Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعہ، 13 مارچ، 2015

زمین پر خلیفہ کون بنا ؟

آفاقی سچ ہے ۔
يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ  :-


يا داؤود !بے شک   ہم نے تجھے     الارض میں خلیفہ قرار دیا  !  
(
صرف دو وجوھات  کی بنیاد پر  )

 

1-
فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ
پس  انسانوں کے درمیان الحق  سے حَکم  کر !   (الحق الکتاب میں درج ہے )

2-
وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَى فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ

    اور اُن کی الھویٰ ( اپنے فائدے  کے حکم)  کی اتباع مت کر ! وہ ( اُن فائدے  کے حکم)  تجھے سبیل اللہ  میں سے ضلالت( کی طرف کر) دیں گے إِنَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ  آیت (26) ص (38)

بے شک وہ  جو سبیل اللہ  میں سے ضلالت( کی طرف) ہوتے ہیں ۔ اُن کے لئے  شدید عذاب ہے ، اس لئے کہ وہ یوم الحساب کو بھول گئے !

اِس پوری کائینات میں
داؤود ! کو اللہ نے  الارض میں خلیفہ قرار دیا   ، کیوں ؟
کیا خوبی تھی  داؤود میں ؟


وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ كُلًّا هَدَيْنَا وَنُوحًا هَدَيْنَا مِن قَبْلُ وَمِن ذُرِّ‌يَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَىٰ وَهَارُ‌ونَ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ﴿الأنعام: 84﴾

ہم نے اُسے (ابراہیم کو) اسحٰق  اور یعقوب  ھبہٰ کئے کل کو ہم نے ہدایت دی ۔ اور قبل میں سے  نوح کواور اُس  (ابراہیم) کی ذریّت    داؤود  اور سلیمان اور ایّوب اور یوسف اور موسیٰ اور ھارون     کو ہدایت دی ، اور اِس طرح ہم محسنین کو جزاء دیتے ہیں 


 محمد رسول اللہ کو اللہ نے کیا حکم دیا ؟ 


أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّـهُ ۖ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ ۗ قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرً‌ا ۖ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرَ‌ىٰ لِلْعَالَمِينَ ﴿الأنعام: 90﴾ 
یہ وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ نے ھدایت دی  پس اُن کی ہدایت کی اقتدا کر! ۔ کہہ میں تم سے اُس (اقتدا)  پر  کسی اجر کا سوال نہیں کرتا ۔

محمد رسول اللہ جن انبیاء کو اللہ نے ہدایت دی اُن سب کی  اقتدا کا مرکز بنے ، جن میں ھدایت ِ خلافتِ داؤد  بھی تھی ۔ 
آپ ﷺ پر  الحمد سے لے کر والناس تک دی جانے والیهَدَى اللَّـهُ ۖ     مرکوز ہوکر   رحمت للعالمین بنی ۔

پیر، 2 مارچ، 2015

یہ مسائلِ تصّوف، یہ ترا بیان، غالبؔ

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا
تِرے وعدے پر جِئے ہم، تو یہ جان، جُھوٹ جانا
کہ خوشی سے مرنہ جاتے، اگراعتبار ہوتا
تِری نازُکی سے جانا کہ بندھا تھا عہدِ بُودا
کبھی تو نہ توڑ سکتا، اگراستوار ہوتا

کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیرِ نِیمکش کو
یہ خلِش کہاں سے ہوتی، جو جگر کے پار ہوتا

یہ کہاں کی دوستی ہےکہ، بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غم گسار ہوتا

رگِ سنگ سے ٹپکتا وہ لہوکہ، پھر نہ تھمتا
جسے غم سمجھ رہے ہو، یہ اگر شرار ہوتا

غم اگرچہ جاں گُسل ہے، پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
غمِ عشق گر نہ ہوتا، غمِ روزگار ہوتا

کہوں کس سے میں کہ کیا ہے، شبِ غم بُری بلا ہے
مجھے کیا بُرا تھا مرنا، اگر ایک بار ہوتا

ہوئے مرکے ہم جو رُسوا، ہوئے کیوں نہ غرق دریا
نہ کبھی جنازہ اٹھتا، نہ کہیں مزار ہوتا

اسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا
جو دوئی کی بُو بھی ہوتی توکہیں دوچار ہوتا

یہ مسائلِ تصّوف، یہ ترا بیان، غالبؔ
تجھے ہم ولی سمجھتے، جو نہ بادہ خوار ہوتا

مرزا اسداللہ خاں غالب

گورکھے اکیڈمی میں ۔


سہیل ہم چاروں میں سب سے چھوٹا تھا، ایف ایس سی کرتے ہی فوج میں آفسر بننے چلا آیا۔ امجد زمان ملٹری کالج کا فارغ التحصیل تھا اور اپنے کلاس فیلوز سے ایک سال بعد آیا تھا۔ فاروق عرف گھگو کا بھی یہی حال تھا اور ہمارے ساتھ کے  ہم سے ڈیڑھ سال سینئر تھے۔ آپ سمجھ گئے نا۔ نہیں سمجھے  اچھی بات ہے۔ دل جلے  فارسی میں کہتے تھے،
خدایا سگ باش برادر خورد مباش  (خدا کتا بنادے چھوٹا بھائی نہ بنائے)
اور پی ایم اے میں ،"خدا  بے شک جونئیر بنائے مگر جونئیر کلاس فیلوز کا جونئیر نہ بنائے"۔
ہمارے کمرے سے  تیس گز کے فاصلے پر، جنٹل مین کیڈٹ آفس المعروف جی سی آفس، سیکنڈ پاکستان بٹالین تھا جہاں آٹھ بجے رات، منتخب کیڈٹس کے اخلاق و اطوار کی تصحیح کی جاتی تھی۔ اِن کیڈٹس نے ہمارے کمرے کو سومنات کا مندر سمجھا ہوا تھا اور یہ سب ملٹری کالج کے تھے۔ اور امجد زمان کی محبت میں ہمارے کمرے میں گھسے چلے آتے۔ گورکھا نام سنا ہے آپ نے؟ نہیں آ پ کیسے سن سکتے ہیں بلکہ ایک کیڈٹ کو گورکھا پوزیشن صرف دیکھا جا سکتا ہے۔
 تو قارئین،  اخلاق و اطوار کی درستگی کے لئے آنے والے کیڈٹس ہمارے کمرے میں آتے ہی ہمیں، گورکھا پوزیشن میں جانے کا غیر قانونی حکم دے دیتے۔ اتوار کا دن تھا ہم نے بابے کو کیفِ ٹیریا بھجوا کے جلیبیاں اور سموسے منگوانے کا حکم دیا تا کہ فُل ٹائم عیاشی کی جاسکے۔ کوئی تین چار کمرے پہلے کے سامنے سے ایک آواز گونجی،
”امجد زمان کا کمرہ کون سا ہے؟“
ہمارا خون لمحے کے لئے خشک ہو گیا، عیاشی کا محل دھڑام سے زمیں بوس ہوگیا۔ سہیل نے تجویز دی، الماریوں میں چھپ جاتے ہیں۔سہیل اور فاروق ایک الماری میں، امجد اور میں دوسری الماری میں غڑاپ سے چھپ گئے۔ کمرے کا دروازہ دھڑام سے کھلا، کمرے کا دروازہ کھلنے کے انداز سے معلوم ہو جاتا کہ کون آیا ہے۔ آنے والے سیکنڈ ٹرم کے بپھرے ہوئے شیر تھے اور اِس امید پر کودے کہ شکار اندر موجود ہے۔ لیکن انہیں مایوسی ہوئی۔ کہ کمرہ خالی تھا۔ وہ کمرے میں چکر لگانے لگے ایک نے باتھ روم ا دروازہ کھٹکھٹایا، شاید شکار اندر ہو مگر  وہ بھی خالی،
”میرا خیال ہے یہ لوگ میس گئے ہوں“۔
یہ کہہ کر وہ جانے کے لئے پلٹے کہ ٹھک کی آواز  اور فاروق کا سر الماری کے پٹ سے ٹکرایا اور الماری کھل گئی۔  ہوا یوں کہ گھگھو جس کی ہر جگہ سونے کی عادت تھی، یہاں تک کہ فال اِن میں کھڑا کھڑا سوجاتا۔ وہ الماری کی گرم فضا میں جونہی غتر بُود ہوا اُس کا سر الماری کے پٹ سے ٹکرا گیا۔
 دوسری الماری کھولی گئی،اُس کے بعد۔
”عجب تھا جہاں کا منظر“  کہیں مسجود تھے سہیل و فاروق۔کہیں پھِرکی تھے نعیم اور امجد۔ 
 کوئی ڈیڑھ گھنٹے  کے بعد خلاصی ہوئی، کمرے میں گرم گرم جلیبیوں،سموسے  اور چائے کا جو مزہ آیا وہ بیان سے باہر۔
فرسٹ ٹرم کے خاتمے پر دوڑ دوڑ کر ہماری ٹانگیں بگلے کی طرح ہوگئی تھیں اور پیٹ کمر کی آخری  ہڈی کو چھوتا تھا۔ بیلٹ ٹائیٹ کرنے کے آخری سوراخ بھی فیل ہو جاتے اور سٹاف ہماری بیلٹ میں ایک انگلی پھنسا کر اُس میں سے پوری بٹالین کے گذرنے کا دعویٰ کرتا۔ یا حکمیہ انداز  میں طربیہ سوز کی لے پر چلاتا،
”نعیم صاحب۔ پی ایم اے روڈ پر ایسے مت چلیں جیسے آپ ولیمہ کی دعوت سے واپس آرہے ہیں  یا 
آواز شیر کی طرح نکالیں میمنے کی طرح نہیں"
 نعیم صاحب، زمیں پر ایڑیاں اتنی زور سے لگیں کہ پانی نکل آئے“ وغیرہ وغیرہ
اگر آپ نے کرنل محمد خان کی کتابیں نہیں پڑھیں تو آپ کو یہ کیسے معلوم ہوگا، کہ اُن کے زمانے میں ڈرل سکوئر میں پالی جانے والی شرارتی مکھی  اپنی اولادکو کیڈٹس کی ناک  کے پارک میں تفریح کا لطف اُن کی سرشت میں نفوذ کروا گئی۔ جونہی سٹاف،”ہوشیار باش“ کرواتا یہ ”بھن بھن“ کا نعرہ  مار کر ناکوں کی چونچ پر آبیٹھتیں۔ اور کیڈٹس کو سلیوٹنگ ٹیسٹ میں، پریڈ گراونڈ میں سلیوٹنگ ٹیسٹ میں ناک کو آزادنہ کھجانے پر فیل کروا دیتیں۔ جس کے لئے وہ پچھلے آٹھ ہفتوں سے ایڑیاں مار مار کر اپنی تمام عقل بقولِ سویلیئن، زمین میں پہنچا دیتا تھا اور اُس کی اوپر کی منزل خالی ہوجاتی۔ اُس کے بعد کیڈٹ کو سو گز دور ایک چارمربع فٹ  کے ٹارگٹ کے عین درمیان میں اپنی تما م توجہات مرکوز کرتے ہوئے، مقصد کے حصول کو اپنا نصب العین بنانے کی تربیت دی جاتی۔ جو کیڈٹ جتنا زیادہ اپنے نصب العین کے قریب بغیر کسی شک و شبہ ہوتا وہ اتنا ہی فوجی زندگی کا کامیاب فرد کہلاتا۔ عملی زندگی میں یہ ٹارگٹ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔جو سینئیر کے حکم ”گو“ سے شروع ہوتا ہے اور ٹارگٹ کے حصول پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ لیکن اِ س کے درمیان وہ تمام قوانین آتے ہیں جو فوجی کتابوں میں لکھے ہوتے ہیں جن کا انحراف ٹارگٹ کے حصول کے بعد سزا پر ختم ہوتا ہے۔

اکیڈمی کا پہلا سہانا اتوار

دوسری صبح منہ اندھیرے پو پھٹنے سے قبل، اتوار کا سہانا دن، جب کہ دنیا والے خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے تھے۔ ہم فقط ایک جانگیئے میں، انتیس عدد دیگر ملزمانِ کمیشن کے ساتھ باجماعت شبنم آلود لان میں کھڑے اپنی قوتِ برداشت کا امتحان دے رہے تھے۔
 ہمارے جسم پر پڑنے والی شبنم، بھاپ بن کر ایسے اُڑ رہی تھی جیسے گرم توے پر پانی کے چھینٹے ڈالنے کے بعد اٹھتی ہے۔ ساڑھے سات بجے حکم ملا کہ دس منٹ میں تیار ہوکر ناشتے کے لئے، فال اِن ہوجائیں۔
 یا خدا، صرف دس منٹ،ایک  کمرے میں ہم چار کیڈٹ تھے۔ سہیل، فاروق، امجد، ہم اور دو باتھ روم ، گویا پانچ منٹ فی کیڈٹ تیاری کے لئے ملے۔
ناشتے کے بعد ہم دوڑتے ہوئے، ایک بیرک کے سامنے پہنچے جہاں ہمیں ماہر گیسو تراش کے سپرد کر دیا گیا۔
 فوج سے تربیت حاصل کر کے ریٹائرمنٹ کے بعد یہ حضرات بڑے بڑے شہروں میں اپنی دکانیں کچھ اِس طرح بڑھاتے ہیں، کہ ایشیاء کے ماہر زلف  اور گیسو تراش آف ہیئر کٹنگ سیلون، ملٹری سے منظور شدہ بمع بیس اکیس دیوار پر آویزاں اسناد جو بیدردی سے مجبور فوجیاں کے بال ترشوانے پر عطا ہوئیں۔
  ہم لان میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے  باربر شاپ میں اپنی باری پر داخل ہوئے اور ایک کرسی پر بٹھا دیئے گئے۔ ایک سفید کپڑے میں ہمیں اس طرح جکڑا کہ نہ ہم ہاتھ ہلا سکتے تھے اور نہ کسمسا سکتے تھے۔بس ہماری گردن  باہر تھی ۔ ہمارے سر پر ایک ہاتھ سختی سے جم گیا جس نے ہمارا سر  اتنا جھکایا کہ سامنے پڑی میز  سے صرف تین انچ دور رہ گیا ،جو ہر جھٹکے پر    ڈھک کی فریاد بلند کرتا۔
ماہرِ گیسو خراش  نے ہمارے سر کو گھاس کا میدان سمجھ کرتراشنا شروع ، مشین کی گھر گھر سنائی دیتی اور کبھی قینچی کی چخ چخ، نجانے ہمارے سر کا حدود اربعہ اُن کی سمجھ میں نہ آیا یا وہ بے چارے تھک گئے تھے۔
 لہذا انہوں نے  ، ہمیں سفید کفن سے آزاد کیا اور تشریف لے جانے  کا کہا ۔
 آئینے میں شکل دیکھی ایسا لگتا تھا کہ کسی گنبد پر چیل نے اپنا آشیانہ بنایا ہو۔ اس کے بعد ستم یہ کہ ہمیں فوٹو گرافر کے کیمرے کے سامنے کھڑا کر دیا گیا۔ جب اپنی تصویر دیکھی تو جیل سے فرار ہونے والے اُس قیدی کی تصویر لگی جو عادی مجرم ہو۔اس پر ہمیں میرپورخاص کے فوٹو گرافر کو مہارت کا سرٹیفکیٹ دینے کو دل چاہا نے لگا۔جس نے ہماری میٹرک کے لئے تصویر کھینچی تھی ۔جس پر ری ٹچنگ ہونے کے باوجود نیگیٹو کا گمان ہوتا تھا ۔
بڑے لوگوں پر بڑی مصیبتیں آتی ہیں۔ ادب کی دنیا میں اقبال اور غالب،دردو  میر کے ساتھ ہمارے پسندیدہ شاعر ہیں۔ ہم اپنی بعض مشکلات میں ان کے شعروں سے حل کے لئے فال نکالتے ہیں  اور یہی اکثریت  کا چلن ہے،
 سوائے کچھ بد چلنوں  کے جو امام دین کے پرستار ہیں، خیر ہم نے بھی  انہی کا سہارا لیااور اس پر عمل بھی کیا،   
کرالنگ کے دوران ہم نے   اپنی ہستی کو خاک  میں ملانے کی حتی المقدور کوشش کی  لیکن ہمار کہنیاں اور گھٹنے گل و گلزار ہونے کے بجائے، لالہ زار ہو گئے۔
 خودی کو بلند کرنے کے  مقام تک پہنچنے کے لئے ،  ہم نے دیوار  کی آخری  حد تک ٹانگیں لے جانے کی کوششیں کیں۔ مگر خدا تو کیا کاپل صاحب نے ہماری رضا نہیں پوچھی اور نہ ہی کبھی پوچھنے کی ضرورت محسوس  کی۔
جنوری شروع ہوا آسمان پر بادل امنڈ امنڈ کر آتے اور خاموشی سے گذر جاتے لیکن جب برستے تو زمین کے بجائے ہم پر برستے  ہم دعا کرتے کہ بس برسیں لیکن  برف نہ گرائیں۔ کیوں کہ برف کا گرنا اور ہمارا برف میں قلابازیاں لگانا لازم و ملزوم تھا اور ایک صبح  ”بابے“ نے بتایا کہ
 ”سر جی !مخے  بار  تے برفاں لگی دیاں نے“ ۔ 
”کیا  آ آ آ آ"،  ہم چاروں کی خوفزدہ آواز بلند ہوئی۔
 وہ دن ہمارا    گذر گیا، کیسا گذرا بس گذر گیا۔
 دو بجے سب کے ساتھ پی ایم اے روڈ پر اپنے جوتے بجاتے  دوڑتے واپس میس کی طرف جارہے تھے  اور اقبال کا شعر کانوں میں گونج رہا تھا۔ ع
سنبھل کر قدم رکھنا راہِ الفت میں۔ کہ سر جاتا ہے گامِ اولیں پر۔

 لائبریری کے سامنے  ایسا محسوس ہوا کہ دنیا ہمارے ارد گرد  گردش میں ہے اور ہم بے وزنی کی کیفیت میں ہوا میں ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں، پھر ہم یک لخت کسی چھپکلی کی مانند پٹ سے زمین پر گرے۔
  پہلے تو اپنے دماغ کو  اس حادثے کے متعلق بتاتے رہے اور ساتھ یہ بھی سوچتے رہے کہ دوسرے مصرعے میں، ”سر جاتا ہے“ کے بجائے، ”پھسل جاتا ہے“ ہوتا تو نہایت مناسب ہوتا۔
  ہمارا سر زمین سے ٹکرایا اور کائینات ساکن ہو گئی، ہوش واپس آئے تو ہم، ہسپتال میں تھے۔
 دوسرے دن سی ایم ایچ گئے ایکسرے ہوا، ہڈی بچ گئی لیکن بائیں ران سوج گئی۔ 
ایک ہفتہ  اکیڈمی کے ہسپتال" پی ایم اے ایچ"   میں رہنے والے  ہم واحد فرسٹ ٹرم کے جنٹل مین کیڈٹ تھے۔ باقی سیکنڈ، تھرڈ اور فائنل ٹرم کے تھے۔ ہمارے آرام کے اہتمام کا اندازہ آپ نہیں کر سکتے  اور نہ ہی سوچ سکتے ہیں۔

9- مضامینِ مراقبہ پر رسپانس !

میں نے فیس بک کے دوستوں ، کے مشورے پر جب انہیں مراقبے کے بارے میں بتانے کا پروگرام بنایا تو فروری 2014 میں پہلا مضمون ،

" مراقبہ آپ کی سوچ سے زیادہ آسان ہے" ۔
لکھا تو اچھا رسپانس نہیں تھا تو میں اسی سلسلے کے دوسرے مضامین پر متوجہ ہوگیا جس میں سب سے اہم ،
" زندگی کا فن" 
ہے ۔ یہ ایک کتاب، "زندگی کا فن"  سے انسپائر ہو کر میں نے اپنے الفاظ میں ترجمہ کرنا شروع کی ہے ۔

پھرسال بعد مجھے پرسنل ونڈو پر میسج آیا کہ آپ نے مراقبہ پر لکھنا بند کیوں کر دیا ، مجھے اِس میں دلچسپی ہے ۔


تب میں نے دوسرا مضمون ، " توانائی ، روشنی کا مرکز " لکھا اور بلاگ پر پوسٹ کر دیا جس کو پڑھنے والوں کے رسپانس نے میرا حوصلہ بڑھایا  ، کیوں کہ یہ اِس ہفتے کے پسندیدہ مضامین میں شامل ہو چکا تھا ۔
یہ پڑھنے والے ہی ہیں جو لکھاری کو مزید لکھنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ چنانچہ تیسرا مضمون ، لکھا ، تو وہ بھی
پسندیدہ مضامین میں شامل ہو چکا تھا ۔
پھر پرسنل ونڈو پر پیغام آئے ،
" میں نے مراقہ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہوں اور اِس بارے میں کافی پڑھا ہوا ہے ، مجھے مراقبہ کرنے کا طریقہ بتا دیں "
تو میں نے ، "
مراقبہ کرنے والوں کے لئے ۔ طریق کار" کے بارے میں ، پی ڈی ایف فائل لوڈ کر دی،  جو میرا ارادہ سب سے آخر میں کرنے کا تھا ۔ اور  بال میں مضمون بھی ڈالا ہے ۔ جس کا لنک نیچے درج ہے ۔


مراقبہ- طریق کار ۔روشنی کا سفر

 مراقبہ کی کوشش کرنے والوں سے درخواست ہے کہ ، آپ مراقبے کے مضامین جو ابھی جاری ہیں لازمی پڑھیں اور " زندگی کا فن" مضامین پر نظر ڈالیں ۔ تاکہ انسانی دماغ اور قدرت کی کاریگر برائے تخلیق کے بارے میں آگاہی ہو ۔ 


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اگلا مضمون :

10- روشنی کا مراقبہ

٭٭٭٭٭٭
پہلامضمون :
 7 - دماغ، ذہن اورجسم  

 دیگر


زندگی کا فن- سائنسی حقیقت -1

 

 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔