Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 3 جون، 2023

پنشن اور پنشنرز گریڈ 1 تا 14

 اِس مہنگائی کے دور میں سارے  گریڈ 1 تا 14 کے پنشنرز  پریشان ہیں ، کہ وہ کیسے اپنی باقی زندگی کو معاشی دلدل سے گھسیٹ کر نکالیں؟

تنگ دستی اور پریشانیوں کی اِس آزمائش میں  وہ سوچتے ہیں کہ حکومت کیوں اُن کی طرف توجہ نہیں دیتی   ،  ملازمین کی تنخواہیں ہیں کہ وہ بڑھتی جارہی ہیں ، ممبرانِ قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی  کے وظیفے  کہاں سے کہاں پہنچ چکے ہیں اور وکالت کی پر پیچ گلیوں سے گذر کر ، انصاف کا ترازو سنبھالنے والی مسند پر بیٹھنے والے ۔ آئین کے آرٹیکل   کا سہارا لے کر اپنی تنخواہیں ، الاؤنسز اور پنشن اتنی بڑھا چکے ہیں کہ گریڈ 1 کا ملازم  ، مہنگائی کے بوجھ تلے دب چکا ہے ۔

اِس کے علاوہ ڈالر کی بے تحاشا اونچائی اور پاکستانی روپے کی قیمت خرید میں کمی کی وجہ سے گریڈ 15 سے 19 تک کے پنشنرز بھی کمر تک مہنگائی کی دلدل میں پھنس چکے ہیں  ۔ پے اینڈ پینشن کمیشن کی سفارشات سرخ فیتے کی نذر ہو چکی ہیں ۔ جس کے حق میں چیئرمین جناب انجنیئر  بشیر احمد بلوچ اور میں نے پچھلے سال   پنشن گریڈ کی چار کیٹیگریز کے لئے پنشن کے اضافے کی تجویز پیش کی تھی جس کے مطابق ۔
1- گریڈ 1 تا 11 ، 35 فیصد اضافہ
۔
گریڈ 12 تا 16 ، 25 فیصد اضافہ2 ۔ 

۔ گریڈ 17 تا 19 ، 15 فیصد اضافہ

۔ گریڈ 20  سے اوپر  ، 10 فیصد اضافہ

20 سال پہلے ریٹائر ہونے والے ،تمام ملازمین کی پنشن میں 15 فیصد اضافہ کیا جائے ۔ یہ کل  اضافہ پورے وفاقی بجٹ میں صرف  اعشاریہ 2 فیصد بنے گا ۔ 

یہ وہ ملازمین ہیں جنہوں نے دن رات حکومت  میں رہ کر پاکستان کے عوام کی خدمت کی  ، مہنگائی سے زیادہ بڑھاپے نے اُنہیں  حکومت پاکستان کی حکومت سے امید لگانے پر مجبور کر دیا ہے ۔  پے اینڈ پنشن کمیشن میں گو کے ریٹائرڈ بیوروکریٹ بھی شامل تھے ۔ اُنہوں نے اپنی سفارشات میں  جو منٹس بنائے اُن میں مدد کا ذکر کیا ۔ لیکن وہ سفارشات ابھی فائلوں  میں سفر کر رہی تھیں ، لیکن اِس کے باوجود 10 فیصد پنشن کا اضافہ کرکے  پنشنرز کے چند آنسووں کا مداوہ کیا ۔ 

پنشنرز کی بنیادی طور پر حکومت سے بس یہی ڈیمانڈ ہے کہ :
1۔ مہنگائی کے تناسب سے مندرجہ بالا سلیب کے مطابق  پنشن  بڑھائی جائے ۔

2۔ بڑھاپے میں انسان بیماریوں کے محدب عدسے کے نیچے آجاتا ہے ، ہسپتال جوانوں کی نسبت بوڑھوں سے بھرے رہتے ہیں ۔ جو میڈیکل الاؤنس کے زیادہ حقدار ہوتے ہیں ۔ جس میں اضافہ نہایت ضروری ہے ۔
گو کہ پنشنرز کے بہت مسائل ہیں ، جس کے اگر حل پر واقعی ہمدردی سے غور کیا جائے تو  وہ ملک کی ایک پرسکون شہری کی زندگی گذار سکتے ہیں ( میجر (ر) محمد نعیم الدین خالد مرکزی صدر آل  پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن )

جناب سید معراج صدر ٹوِن سٹی آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن نے پنشنرز کی مسائل کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا ۔ کہ جب ایک ملازم  50 سال کی عمر کو پہنچتا ہے ۔ تو اُسے اپنے بچوں  کی تعلیم کے بعد معاشی جدودجہد میں ہاتھ بٹانے کے لئے اُس عزت دار ملازمت دلوانے کی ضرورت ہوتی ہے ۔  ہمارے گریڈ 14 سے نیچے کے ملازم اپنی تنخواہ کی کمی کی وجہ سے ، اپنے خاندان جس میں ماں باپ اور بہنیں شامل ہیں کے معاشی وسائل میں مدد مہیا کرنے کے لئے وہ اپنی بچوں کی تعلیم سے بے توجہی تعلیمی وسائل کے مہنگا ہونے کے علاوہ فیسوں کی زیادتی کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ آٹھویں کلاس تک مدد کر سکتا ہے  ۔ جس ادارے میں وہ ملازمت کرتا ہے وہاں ویلفیئر فنڈ ، صدقات اور زکوٰۃ  سے مدد بھی کی جاتی ہے ۔جس سے بچوںکی تعلیم میں کچھ سپورٹ ملتے ہے ۔ یہاں میں حکومت  کو درخواست کروں گا کہ وہ  جس محکمے میں ملازم سروس کر رہا ہے اُس میں ملازمین کے بچوں کا کوٹہ رکھے ، جو لیبر ، نان سکلڈ ورکر اور سکلڈ ورکر کی کیٹیگری میں ہو جو بچہ  بھرتی کے میعار پر پورا اترتا ہو ، اُسے لازمی ملازمت دینے میں اہمیت دی جائے ۔

تمام پنشنرز کو ہیلتھ کارڈ جاری کیا جائے جس کی بنیاد پر ، ڈاکٹر کی تجویز کے مطابق وہ میڈیکل سٹور سے دوائیاں خریدے۔یہ طریقہ تمام فوجی ہسپتالوں میں ،  تمام فوجیوں کے والدین  اور ریٹائرڈ فوجیوں ، ریٹائرڈ آفیسروں اور ان کی بیویوں  کے لئے مستعمل ہے     ۔ اِس کے لئے ہسپتال میں منظور شدہ میڈیکل سٹور کی آؤٹ لیٹ کھولی گئی ہے ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭  

عافیہ صدیقی اس قوم کی بیٹی نہیں

نائن الیون کے بعد امریکی ایجنسیوں نے اپنا مانیٹرنگ کا نظام انتہائی سخت کردیا اور انہوں نے ڈاک، ٹیلی کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ پر بطور خاص نگرانی رکھ لی۔
مئی 2002 میں امریکی ایجنسیوں کو انٹرنیٹ پر ایک مشکوک ایکٹیویٹی نظر آئی تو وہ الرٹ ہوگئے یہ ایکٹیویٹی ایک شادی شدہ جوڑے کی طرف سے 10 ہزار امریکی ڈالرز کی انٹرنیٹ پر خریداری سے متعلق تھی جس میں انہوں نے بلٹ پروف جیکٹس اندھیرے میں دیکھنے والی عینکیں اور ایسی کتابیں خریدی تھیں جن میں گوریلا جنگ سے لے کر بم بنانے کے طریقے درج تھے۔
ایجسیوں نے اس جوڑے کو ٹریک ڈاؤن کرلیا اور پوچھ گچھ کیلئے پولیس سٹیشن لے گئے جہاں ان دونوں نے ایجنسیوں کو بتایا کہ وہ شکار اور کیمپنگ کیلئے یہ سامان اکٹھا کررہے تھے ابتدائی تفتیش کے بعد انہیں جانے دیا گیا۔
اس خاتون کا نام عافیہ صدیقی تھا جو اپنے شوہر امجد خان کے ساتھ تفتیش کیلئے پولیس سٹیشن بلائی گئی اور اس وقت اس کے پاس امریکی شہریت بھی تھی
چند ماہ بعد عافیہ صدیقی پاکستان آگئی چند ماہ کراچی میں رہنے کے بعد دوبارہ نوکری کی غرض سے امریکہ چلی گئی اور امجد خان سے اس وقت طلاق لے لی جب اس کے ہاں تیسرے بچے کی پیدائش میں ابھی 4 ماہ باقی تھے بچے کی پیدائش کے غالبا 2 ماہ بعد عافیہ صدیقی نے عمار البلوچی/ عمار البلوشی سے شادی کر لی ،خالد البلوچی خالد البلوچی شیخ خالد الکویتی کا بھتیجا تھا جو کہ دہشتگرد تنظیم القائدہ کا ایک بڑا نام تھا اور نائن الیون کے حملوں کا ماسٹر مائنڈ بھی یہی شخص تھا

2003 میں خالد شیخ نے گرفتاری کے بعد دوران تفتیش عافیہ صدیقی کے بارے میں بتا دیا کہ وہ ان کے گروہ کیلئے رابطہ کاری اور پلاننگ کے ٹاسک سرانجام دیتی تھی مارچ 2003 میں امریکہ نے عافیہ صدیقی اور اس کے شوہر امجد خان کے نام ہائی الرٹ جاری کیا اور پھر اس کے چند روز بعد عافیہ صدیقی اپنی بہن کے گھر سے اپنے تین بچوں کے ہمراہ کراچی ریلوے سٹیشن جانے کا کہہ کر نکلی اور اس کے بعد کسی سے رابطے میں نہ رہی
اس دوران امریکی سی آئی اے نے عافیہ صدیقی کو انتہائی مطلوب دہشتگرد کی لسٹ میں ڈال دیا اور اسے لیڈی القاعدہ کا ٹائٹل بھی دے دیا

2008 میں عافیہ صدیقی افغانستان میں غزنی کے مقام پر اس وقت گرفتار ہوئی جب وہ برقع پہنے اپنے احمد نامی بچے کے ساتھ گورنر کی رہائش کے قریب کھڑی پائی گئی ۔تلاشی لینے پر اس سے مختلف بوتلوں میں کیمیکلز برامد ہوئے، پرس میں ایک یو ایس بی ڈرائیو تھی ۔جس میں نیویارک کے مختف مقامات کے نقشے اور مارکنگ کی گئی تھی، اس کے ساتھ ساتھ بم بنانے کے پروسیجرز بھی موجود تھے۔
اگلے دن امریکی ایف بی آئی والے تفتیش کیلئے غزنی تھانے پہنچے ۔جہاں مبینہ طور پر پردے کے پیچھے کھڑی عافیہ صدیقی نے ایک پولیس والے کی زمین پر رکھی گن اٹھائی اور فائرنگ شروع کردی ۔جواب میں ایک پولیس والے نے اس کے پیٹ میں فائر کردیا اور اسے زخمی حالت میں بگرام ائیربیس پر لے آئے جہاں اس کا آپریشن کیا گیا اور غالباً 17 روز کے بعد نیویارک منتقل کردیا گیا وہاں عافیہ صدیقی کا علاج کیا گیا سائکلوجیکل ٹریٹمنٹ کی گئی اور 2010 میں اسے عدالت میں پیش کرکے مقدمہ چلایا گیا عافیہ صدیقی نے گن اٹھا کر فائر کرنے کے الزام کو ماننے سے انکار کردیا اور کہا کہ وہ صرف پردے کے پیچھے دیکھنے کیلئے گئی تھی اور امریکی اہلکار نے اس پر فائرنگ کردی ان تمام جرائم کی وجہ سے اسے امریکہ میں اسے 86 سال قید کی سزا ہوئی

نائن الیون ہو یا پھر اس کے بعد ہونے والے دہشتگردی کے واقعات عام لوگوں کا خون چاھے پاکستان میں بہا یا امریکہ میں وہ غیرانسانی اور غیرمذہبی تھا نائن الیون کا واقعہ انتہائی دلخراش اور غیرانسانی تھا بالکل اسی طرح جس طرح پاکستان میں ڈرون حملے اور افغانستان کی جنگ ایک غیرانسانی فعل تھا


عافیہ صدیقی کو 2008 میں افغانستان میں گرفتار کیا گیا جب وہ القاعدہ کے ساتھ مل کر امریکیوں کے خلاف کاروائی کا منصوبہ بنا رہی تھی۔ جبکہ اس کے پاس امریکی شہریت بھی تھی  اسلیے اسکے ساتھ امریکی شہریوں جیسا ہی سلوک کیا گیا اور پروسیجر کو فالو کیا گیا

عافیہ صدیقی کے معاملے کو سب نے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کےلئے استعمال کیا اسامہ کو مارنے کےلئے پاکستان کے اندر گھس کر امریکہ کی نام نہاد اور فیک کاروائی پہ مبارکباد دینے والے، یوسف رضا گیلانی نے امریکی آشیرباد سے ہی  اسے قوم کی بیٹی قرار دیا تھا۔ تاکہ دہشتگردی کا الزام پاکستان پہ آئے عافیہ امریکی شہری ہے امریکہ میں پلی پڑھی اور انہی کی مہان یونیورسٹیوں سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

 

منگل، 23 مئی، 2023

کاکے کی کاکیاں

 بہت پرانی بات ہے ، بوڑھے نے ایک کردار تخلیق کیا ، کاکا نٹورلال سنگھ  ، جو قطعی سیاسی نہیں تھا ۔

پہلے اُس کے سوالات کی ٹخ ٹلیاں ہوتی تھیں۔ پھر  اُس نے چوندیاں تے  وکھری باتیں شروع کردیں    ۔

اُس کے نام میں   پرشاد  کا اضافہ ہوگیا۔

 یوں اُس کی ٹخ ٹلیاں ، وقت گرد میں تو نہیں ،البتہ  موبائل کی  10 سموں کے ھجوم میں گم گئیں ، لیکن اب مل گئیں۔


کاکا نٹور لعل سنگھ کے سوالات پر ہنسیں یا سوچیں ۔ آپ کی مرضی:۔  

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

٭-ہاتھوں کے طوطے اُڑ کر کہاں جاتے ہیں ؟؟

٭۔لوگ آسمان سے گر کر ، کھجور میں کیوں اٹکتے ہیں ۔ آم کے درخت پر کیوں نہیں  ؟

٭۔ دودھ کا جلا چھاچھ کیوں پھونک کر پیتا ہے ۔ لسی کیوں نہیں ؟

٭۔نو دوگیارہ کیوں ہوتا ہے۔ دس تین تیرہ کیوں نہیں ؟؟

٭۔ بندر کی بلا طویلے کے سر کیوں ڈالی جاتی ہے ، کوئے کے سر کیوں نہیں ؟

٭۔کریلا نیم پر کیوں چڑھتا ہے ،آم  پر کیوں نہیں ؟؟

٭۔ اشرفیاں لٹانے پر کوئلوں پر مہر کیوں لگائی جاتی ہے کاغذ پر کیوں نہیں ؟؟

٭- اندھا ریوڑیاں گھر میں ہی کیوں بانٹتا ہے ، لڈو کیوں نہیں ؟؟

٭۔ ساون کے اندھے کو ہرا کیوں نظر آتا ہے ، سفید کیوں نہیں ؟؟


٭٭٭

٭۔ ہنسی علاج غم اور سوچ پریشانی۔

منگل، 16 مئی، 2023

ٹرسٹ , القادر ٹرسٹ , عمران اور پیرنی

حرام مال کو اپنے لئے حلال کرنے کی ابتداء پاکستان میں نان گورنمنٹ آرگنائزیشنز  (این جی اوز) نے شروع کی ۔ اور 2000 سنہ کے بعد کھمبیوں کی طرح این جی اوز اُگنا شروع ہوگئیں ۔ جب اِن پر پابندیاں امریکی آرڈر کے تحت لگیں تو بابر اعوان جیسےحرام خوروں نے ٹرسٹ  کے عوامی اعتبار کو ڈی ٹرسٹ کرنا شروع  کیا اور ٹرسٹ کے نام  پر طاقتور    ادارے ، رشوت ، کک بیک ، بھیک ، صدقوں اورخیرات پربنانا شروع کر دیئے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ٹرسٹ کے دو معنی ہیں، ایک لغوی اور ایک قانونی۔ لغوی معنی کے لحاظ ٹرسٹ کا معنی "اعتماد" ہے اور قانونی لحاظ سے "ٹرسٹ" ایک ڈھیلا ڈھالا سا خیراتی ادارہ ہوتا ہے جس میں اثاثوں کی ملکیت ٹرسٹی (ادارے کے سربراہ) کے پاس ہوتی ہے۔ 

ٹرسٹ قائم کر کے وراثت ٹیکس، گفٹ ٹیکس، ویلتھ ٹیکس اور ٹرانسفر ٹیکس سے بچا جا سکتا ہے۔ انکم ٹیکس سے پاک آمدنی اور اثاثے وصول کیے جا سکتے ہیں۔ ٹرسٹ کو تجارتی مقاصد کیلیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس کے اثاثوں کو نسل در نسل منتقل بھی کیا جا سکتا ہے۔

 ٹرسٹ کے اثاثے حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ہوتے اور ان کا عوامی ریکارڈ پیش کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی، ٹرسٹ کے معاملات پوری رازداری سے ٹرسٹی کی منشاء کے مطابق طے پا سکتے ہیں۔ 

اس کے برعکس فاؤنڈیشن ایک زیادہ قانونی ادارہ ہوتا ہے، اس میں فرد کی بجائے تنظیم اثاثوں کی مالک ہوتی ہے، فاؤنڈیشن کو تجارتی مقاصد کیلیے استعمال نہیں کیا جا سکتا، جانشینی نہیں ہو سکتی اور اس کا عوامی ریکارڈ موجود ہونا ضروری ہوتا ہے۔۔ فاؤنڈیشن زیادہ قانونی ادارہ ہوتا ہے جبکہ ٹرسٹ کو عوامی ڈومین میں رکھنے کیلیے فی الحال کوئی تفصیلی قوانین موجود نہیں ہیں۔

 ٹرسٹ کے قوانین کو جان بوجھ کر مبہم رکھا گیا ہے تا کہ اشرافیہ اس کے ذریعہ ٹیکس بھی بچا سکے، تجارت بھی کر سکے اور عوامی سطح پر نیک نامی بھی کما سکے۔

 عام آدمی نے صرف ویلفیئر آرگنائزیشن، ٹرسٹ اور فاؤنڈیشن کا نام سنا ہوتا ہے، اسے ان کے قانونی فرق کا پتا نہیں ہوتا، وہ اس قسم کے سب اداروں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے جبکہ گھاگ لوگ اس فرق سے آگاہ ہوتے ہیں اور اسے استعمال کرتے ہیں۔
گویا "ٹرسٹ" کے نام پر عوامی ٹرسٹ (اعتماد) حاصل کیا جاتا ہے لیکن یہ عین ممکن ہے کہ ٹرسٹ کے نام پر عوامی ٹرسٹ کو دھوکا دیا جا رہا ہو۔

اب آتے ہیں "القادر ٹرسٹ" کی طرف.
القادر ٹرسٹ کے معاملات کو سمجھنے کیلیے دو الگ الگ کیسوں کا سمجھنا ضروری ہے جو بعد میں جُڑ کر ایک ہو جاتے ہیں۔

پہلا کیس: ملیر ڈیویلپمنٹ اتھارٹی


کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی اور ضروریات پورا کرنے کیلیے حکومتِ سندھ نے 2013 میں کراچی کے ضلع ملیر کے ساتھ منسلک ایک نیا شہر قائم کرنے کا اعلان کیا اور اس کیلیے کراچی-حیدرآباد سپر ہائی-وے پر 17617 ایکڑ زمین مختص کی۔ اس کیلیے "ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی" کے نام سے ادارہ قائم کیا گیا۔ عوام سے 15000 روپے فی کس کے فارم پر پلاٹوں کی قرعہ اندازی کیلیے رقم اکٹھی کی گئی۔ بعد میں ملک ریاض کو وہاں پر بحریہ ٹاؤن قائم کرنے کا خیال ستایا تو حکومتِ سندھ کی ملی بھگت سے غیر قانونی طور پر ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی زمین بحریہ ٹاؤن کو الاٹ کر دی گئی۔ ملک ریاض نے بلوچستان اور ٹھٹھہ کے ویرانوں میں خریدی گئی سستی زمینوں کا تبادلہ اداروں کی ملی بھگت سے کراچی-حیدر آباد سپر ہائی وے پر کروا لیا اور بحریہ ٹاؤن بڑھتے بڑھتے 30 ہزار ایکڑ پر پھیل گیا۔ 2018 میں چیف جسٹس ثاقب نثار کے سامنے یہ کیس پیش ہوا، چیف جسٹس نے ان زمینی تبادلہ جات پر ریمارکس دیے کہ: "چاندی کے بدلے سونا خریدا گیا"-- بحریہ ٹاؤن پر چونکہ آبادی بھی ہو چکی تھی لیکن زمینوں کی الاٹمینٹ اور تبادلہ جات غیر قانونی تھے لہذا اس کا حل عدالت نے یہ پیش کیا کہ قومی خزانے کو جو نقصان پہنچایا گیا ہے ملک ریاض اسے پورا کرے۔ ملک ریاض نے تصفیے کے بعد 460 ارب روپے قسطوں میں ادا کرنے کا اقرار کیا ۔ اس وصولی کیلیے سپریم کورٹ کے تحت ایک اکاؤنٹ قائم کیا گیا اور طے پایا کہ ملک ریاض 460 ارب روپے کی قسطیں اس اکاؤنٹ میں جمع کروایا کرے گا اور وہاں سے رقم قومی خزانے کو منتقل ہوتی رہے گی۔ ملک ریاض یہ قسطیں ابھی تک جمع کروا رہا ہے۔۔ ۔۔ یہ پہلا کیس ہے۔۔

دوسرا کیس: لندن منی لانڈرنگ کیس:۔


دوسرا کیس پاکستان سے باہر برطانیہ کا ہے۔ 2019 کے اوائل میں ملک ریاض کو برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) نے منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت شاملِ تفتیش کیا کہ ملک ریاض نے پاکستان سے غیر قانونی طور پر منی لانڈرنگ کرتے ہوئے ایک خطیر رقم برطانیہ منتقل کی۔ ملک ریاض نے NCA سے بھی تصفیہ کیا اور 190 ملین پاؤنڈ (تقریبًا 60 ارب روپے) لندن میں NCA کو جمع کروا دیئے۔ NCA کے مطابق یہ رقم چونکہ پاکستان سے منی لانڈرنگ کے ذریعہ برطانیہ منتقل ہوئی تھی اور یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی لہذا اس رقم کو پاکستان منتقل کر دیا گیا۔ ۔۔ یہ دوسرا کیس ہے۔

اب دیکھتے ہیں کہ دونوں کیس آپس میں جُڑتے کس طرح ہیں ۔۔


لندن سے رقم کی پاکستان منتقلی اور وفاقی کابینہ کا اجلاس:۔

22 نومبر 2019 کو لندن ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کورٹ نے ملک ریاض سے وصول کی گئی رقم پاکستان منتقل کرنے کا اعلان کیا۔
اس سے پہلے ستمبر 2019 میں شہزاد اکبر کی ڈورچیسٹر ہوٹل میں ملک ریاض سے ملاقات ہوئی۔ بعد میں ملک ریاض کی بیٹی کی شادی پر بھی برطانیہ میں ملک ریاض سے ملاقات کی۔ شہزاد اکبر نے ہی NCA سے کہا کہ وہ ملک ریاض سے عدالت سے باہر باہر ہی سمجھوتہ کر لیں۔ اس وجہ سے ملک ریاض برطانیہ میں سزا سے بچ گئے اور رقم دے کر سزا سے جان چھڑا لی۔
رقم کی پاکستان منتقلی کے بعد 3 دسمبر 2019 کو 21 رکنی وفاقی کابینہ کا اجلاس عمران خان کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ جس میں شیریں مزاری، مراد سعید، شیخ رشید، پرویز خٹک، شفقت محمود، زلفی بخاری اور شہزاد اکبر کے علاوہ باقی وزراء موجود تھے. شہزاد اکبر نے ایجنڈے کے آئٹم نمبر 2 کے تحت ایک سیل بند لفافہ پیش کر کے کابینہ سے اسے بغیر کھولے منظور کرنے کو کہا۔
ایک اخباری رپورٹ کے مطابق :۔
اسلام آباد میں جاری کابینہ کے اس اجلاس کے دوران معمول سے کچھ ہٹ کر ہوا۔ وزیرِاعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کو 'ایجنڈا سے ہٹ کر' ایک معاملہ پیش کرنے کی اجازت دی گئی۔ ان کے پاس ایک بند لفافہ تھا، انہوں نے بتایا کہ اس لفافے میں ایک غیر اعلانیہ معاہدہ موجود ہے۔ یہ معاہدہ کروڑوں پاؤنڈ کے تصفیے کے بارے میں تھا جو برطانوی ادارے نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے حال ہی میں ملک ریاض کے ساتھ کیا تھا۔ اجلاس میں موجود ایک ذریعے کے مطابق، ''(انسانی حقوق کی وزیر) شیریں مزاری نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ، 'جب ہمیں یہ معلوم ہی نہیں کہ اس میں کیا لکھا ہے تو آخر ہم کس بات کی منظوری دے رہے ہیں؟' ہمیں بتایا گیا تھا کہ اگر اسے کھولا گیا تو اس کے قومی سلامتی پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور برطانوی حکومت بھی تحفظات رکھتی ہے''۔
بہرحال آنکھیں بند کر کے اس معاہدے کی منظوری دے دی گئی۔ اور بعد میں کابینہ سیکرٹری سے کہا گیا کہ اس ریکارڈ کو قومی راز اور حساس معاملہ قرار دے کر سِیل کر دیا جائے۔

اس معاہدے کے تحت 60 ارب کی جو رقم پاکستان کے قومی خزانہ میں منتقل ہونا تھی وہ رقم سپریم کورٹ کے اس اکاؤنٹ میں جمع کروا دی گئی جس میں ملک ریاض بحریہ ٹاؤن کراچی کی بدعنوانی کے سلسلہ میں قسطیں جمع کروا رہا تھا۔ گویا برطانیہ نے جو رقم ملک ریاض سے ضبط کی تھی وہی رقم ملک ریاض کی ملکیت میں واپس دے کر اسے ملک ریاض کا ہی قرضہ اتارنے میں استعمال کیا گیا۔ یہ تھا وہ قومی راز جس کی منظوری انتہائی رازدارانہ انداز میں لی گئی۔ ملک ریاض کی رقم کابینہ کے ذریعہ ملک ریاض کو ہی واپس کر دی گئی۔ جو رقم قومی خزانہ میں آنا تھی وہ ملک ریاض کا ہی قرضہ اتارنے میں کام آ گئی۔۔
 

القادر ٹرسٹ کا قیام اور القادر یونیورسٹی:۔

پاکستان کا ایک ادارہ "چیریٹی کمیشن گورنمنٹ آف پاکستان" ہے ، اس کے تحت تمام خیراتی ادارے، ویلفیئر آرگنائزیشن، فاؤنڈیشن، ٹرسٹ وغیرہ رجسٹر ہوتے ہیں۔ 26 دسمبر 2019 کو (کابینہ کے اجلاس کے تین ہفتہ بعد) چیریٹی کمیشن کے سب رجسٹرار آفس میں "القادر ٹرسٹ" کی ٹرسٹ ڈیڈ جمع کروائی گئی۔ اس کے ٹرسٹی عمران خان، بشری بی بی، بابر اعوان اور زلفی بخاری تھے۔
22 اپریل 2020 کو رجسٹرار آفس میں لیٹر موصول ہوا کہ ٹرسٹیوں میں سے بابر اعوان اور زلفی بخاری کو ڈراپ کر دیا گیا ہے اور اب صرف عمران خان اور بشری بی بی ٹرسٹی کے طور پر کام کریں گے۔
کچھ عرصہ بعد بحریہ ٹاؤن کی طرف سے موضع برکالا تحصیل سوہاوہ ضلع جہلم میں 458 کنال، 4 مرلے، 58 مربع فٹ زمین جس کی مالیت 93 کروڑ روپے ظاہر کی گئی تھی وہ القادر ٹرسٹ کو منتقل کر دی گئی، جبکہ اس کی اصل مالیت تقریبًا 9 ارب روپے بنتی تھی۔ پھر القادر ٹرسٹ، القادر یونیورسٹی کیلیے ڈونر بن گیا اور اس یونیورسٹی کو پرائیویٹ یونیورسٹی کے طور پر القادر ٹرسٹ کے زیرِ انتظام رجسٹرڈ کر لیا گیا۔ بطور وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اس پرائیویٹ یونیورسٹی (یعنی اپنی ہی یونیورسٹی) کی تعمیر کا افتتاح کیا۔ ڈونیشنز بھی خوب اکٹھی ہوئیں۔ یونیورسٹی کا کافی حصہ تیزی سے تعمیر ہو گیا۔ اب اس یونیورسٹی کی ایک سمیسٹر کی فیس ایک لاکھ دو ہزار روپے ہے، ایڈمشن فیس بیس ہزار ہے اور سیکیورٹی فیس دس ہزار ہے۔۔ تصوف اور شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے نام پر ایک مہنگی ترین یونیورسٹی قائم کی گئی ہے۔
[اس کے علاوہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ بنی گالا میں عمران خان کی رہائش کے قریب ملک ریاض نے زمین کا ایک اور ٹکڑا ٹرسٹ کے نام منتقل کیا اور ٹرسٹ نے اس پر بھی القادر یونیورسٹی کے نام سے محدود سی تعمیرات کی ہیں۔ مزید یہ کہ ملک ریاض نے بنی گالا میں ہی 240 کنال زمین فرح گوگی کے نام پر منتقل کی تھی جو کہ بقول حکومت بشری بی بی کی فرنٹ وومین ہے۔۔ گویا 60 ارب کی سہولت کے بدلے تقریبًا 10 ارب کے اثاثے حاصل کیے گئے۔

 نیب کا مقدمہ:۔

نیب کے مقدمے کا ماحصل یہ ہے کہ القادر ٹرسٹ کو منتقل ہونے والی زمین دراصل ملک ریاض کی طرف سے رشوت ہے جو اس کو 60 ارب روپے کا فائدہ پہنچانے کے بدلے دی گئی۔
اب نیب نے صرف یہ ثابت کرنا ہے کہ ملک ریاض کو کابینہ میں رازدارانہ طریقہ سے مالی فائدہ پہنچانا ، قومی خزانے کو نقصان پہنچانا اور القادر ٹرسٹ کو بحریہ ٹاؤن کی طرف سے زمین کی منتقلی صرف اور صرف ایک رشوت ہے۔۔ اس کیس کے شوہد اکٹھے کرنا اب نیب کا کام ہے۔ اس رابطے کو ثابت کرنا گو ناممکن نہیں لیکن قانونی طور پر مشکل ضرور ہے ۔
 

القادر ٹرسٹ: عوامی ٹرسٹ کا خون:۔

نیب اس رشوت کو ثابت کر سکے یا نہ کر سکے لیکن غیر جذباتی غور و فکر کرنے والوں کے نزدیک عمران خان صاحب نے القادر ٹرسٹ کے نام پر عوامی ٹرسٹ کا خون ضرور کیا ہے۔ ۔۔ اس کیس نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے:
1- عمران خان کو ملک ریاض سے اتنی ہمدردی کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ ملک ریاض جیسے پراپرٹی ٹائیکون کو آخر اتنا ریلیف کیوں دیا گیا؟ کیا باقی کرپٹ لوگوں کی طرح اس کا جواب بھی قومی مفاد ہی ہو گا؟
2- کابینہ کی آنکھوں میں دھول جھونک کر زبردستی رازدارانہ انداز میں حساس معاملہ قرار دے کر اس فیصلہ کو سیل بند کیوں کروایا گیا؟
3- قومی خزانہ کو 60 ارب کا نقصان پہنچانے کا ذمہ دار آخر کون قرار پائے گا؟
4- کابینہ سے خفیہ منظوری کے تین ہفتہ بعد ہی القادر ٹرسٹ کیوں رجسٹرڈ کروایا گیا؟ اس سے پہلے کیوں رجسٹرڈ نہ کروایا گیا؟
5- فاؤنڈیشن کی بجائے ٹرسٹ کیوں رجسٹرڈ کروایا گیا؟
6- ملک ریاض سے ہی اتنی قیمتی زمین ٹرسٹ کیلیے کیوں حاصل کی گئی؟ اور منتقلی میں قیمت کا جھوٹ کیوں بولا گیا؟
7- ٹرسٹی کے طور پر صرف عمران خان اور ان کی بیگم ہی کیوں باقی رکھی گئیں؟ باقی لوگوں کو کیوں فارغ کر دیا گیا؟ اگر یہ ایک سوچا سمجھا پلان نہیں تھا تو اور کیا تھا؟
8- خیراتی یونیورسٹی کی فیس اتنی زیادہ کیوں ہے اور اس کا مالی فائدہ کسے ہو رہا ہے؟

غرض سوالات ہی سوالات ہیں۔ عوامی ٹرسٹ کا خون دن دہاڑے ہوا ہے۔ قانونی پیچیدگیاں عدالت میں اسے ثابت کر سکیں یا نہ کر سکیں لیکن ہر قدم پر معاملہ ہی مشکوک ہے، نہ صرف مشکوک بلکہ عیاں ہے۔۔۔
اپنے لیڈر کی محبت میں اندھے کارکنان کے علاوہ ہر سوچنے سمجھنے والا خان صاحب کی اس حرکت اور توشہ خانے کی حرکت کو نظر انداز کر کے کلین چٹ نہیں دے سکتا۔ عوامی مقبولیت زیادہ دیر ہر معاملے پر پردے نہیں ڈال سکتی۔ PDM حکومت کی اپنی کرپشن اور دیوالیہ پن کی وجہ سے اگرچہ خان صاحب سب کو دودھ کے دھلے ہوئے لگتے ہیں لیکن وہ اتنے بھی دودھ کے دھلے ہوئے نہیں ہیں جتنا ظاہر کرتے ہیں۔ ہمیں خان صاحب سے نہ محبت ہے نہ نفرت۔۔ معاملہ میرٹ کا ہے اور میرٹ پر ہی فیصلہ کرنا حق اور حقیقت ہے۔۔

پاکستان کے ہر باشندے کو معلوم ہے کہ ملک ریاض کے ساتھ راہ و رسم رکھتے والا بندہ کبھی کرپشن سے پاک نہیں ہو سکتا۔ ملک ریاض نے جج، جنرل، سیاستدان سے لے کر سرمایہ دار تک کسی کو کرپٹ کیے بغیر نہیں چھوڑا ۔۔. کابینہ سے خفیہ منظوریاں، قومی خزانے کو نقصان، زمین کی منتقلیاں اور القادر ٹرسٹ کے نام پر عوامی ٹرسٹ کا خون۔۔۔
فاعتبروا یا اولی الابصار۔۔

تحریر و تحقیق:
پروفیسر ڈاکٹر
سید محمد ہارون بخاری

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اتوار، 7 مئی، 2023

پی ٹی آئی کی غلاظت میں لتھڑے لوگ

گمنام پی ٹی آئی کی غلاظت میں لتھڑے فوجی دوست ۔

جب نصف صدی پہلے ، جب،   :۔
٭۔نہ آرمی آفیسر کو ھاوسنگ کا مکان ملتا تھا،
٭۔نہ ڈی ایچ اے کا  پلاٹ  ملتا تھا ۔
 ٭۔نہ  آرمی پبلک سکول ہوتے تھے ۔

اور
٭۔نہ ہی ریٹائرمنٹ کے بعد نوکری ملتی تھی ۔

میرے اُفق کے بار بسنے والے گمنام وٹس ایپی دوست :۔
تب  بھی قبول صورت  اور باکردار  لڑکیاں، آرمی ، ائر فورس اور نیوی  کے آفیسروں کو ایلیئٹ کلاس سے شادی کے لئے مل جایا کرتی تھیں ۔
خواہ آرمی آفیسر ، سپاہی کا بیٹا ہو یا مستری کا ، یا دکاندار کا  یا کسان کا ،
کیوں کہ وہ ، معمولی کلاس کا بیٹا پاس آؤٹ ہوتے ہی ایلیئٹ کلاس میں شامل ہوجاتا تھا ۔
اور آرمی آفیسرکی بیوی بننا اعزاز کی بات ہوتی تھی ۔ 

کیوں کہ آرمی آفیسر کا بچہ یا بچی اپنے باپ کے کیرئیر سے بلند ہی دیکھا ہے ، سوائے اُن بچوں کے جوبگڑ گئے ۔ 
میں پرسوں ، ایک سینئر آفیسر کرنل نذرعباس کے گھر گیا جو عسکری 10 میں  رھائش پذیر ہے۔وہاں اُس کا کورس میٹ کرنل نعیم جعفری، میں اور میرا فوجی بیٹا،  بیٹھے پرانے 1980 کے قصے دھرا رہے تھے ۔ کیوں کہ ہم تینوں کے بچے ہم عمر ھیں  ، اور اب فوج، سول   انجنیر ، چارٹرڈ اکاونٹ اور بینکر ہیں۔ پاکستان میں ہیں اور بیرونِ ملک باعزت روزگار کما رہے ہیں ۔ 
کرنل نذرعباس نے کہا ، نعیم میں سوچ نہیں سکتا تھا کہ  ریٹائر منٹ کے بعد میں ایسے گھر میں رہوں گا ۔ 

میں نے کہا: سر  یاد ہے کہ 1980 میں جب عسکری ھاوسنگ کی سکیم آئی تو ہم تینوں کے پاس ڈاؤن پیمنٹ جمع کروانے کی رقم نہیں تھی ۔
میں سوچتا تھا کہ تین بچے پالوں یا قسطیں کٹواؤں ؟
یہ فوج کا ہم مڈل کلاس والوں پر احسان ہے کہ ہمیں رہنے کو باعزت چھت دی ہے ۔ ریٹائرمنٹ کے بعد نوکری اور بچوں اور بہترین تعلیم کے مواقع اور بڑھاپا سکون سے گذارنے کے لئے پنشن ۔
دوسال میں ایک بار باہر جاب کرنے والے بچوں کے پاس ، اپنے گرینڈ چلڈرنز سے ملنے نکل جاتے ہیں ۔

بنگلہ ، گاڑی اور تعلیم یافتہ بچے ، سے زیادہ اگر یہ خاتون چاھتی ہے۔

  تو باجوہ یا عاصم منیر کیا کر سکتا ہے ؟؟

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔