

 ’ڈینگی سروے سے منسلک‘ خواتین جس مکان میں آتی ہیں، وہ اسلام آباد کے سینیئر صحافی رانا ابرار خالد کا ہے، جنہوں نے معلومات تک رسائی کے حق کے قانون (Right of Access to Information Act, 2017) کے تحت وزیراعظم عمران خان کو غیر ملکی شخصیات کی جانب سے ملنے والے تحائف کی تفصیلات طلب کر رکھی ہیں۔

 کارکن صحافیوں کی نمائندہ تنظیموں نے رانا ابرار کے گھر ڈینگی سروے کے بہانے آنے والی خواتین کی آمد کے واقعے کو صحافی کو ہراساں کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (آر آئی یو جے) نے سینیئر صحافی کو مبینہ طور پر خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے ہراساں کرنے کی مذمت کرتے ہوئے ایسے ہتھکنڈوں کو ناپسندیدہ اور غیر ضروری گردانا، اور ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف انکوائری کا مطالبہ کیا۔

 رانا ابرار نے ا بتایا کہ اجنبی خواتین نے اپنا تعارف اسلام آباد کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) سے منسلک ڈینگی سروے ٹیم کی حیثیت سے کروایا، تاہم وہ اپنی شناخت کا کوئی ثبوت پیش نہ کرسکیں۔

 بقول رانا ابرار: ’وہ میری والدہ سے عجیب قسم کے سوالات پوچھ رہی تھیں، جو میرے روزانہ کے معمولات اور سیاسی وابستگی سے متعلق تھے، جن کا کسی بھی طرح ڈینگی سروے سے تعلق نہیں تھا۔‘ 

دوسری جانب این آئی ایچ کے ایک سینیئر ڈائریکٹر نے رابطہ کرنے پر  بتایا کہ ان کے ادارے کی طرف سے کوئی ڈینگی سروے نہیں کروایا جا رہا اور نہ ہی صحافی کے گھر کسی ٹیم کو بھیجا گیا ہے۔  

رانا ابرار خالد نے گذشتہ سال نومبر میں سیکریٹری کیبنٹ ڈویژن سے ایک درخواست کے ذریعے توشہ خانہ میں موجود وزیراعظم عمران خان کو 18 اگست 2018 سے 13 اکتوبر 2020 کے دوران غیر ملکی شخصیات کی جانب سے ملنے والے تحائف کی تعداد، ان کی تفصیلات و تصریحات، وزیراعظم نے جو تحائف اپنے پاس رکھے ان کی تعداد و تفصیلات بمعہ ماڈل نمبر وغیرہ اور قیمت (مارکیٹ ویلیو)، وزیراعظم نے ان تحائف کے بدلے کتنی رقم قومی خزانے میں جمع کروائی اور جس بینک اکاؤنٹ اور بینک میں یہ رقم جمع کروائی گئی، ان کی تفصیلات طلب کی تھیں۔ حکومتی اہلکاروں کو غیر ملکی شخصیات کی طرف سے ملنے والے تحائف توشہ خانہ میں جمع کروائے جاتے ہیں اور حکومتی اہلکار ایک مخصوص رقم ادائیگی کرکے ان میں سے کوئی تحفہ اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔ 

تاہم وفاقی سیکریٹری کیبنٹ ڈویژن نے رانا خالد کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سوالات کے جواب دینے سے انکار کر دیا تھا۔

  اس سلسلے میں وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ 1992 میں توشہ خانہ سے متعلق بنائے گئے قواعد و ضوابط کے تحت حکومت یہ معلومات فراہم کرنے کی پابند نہیں ہے۔

  چوہدری فواد حسین کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو غیر ملکی سربراہان مملکت و حکومت اور دوسری اہم شخصیات کی طرف سے ملنے والے تحائف کی تفصیلات ظاہر کرنے سے دو طرفہ تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض غیر ملکی شخصیات بھی نہیں چاہتیں کہ وزیراعظم کو دیے گئے تحائف کی تفصیلات منظرعام پر آئیں، کیونکہ اس سے افواہیں پھیل سکتی ہیں، جس سے غیر ضروری پیچیدگیاں پیدا ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف حکومت نے توشہ خانہ سے متعلق قواعد و ضوابط کو مزید سخت بنایا ہے اور اب کوئی تحفہ حاصل کرنے کے لیے اس کی قیمت کا 50 فیصد حکومتی خزانے میں ادا کرنا لازمی ہے۔

 رانا ابرار کے مطابق انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو تحفہ دینے والی کسی غیرملکی شخصیت کا نام طلب نہیں کیا بلکہ صرف تحائف کی تفصیلات کے لیے درخواست جمع کروائی ہے، معلومات نہ دینے سے افواہیں پھیلنے کا زیادہ امکان رہتا ہے نہ کہ معلومات کو عوام تک پہنچانے سے۔ 

وفاقی حکومت کی جانب سے انکار کے بعد رانا ابرار نے معلومات تک رسائی کے حق سے متعلق قانون کے تحت قائم اپیلیٹ فورم پاکستان انفارمیشن کونسل میں درخواست دائر کی، جو کونسل نے منظور کرتے ہوئے معلومات کی فراہمی 10 دن میں یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

 تاہم وفاقی حکومت نے پاکستان انفارمیشن کونسل کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی، جس کی آئندہ سماعت 13 اکتوبر کو ہونا ہے۔ 

 پاکستان میں صحافتی آزادی پاکستان میں حکومت تو ہر حکومت صحافیوں کو مکمل آزادی دینے کے دعوے کرتی رہی ہے لیکن خود صحافی حالات سے مطمئن نہیں۔ فریڈم نیٹ ورک پاکستان میں صحافیوں کو درپیش خطرات کی جانچ کرتا ہے، اس کے مطابق مئی 2020 سے اپریل 2021 کے دوران صحافیوں کو درپیش خطرات اور حملوں میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے اور صرف ایک سا ل کے دوران 148 ایسے واقعات ہوئے ہیں۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اگلی  کہانیاں :۔

 

جمعرات، 30 ستمبر، 2021

انسان۔ بچہ اور بیداریِ فکر۔1

آفاقی سچائیاں ۔ انسان۔ بچہ اور بیداری ءِ فکر

تمہید۔

اُفق کے پار بسنے والے ، خالد مہاجر زادہ کے دوستو !۔
خالد مہاجر زادہ کا سفر 7 محرّم  ( 16 ستمبر)  1953 کو عصر کے تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد اِس دنیا میں شروع ہوتا ہے(بوڑھے کے بچپن میں تواریخ ایسے یاد رکھی جاتی تھیں ) اور اللہ کا احسان ہے کہ اب تک جاری ہے ۔ 28 اگست 2021 کو تقریباً دوپہر 2:00 بجے کے بعد گھر کے ارد گرد  سوکھے پتوں کے  جلانے سے  دھوئیں سے پھیلی ہوئی مسموم فضاء  کی وجہ سے ،
68 سالہ بوڑھے کو اپنی آخری سالگرہ منانے سے 18 دن پہلے ، دمے کا حملہ کھانسی کی صورت میں شروع ہوا ۔جس کو وینٹولین کے بخارات بھی ختم نہ کرسکے ۔ نیبولائزر نے بھی شدت میں کمی نہ آنے دی ۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ فضاء میں آکسیجن کم ہوتی جارہی ہے ۔ 2:45 منٹ پر بوڑھا اپسنے پھیپھڑوں پر پڑنے والے پیٹ کے دباؤ کی شدت کو کم کرنے کے لئے کھڑا ہوا ، تاکہ پھیپڑوں میں جانے ولی آکسیجن تھوڑی زیادہ ہوجائے ۔ بوڑھے کو شاید کھانسی سے پسینے آرہے تھے ۔ وہ بڑھیا کو ہدایات دینے ، بہو اور بڑی بیٹی کے سوالات کا جواب دینے کے ساتھ ساتھ دو آیات دھرا رہا تھا ۔ جو کائینات میں سے بوڑھے کے ذہن میں ،سیاچین میں میت خانے میں پڑی ہوئی۔ جولائی 1993  میں ، کیپٹن شفیق آرٹلری (چکوال)اور برف میں دبنے والے 7 پنجاب رجمنٹ کے دو جوانوں کے اکڑے ہوئے جسموں کو دیکھتے ہوئے اُبھریں ۔

 اللّهُ لَا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ [3:2]

پہلی آیت۔ بوڑھے کے ذہن میں اُس وقت بیدار ہوئی جب 11 مئی 1991 کو بوڑھے کا بیوی بچوں ، ساس و سسر اور سالے کے دو بچوں  کے ساتھ حیدر آباد سے میرپورخاص جانے والی سڑک پر  کوئی ڈھائی بجے کے لگ بھگ ہوا ۔اُس کے بعد سے   بوڑھے کی عادت  بن گئی ۔

پھر اِس میں ۔ والد کے اللہ کی امان میں جانے کے بعد ۔   دوسری آیت شامل ہو گئی ۔

رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ [14:41]

  تیسری اور آخری آیت ۔جو بوڑھے کو 2000 میں ریٹائرمنٹ کے بعد اسلام آباد شفٹ   ہونے  پر، مذہبی   میٹنگزاور سوشل میڈیا کے ذریعے ،  قرآنی سوچ  پر پروان چڑھنے والے  دوستوں   کے  ، القرآن  اور غیر از قرآن فہم کے بعد  ملی  ۔

 مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا [33:40]

 اور بوڑھے  نے   کائینات کے خالق رب العالمین (یعنی  معلّم القرآن)    اور رحمت للعالمین  کے درمیا ن  ،کتاب اللہ (اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی کائینات) اور الکتاب (القرآن) کو رکھ کر ایک حتمی لکیر کھینچ دی کہ اِس  متوازی لائن کے باہر نہیں نکلنا ۔  کیوں کہ لَا إِلَـهَ إِلاَّ اللّهُ  کے درمیان  القرآن جس کو انسانوں تک  بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  سے   مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ  تک پہنچانے کے بعد وہ     مُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ   کے منصب پر سرفراز ہو کر  خَاتَمَ النَّبِيِّينَ اور رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ قرار پائے ۔جس پر  الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ نےآدھا عمل کیا

 ٭- کتاب اللہ (بوڑھا مرکز اور اُس کو حواسِ خمسہ سے ملنے والی تمام معلومات )   سے بوڑھے کے نفس کو انسان کا بچہ (الانعام نہیں)  رہنے پر مدد ملی   ۔ کیوں کہ آپ ہی کی طرح بوڑھے کے حواس خمسہ کا تعلق بیرونی دنیا سے ہے ۔ جس سے آپ کا اُس وقت رابطہ ختم ہوجاتا ہے ۔ جب آپ نیند کی آغوش یا بے ہوشی میں چلے جاتے ہیں ۔ 

گویا آپ کے اندر کی دنیا  اور آپ کے باہر کی دنیا جس کا مرکز آپ ہیں ، اور اِن دونوں دنیاؤں کے درمیان رابطہ آپ کے حواسِ خمسہ ۔جس کے بارے میں آگے چل کر بات ہوگی ۔

 ٭- القرآن ۔ روح القدّس (جبرائیل) نے مُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّين کو ، کائینات کے خالق کا ناقابلِ تبدیل حکم ، عربی میں قرءت کرکے صدیوں پہلےتاریخ کے مطابق  ۔اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ سے الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ تک پہنچایا ۔

 جسے سے سننے والوں نے ، عربی میں ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  سے   مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ  مُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّين (القرآن کے پہلے حافظ ) تک  ایک تسلسل میں ،  حفظ کیا   ۔اور مسلسل حفظ کرتے آرہے ہیں ۔
 کسی ایک نے بھی، جی ہاں کسی ایک نے بھی، تاریخ کی کتابوں  سے نزول   القرآن ۔اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ سے الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ تک حفظ  نہیں کیا ۔ 
یہ اللہ کے کلام کا حفظ،   جی ہاں ، عربی میں ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  سے   مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ  تک ،کرہءِ ارض پر انسانوں کے لئے  القرآن کہلایا جاتا  رہا  ۔القرآن  کہا جاتا ہے اور القرآن کہلایا جاتا رہے گا ۔اور ہمیشہ حفّاظ  ( اللہ کے منتخب انسانوں   کے دماغ کی ھارڈ  ڈسک میں  ) ناقابلِ تبدیل رہے گا کیوں کہ یہ ۔۔ ۔  ۔ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ ۚ ۔ ۔ ۔ [2:185]

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اُفق کے پار بسنے والے ، خالد مہاجر زادہ کے پیارے    دوستو !۔

آپ سوچ رہے ہوگے کہ یہ ساری باتیں تو آپ کو بھی معلوم ہیں ، تو یہ بوڑھے کو کیا ہوا  ؟ 

کہ وہ ہمیں رٹّاا ہوا سبق پڑھانے چلا ہے ۔ 

دوستو ،میں آپ کو کوئی سبق نہیں پڑھا رھا  اور نہ ہی اِس بوڑھے کی یہ ہمت و طاقت ہے ۔ کہ کسی بھی انسان  کو  اُس کے دماغ میں موجود ، پڑھائے ہوئے سبق  مزید پڑھا سکے اور یا  تبدیل کر سکے ۔ جو آپ کے دماغوں میں ،حواسِ خمسہ کے ذریعے  مختلف  صفات کی صورت میں الفاظ کا فہم  بن کر ،   پیدائش کے بعد سے اب تک رقم ہو گیا وہ اَن مٹ ہے ۔ 

یہی اِس بوڑھے کا حال ہے ۔

 ہاں البتہ بوڑھا  بھی آپ ہی کی طرح  ،دماغ  کی ھارڈ ڈسک میں ، جمع ہونے والی مختلف صفات کا  اپنے ذہن میں تجزیہ کرکے اپنا ایک فہم بناتا رہتا ہے ۔  

بوڑھے کے نزدیک ہر انسان کا  دماغ ،  ایک ھارڈ ڈسک اور کتاب اللہ کا مرکز(بوڑھے کے  لئے  ، بوڑھے کا دماغ  جس کا مرکز ہے ، چنانچہ بوڑھے کے لئے کتاب اللہ ،بوڑھے کے باہر اور اندر کی دنیا  پر مشتمل مکمل ریکارڈ ہے )   ۔

لہذا بوڑھے کی ، کتاب اللہ  جو اُسے کے دماغ میں، پیدائش   پر ، حواسِ خمسہ کے بیدار ہونے  کے بعد     ،  حواسِ خمسہ سے  ہر سیکنڈ میں ملنے والی تمام معلومات  کا ریکارڈ کتابت ہو چکا ہے  اور ذہن کا کام حواسِ خمسہ سے دماغ  میں  کتابت ہوئی ،    اِن  تمام معلومات کو جہاں ہے اور جیسے ہے کی بنیاد پر ہر سیکنڈ  میں  میموری ( شعور) میں لا کر  تجزیہ کرنا اپنے ذہن میں نئی صفا ت بنانا     اور اپنے فائدے کے لئے استعمال کرنا  اور جسے واپس اپنے  دماغ میں دوبارہ محفوظ کر دینا یا  اُس میں اضافہ یا کمی کرکے محفوظ کر دینا ۔اور باقی تمام معلومات کو تحت الشعور میں ڈال دینا  ہے ۔آپ کا ماضی آپ کے تحت الشعور کا حصہ بنتا جا رہاہے ۔ اور آپ کا حال آپ کا شعور ہے ۔

 تحت الشعور اور شعور کے درمیان ربط  صرف اُن معلومات کو رہتا ہے  جن کو آپ  ایک مخصوص سائیکلک  لنک سے جوڑتے ہیں ۔ یہ سائیکلک لنک ، یاداشت کہلاتا ہے ۔ جو سوچ  کی زنجیر پر شعور میں آتا ہے ،اگر اُس معلومات کی آپ کو ضرورت نہیں رہتی تو وہ تحت الشعور میں  شعور سے دور جاتی رہتی ہے ۔   اگر  مہاجرزادہ ،  تصویر کی مدد سے سمجھائے  تو اِس طرح ہوگا ۔

یہ ایک برفانی تودہ ہے  جو گلیشیئر سے ٹوٹ کر سمندر میں تیرتا ہے ۔ اور جس کی ایک معمولی سے چوٹی اُس کا پتہ دیتی ہے ۔ آپ اِسے عارضی طور پر ایک دماغ سمجھیں  ۔ اور اِس کی سمندر سے اوپر تیرتی ہوئی سطح کو ذہن ۔ ذہن جس کا تعلق بیرونی دنیا سے ہے اور جو اندرونی دنیا کو اطلاعات دیتا ہے ۔ اِس میں شعور اور تحت الشعور کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ 

آپ کے ذہن میں کوئی سوچ ابھرتی ہے ۔ جوباہر کی دنیا سے ملنے والے پیغام کے سہارے  تحت الشعور سے شعور میں آنے کی کوشش کرتی ہے مگر آپ کا یاداشت کا لنک ٹوٹا ہوا ہے ۔ لہذا آپ کے ذہن میں کہاں اور کب جیسی لہریں اُٹھتی ہیں ۔ 

لیکن یہ لہریں ، یوں سمجھیں کہ تحت الشعور سے اُٹھنے والے یہ  سوچ کے  چھوٹے چھوٹے بلبلے اندازہً  70 ہزار ہوتے  ہیں، جو روزانہ آپ کے ذہن  میں  بنتے ہیں ۔ یہ  اتنے ننھے کہ  سیکنڈوں میں معدوم ہوجاتے ہیں ۔ لیکن آپ اِ ن بلبلوں کو آپس میں جوڑ کر تھوڑا سا بڑا کر لیں ۔ تو یہ تھوڑا اور اوپر  آجائے گا لیکن پھر بھی شعور کی گرفت میں نہیں آئے گا ۔

ویسے کیا واقعی آپ کے ذہن میں روزانہ 70 ہزار سوچ کے بلبلے جنم لیتے ہیں ؟
آپ بھی کہیں گے کہ مہاجرزادہ نے بہت بڑی گپ لگائی کیا ایسا ممکن ہے  ؟

شعور کی گرفت میں لانے کے لئے آپ اپنے سوچ کے بلبلے کو اتنا بڑا کر لیں کہ یہ تحت الشعور کی تہہ سے اُٹھے اور اُس سوچ کی بلبلوں کو کھینچتا ہوا ایک جوار بھاٹا کی صورت میں آکر  آپ کے شعور میں تمام معلومات اور جزئیات کے ساتھ آکر پھٹے اور وقتی طور پر پورے شعور پر چھا جائے ۔ اور بعض دفعہ تو وہ ننھا سا بلبلہ خود، اُسی قسم کے تمام بلبلوں کو دماغ سے کھینچ کر ، ایک جوار بھاٹا بن جاتا ہے ۔

اِسے بیداری ءِ فکر کہتے ہیں ۔ کیا کبھی آپ کے ساتھ ایسا ہوا ہے ؟ 

نہیں نا ۔

لیکن ہو سکتا ہے !۔

مگر کیسے ؟
چلیں آگے بڑھتے ہیں اور اپنی  بیداری ءِ فکر کو ایک ایڑ لگائیں تاکہ وہ سرپٹ گھوڑے کی طرح دوڑنے لگے ۔

اگلا مضمون:   بچہ اور بیداریءِ فکر۔  


٭٭٭٭مزیدمضامین  پڑھنے کے لئے  فہرست پر واپس  جائیں ۔ شکریہ ٭٭٭٭


 پچھلا مضمون :زیرو  پوائینٹ سے آخری پوائینٹ تک 



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔