Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 16 مارچ، 2020

16 مارچ تک - کرونا کا پھیلاؤ اور اُس سے ہونے والی ہلاکتیں-


٭ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن  میں جو کیس رپورٹ ہوئے :



کرونا وائرس فلو کا وائرس ہے، جوایک انسان کے پھیھڑوں میں پہنچ کر 6 سے 12 گھنٹوں بیمار کر دیتا ہے ۔ لیکن موجودہ کرونا وائرس ناول- (2019-nCoV) کو لیبارٹری میں شیطانی مقاصد کے لئے اتنا طاقتور بنایا گیا ہے کہ اِس کا مریض کے پھیپھڑوں کو متاثر کرنے کا وقت 24 گھنٹے سے بڑھا کر 336 گھنٹوں، یعنی 14 دن تک بڑھا دیا گیا ہے۔
اب کرونا  وائرس ،  ایک مریض میں جاگنے کے بعد اُسے حتمی بیمارکرنے والا -یہ وائرس جب سانس ، چھینک کے چھینٹوں کی وجہ سے دوسرے انسان کے جسم میں منتقل ہوتا رہتا ہے ۔ تو اُسے فوراً بیمار نہیں کرتا ، وہاں پھر یہ 14 دن انتظار کرتا ہے ۔
 


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پہلے مضامین :
٭- کرونا وائریس - ناولٹی - (2019-nCoV) 
 ٭- فلم Contagion  اور کرونا - دنیا کو چونکا دینے والا وائرس ۔
٭- کرونا وائرس - پھیپھڑوں کو مضبوط بنائیں ۔ 


ہفتہ، 14 مارچ، 2020

شگفتگو کی انیسویں محفل

شگفتگو کی 19واں مناثرہ
14 مارچ 2020
بمقام: درِ مرشد، بحریہ 8، اسلام آباد
شرکاء:
جناب ارشد علی مرشد (میزبان)
جناب ڈاکٹرعزیز فیصل
جناب قیوم طاہر
عاطف مرزا (روداو اور نظامت)
  ***********************
غلغلے بلند تھے کسی کورونا نامی وائرس کی آمد آمد کے، انہی دنوں مارچ بھی ساتھ ہی آ پہنچا۔ اس مہینے میں زندگی میں ویسے ہی اچھل کود لگ جاتی ہے۔ مناثرہ بھی ہر مہینے کے دوسرے ہفتے کی خصوصی ڈش ہے۔ 
فروری کے مناثرے کے دوران کرنل ارشد علی مرشد نے مارچ کے مناثرے کی دعوت دراز کی تھی۔ 
دوسرا ہفتہ پہنچنے سے چند روز پہلے ہی ڈاکٹرعزیز فیصل نے بانی ارکان پر مناثرہ لازمی قرار دیا۔ لے دے کے دو چار ہی اسلام آباد میں قابو آئے ہوئے تھے سو حکم عدولی کی گنجائش تھی نہ دل۔
14 مارچ بروز ہفتہ شِکر دوپہرے میں نے اپنی ہنڈا سوک کا انجن گرم کیا اور درِ مرشد کی طرف دُڑکی لگا دی۔ وقت کا گھنٹہ ہونے کے قریب تھا کہ میں بحریہ فیز 8 کے باہر پہنچ گیا، رستے میں ڈاکٹر عزیز فیصل نے ناکہ لگایا ہوا تھا، انہیں وہاں سے اٹھا لیا تاکہ عوام الناس اتنے سخت ناکے پر پریشان نہ ہوں۔
مرشد کے بتائے رستے پر چلتے چلتے، گوگل آنٹی کی مدد سے ہم جا وارد ہوئے درِ مرشد پر۔ مرشد چونکہ فون پر بھی رستہ گیری کر رہے تھے لہٰذا خود باہر استقبال کے لیے موجود تھے۔ (جملے میں رستے کا ت سائیلنٹ نہ کیا جائے)۔ ہمیں وصول کر کے گھر کے تہ خانے تک لے گئے، ایسے مزاح کا مال، انہوں نے زمین کے نیچے پہنچا دیا۔ کچھ دیر میں اعلیٰ حضرت جناب قیوم طاہر بھی پہنچ گئے۔
پیر و مرشد حضرت ارشد علی مرشد نے پہلے پانی سے تواضع کی اور مناثرے کے دوران یا بعد میں چائے کا جھانسہ دے کر کچھ دیر کے لیے غائب ہو گئے۔

 ڈاکٹر عزیز فیصل نے غیر صدریہ انداز میں مجھے نظامت کو حکم دے ڈالا۔ مرشد واپس پہنچے تو ڈاکٹر عزیز فیصل صاحب نے تلاوت کی سعادت حاصل کر کے نشست کا اغاز کیا۔

رواج کے مطابق میں نے نظامت کا ذمہ لیتے ہوئے فکاہیہ تحریر "پانچواں روپ" پیش کی۔ جس میں خواتین کے چار روپ گنوانے کے بعد پانچویں روپ کی آن، بان، شان اور مختلف اثرات و کیفیات سے لبریز جملے پیش ہوئے۔
حاضرین نے ہمارے اس مضمون میں اپنی محبوباؤں کے عکس دیکھنے کی کوشش کی ، مگر دھندلاتی ہوئی یادوں میں کچھ نظر نہ آیا۔ البتہ مضمون کے تناظر میں سب نے بہت سی یادیں تازہ کر لیں۔
 دوسرے مقرر جناب ارشد علی مرشد صاحب نے اپنا مضمون پیش کیا جس میں انہوں نے انسان کے وفادار دوست یعنی کتے کی شان میں انتہائی اہم معلومات پیش کیں۔ دورانِ تبصرہ ٹائم چاروں شرکاء نے اپنے تجربات و مشاہدات میں کتوں کے کردار پر خاطر خواہ روشنی ڈالی۔
 تیسرے نمبر پر ڈاکٹر عزیز فیصل نے اپنے شرارتی نثرانچے کے خوانچے حاضرین کےسامنے رکھ دیے۔ سچ کہوں تو چیدہ چیدہ معاملات کو پیچیدہ انداز میں پیش کر کے رنجیدہ لوگوں کی سنجیدہ بیماریوں کا جہاں دیدہ احوال کہا۔ اس پر تبصرے اور تحسین کے دوران قہقہہ آور گفتگو ہوئی جس سے چاروں شرکا دیر تک محظوظ ہوتے رہے۔
 محفل کے آخر میں جناب قیوم طاہراِس بار ذرا وکھرے انداز میں سامنے آئے اور چند نامی گرامی گمنام کرداروں کو متعارف کرانے پر مامور ہو گئے۔ جس پر ہم سب حاضرین نے اُن کی بات ماننے میں ہی عافیت سمجھی۔
نشست کے اختتام پر چائے، سموسے، فروٹ چاٹ، دہی بھلےہمراہ اچار چٹنیوں کے لائے گئے تو معلوم ہوا کہ مرشد کے لنگر خانے پر انتظام کم از کم ایک درجن ارکان کے لیے تھا، مگر خوفِ کرونا نےکے سبب نہ آنے والوں کا نصیب صرف چار "مساکرین" پر ہی کھولا گیا۔ رج کے کھا پی کر ہم سب نے نے رب کا شکر ادا کیا۔
اجازتوں کے مراحل طے کرتے کراتے جب ہم درِ مرشد سے باہر پہنچے تو تصویریں بنانا یاد آ گئیں۔ دورانِ نشست یہ فریضہ قضا ہوگیا تھا۔ خیر اس کےبعد قیوم طاہر صاحب کی کار کا تعاقب کرتے میں اور ڈاکٹر عزیز فیصل بحریہ ٹاؤن کی حدود سے باہر آئے۔ ڈاکٹر صاحب کو ہمک ٹاؤن کے داخلی راستے کے قریب جی ٹی روڈ پر خدا حافظ کہا۔ یوں یہ 19واں مناثرہ انجوائے کر کے ہم خوش خوش اپنے گھروں کو آ گئے۔
 
٭٭٭٭٭واپس ٭٭٭٭٭٭











جمعرات، 12 مارچ، 2020

بھارتیو ! آؤ ایٹمی جنگ چھیڑیں


ﺟﺮﻣﻦ ﻓﻮﺝ ﻧﮯ ﯾﮑﻢ ﺳﺘﻤﺒﺮ 1939 ﺀﮐﻮ ﭘﻮﻟﯿﻨﮉ ﭘﺮ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﯿﺎ ‘ ﯾﮧ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﻨﮓ ﻋﻈﯿﻢ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ ﺗﮭﺎ ‘ ﯾﮧ ﺣﻤﻠﮧ ﺳﺘﻤﺒﺮ ﮐﻤﭙﯿﺌﻦ ﮐﮩﻼﺗﺎ ﮨﮯ ‘ ﯾﮧ ﮐﻤﭙﯿﺌﻦ ﺍﯾﮏ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﭼھ ﺩﻥ ﭼﻠﯽ ‘ ﭘﻮﻟﺶ ﻓﻮﺝ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺳﺎﮌﮬﮯ ﻧﻮ ﻻﮐﮫ ﺗﮭﯽ ‘ ﺟﺮﻣﻨﯽ ‘ ﺳﻠﻮﺍﮐﯿﮧ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﻭﯾﺖ ﯾﻮﻧﯿﻦ ﮐﯽ ﺑﯿﺲ ﻻﮐﮫ ﻓﻮﺝ ﻧﮯ ﭘﻮﻟﯿﻨﮉ ﭘﺮ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ‘ ﺟﺎﺭﺡ ﻓﻮﺝ ﮐﻮ 4959 ﺗﻮﭘﻮﮞ ‘ 4736 ﭨﯿﻨﮑﻮﮞ ﺍﻭﺭ 3300 ﺟﻨﮕﯽ ﻃﯿﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺳﭙﻮﺭﭦ ﺣﺎﺻﻞ ﺗﮭﯽ ‘ ﯾﮧ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﻟﯿﻨﮉ ﻣﯿﮟ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻻﮐﮫ 99 ﮨﺰﺍﺭ 700 ﻻﺷﯿﮟ ﺑﭽﮭﺎ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﻮﮞ ﺁﺭﭦ ‘ ﮐﻠﭽﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﺳﯿﻘﯽ ﮐﺎ ﻣﺮﮐﺰ ﭘﻮﻟﯿﻨﮉ ﺍﯾﮏ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﮐﮫ ﮐﺎ ﮈﮬﯿﺮ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ‘ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﺮﮮ ﺗﮏ ﻻﺷﯿﮟ ﮨﯽ ﻻﺷﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ‘ﺁﭖ ﮐﻮ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﻭﺍﺭﺳﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﺍﮐﻮﻑ ﺷﮩﺮ ﮐﯽ ﮔﻠﯿﻮﮞ ‘ ﺑﺎﺯﺍﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﺑﻮ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ-
 ﺟﻨﮓ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ؟
ﺁﭖ ﭘﻮﻟﯿﻨﮉ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ ‘ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺟﻨﮕﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮐﯿﺎ ﮨﯿﮟ؟ ﺍﻭﺭ
ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ ؟
ﺁﭖ ﭘﻮﻟﯿﻨﮉ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﯾﻮﺭﭖ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ‘ ﮐﺴﯽ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼھ ﻟﯿﮟ!
” ﺟﻨﮓ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟ “
ﺁﭖ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮔﮯ ‘

ﯾﻮﺭﭖ ﻧﮯ ﯾﮑﻢ ﺳﺘﻤﺒﺮ 1939 ﺀﺳﮯ ﺩﻭ ﺳﺘﻤﺒﺮ 1945 ﺀﺗﮏ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﭼھ ﺳﺎﻝ ﺟﻨﮓ ﺑﮭﮕﺘﯽ ‘ ﺍﻥ ﭼھ ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﻮﺭﭖ ‘ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﭘﺎﻥ ﮐﮯ 6 ﮐﺮﻭﮌ ﻟﻮﮒ ﮨﻼﮎ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ‘
ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﻧﮯ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﺮﻭ ﺷﯿﻤﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﮔﺎ ﺳﺎﮐﯽ ﭘﺮ ﺩﻭ ﺍﯾﭩﻢ ﺑﻢ ﮔﺮﺍﺋﮯ۔
ﮨﯿﺮﻭ ﺷﯿﻤﺎ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﻣﻨﭧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻻﮐھ چالیس ﮨﺰﺍﺭ ﻟﻮﮒ ﺟﺒﮑﮧ ﻧﺎﮔﺎﺳﺎﮐﯽ ﻣﯿﮟ 75 ﮨﺰﺍﺭ ﻟﻮﮒ ﮨﻼﮎ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺯﻧﺪﮦ ﺑﭽﮯ ﻭﮦ ﻋﻤﺮ ﺑﮭﺮ ﮐﮯﻟﺌﮯ ﻣﻌﺬﻭﺭ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ‘
ﺟﻨﮓ ﻋﻈﯿﻢ ﺩﻭﻡ ﻣﯿﮟ ﯾﻮﺭﭖ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﮩﺮ ﺳﻼﻣﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﺑﺠﻠﯽ ‘ ﭘﺎﻧﯽ ‘ ﺳﮍﮐﯿﮟ ‘ ﺭﯾﻞ ﮐﺎ ﻧﻈﺎﻡ ‘ ﺳﮑﻮﻝ ‘ ﮐﺎﻟﺞ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﻣﻔﻘﻮﺩ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺁﭖ ﮐﻮ ﺷﺎﯾﺪ ﯾﮧ ﺟﺎﻥ ﮐﺮ ﺣﯿﺮﺕ ﮨﻮ ﮔﯽ ﯾﻮﺭﭖ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﻟﻤﯽ ﺟﻨﮕﻮﮞ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ ﺳﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﻟﻮﮒ ﭘﻮﺭﮎ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺟﻨﮕﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﮐﯽ ﻗﻠﺖ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻮﺭ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺩﻥ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺝ ﮐﺎ ﺩﻥ ﮨﮯ ﭘﻮﺭﮎ ﺍﺏ ﭘﻮﺭﮮ ﯾﻮﺭﭖ ﮐﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺑﻦ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ۔
ﺟﻨﮓ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﯾﻮﺭﭖ ﺳﮯ ﻣﺮﺩ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﯾﻮﺭﭖ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﺳﺴﭩﻢ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮﮔﯿﺎ ‘ ﻋﻮﺭﺕ ﺻﺮﻑ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺩ ﺻﺮﻑ ﻣﺮﺩ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ۔

ﺁﭖ ﺟﻨﮕﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﻧﯿﮟ ﭘﮍﮬﯿﮟ ‘ ﺁﭖ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﺩﮐﮭﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ‘ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺩﻭ ﺩﻭ ﺑﺮﺱ ﮔﭩﮍﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﮯ ‘ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﭘﻮﺭﯼ ﻧﺴﻞ ﮔﭩﮍﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﯿﻮﺭﯾﺞ ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯽ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﻧﺎ ﺳﯿﮑﮭﺎ ۔

ﺁﭖ ﯾﻮﺭﭖ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺟﻨﮓ ﻋﻈﯿﻢ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﺌﮯ۔

ﯾﮧ ﺟﻨﮓ 28 ﺟﻮﻻﺋﯽ 1914 ﺀﺳﮯ 11 ﻧﻮﻣﺒﺮ 1918 ﺀﺗﮏ ﭼﺎﺭ ﺳﺎﻝ ﺗﯿﻦ ﻣﺎﮦ ﭼﻠﯽ ‘ ﯾﻮﺭﭖ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﻮﺍ ﭼﺎﺭ ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﮌﮬﮯ ﭼﺎﺭ ﮐﺮﻭﮌ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺩﯼ ۔

ﯾﮧ ﺟﻨﮓ ﺁﺳﭩﺮﯾﻠﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﻮﺯﯼ ﮐﯽ ﮨﺮ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﮔﻮﺩ ﺍﺟﺎﮌ ﮔﺌﯽ ‘ ﺗﺮﮐﯽ ﮐﺎ ﺟﺰﯾﺮﮦ ﮔﯿﻠﯽ ﭘﻮﻟﯽ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ‘ ﺁﭖ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺟﺰﯾﺮﮮ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﻣﭩﯽ ﮐﯽ ﻣﭩﮭﯽ ﺑﮭﺮﯾﮟ ‘ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﺑﺎﻗﯿﺎﺕ ﻣﻠﯿﮟ ﮔﯽ ‘ ﺁﭖ ﺍﻥ ﺑﺎﻗﯿﺎﺕ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ !
ﺟﻨﮓ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ؟
ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺟﻨﮓ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺳﻤﺠﮭﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ!
ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﭘﺘﮧ ﻧﮧ ﭼﻠﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻭﯾﺘﻨﺎﻡ ‘ ﺍﻓﻐﺎﻧﺴﺘﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﻓﺮﯾﻘﮧ ﮐﮯ ﺟﻨﮓ ﺯﺩﮦ ﻣﻠﮑﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﻮﭼھ ﻟﯿﮟ ‘ ﻭﯾﺘﻨﺎﻡ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﺎﮌﮬﮯ 19 ﺳﺎﻝ ﺟﻨﮓ ﺑﮭﮕﺘﯽ ‘
ﺍﻓﻐﺎﻧﺴﺘﺎﻥ ﭘﭽﮭﻠﮯ 35 ﺑﺮﺳﻮﮞ ﺳﮯ ﻻﺷﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ، ﺟﺒﮑﮧ ﺍﻓﺮﯾﻘﮧ ﮐﮯ ﻣﻠﮑﻮﮞ ﻧﺎﺋﯿﺠﯿﺮﯾﺎ ‘ ﻻﺋﺒﯿﺮﯾﺎ ‘ﺳﯿﺮﺍﻟﯿﻮﻥ ‘ ﺍﯾﺘﮭﻮﭘﯿﺎ ‘ ﺻﻮﻣﺎﻟﯿﮧ ‘ ﯾﻮﮔﻨﮉﺍ ‘ ﮔﻨﯽ ﺍﻭﺭﺳﻮﮈﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﮓ ﻧﮯ ﻗﺤﻂ ﮐﻮ ﺟﻨﻢ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻗﺤﻂ ﺍﺏ ﺍﻓﺮﯾﻘﮧ ﮐﮯ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ‘
ﭖ ﺍﻥ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮫ ﻟﯿﮟ ﺟﻨﮓ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ؟
ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺟﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪ ‘ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﺎ ﮔﻮﺷﺖ ﺍﺑﺎﻝ ﮐﺮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﯾﮧ ﺟﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﺨﺖ ﺟﮕﺮ ﮐﻮ ﺯﺧﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﺭﮨﺎﺋﯽ ﺩﻻﻧﮯ ﮐﮯﻟﺌﮯ ﮔﻮﻟﯽ ﻣﺎﺭﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻝ ‘ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﻭﺡ ﮐﮩﺎﮞ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺯﺧﻤﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ‘ ﯾﮧ ﺑﺎﻗﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯿﺴﮯ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ؟
ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ !
ﮨﻢ ﺑﺮﺻﻐﯿﺮ ﭘﺎﮎ ﻭ ﮨﻨﺪ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﺪﻗﺴﻤﺘﯽ ﺳﮯ ﺍﺻﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﮑﻤﻞ ﺟﻨﮓ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﯽ ‘ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺟﻨﮕﯿﮟ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﺗﮭﯿﮟ

ﮨﻢ ﭘﻨﺠﺎﺑﯽ ﺳﻨﭩﺮﻝ ﺍﯾﺸﯿﺎ ﮐﮯ ﮨﺮ ﺣﻤﻠﮧ ﺁﻭﺭ ﮐﺎ ﺍﭨﮏ ﮐﮯ ﭘﻞ ﭘﺮ ﺍﺳﺘﻘﺒﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﺍﺳﮯ ﮨﺎﺭ ﭘﮩﻨﺎﺗﮯ ‘ ﺳﭙﺎﮨﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﻮﮌﻭﮞ ﮐﻮ ﭼﺎﺭﺍ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﺖ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺁﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﯾﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺗﮭﯽ ‘ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﻠﭩﺎ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﺖ ﺳﮯ ﻻﮨﻮﺭ ﺁ ﮔﯿﺎ ‘ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﺎﺭ ﭘﮩﻨﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺟﻼﻝ ﺁﺑﺎﺩ ﺟﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺁﺋﮯ ‘ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺑﺎﻗﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﻓﻐﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﮍﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﮩﻮﻟﺖ ﮐﺎﺭ ﺑﻨﮯ ﺭﮨﮯ۔

ﮨﻢ 1857 ﺀﮐﯽ ﺟﻨﮓ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﻮ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﻋﻈﯿﻢ ﺟﻨﮓ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ ‘ ﯾﮧ ﺟﻨﮓ ﺩﮨﻠﯽ ﺳﮯ 75 ﮐﻠﻮ ﻣﯿﭩﺮ ﮐﮯ ﻓﺎﺻﻠﮯ ﭘﺮ ﻣﯿﺮﭨھ ﻣﯿﮟ ﺷﺮ ﻭﻉ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﮨﻠﯽ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔
ﯾﮧ ﭘﻮﺭﯼ ﺟﻨﮓ ﺩﮨﻠﯽ ﮐﮯ ﻣﻀﺎﻓﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻟﮍﯼ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﻨﺠﺎﺏ ‘ ﺳﻨﺪﮪ ‘ ﻣﻤﺒﺌﯽ ‘ ﮐﻮﻟﮑﺘﮧ ﺍﻭﺭ ﮈﮬﺎﮐﮧ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﻨﮓ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﺐ ﻣﻠﺒﮧ ﺗﮏ ﺳﻤﯿﭩﺎ ﺟﺎ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺎﺩﺭ ﺷﺎﮦ ﻇﻔﺮ ﺭﻧﮕﻮﻥ ﻣﯿﮟ
” ﮐﮩﮧ ﺩﻭ ﺍﻥ ﺣﺴﺮﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﺎ ﺑﺴﯿﮟ “ ﻟﮑھ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔

ﮨﻢ ﺍﮔﺮ 1965 ﺀﺍﻭﺭ 1971 ﺀﮐﯽ ﺟﻨﮕﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﺠﺰﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺟﻨﮕﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﺟﻨﮕﯿﮟ ﮐﻢ ﺍﻭﺭ ﺟﮭﮍﭘﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﮞ ﮔﯽ۔

1965 ﺀﮐﯽ ﺟﻨﮓ ﭼھ ﺳﺘﻤﺒﺮ ﮐﻮ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ 23 ﺳﺘﻤﺒﺮ ﮐﻮ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ‘ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺭﺕ 17 ﺩﻥ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺟﻨﮓ ﮐﻮ ﺟﻨﮓ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ-
ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﻠﮏ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﺍﺱ ﺟﻨﮓ ﮐﯽ ﺳﺎﻟﮕﺮﮦ ﻣﻨﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ‘ 65 ﺀﮐﯽ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭ ﮨﺰﺍﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺷﮩﯿﺪ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﻦ ﮨﺰﺍﺭ ﺑﮭﺎﺭﺗﯽ ﮨﻼﮎ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﯾﮧ ﺟﻨﮓ ﺑﮭﯽ ﺻﺮﻑ ﮐﺸﻤﯿﺮ ‘ ﭘﻨﺠﺎﺏ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺟﺴﺘﮭﺎﻥ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮈﺭ ﺗﮏ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ‘ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﮐﮯ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﻮ ﺻﺮﻑ ﺭﯾﮉﯾﻮ ﭘﺮ ﺟﻨﮓ ﮐﯽ ﺍﻃﻼﻉ ﻣﻠﯽ ﺟﺒﮑﮧ 1971 ﺀﮐﯽ ﺟﻨﮓ ﺗﯿﻦ ﺩﺳﻤﺒﺮ ﮐﻮ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ 16 ﺩﺳﻤﺒﺮ ﮐﻮ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ‘ ﺍﺱ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ 9 ﮨﺰﺍﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ 26 ﮨﺰﺍﺭ ﺑﮭﺎﺭﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﻨﮕﺎﻟﯽ ﮨﻼﮎ ﮨﻮﺋﮯ ۔
ﺁﭖ ﮐﺴﯽ ﺩﻥ ﭨﮭﻨﮉﮮ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ 13 ﺍﻭﺭ 17 ﺩﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﻥ ﺟﻨﮕﻮﮞ ﮐﻮ ﯾﻮﺭﭖ ﮐﯽ ﭼﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﭼﮫ ﺳﺎﻝ ﻟﻤﺒﯽ ﺟﻨﮕﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺗﯿﻦ ﮨﺰﺍﺭ ‘ ﭼﺎﺭ ﮨﺰﺍﺭ ‘ 9 ﮨﺰﺍﺭ ﺍﻭﺭ 26 ﮨﺰﺍﺭ ﻻﺷﻮﮞ ﮐﻮ ﯾﻮﺭﭖ ﮐﯽ ﺳﺎﮌﮬﮯ ﭼﺎﺭ ﮐﺮﻭﮌ ﺍﻭﺭ ﭼھ ﮐﺮﻭﮌ ﻻﺷﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐھ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ۔
ﺁﭖ ﻻﮨﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﮈﮬﺎﮐﮧ ﭘﺮ ﺣﻤﻠﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ‘
ﺁﭖ 1965 ﺀﮐﮯ ﭘﭩﮭﺎﻥ ﮐﻮﭦ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﻧﮉﺍ ﮐﮯ ﺣﻤﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮨﯿﺮﻭ ﺷﯿﻤﺎ ‘ ﻧﺎﮔﺎ ﺳﺎﮐﯽ ‘ ﭘﺮﻝ ﮨﺎﺭﺑﺮ ‘ ﻧﺎﺭﻣﻨﮉﯼ ‘ ﺍﯾﻤﺴﭩﺮﮈﯾﻢ ‘ ﺑﺮﺳﻠﺰ ‘ ﭘﯿﺮﺱ ‘ ﻟﻨﺪﻥ ‘ ﻭﺍﺭﺳﺎ ‘ ﺑﺮﻟﻦ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺳﮑﻮ ﭘﺮ ﺣﻤﻠﮯ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ ” ﺟﻨﮓ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ؟ “
ﺁﭖ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﺧﻠﯿﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺟﻨﮓ ﮐﯽ ﻣﺎﮨﯿﺖ ﺑﺘﺎﺋﮯ ﮔﺎ
" ﮨﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﻠﮏ ﺟﻨﮓ ﺳﮯ ﻧﺎﻭﺍﻗﻒ ﮨﯿﮟ ‘ ﮨﻢ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ” ﺟﻨﮓ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ؟ “
ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﮨﻢ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﭼھ ﻣﺎﮦ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﭩﻢ ﺑﻢ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺩﮬﻮﭖ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩھ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺑﮭﺎﺭﺕ ﻣﻤﺒﺌﯽ ﮐﮯ ﺣﻤﻠﻮﮞ ‘ ﭘﺎﺭﻟﯿﻤﻨﭧ ﭘﺮ ﺩﮨﺸﺖ ﮔﺮﺩﯼ ‘ ﭘﭩﮭﺎﻥ ﮐﻮﭦ ﺍﻭﺭ ﺍُﮌﯼ ﺑﺮﯾﮕﯿﮉ ﮨﯿﮉ ﮐﻮﺍﺭﭨﺮ ﭘﺮ ﺣﻤﻠﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﻨﮓ ﮐﯽ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﭘﺮ
” ﮨﻢ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺍﯾﭩﻢ ﺑﻢ ﺷﺐ ﺑﺮﺍﺕ ﭘﺮ ﭼﻼﻧﮯ ﮐﮯﻟﺌﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺎﺋﮯ “
ﮐﺎ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ‘ ﮐﯿﻮﮞ؟
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﺟﻨﮓ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ؟
ﺍﯾﭩﻢ ﺑﻢ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺟﺐ ﭘﮭﭩﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ؟۔
ﻣﯿﮟ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﯼ ﺟﻨﮓ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ ‘
ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﻠﮏ ﺟﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﻨﮕﯽ ﺍﺭﻣﺎﻥ ﭘﻮﺭﮮ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ‘
ﯾﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺍﯾﭩﻢ ﺑﻢ ﭼﻼ ﻟﯿﮟ ﺗﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺑﺮﺻﻐﯿﺮ ﮐﮯ 110 ﺷﮩﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﻮﮨﻦ ﺟﻮ ﺩﺍﮌﻭ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﮑھ ﻟﯿﮟ ‘
ﯾﮧ ﺧﯿﺮ ﭘﻮﺭ ﺳﮯ ﮔﻮﺍ ﺗﮏ ﭘﺎﻧﭻ ﺩﺱ ﮐﺮﻭﮌ ﻻﺷﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑھ ﻟﯿﮟ ‘
ﯾﮧ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﻮ ﺩﻭﺍ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺑﻠﮑﺘﺎ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑھ ﻟﯿﮟ ‘
ﯾﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺑﺠﻠﯽ ‘ ﭨﯿﻠﯽ ﻓﻮﻥ ‘ ﭘﺎﻧﯽ ‘ ﺳﮍﮎ ‘ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﻮﻝ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ
ﯾﮧ ﭘﭽﺎﺱ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﻣﻌﺬﻭﺭ ﺑﭽﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ۔

ﯾﮧ ﺗﺐ ﺟﻨﮓ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﯿﮟ ﮔﮯ ‘
ﯾﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺎﭘﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﯾﻮﺭﭖ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﻨﮓ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ ‘
ﯾﮧ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﯾﻮﺭﭖ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺮﺣﺪﯾﮟ ﮐﮭﻮﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﯾﮟ ﮔﮯ۔
ﯾﮧ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﮌﯼ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﭩﮧ ﮐﻮ ﺍﻣﻦ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﮐﯽ ﺭﮐﺎﻭﭦ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﻨﮯ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ۔
ﺭﺍﻭﯼ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﭼﯿﻦ ﮨﯽ ﭼﯿﻦ ﻟﮑﮭﮯ ﮔﺎ۔
ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﻥ ﺑﮯ ﭼﯿﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﯿﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ۔
ﯾﮧ ﮨﯿﺮﻭ ﺷﯿﻤﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﺭﺳﺎ ﺑﻨﻨﮯ ﺗﮏ ﺟﻨﮓ ﺟﻨﮓ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جب ہمارے گھٹیا شاعر اور تھرڈ کلاس رائیٹر ، پاکستانی اور عربی جنگوں پر جھوٹے شعر اور کہانیاں لکھنا ختم کریں کے ۔ تو شائد اگلی نسل کے ذہن میں جنگ کا کیڑا نہ اُٹھنے پائے گا مہاجرزادہ

منگل، 3 مارچ، 2020

ابا کی محبوبہ !

 میرے بار بار مانگنے پر بھی ابا مجھے سائیکل نہیں دیا کرتے تھے -
بہت پیاری تھی اپنی بائیسکل ابا کو۔۔!
 بڑے پریم سے ہر جمعہ کے روز اس کی سروس کرتے،
 ساتھ پرانے گانے چلتے -

بابو جی دھیرے چلنا
 پیار میں ذرا سنبھلنا 
بڑے دھوکے ہیں
 اس راہ میں
 ہاں ذرا سنبھلنا۔
 سائیکل نہ ہو ۔  جیسے محبوبہ ہو اتنی محبت ، حد ہے۔
 بھئی میں کیا کرتا ۔۔۔۔!
 مجھے ابا کی سائیکل بہت بھاتی ، جب موقع ملتا لے کر نکل پڑتا ۔ 
میں چلاتا بھی تو برے طریقے سے تھا نا ! 
اکثر گرا بھی دیتا ، چین اتر جاتی ۔
 ہینڈل مڑ جاتا میرے گھٹنے بھی چھل جاتے،
 اماں سے ڈانٹ علیحدہ پڑتی ۔
پھر ایک دن ابا نے سائیکل عزیز چچا کو دے دی-
 یہ میرے لئے بہت بڑا صدمہ تھا۔
 شاید میری زندگی کا سب سے بڑا صدمہ ۔
 اپنے پیارے ابا کی یہ کج ادائی مجھے ہرگز نہیں بھائی،
 وہ جانتے بھی تھے مجھے سائیکل چلانے کا کتنا شوق تھا اور میری بجائے سائیکل انہوں نے اُٹھا کر عزیز چچا کو دے دی ۔
 میں ابا سے بہت ناراض تھا۔
 بچپن کے ہاتھ سے میرا ہاتھ کب چھوٹا پتہ ہی نہیں چلا اور میں بڑا ہو گیا -
سائیکل والی ناراضگی بھی میرے ساتھ ہی بڑی ہو گئی ۔
 انہیں دنوں میں نے ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا اور میرا میڈیکل میں داخلہ ہو گیا ۔ میں پڑھائی میں مصروف ہو گیا ۔ ۔
 بچپن کی یادیں سنوار کر تہہ لگا کر سنبھال رکھی تھیں ۔ 
کبھی کبھار لوری کی دھنوں کی طرح بجتیں، اُن میں ایک اداس دھن سب سے علیحدہ بجا کرتی ۔
گلی محلے سے گزرنے والی سائیکل کی گھنٹی اور ابا کے پرانے گانے اب بھی میری اداسی کا سبب بن جایا کرتے ۔ 
جانے کیوں سائیکل کا دکھ میرے دل سے جاتا نہیں تھا ۔ 
یادوں کی تپتی دھوپ میں ننگے پاؤں دوڑتا پھرتا ، عجیب دکھ تھا کملا جھلا ۔
 شاید بچپن کے سب دکھ ایسے ہی ہوا کرتے ہیں، پھٹی جیب سے آخری دو آنے گرنے کے دکھ جیسے !
 ابا بوڑھے ہو گئے بیمار رہنے لگے ۔ وقت گزر گیا اور 
میں ڈاکٹر بن گیا۔
 ابا کو جانے کی جلدی تھی شاید میرے نتیجے کا انتظار کر رہے تھے ۔
دو دن بعد ہی چلے گئے !
عزیز چچا افسوس کرنے آئے ، دیر تک میرا ہاتھ تھام کر بیٹھے ابا کی باتیں کرتے رہے۔
 ابا کا ذکر ہو اور ان کی محبوبہ کا ذکر نہ چھڑے یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟
سب ہی سائیکل کو ابا کی محبوبہ کہا کرتے تھے۔
 یار تیری فیس بھرنے کے لئے انہوں نے سائیکل بیچ ڈالی۔
 میں نے بہت کہا آپ ادھار لے لیں ۔مگر ایک نہیں مانے ، تو جانتا ہے نا اپنے اصولوں کے کتنے پکے تھے تیرے ابا ۔۔۔۔۔۔!
 میں نے کہا اپنی محبوبہ کے بغیر جی پائیں گے ۔۔۔۔!
 کہنے لگے میرے پتر پر ایسی ہزار محبوبائیں قربان۔۔۔!
 اس سے آگے میں کچھ سُن ہی نہیں سکا -
میرے دل میں پڑی ناراضگی سسکنے لگی۔
بابو جی دھیرے چلنا،
 پیار میں ذرا سنبھلنا،
 او بڑے دھوکے ہیں،
 اس راہ میں !
یہ کیسا دھوکا کھایا تھا؟ 
 میں نے پیار میں!
٭٭٭٭٭٭٭٭
 

پھیپھڑوں کو مضبوط بنائیں!

کرونا وائریس کا حملہ  ، سانس کے ذریعے پھیپڑوں پر ہوتا ہے جس کی متعلق 10 دن بعد پتہ چلتا ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭
کرونا وائرس دنیا بهر کے لیے ایک چیلنج بنتا جارہا ہے۔
ایلو پیتهک طریق علاج کے ماہرین اس کی ویکسن بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں جب کے ہومیو پیتهی میں ، پھیپھڑوں کو مضبوط بنانے کی ویکسین  Bacilinum پہلے سے موجو دہے ۔ جو ٹی بی کے علاج کے لئے دریافت کی گئی  اور یہ دوائی  ٹی بی کے مریض کے لعاب سے ایجاد کی گئی ۔

اس کی ویکسین پہلے سے موجود ہے-

یہ وائرس پهپیهڑوں کو تباہ کرتا ہے،انسان کو سانس لینا دشوار ہوجاتا ہے. ہومیو میڈیسن بیسی لینم (Bacilinum 1M ) کی صرف ایک خوراک آپ کے پهیپهڑوں میں وہ قوت مدافعت پیدا کرسکتی ہے جو اس وائرس کا دفاع کرسکے،یہ دوا ٹی بی زدہ پهیپهڑے سے تیار کی جاتی ہے اور عام طور پر پهیپهڑوں کی تمام بیماریوں میں مدد گار و معاون کے طور پر مستعمل ہے.15 سال کی عمر تک کے بچوں کو 1m پوٹینسی کے بجائے 200 کی طاقت میں استعمال کرائیں.٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔