Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 15 جولائی، 2018

روٹی نہیں تو کیک کھاؤ !

  آج الیکشن کے سلسلہ میں آر ٹی ایس(result transmission system) کی ٹرینگ تھی ۔
جس کے لئے کہا گیا کہ سمارٹ فون لے کر آئیں ۔
 مرد و خواتین کی اکٹھی ٹریننگ ہو رہی تھی۔ زیادہ تر سکول ٹیچرز تھے ۔ایک میں کالج سے تھی ،  ایک کوئی محکمہ ماحولیات کی پراجیکٹ ڈائریکٹر تھیں ۔
الیکشن کمیشن کے نمائندے نے کہا کہ سمارٹ فون نکال لیں ۔
اب وہ پرائمری اور مڈل سکول کے استاد محدود تنخواہیں ، لا محدود مہنگائی ۔۔۔۔۔
کئی ایک نے کہا استعمال نہیں آتا ۔کچھ نے کہا کہ ہمارے پاس نہیں ۔۔۔۔
انہیں اس گھٹیا انسان نے ڈانٹنا شروع کر دیا کہ لے کر آنا تھا ۔
اب وہ ٹیچرز کندھوں پر صافے رکھے ہوئے  ،نہ جانے کتنی دور سے پیدل چلتے ہوئے آئے ، پسینے میں شرابور  بیٹھے  تھے  ۔
 ایک استاد محترم  سفید داڑھی ، نیکی اور پارسائی ان کے چہرے سے ٹپک رہی  تھی ، اُنہوں نے اپنا عام سا موبائل دکھایا اور کہا ،
" میرے پاس یہی ہے"
الیکشن کمیشن کے تعلیم یافتہ نمائندے  نے  وہ موبائل  لیا ، سب کو دکھایا  اور نخوت بھرے  انداز میں بولا ،
" اِس طرح کا موبائل میرےگھر میں صفائی کرنے والی ملازمہ بھی رکھنا پسند  نہیں کرتی  "
 استاد محترم نے  نرمی سے کہا ،
"جناب  میں افورڈ نہیں کر سکتا"
فرعونیت کے پیروکار نے کہا، " اپنے کسی بچے سے لے لینا ، دو دن کے لیئے
اور کچھ نہیں تو ہمسائے سے مانگ لینا...."
"  میرے بچوں کے پاس بھی نہیں ہے " شریف النفس ٹیچر نے تحمل سے جواب دیا
فرعونیت کے پیروکار نے کہا، " یہ کیسے ہو سکتا کہ بچوں کے پاس بھی نہ ہو؟ "
" جناب  بچوں کی روٹی بڑی مشکل سے پوری ہوتی ہے ۔ اُنہیں موبائل کہاں سے دلائیں " استاد نے جواب دیا  اور  بیٹھ کر اپنا چہرہ بازوں میں چھپا لیا ۔۔۔۔۔

سب کے سامنے رونا بھی مشکل ہوتا ہے ۔۔۔۔۔
 ان کے چہرے پر بےبسی اور آنسو مجھے ساری زندگی نہیں بھولیں گے ۔
شدتِ غم سے میری بھی آنکھیں ڈُبڈبا گئیں ،
مجھے لگا میں نے یہیں بیٹھے بیٹھے مر جانا ہے۔۔۔ 

یوں لگتا تھا کہ دماغ خالی ہوکر  سائیں سائیں کر رہا ہے ۔ 
یہ ڈاکٹر ، یہ پروفیسر ، یہ انجنیئر ، یہ بیورو کریٹ اور یہ جج ان استادوں کے ہاتھوں پروان چڑھے ۔۔۔۔۔
استاد اتنا بے بس استاد اتنا مجبور اور استاد اتنا غریب کہ بھری مجلس میں اپنا بھرم بھی نہ رکھ سکے ۔۔۔۔۔
 استاد محترم نے اپنے پیٹ سے کپڑا نہیں اٹھایا پوری قوم کو ننگا کر دیا ہے ۔
ریسیں یورپ کی کرنی ۔۔۔۔۔اور عوام کی حالت فقیروں والی۔۔۔۔۔۔
اگر اس ڈیوٹی کے لیئے اینڈرائیڈ فون ضروری ہے تو گورنمنٹ فراہم کرے۔۔۔۔۔
ہمیں کیوں ذلیل کیا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔
 #استادکوعزت_دو 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔