Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 26 مئی، 2022

ابا جی ڈیڈی اور پاپا

جب میں نے ہوش سنبھالا اس وقت تمام گھروں میں والد کو اباجی کہا جاتا تھا۔ اُس دور میں اباجی صرف بچوں کے لیے ہی نہیں بلکہ بچوں کی ماں کے لیے بھی خوف کی علامت ہُوا کرتے تھے، ادھر ابا جی گھر پہنچتے اور اُدھر گھر کے صحن پر سناٹا چھا جاتا۔ جیسے  ٹرین سٹیشن سے نکل گئی ہو ۔ بچے گھر کے کونوں کُھدروں میں دبک جاتے اور بچوں کی اماں سر پر دوپٹہ اوڑھ لیتی۔
ابا جی کے ہاتھ سے تھیلا وغیرہ پکڑ کر مقررہ جگہ پر رکھ دیا جاتا اور ابا جی چارپائی پر بیٹھ کر جُوتے اُتارتے جنہیں فوراً ایک طرف اُٹھا کر رکھا جاتا۔

 پھر ابا جی کوئی بھی حُکم جاری کرتے تو فوراً اُس کی تعمیل ہوتی، پھر ابا جی کو کھانا پیش کیا جاتا اور امی جان اُنہیں قریب بیٹھ کر کھانا کھلاتیں اور سب بہن بھائی بھاگ بھاگ کر اُنہیں کبھی نمک اور کبھی چٹنی مہیا کیا کرتے تھے۔
ابا جی کے غُسل سے پہلے امی جان غُسل خانے کا معائینہ کرتیں اور وہاں ڈبہ تولیہ صابن وغیرہ ہر چیز رکھ دیتیں اور پھر ابا جی کے کپڑے استری ہوتے، ابا جی جب دفتر جاتے تو امی اُن کو دروازے تک رخصت کرنے جاتیں اور ابا جی کے روانہ ہوتے ہی گھر میں چھائی خاموشی کے بند ٹُوٹتے اور بچوں کی شرارتیں اور امی جان کی دھمکیاں شروع ہوجاتیں کے شام کو تمہارے ابا آئیں گے تو تمہاری شکایت لگاؤں گی۔
اُس دور میں ابا جی کی دہشت ہر وقت بچوں پر چھائی رہتی تھی، مُجھے اچھی طرح یاد ہے کے سکول کی پراگرس رپورٹ پر ابا جی سے دستخط کروانا ایک مشکل ترین مرحلہ ہوتا تھا۔
پھر زمانہ بدلا تو بچے ابا جی کو ڈیڈی اور ماں جی کو ممی کہنے لگے ، ڈیڈی کہلوانے والوں کا وہ رعب اور دہشت نہیں ہوتی تھی جو ابا جی کہلوانے والوں کی ہوتی تھی، ڈیڈی وہ حضرات تھے جو عورت اور مرد کی برابری پر یقین رکھتے تھے اوران کا خیال تھا کہ بیوی اور بچوں کو ڈرا کر رکھنے کی بجائے ان سے دوستانہ تعلقات ہونے چاہیے، چنانچہ ڈیڈی حضرات حکم آخر جاری کرنے کی بجائے مشاورت پر یقین رکھتے تھے اور گھروں میں ان کا طرز عمل ابا صاحبان سے کافی بہتر ہوتا تھا جو مخاطب کی پُوری بات سُنے بغیر ہی جوتا اُتار لیا کرتے تھے۔
ڈیڈی کہلوانے والے صاحبان کو اگر کھانے میں کوئی نقص نظر آتا تو وہ انتہائی شائستگی سےاُس کی نشاندہی کرتے اور ابا صاحبان کی طرح کھانا صحن میں اُٹھا کر نہیں پھینکتے تھے، ڈیڈی کہلوانے والے بچوں کے سوالات کے جوابات انتہائی پیار و محبت سے دیتے اور بیوی کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات و مطالبات کے جواب بھی خندہ پیشانی اور دلبری سے دیتے اور گھروں میں توازن کی فضا برقرار رکھتے تھے۔
زمانہ اور اور آگے بڑھا اور ابا صاحبان کو پاپا اور والدہ کو ماما کہا جانے لگا، یہاں سے گھروں میں ایک بڑی تبدیلی آنی شروع ہُوئی اور گھر میں حکمرانی کا تاج پاپا کی بجائے ماما کے سر پر سجایا جانے لگا اور پاپا کی حثیت گھر میں ایک عام شہری جیسی ہو گئی، پاپا صاحبا ن جب دفتر سے گھر واپس آتے ہیں تو اُن کی طرف کوئی متوجہ نہ ہوتا، ماما ٹی وی دیکھتی رہتی ہیں اور بچے موبائل فون پر ایس ایم ایس کرتے رہتے ہیں ، پاپا حضرات کپڑے وغیرہ تبدیل کرکے کھانا مانگتے ہیں تو ماما کہتی ہیں ذرا صبر کریں ڈرامے میں وقفہ آتا ہے تو کھانا دے دیتی ہُوں ، اگر پاپا موصوف زیادہ بھوک لگی ہونے کی شکایت کرتے ہیں تو ماما کہتی ہیں کے دفتر سے نکلتے ہی فون کر دیا کریں میں کھانا گیٹ پر ہی رکھ دیا کروں گی۔
اس جواب کے بعد پاپا دبک کر بیٹھ جاتے ہیں اور ڈرامے میں وقفے کا انتظار کرتے ہیں، خُدا خُدا کر کے ڈرامے میں کمرشل بریک آتا ہےتو ماما بھاگ کر کچن میں جاتی ہیں اور کھانا لاکر شوہر کے سامنے یُوں رکھتی ہیں جیسے وہ پیش نہ کیا جارہا ہو بلکہ اُسے ڈالا جارہا ہو اور شوہر کے ہاتھ سے ٹی وی کا ریموٹ جسے شوہر نے بیوی کی غیر موجودگی میں اُٹھا لیا ہوتا ہےواپس جھپٹ لیتی ہیں اور بولتی ہیں ابھی تو بڑا بھوک بھوک کا شور مچایا ہُوا تھا اور اب خبریں سُننے کی پڑ گئی ہے چُپ کر کے کھانا کھاؤ اور اگر پاپا کھانے کے بعد ٹی وی کا ریموٹ دوبارہ مانگتے ہیں تو ماما کہتی ہیں کہ چُپ کر کے جا کر سو جائیں اور یُوں پاپا حضرات دُم دبا کر سونے چلے جاتے ہیں۔
آج کے پاپا کی حثیت اے ٹی ایم مشین سے زیادہ نہیں رہ گئی اور میں یہ سوچتا ہُوں کہ کہاں وہ کل
کے ابا جان اور کہاں آج کے پاپا، زمانہ کیا سے کیا ہوگیا۔

٭٭٭٭٭٭٭

منگل، 24 مئی، 2022

باغ والوں کا قصہ ۔

٭بلوچستان میں ژوب کے مقام پر شیرانی چلغوزے کے جنگلات میں خوفناک آگ نے تباہی مچارکھی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ دنیا کے سب سے بڑے چلغوزے کے جنگلات ہیں۔ 

ذرا سوچئے کہ ایک طرف دنیا کے سب سے بڑی چلغوزے کے جنگلات تو دوسری طرف پاکستانیوں کو چلغوزے کے ایک ایک دانے کو ترسا دیا گیا۔ 7 ہزار روپے کلو چلغوزہ اور ان جنگلات میں چلغوزوں کی فصل کی ایسے حفاظت و نگرانی کی جاتی ہے کہ ایک چلغوزہ بھی باہر نہ نکلنے پائے۔ جیسے سونے اور ہیروں کی کان میں نگرانی کی جاتی ہے۔ ( بشکریہ ثنا اللہ احسن ) 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“میرا نظریہ آگ کے معاملے میں ذرا جدا ہے یہ مسئلہ کیا ہے ؟
آپ کی سمجھ میں نہیں آرہی!
القرآن الکریم میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ،
 کچھ بھائیوں کو وراثت میں ایک ہرا بھرا میوں سے لدا باغ ملا۔ انکا باپ اس باغ سے میوہ اتارنے کے بعد سب سے پہلے ناداروں اور ضرورت مندوں کو میوہ دیتا تھا ۔۔ جب ان بھائیوں کے پاس باغ آیا تو یہ آپس میں کہنے ہمارا باپ تو بے وقوفی کرتا تھا کہ آدھا باغ خیرات کردیتا تھا تو بھائیوں ہم صبح سے پہلے حاجت مندوں کے آنے سے پہلے ہی تمام میوہ اتار لیں گیں اور زیادہ منافع کمائیں گیں ۔۔۔ مگر جب وہ صبح باغ میں پہنچے تو کہنے لگے کہ شاید ہم راستہ بھول گئے ہیں یا ہمارے نصیب ہی خراب ہوگئے کہ جہاں باغ تھا اب وہاں راکھ اور مٹی اڑ رہی ہے ۔۔ اللّٰہ تعالٰی ایسے نصیحت کرتا ہے تاکہ تم لوگ سمجھو ۔۔۔
 اپنے ملک میں بلکہ اپنے ہی قوم اور علاقے کے غرباء کو تم جنگل سے لکڑی بھی نہ اٹھانے دو اور تمہارے سردار اور ظالم لوگ دس ہزار روپے کلو چلغوزہ ایکسپورٹ کرکے اربوں روپے بناو؟
 تو اللّٰہ  کا نظام عدل کچھ تو سمجھائے گا تمہیں؟
۔ مگر ابھی بھی نہیں سمجھ رہے اور ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کررہے ہو ۔۔ یعنی آپس میں پھوٹ پڑ گئی ۔۔ یعنی عذاب پر عذاب ۔۔ توبہ استغفر اللہ العظیم وبحمدہ”
٭٭٭٭
کیا ہم یہ دعا مانگ سکتے ہیں  ۔
صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ
دوسرے وہ جن پر تیرا خصوصی غضب  (بطور آزمائش )  ہوا اور وہ  خصوصی طور پر نہیں بھٹکے   ( توبہ کرکے واپس  صراط المستقیم پر آگئے  ، کیوں کہ اُن میں اوسط فہم کا عبداللہ تھا )
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہفتہ، 16 اپریل، 2022

خرگوش کو بیماریاں کیسے لگتی ہیں ؟

مارچ  2021کو بوڑھے کی پوتی نے بنیز کی فرمائش کی تو بوڑھا 4 بنیز لے آیا ایک چیکو کے لئے ، ایک برفی کے لیئے ، ایک لڈو کے لئے ، ایک چم چم کے لئے ۔ ایک بنی فالتو ہو گیا وہ گھر میں آنے والے بچوں کے لئے ۔ 

جولائی تھ صرف 2 بنیز بچے ، ایک کو چیل لے گئی اور کمبخت نے ہمارے ہی سفیدے کے درخت پر بیٹھ کر اُس نے کھایا۔ سب نے شور مچایا دادا بابا اُسے ماریں ۔ دادا بابا نے کہا کہ اُسے بھی برگر کھانے کا شوق ہے ۔ چلو ہم اور لے آئیں گے۔ اور ایک کو بلی اُٹاھ کر لے گئی، کڑھائی روسٹ بنانے کے لئے ۔ یوں دو بچ گئے کیوں کہ دادا بابا نے اُن کی حفاظت کے لئے اُنہیں زنداں میں ڈال دیا ۔ یوں وہ بلوغت کی عمر کو پہنچ گئے ۔ لیکن دونوں فی میل  خرگوش تھیں ۔اُن کے لئے ایک میل خرگوش بوڑھا  لایا گیا        ۔ یوں ایک فی میل اور میل نے مل کر  پُل کے نیچے  گریٹ سکیپ  کے لئے سرنگ بنائی۔جو لان  کی دیوار سے ساتھ کم از کم 4 فٹ تھی ۔ اُن بے چاروں کے پاس نہ گینتی تھی اور نہ بیلچہ محنت سے سرنگ کھودنے کے بعداُن کے ناخن ٹوٹے اور سامنے والے پنجے زخمی ہوگئے ۔


بڑھیا نے اعلان کیا کہ ہمارے لان میں فنگس ہے جو اِن دونوں کو لگ چکی ہے ، برفی دور رہے ، اِن کا علاج کیا جائے ۔

بوڑھا ، کالج روڈ کی طرف دوڑا جہاں ڈاکٹر ہیں ۔ دو یا تین ڈاکٹر ہیں دو نے کہا کہ مریض کو لا کر دکھاؤ ۔ بوڑھا مریض کیسے لاتا ؟
ایک خرگوش  پیچنے والے  سے  پوچھا ۔ اُس نے کہا ٹہرو ، میں دوائی لا کر دیتا ہوں ۔
کوئی 10 منٹ بعد وہ ایک بوتل میں دوائی لایا اور کہا کہ اِس کا چوتھا حصہ انجیکشن سے دوائی لگا دو اور ایک کریم  یا سرسوں کا تیل  خارش والی جگہ پر  لگا دیں ۔ ٹھیک ہو جائیں گے جوان کو 400 روپے دیئے ۔ 

خرگوشوں کو انجیکشن لگایا اور سرسوں کا تیل بھی لیکن وہ دونوں فوت ہو گئے ۔ گھریلو جانوروں کے قبرستان میں اُنہیں دفن کر دیا ۔

مزید چار خرگوش برفی کی ڈیمانڈ پر آگئے مگر یہ کلر فل تھے۔ یہ بھی لان اور ڈک و چکن فارم میں ، دوڑتے پھرتے ۔ اور  برفی کے دوست بن گئے ۔ ایک دن گرے رنگ کا خرگوش نہیں ملا ۔ بوڑھا سمجھا کہ وہ بلی کا شکار ہو گیا ہے ۔ لیکن وہ تو دوڑنے اور جُل دینے کا اتنا ماہر تھا ، وہ کسی خونخوار بلی کے ہتھے کیسے چڑھ سکتا ہے۔ انکوائری شروع ہوئی بوڑھے نے اِن سب کے لئے گملا ھاؤس بنایا ، جو کسی بھی ہنگالی صورتِ حال کے لئے بہترین  پناہ گا تھا ۔ اوپرپڑی ہوئی چادریں ہٹائیں ۔تو موصوف کو بیٹھا پایا ۔ بغیر کسی حرکت کے ۔ 

معائینہ کیا گیا ۔ شاید بے چارہ ڈر کے چھپا اور کارڈیک اریسٹ  یا ہیمرج سے کوچ کر گیا ۔ نہ کان ڈھلکے نہ پوزیشن تبدیل ہوئی ، ربیتانو سے پوچھا ۔ 

کیا خرگوش بھی مراقبہ کرتے ہوئے ، اگلے جہان کوچ کر جاتے ہیں ؟

جناب عامر اقبال کوئٹہ نے جواب دیا ۔ پہنچا ہوا لگتا ہے لہذا مراقبے میں اٹھا لیا گیا ۔
بوڑھے ، بڑھیا اوربرفی نے ، اِس اللہ والے کو تزک و احتشام سے سپرد خاک کیا ۔

خرگوشنی نے چار بچے دیئے ، چاروں یکے بعد دیگرے مر گئے ،  بوڑھا اللہ کی رضا سمجھ کر اُن کو دفن کرتا گیا ۔ پھر اُسی خرگوشنی نے مزید چار بچے دیئے وہ بھی اللہ کی رضا سے اُس کی امان میں چلے گئے ۔

پھر ایک اور خرگوش  صبح شبنم سے بھری ہری گھاس پر بے حس و حرکت پایا گیا ۔تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ پیٹ پھولا ہوا تھا ۔ اور صدمے کی بات یہ کہ ۔ اپمورٹڈ نیوزی لینڈ بنی تھا جو امجد ثانی صاحب نے رائے ونڈ سے بھجوایا تھا۔

بوڑھے نے خرگوشوں کو آزاد چھوڑا ہوا تھا ۔ وہ اپنا چارہ بھی کھاتے، کبوتروں کا دانہ بھی ، مرغیوں کی غذا اور ونڈا بھی ۔ ایک ربیتانو نے بتایا کہ خرگوش بھوک سے نہیں مرتا کھا کھا کر مرتا ہے ۔چارہ سارا دن کھاتا رہے نہیں مرے گا بھوسہ سارا دن کھاتا رہے نہیں مرے گا اور اگر مرا تودانا کھا کھا کر اُس کا پیٹ پھول جائے گا اور آنتیں بندہونے سے اپھارہ ہو جائے گا۔ دست لگ جائیں گے ۔ 

پیٹ کے کیڑے ، جسم کی خارش اور سانس کی بیماری ۔خرگوش کی موت کی وجہ ہیں ۔

کسی بھی جان دار میں بیماریوں کے داخلے کے راستے ، حواسِ خمسہ کے اندرونی راستے  دماغ میں معلومات جمع کرتے ہیں  ۔ جن آنکھ، کان ، ناک ، منہ اور جلد ہیں۔اور یوں ہم اِن بیماروں کو آسانی سے  کیٹیگرائزد کر سکتے ہیں ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اگلا مضمون:خرگوش کی 8 عام بیماریاں۔

٭٭٭٭٭٭٭جاری ٭٭٭٭٭٭

   مزید مضامین پڑھنے کے لئے جائیں ۔

 فہرست ۔ خرگوشیات  

 

 

ہفتہ، 9 اپریل، 2022

پاکستان خرگوش کیسے پالے جائیں ؟

اُفق  کے پار بسنے والے خرگوش پال دوستو ۔

کسی بھی  ماں سے پیدا ہونے والے جان دار کی طرح   خرگوش کے بچے جب پیدا ہوتے ہیں تو ان کے کان اور آنکھیں بند ہوتی ہیں۔ جو کہ تقریباً  دس  دن بعد کھلتی ہیں۔اِس دوران، وہ ماں کے رحم و کرم پر پلتے ہیں۔ ماں صبح اور شام دوددھ پلاتی ہے ۔  اُن کے بال بڑھنا شروع ہوتے  ہیں۔

میرے گھر ، پلنے والی اِس مادہ خرگوش کو میں ، کالج روڈ سے چار دیگر جوڑے 22 اکتوبر کو  لایا تھا ۔

اِس نے پہلے اِسی رنگت کے چار بچے ، خود بنائی ہوئی سرنگ میں دیئے ۔ جس کا انکشاف ، اِس بوڑھے کو   10 مارچ 2022 کی رات کو ہوا ۔جب اُس نے  21:00 بجے کسی جانور کو  جھاڑیوں کی طرف بھاگتے دیکھا ۔  اگلی صبح بھتیجے نے بتایا ، کہ اِس  بل میں خرگوش کے بچے ہیں ۔ 15 دن پہلے  تین خرگوش ۔ غائب ہوگئے ، یہی خیال تھا کہ بلی یا نیولا کھا گیا ۔یہ  شائد اُن کے بچے ہوں ۔ 

11 مارچ کو ریسکیو آپریشن ہوا ، بچوں کو سرنگ سے نکالا اور پنجرے میں بند کردیا ۔ سرنگ میں ایک پائپ لگا کر اُس کو بند کردیا ۔ تاکہ اگر کوئی اور خرگوشنی اُسے استعمال کرے ۔ گھنٹے بعد بوڑھے نے ، ایک خرگوش مادہ کو پریشانی کے عالم میں شام کو سرنگ کا چکر لگاتے دیکھا تو خیال آیا کہیں ، اِس کے بچے تو نہیں ، پچکارا، پاس آئی تو اُٹھا کر بچوں کے پنجرے میں ڈالا بچے ، ماں پر ٹوٹ پڑے۔

 اگلے دن خرگوشنی نے چار بچے اور جنم دے دیئے ، پہلے والے بچوں کو ساتھ والے پنجرے میں ڈالا ۔ اور بچوں کے لئے  ڈبے کا انتظام کیا ۔ یہ بوڑھے کے پاس  ، خرگوش کے بچوں کی پنجرے میں  پہلی ولادت تھی  ۔

خرگوشنی  اپنی کھودی ہوئی سرنگ  کو بند کرکے  سبزہ کھانے نکل جاتی ہے ۔ اور اب پنجروں میں پلنے والے بچے  15 دن بعد سبزہ کھانا شروع  کر دیا  ۔خرگوشنی  کیوں کہ سرنگ  کا منہ بند رکھتی ۔لہذا سرنگ میں رہنے والے بچوں کا   30 دن بعدانکشاف ہوا ۔ 

وہ  رات کو اپنی   سرنگ  سے نکلتے ہیں اور نزدیک اُگا ہوا ،  سبزہ   کھاتے اور ذرا سی آہٹ پر وہ دوڑکر سرنگ میں داخل ہو جاتے  ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا مکمل انحصارماں پیاری  ماں پر ہوتا ہے!

خرگوش کے بچے  15دن بعد سبزہ کھانا شروع کر دیتے ہیں ۔ لہذا 30 دن بعد جب دوسرے بچے پیدا ہوتے ہیں ، تو وہ خود بخود ماں کا دودھ چھوڑ دیتے ہیں ۔خرگوش کے بنیز کو بالغ ہو کر نئی نسل کو پروان چڑھانے میں، جسم اور جسامت  کے حساب سے   ساڑھے تین سے نو ماہ لگتے ہیں  ۔ اوراِس عرصے میں  ، خرگوشنی ہر ماہ 4 سے 6  بچے ہر  ولادت  کے حساب سے ،  مزید 24 بچوں کو جنم دے دیتی ہے۔ ایک خرگوشنی  4 سے 12 بچوں کو ایک جھول میں جنم دیتی ہے ۔ ہم نے سمجھانے کے لئے 6 بچوں کا حساب فی حمل رکھا ہے ۔

نیدر لینڈ ،پولش، ڈارف،  ڈچ اور ہوٹوٹ  چھوٹے سائز کے خرگوش ساڑھے تین سے 4 ماہ میں بالغ ہو جاتے ہیں ۔ بالغ ہونے کا مطلب   ، زچگی کے عمل سے گزرنا ۔ درمیانے سائز کے خرگوش  4 سے ساڑھے پانچ ماہ لیتے ہیں اور  جینٹ ۔(giant) سائز کے خرگوش بالغ ہونے میں   6 سے 9 ماہ لیتے ہیں۔ یہ بات یاد رہے کہ خرگوشنی کو حیض نہیں آتے ، نر خرگوش سے ملاپ کے بعد ،اُس کی بیضہ سے ترائب ریلیز ہوتے ہیں ، جو 3 سے لے کر 11 تک ہوسکتے ہیں ۔ 

 جناب اگر نر خرگوش   (بازار سے خریدا ہوا ) بوڑھا نہیں ہوا ، تو وہ مہینے میں تیس خرگوشنیوں کو ماں بننے کے عمل سے گذارتا ہے اور ایک خرگوشنی  ، بچے دینے کے فوراً بعد  خرگوش حاملہ کر دیتا ہے ۔اگر آپ نے 30 خرگوشنیاں اور ایک خرگوش رکھا ہے  اور وہ نوجوان راسپوتین، روزانہ کے حساب سے ۔۔ ۔ ۔
چلیں  حساب کرتے ہیں :۔

٭ - ایک خرگوشنی کی حمل کی مدت30 دن  ہے ، زچگی کے بعد وہ   - اپنے بچوں کو دودھ پلائے گی  ۔ اور 10 دن بعد مدوبارہ حاملہ  کروائی جائے گی  ، ایک سال میں 52 ہفتے ہوتے ہیں ، 

 لہذا،  10 بار وہ زچگی کے عمل سے گذاری جائے گی ۔اگر وہ ایک حمل میں 6 بچے دے تو سال کے 150بچے ہوجائیں گے ۔جن میں سے پہلا بیچ 6 ماہ یعنی 230دن کے بعد  بچے دے  گا ۔ جن میں سے کم از کم  ہر بیچ میں تین خرگوشنیاں اور تین خرگوش فرض کئے گئے ہیں ۔تو اِس چارٹ کے مطابق :۔ 

  اپنے ہی باپ یا بھائیوں سے حاملہ ہونے والی خرگوشنیاں ۔ اپنے ماں اور باپ کی خالص نسل کو برقرار رکھتے ہوئے، 230سے 364  دن تک 90بچے دیں گی اور 60 بچے اُن کی ماں جنم دے گی ، یوں 360 دن بعد آپ کے پاس  ایک جوڑے سے ،کم از کم 150مقامی خرگوش مزید ہوجائیں گے۔

اگر حالات جوں کے توں رہے ۔

لیکن خرگوش پال (ربیتانو) دوستو ۔

یہ ذہن میں لازمی رکھیں کہ  حالات کو بیماریاں سرے سے تبدیل کر دیتی ہیں!     ۔

لہذا اِس بیان کو صرف خرگوش فارمر کا  بیان  سمجھیں ۔


٭٭٭٭جاری ٭٭٭٭

  مزید مضامین

 فہرست ۔ خرگوشیات  

 

بدھ، 6 اپریل، 2022

ربّ العالمین کون ہے ؟

ربّ العالمین کون ہے ؟  اُس کا ہماری زندگی سے کیا تعلق ہے ؟     
ایسے کئی سوالات ہیں جن کے جوابات ، ہر 
صاحبِ عقل و دانش ، فہم و فکر ، شعور و تدبّر ۔کے ذہن میں مچلتے ہیں ۔
موجودہ سائینس نے کائینات کی ہر شئے ، بشمول انسان سب کو آٹومیٹڈ نظام میں ڈال دیا ہے اور ایسا ہی ہے ۔ انسان کے سامنے ہر شئے خودکار طریقے سے وجود میں آرہی ہے ۔ اور یہ  انسانی فہم 100 فیصد درست ہے ۔ 

اِس آٹومیٹڈ نظام  کی ابتداء کیسے ہوئی ؟
سائینس  یہ بتانے سے قاصر ہے ۔ اُس کے نزدیک  یہ سب غالباً کسی بِگ بینگ کا نتیجہ ہے جو ارب ھا سال پہلے  ہوا   اور یہ کائینات وجود میں آئی ۔ اور خودکار طریقے سے  آتی چلی جارہی ہے ۔
اِس خود کار طریقے کا  مؤجد کون ہے ؟
سائینس  یہ بھی  بتانے سے قاصر ہے ۔لیکن وہ اصولِ واحد  (Single Principle) کو مانتی ہے ، جس کی بنیاد    کائینات کی تمام تخلیقات ہیں ۔وہ اصول واحد، سائنس کے مطابق ، ایک یا ایک سے زیادہ اشیاء کے ملاپ کے کائینات کی چیزوں کو تخلیق کئے جارہا ہے ۔اور انسانی نظروں سے اوجھل(غائب) ہے   اور ابھی تک کسی انسانی آنکھ نے اُسے دیکھنے کا دعویٰ نہیں کیا ۔

لہذا تمام سائنس پر  یقین کرنے والے لوگ   ، غیبی قوتِ تخلیق پر ایمان رکھتے ہیں ۔ اور وہ تمام جدید ترین انسانی تخلیق کردہ اشیاء جو اُن کی زندگی میں صدیوں سے شامل ہو رہی ہیں وہ اُن کے خالق سے نا آشنا ء ہیں ۔ لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ کسی انسان کی تخلیق نہیں ، بلکہ مشینوں کی ہے ۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں  کہ یہ مشین بھی کسی انسانی ہاتھ کی ایجاد ہے ۔ 

انسان کی زندگی کو آسان بنانے کے لئے جو بھی ایجادات ہوئی ہیں وہ سب ، ایجاد کرنے والے انسان نے ، اپنے ارد گرد کی اشیاء  کی مشاہدے کے بعد  اتفاقاً نئی شئے  غیب سے ظہور میں آنے کے بعد عقل و دانش ، فہم و فکر ، شعور و تدبّر کے بعد اُس کی مشابہ چیز اپنے تخیّل میں اَخذکی اور اِسے انسانوں کو بتایا  کہ ، انسانی بھلائی کے لئے ،ایسا بھی ہو سکتا ہے ۔ اُسے عملاً ڈھالا جسے اُس کے ارد گرد موجود انسانوں نے دیکھا ۔

اگلے دانشمند انسان نے اپنے صلاحیتوں کی بنیاد پر اُسے ایجاد کر لیا ۔اِس طرح کئی اشیاء ہیں جو انسان نے حادثاتی طور پر دریافت کیں ۔ جس کو سن کر ہم سب خوشی سے کہتے ہیں ۔

  واہ 

 صدیوں پہلے ایک ہماری طرح کے انسان نے  ، کلمہءِ تحسین بلند کیا ۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۔ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ۔

او ر خود کو  رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ  کالقب  یہ کہہ کر  دیا  ۔ 

 إِنَّ فِي هَذَا لَبَلَاغًا لِّقَوْمٍ عَابِدِينَ ۔ وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ۔ قُلْ إِنَّمَا يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَهَلْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ ۔ ۔  ۔

جس کو الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ    نے  صدق دل سے قبول کر لیا  کہ یہ انسانی نہیں بلکہ

  إِلَهٌ وَاحِدٌ۔ کی طرف سے وحی ہے ۔ جس سے اُن کا پہلے سے کوئی تعارف نہیں ہے ۔  چنانچہ  الَّذِينَ ،    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سےمِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ   تک يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ     بن گئے   ۔  

کیا آپ بھی اِن میں شامل ہیں ؟؟ 

 

پڑھیں : آٹومیٹڈ نظام   نظامِ فطرت-

 ٭٭٭٭

 
 


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔