Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعہ، 3 جنوری، 2014

ماں باپ کے نقشِ قدم

 یہ تصویر دیکھ رہے ہیں؟
 اس میں بچہ کچھ سیکھ نہیں رہا.. وہ صرف نقل کر رہا ہے اور یہی وہ حقیقت ہے جسے اکثر ماں باپ پوری زندگی سمجھ نہیں پاتے۔ بچہ وہ نہیں بنتا جو آپ اسے کہتے ہیں۔بچہ وہ بنتا ہے جو وہ آپ کو کرتے ہوئے دیکھتا ہے۔
 کہتے ہیں ایک بدنام زمانہ ڈاکو تھا۔ اس کا نام سنتے ہی لوگ دروازے بند کر لیتے تھے۔ چوری، ڈکیتی، قتل۔ ظلم کی شاید ہی کوئی حد باقی چھوڑی ہو۔
 آخر ایک دن قانون نے اسے پکڑ لیا۔ عدالت میں مقدمہ چلا، جرم ثابت ہوئے اور جج نے پھانسی کا حکم سنا دیا۔ 
پھانسی سے پہلے حسبِ روایت پوچھا گیا: "تمہاری آخری خواہش کیا ہے؟"
 اس نے کہا: "میں اپنی ماں سے ملنا چاہتا ہوں۔"
 ماں آئی... لرزتے قدم... نم آنکھیں... اور دل میں شاید یہ امید کہ میرا بیٹا آخری بار مجھے گلے لگائے گا۔ 
بیٹے نے کہا: "امی... ذرا اپنا کان قریب کریں، ایک ضروری بات کہنی ہے۔
 ماں نے کان آگے کیا... مگر اگلے ہی لمحے... بیٹے نے پوری طاقت سے ماں کا کان دانتوں میں دبا لیا۔ ماں کی چیخ نکلی... خون بہنے لگا... جیل والے دوڑے... مشکل سے اسے الگ کیا گیا۔ سب حیران تھے۔
 ایک سپاہی غصے میں بولا: "ارے بے رحم انسان! آخری وقت میں بھی اپنی ماں پر ظلم کرتے تجھے شرم نہ آئی ؟۔ 
وہ شخص پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ اور پھر اس نے جو کہا، وہ شاید ہر ماں باپ کو زندگی میں ایک بار ضرور سننا چاہیے۔
 اس نے کہا:"جب میں چھوٹا تھا تو پہلی بار ایک انڈا چرایا تھا۔۔
  "ڈر رہا تھا کہ ماں مارے گی، ڈانٹے گی، واپس رکھوائے گی...
لیکن  ماں خوش ہوئی  ۔ بولی ! آؤ دونوں مل کر کھاتے ہیں۔
اسی دن میرے اندر چور نے جنم لیا۔  پھر انڈا... مرغی... بکری... گائے... اور پھر انسان... ہر جرم پہلے جرم سے بڑا ہوتا گیا۔ اور آج... میں پھانسی کے پھندے کے نیچے کھڑا ہوں۔  
کاش...!  میری ماں نے اس دن مجھے ایک تھپڑ مار دیا ہوتا ۔ اس نے مجھے حرام اور حلال کا فرق سکھا دیا ہوتا۔  میری چوری پرشاباش  دینے کے بجائے   ، مجھے تھپڑ  مارا ہوتا  ۔
تو شاید آج میں پھانسی کی سزا نہ پاتا۔ 
  میں نے اپنی ماں کا کان نہیں کاٹا۔ میں نے اپنی برباد زندگی کی جڑ کو کاٹا ہے 
 دوستو! یہ قصہ سچا ہے یا نہیں۔ 
لیکن  میری امی  نے ہم تینوں بہن بھائیوں کو اُس وقت سنایا تھا جب  میرے چھوٹے بھائی کے بستے سے ایک پنسل ملی ۔دوستو یہ 1962 کی بات ہے ۔گورنمنٹ  پرائمری برکی سکول ۔ اے ایم سی سنٹر  ایبٹ آباد کا ذکر ہے ۔  
امی نے پوچھا یہ پنسل کہاں سے آئی ؟
چھوٹے بھائی نے جواب دیا: امی مجھے سکول سے گھر آتے ہوئے  ۔ سکول کے احاطے میں ملی ہے ۔
امی نے وہ پنسل لے لی اور مجھے دیتے ہوئے کہا : نمّو کل اِس کے ساتھ جانا جہاں سے اِسے ملی تھی وہی رکھ دینا ۔اور خبردار پیچھے مڑ کر دیکھا ورنہ گناہ ہو گا ۔ 
دوسرے دن ، میں چھوٹا اور آپا سکول گئے ۔ چھوٹے نے  باونڈری کے پاس  کیاریوں کی اینٹوں سے  بیٹھنے کی جگہ بتائی جہاں اکثر آدھی چھٹی میں بچے بیٹھ کر  گھرسے لایا کھانا کھایا کرتے تھے۔
میں نے چھوٹے کی بتائی ہوئی جگہ پر پنسل رکھ دی اور تینوں بہن بھائ اپنے اپنے کلاس روم کی طرف بڑھ گئے ۔
یہی سبق میں نے اپنے بچوں کو سکھایا کہ دوسروں کی چیز پر آپ کا کوئی حق نہیں ۔
بچے کی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے لیکن  اُس کا آئیڈیل اُس کا باپ بنتا ہے ۔     
بچوں کو اخلاق والدین  سکھاتے ہیں ۔ پھر خاندان والے   ۔ پھر پڑوس کے بچے اوربڑے  اور سب سے آخر میں استاد کا نمبر آتا ہے لیکن سکول جانے کی عمر تک بچوں کا ذہن پختہ ہوجاتا ہے ۔استاد صرف  کتابوں سے سبق پڑھاتا ہے     
 اس پر بحث میں وقت ضائع نہ کریں۔ **یہ ہمارے گھروں کی سچی کہانی ضرور ہے۔
ماں باپ  خود بچوں کے سامنے جھوٹ بولتے ہیں۔ پھر چاہتے ہیں وہ سچ بولیں۔
   غصے میں گالیاں دیتے ہیں۔ پھر چاہتے ہیں بچے فرشتوں جیسی زبان بولیں۔
   موبائل میں گم رہتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں: "آج کل کے بچے موبائل بہت استعمال کرتے ہیں!" 
جب دو سال کا بچہ توتلی زبان میں گالی دیتا ہے... پورا خاندان ہنس ہنس کر کہتا ہے:  "  ایک بار پھر بولو!"۔
  جب وہ بڑوں کی نقل اتارتا ہے۔سب تالیاں بجاتے ہیں۔
  اگر چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ باکردار ہو۔تو پہلے اپنے کردار کو خوبصورت بنائیں۔
 اگر چاہتے ہیں کہ وہ سچا ہو  تو پہلے اپنے جھوٹ ختم کریں۔ 
اگر چاہتے ہیں کہ وہ باادب ہو  تو پہلے اپنی زبان سے  ادب وآداب کے القاب استعمال کریں 
۔
تو یقین جانے آپ کا بچہ آپ کے نقش قدم پر چلنا شروع ہوجائے گا۔
 اولاد ہماری باتیں کم سنتی ہے، لیکن ہماری زندگی پوری کی پوری یاد رکھتی ہے۔٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔