Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 10 فروری، 2025

گوادر اور قاری حنیف مکرانی بلوچ

  دوسال پہلے جب میں گوادر گیا تو وٹس ایپ فرینڈ قاری حنیف مکرانی بلوچ سے ملا قات ۔ کوسٹ گارڈ میں میں ہوئی ۔ وہاں قاری صاحب کی یوری جنم کنڈلی پوچھی کیوں کہ بلوچوں کی پسماندگی اور کوسٹ گارڈ کی اپنے روزگار کے لئے ، ایرانی پیٹرول کا کاروبار کرنے والے بلوچوں سے زیادتی ۔ کا وہ بلوچستان ڈویژن تربت کا ملازم ہونے کے باوجود کے لئے وٹس ایپ پر آواز بلند کرتا تھا ۔
 میں اُسے گوادر کا نیا ائرپورٹ دکھانے اور وہاں بلوچی مزدوروں کی بہتر ہوتی حالت دکھانے کے لئے لے گیا ۔ وہاں بلوچی مزدوروں کے ساتھ سرائیکی بیلٹ کے پنجابی بلوچ بھی لیبر کا کام کر رہے تھے ۔ جس پر اُسے شکوہ تھا کہ یہ پنجابی یہاں کیوں ہیں؟
میں نے کہا یہی سوال تو سندھ اور پنجاب والے بھی کرتے ہیں کہ کراچی اور لاہور میں بلوچوں کا کیا کام ؟
 لیکن اُس کے ذہن میں تعصب کا ایک ہی مکرانی بلوچ کیڑا تھا ۔ جسے نکالنا بہت مشکل تھا ۔
 قاری حنیف گرمیوں کی چھٹیوں میں اسلام آباد اور دیگر علاقوں میں ضرور آتا ۔ میں نے اُسے قائل کیا کہ وہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی ایڈ کر لے ۔ 
بولا نہیں سر میں نے وفاق المدارس سے ماسٹر کی ڈگری لی ہوئی ہے ۔ میں قاری القرآن ہوں مجھے بی ایڈ کرنے کی کیا  ضرورت ؟
مجھے کہا سر میری کوئٹہ پوسٹنگ کروادیں،   میں وہاں جانا چاہتا ہوں، میں نے کہا کوشش کروں گا پر وعدہ نہیں کرتا۔ 
خیر میں ہفتہ رہ کر واپس آگیا ۔ کوئٹہ میں میں نے بات کی تو اُس نے بتایا ۔ میجر صاحب، وقاق المدارس کے بہت فارغ التحصیل یہاں مسجدوں کی حد تک ہیں، چند قاری القرآن کی سیٹوں پر لوکل گورنمنٹ کے پرائمری سکولوں میں ملازم ہیں۔لہذابہت مشکل ہے اُسے بتائیں کہ عصری تعلیم ، حاصل کرے تو شائد وہ عام ٹیچر کی پوسٹ پر ٹرانسفر ہو جائے ،
میں نے قاری حنیف کو بتایا اور کہا کہ وہ بی ایڈ کرنے کی کوشش کرے  تو پھر آگے میں بتاؤں گا کہ کوئٹہ آنے کا کیا طریقہ اختیار کیا جائے ۔
قاری حنیف نے پچھلے سال بی ایڈ کے پہلے سمسٹر میں داخلہ لیا ، فیس کے لئے میری مدد مانگی  تو میں نے کہا ۔ وہ پیسے جمع کرے میں مدد کروں گا لیکن وہ ادھار ہوگا ۔ وہ مجھے واپس کرنا پڑیں گے ۔اُن نے بتایا کہ میں نے فیس جمع کر لی ہے بس توھڑے کم ہیں وہ  مجھے بھجوادیں یا میں آپ کو بھجوا دیتا ہوں آپ بھجوادیں ۔ میں نے کہا آپ فیس ادھار لے کر بھجواؤ مجھے رسید بھیجو تو میں رسید دیکھتے ہی آپ کو آپ کے بنک اکاؤنٹ میں بھجوا دوں گا ۔ اُس نے ایسا ہی کیا تو میں نے فوراً رقم بھجوا دی تاکہ وہ قرض کے بوجھ سے آزاد ہوجائے ، وہ ہر ماہ مجھے اپنی  تنخواہ سے  500 روپے بھجواتا۔ مجھے یقین ہوگیا کہ وہ سیریس ہے ، دوسرے سمسٹرمیں مجھ سے مدد مانگی میں نے بغیر واپسی کی شرط کے اُسے بھیج دی ۔ اُس نے مزید بچوں کو قائل کیا کہ وہ قائد اعظم یونیورسٹی سے میٹرک کا امتحان دیں ۔یوں گوادر میں ہم دونوں نے مل کر وٹس ایپ پر بچوں کی تعلیم کا پروگرام خصوصاً لڑکیوں کے لئے شروع کیا ۔ جس میں پہلےاُنہیں بذریعہ یو ٹیوب پانچویں کلاس سے اردو اور حساب کی تربیت شروع کی۔

٭- حمد - یہ گل کاریاں جس قدر ہیں جہاںمیں ۔
٭-  انگلیوں پر حساب سیکھیں   ۔  

 ٭٭٭٭٭٭واپس٭٭٭٭٭٭

بدھ، 1 جنوری، 2025

فہرست ۔ کرائم ۔سائبر کرائم اور ادارے

کرائم (جرم) کے کرموں نے انٹر نیٹ کی ایجادکے بعد سائبر کرائم کو جنم لیا ۔کہتے ہیں کہ لالچ کا سکّہ صرف مجرم ہی لے کر پھرتا ہے جو اُن انسانوں کو کےسامنے ڈالتا ہے جو اپنی روزمرہ کی کمائی کو اُس سکّے کے پھیر میں پڑ کر دوگنا اور چوگنا کرنے کے پھیر میں  پڑ کر اپنی فاضل کمائی(قرض یا محنت) سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ 
اِس سلسلے میں ریٹائرمنٹ کے بعد یکم جون 2000 میں بزنس میں قدم رکھنے کے بعد ، کرائم کے کھلاڑیوں نے قدم رکھا اور پھر سائبر کرائم کے چکرباز میدان میں کودے ۔ کئی مضامین لکھے ۔جن میں جگ بیتی اور آپ بیتی دونوں شامل ہیں ۔

 ٭٭٭فہرستِ مضامین برائے  کرائم اور سائبر کرائم ٭٭٭ 

 ادارے ۔
 

 



پیر، 30 دسمبر، 2024

پی ٹو پی (peer-to-peer)

کیا آپ کو معلوم ہے کہ جب آپس میں کوئی لین دین  کرتے ہیں تو وہ کمپیوٹر کی لینگوئج میں   پی ٹو پی (پییر ٹو  پییر  )کہلاتا ہے ۔یہ مکمل غیر مرکزی  (ڈی سینٹرالائزڈ)نظام ہوتا ہے ۔ جس میں ایک کمپیوٹر سے دوسرے کمپیوٹر کے درمیان مختلف ڈیٹا شیئر کیاجاتا ہے۔ جن میں فائلیں ۔آڈیو اور وڈیو  پیغامات ۔ایپلیکیشنز ۔ کرپٹو کرنسی وغیرہ  بغیر مرکزی سرور سسٹم   بھیجی جاتی ہیں ۔

کرپٹو کرنسی کی صورت میں کسی بنک کو شامل کئے بغیر آپ کرپٹو کرنسی پی ٹو پی (پییر ٹو  پییر  ) سسٹم سے بھجوا سکتے ہیں اور منگوابھی سکتے ہیں ۔یہ نہایت قابلِ اعتماد ذریعہ ہے کرپٹو کرنسی آپ اُس کے متبادل ، یوایس ڈالر ، یورو اور فیاٹ کرنسی (مقامی کرنسی ) سے خرید سکتے ہو ۔

 "Fiat" isn't actually an abbreviation; it's a Latin word that means "let it be done" or "it shall be." In the context of currency, it refers to money that has value because a government maintains it and people have faith in its value. Examples include the US Dollar (USD), Euro (EUR), and Pakistani Rupee (PKR).   

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


منگل، 24 دسمبر، 2024

فارسیج (Forsage ) کیا ہے؟

فارسیج میں بذریعہ انٹر نیٹ ایسا پروگرام بنایا گیا ہے جس میں ہر ممبر بلاک چین ٹیکنالوجی سے ایک دوسرے سے منسلک ہے ۔وہ اِس چین سے نہیں نکالا جاسکتا جب تک وہ خود نہ نکلنا چاہے ۔  شامل ہونے کے بعد ، اُس کو ایک شناختی نمبر دیا جاتا ہے  ۔ ہے جوآئی ڈی نمبر 1  ۔یعنی   یہ پروگرام شروع کرنے والے سے لےکر کر پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ۔ ممبروں کے نیٹ ور ک پر مشتمل ہے ۔ جب میں (راقم الحروف) اِس پروگرام میں شامل ہوا تو مجھے آئی ڈی نمبر 1848748  ۔  دیا گیا۔ جو گوگل سے دیکھا جاسکتا ہے ۔

فارسیج پروگرام میں شامل ہونے سے پہلے آپ کواپنے  ٹچ (اینورائیڈ)موبائل  پر ، آن لائن اپنا کرپٹو کوائن   والٹ (بٹوہ)   ٹرسٹ والٹ  یا ٹوکن پاکٹ،موبائل کے پلے سٹور  سے کھولنا پڑے گا۔
٭٭٭٭٭٭٭

اب اِس   ٹرسٹ والٹ  یا ٹوکن پاکٹ، سے، فارسیج  پروگرام میں شامل کرنے والے دوست   سے یا کسی اور قابل اعتماد  ساتھی سے جو بنانس  کرپٹو کوائن کا اکاونٹ  رکھتا ہے  آپ کو اپنی مقامی کرنسی میں   10 ڈالر کے برابر  10 کوائن (یو ایس ڈی ٹی  یا بی این بی )  خرید کر ڈالیں گے ۔اور پروگرام میں شامل کرنے والے دوست کو اطلاع دیں گے ۔

وہ آپ کو فارسیج کے پروگرام میں شامل کرنے کے لئے اپنا لنک وٹس ایپ پر بھیجے گا  ۔اور آپ لنک سے فارسیج کے پروگرام   میں شامل ہونے کا طریق کار بتائے گا۔ اور آپ کو ایک ٹیم جس کے ممبر فرض کریں ۔مسٹر اے ، مسٹر بی اور آپ مسٹر سی ہوں گے ۔

  ٭٭٭٭٭٭٭

اب آپ کو مسٹر اے یا ، مسٹر بی آپ اپنی ٹیم کا ممبر بنانے کے لئے آپ کو فارسیج پروگرام میں شامل کرے گا ۔جوں ہی آپ    ٹرسٹ والٹ  یا ٹوکن پاکٹ کو کنیکٹ کریں گے ۔ آپ کی رقم 10 ڈالر کے برابر  10 کوائن (یو ایس ڈی ٹی  یا بی این بی ) کوائن ۔مسٹر اے اور    مسٹر بی  کو چلے جائیں گے۔ آپ کا والٹ خالی ہو جائے گا ۔

اب آپ لیول -1 پر ہیں ۔  اِس کو بھرنے کے لئےآپ کو6 ممبروں کو اپنی ٹیم  X3میں شامل کروانا پڑے گا ۔جن کے  25 ڈالرمسٹر سی  کے اکاؤنٹ میں آجائیں گے ۔ اور باقی 25 ڈالر مسٹر بی  کو چلے جائیں گے ۔

چھٹے ممبر کے 5 ڈالرمسٹر اے  کو جائیں گے اور 5 ڈالرمسٹر اے   کو شامل کروانے والے کو چلے جائیں گے ۔یہ اُن کی نان ورکنگ ارننگ ہے ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭    

اب آپ کو6 ممبروں کو،  اپنے اپنے پروگرام کو آگے چلانے کے لئے 6 ممبروں کو شامل کروانا پڑے گا ۔ جن سے ملنے والی رقم ۔ اِن 5 ممبروں کی آدھی رقم اِن کو ملے گی اور آدھی آپ کو ۔

نان ورکنگ آمدنی آپ کی ذاتی محنت کا انعام ہے ۔

 اگر کسی ایک  ممبر یا سب ممبروں نےاپنا لیول مزید 25 ڈالر فورسیج میں جمع کرواکر بڑھا لیا تو، آپ کی آئیندہ اُن ممبروں سے نان ورکنگ ارننگ نہیں ملے گی ۔

  کیا آپ جانتے ہیں ، کہ آپ میں اپنے دوستوں کو قائل کرنے کا ہنر موجود ہے ؟

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ مزید ممبر بنانے کی قابلیت رکھتے ہیں ۔ کہ اُن کو فارسیج سے  رقوم ملنے پر پورا اعتماد ہو تو وہ اپنا لیول جلدی  بڑھاتے جائیں ۔ ورنہ آرام سے کام کریں ، لیکن اِس کے لئے آپ کے    ٹرسٹ والٹ  یا ٹوکن پاکٹ میں۔ منافع سے ملنے والی رقم موجود ہو۔ 

    ٹرسٹ والٹ  یا ٹوکن پاکٹ یں موجود رقم ۔ کسی بھی ممبر کو دے کر اُس سے پاکستانی روپوں میں لے سکتے ہیں ۔

مُفت کی رقم کمانے کے بجائے اپنے آرٹیفیشل  ذھانت کے  ہنر سے  بذریعہ موبائل رقم کمائیں ۔ بیج بوئیں، پھل کھائیں اور کھلائیں۔

۔
فارسیج اپلیکیشن میں جائن کرنے سے پہلے یہ جوائن کرنے کے  لیے سب سے پہلے آپکو 3 ایپلیکیشن (Play Store) سے ڈاؤن لوڈ کرنی ہے

(1) Zoom Meeting App👇

(2) Trust Wallet👇
(3) Google Meet 👇

یہ 3 ایپلیکیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد اسکرین شاٹ سینڈ کردیں۔ اس کے بعد ہم آپ کو مزید تفصیلات سینڈ کریں۔آپ ہمارے وٹس ایپ لنک بیداریءِ فکر کے ذریعے گروپ میں شامل ہو سکتے ہیں   🤝

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

٭- بغیر سرمایہ کاری کے بائنانس پر روزانہ 20$ کمائیں۔

اتوار، 15 دسمبر، 2024

پیاس اور عمر کا تعین

  جسم میں داخل ہونے والے پانی کا درجہ حرارت انسان کی عمر کا تعین کرتا ہے۔

 دنیا کو چونکا دینے والی طبی دریافت: پیاس! درد اور قبل از وقت موت کا مطلب؟ 

 پیٹ کے السر کی وجہ سے پیٹ کے شدید درد کو دور کرنے کے لیے آپ کو صرف دو گلاس گرم/گرم پانی کی ضرورت ہے۔ اس نے 3000 سے زیادہ مریضوں کو صرف گرم پانی اور بغیر دوا سے ٹھیک کیا۔ یہ کتاب مصنف کے کئی دہائیوں کے تحقیقی نتائج کا نچوڑہے۔

٭۔اِس   نے دریافت کیا کہ نیم گرم/گرم پانی شفا بخش سکتا ہے۔

 دل کی بیماری اور فالج: چونکہ نیم گرم/گرم پانی خون کو پتلا کر سکتا ہے، یہ مؤثر طریقے سے قلبی اور دماغی رکاوٹ کو روک سکتا ہے۔
آسٹیوپوروسس: کیونکہ نیم گرم/گرم پانی بڑھتی ہوئی ہڈیوں کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ 
 لیوکیمیا اور لیمفوما: چونکہ نیم گرم/گرم پانی خلیوں میں آکسیجن پہنچا سکتا ہے، اس لیے کینسر کے خلیے  میں آکسیجن  نہیں  ہوتی ۔
ہائی بلڈ پریشر: کیونکہ نیم  گرم/گرم پانی بہترین قدرتی موتر آور ہے۔
ذیابیطس: کیونکہ  نیم گرم/گرم پانی جسم میں ٹرپٹوفن کی مقدار کو بڑھا سکتا ہے۔
بے خوابی: کیونکہ گرم پانی نیند کو منظم کرنے والا قدرتی مادہ میلاٹونن پیدا کر سکتا ہے۔
ڈپریشن: کیونکہ گرم پانی جسم کو قدرتی طریقے سے سیروٹونن کی سپلائی بڑھانے دیتا ہے۔

٭- لہذا، نیم گرم/گرم پانی پینے کے فوائد لوگوں میں پھیلائیں :۔

۔پانی پئیں، چائے نہیں، اپنی دن میں کئی بار پیئں  اور پیاس کے بغیر پیئں  ، دن میں کم از کم  دن میں 2~3 لیٹر ضرور پانی پئیں۔
۔   کاربونیٹیڈ مشروبات اور کافی کے بجائے سادہ پانی پینے کی کوشش کریں۔ 

۔ ماڈرن  لوگ جن میں اکثر ڈاکٹر بھی شامل ہیں، یہ نہیں سمجھتے کہ انسانی جسم میں ’’پانی‘‘ کا کردار کتنا اہم ہے۔
۔ دوائیں انسانی جسم میں بہتری تو لا سکتی ہیں  لیکن وہ انسانی جسم کی بڑھتی عمر کی بیماری کا علاج نہیں کر سکتیں۔ 
۔ہمیں اچانک احساس ہوگا کہ بہت سی بیماریوں کی وجہ صرف جسم میں پانی کی کمی ہے۔
۔جسم میں پانی کی کمی  جسمانی نظام انہظام کی  خرابی کا باعث بن کربہت سی بیماریوں کے پیدا ہونے کا باعث بنتی ہے۔
پانی زندگی کا ذریعہ ہے:۔
۔انسانی جسم میں پانی ذخیرہ کرنے کا ایک مکمل نظام موجود ہے۔
جو جسم کے وزن کا تقریباً 75 فیصد بنتا ہے۔جس کی تقسیم انسانی اعضاء کی اہمیت کی وجہ سے اُن میں خودکار قدرتی نظام کے سبب ہوتی ہے۔ جیسا کہ اگرجسم میں  پانی کی کسی وجہ سے عارضی کمی ہوجائے تو، دماغ اِس نظام کو سختی سے کنٹرول کرتا ہے۔ اور جسم  میں  توانائی پہنچانے والے غذائی اجزا  کوبذریعہ پانی تحلیل کرکے خون میں شامل کرواتا ہے ۔
     دماغ انسانی جسم کے وزن کا 1/50 حصہ بناتا ہے، لیکن یہ خون کی کل گردش کا 18%-20% حاصل کرتا ہے، اور پانی کا تناسب خون میں  ایک جیسا رھتاہے۔

جب جسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے، دماغ  ، پانی کی ترسیل کے نظام  کو سب سے پہلے اہم اعضاء کو یقینی بناتا ہے ، جب کہ دوسرے اعضاء  میں پانی کی کمی   سے دماغ کو سگنل  ملیں کہ ۔ پانی پیو ۔ پانی پیو اور پانی کی کمی کا احساس سب سے پہلے زبان کو ہو گا ۔

لوگ اِن کمی کو دور کرنے کے لئے    کاربونیٹیڈ مشروبات،  چائے اور کافی سے پیاس بجھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ جب کہ پیاس نہیں بجھتی۔جبکہ اُنہیں صرف سادہ پانی ہی پینا چاھیئے ۔

جسم کا درجہ نارمل حرارت37 ڈگری سنٹی گریڈ ہوتاہے۔انسانی جسم سے خارج ہونے والے پیشاب کا درجہ حرارت بھی37 ڈگری سنٹی گریڈ ہوتاہے۔جب ہم 0 ڈگری سنٹی گریڈ کا پانی اپنے معدے میں ڈالیں گے تو بالکل ایسا ہی ہوگا کہ آپ اپنے سر پر برفیلا پانی ڈالیں ۔
تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ٹھنڈا پانی آپ کے خون میں فوراً شامل ہو کر آپ کی پیاس بجھا سکتا ہے ؟
ہرگز نہیں یہ تو آپ کے معدے اور اُس کے ساتھ منسلک تلی کو نقصان پہنچائے گا ۔ معدہ اُس وقت تک اِس پانی کو آپ کے خون میں شامل نہیں کرے گا جب تک آپ پانی کا درجہ حرارت
37 ڈگری سنٹی گریڈ نہیں ہو جاتا ۔اور اِس کام کے لئے معدے کو گرودوں کی مدد درکار ہوتی ہے جواپنے اندر سےمعدے کے اندر 0 ڈگری سنٹی گریڈ  پانی کو 37 ڈگری سنٹی گریڈ پر لانے کے لئے "گردے" سے انسانی جوہر (یا اہم توانائی) نکالتا ہے ۔یوں آپ کے گردے کمزور ہوتےجائیں گے     ۔

اگر آپ کو ہمیشہ برف والا پانی پسند ہے، تو  یقین مانیں آپ کے گردے اپنے قدرتی وقت سے پہلے کمزور ہو جائیں گے  اور  آپ کی یادداشت کو متاثر ہو گی، اور  چند سالوں  میں  ہڈیوں کی کمزوری کی وجہ سے  وہیل چیئر کے پابند ہو جائیں گے ۔

  یوں آپ کے اپنے جسم میں بھیجے گئے پانی کا درجہ حرارت ،آپ کی عمر کا تعین کرتا ہے۔٭٭٭٭٭٭

مصنف: ڈاکٹر فریدون باتمان قلیج  ایرانی ڈاکٹر(1931-2004) جس نے انگلینڈ سے میڈئکل کی تعلیم حاصل کی اور ایران واپس آگیا ۔ جب شاہ کا تختہ الٹا گیا تو اِسے بھی قید کر دیا گیا جہاں یہ تہران کی ایک جیل میں 1979 سے 1982 تک رہا ، دوائیوں کی کم یا نہ ہونے کے سبب اِس نے پیٹ کے السر کا عام سادہ پانی سے قیدیوں کا علاج کیا ۔ جس کی وجہ سے اِن نے سادہ ، نیم گرم اور گرم پانی سے انسانی بیماریوں کے علاج میں کافی ریسرچ کی ۔قید سے رہائی کے بعد یہ امریکہ چلا گیا جہاں اِس نے شادی کی اس کے چار بچے ہیں دو لڑکے اور دو لڑکیاں - ارد شیر ، باربک ، کمیلا باتمان قلیج اور لیلا ۔ 2004 میں اِس کا انتقال نمونیا کے بگڑ جانے کی وجہ سے ہوا ۔
 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔