Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 12 اگست، 2020

جگن ناتھ آزاد کا قومی ترانہ: سفید جھوٹ


کہا گیا کہ خود قائداعظم نے جگن ناتھ آزاد سے کہا کہ وہ پانچ دن کے اندر پاکستان کا قومی ترانہ لکھ کے دیں.
سوال یہ ہے کہ قائداعظم نے انہیں ہی کیوں کہا، اگر کسی اچھی نیت سے کسی ہندو سے لکھوانا ہی مناسب سمجھے تو جگن ناتھ کے والد جناب تلوک چند محروم سے کہتے جو اس وقت مانے ہوئے شاعر تھے. جگن ناتھ کی تو ابھی کوئی نمایاں حیثیت نہیں تھی. اردو شاعری پڑھنے والے سبھی لوگ بھی نہیں جانتے ہوں گے.
قائد اعظم، جگن ناتھ تو کیا دوسرے اردو شاعروں کو بھی کہاں جانتے ہوں گے. اگر جانتے ہوں گے تو میاں بشیر احمد (ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح) اصغر سودائی (پاکستان کا مطلب کیا) اور ظہیر نیاز بیگی جیسے چند دوسروں کو جو مسلم لیگ کے جلسوں میں نظمیں پڑھتے تھے یا ان کی نظمیں مشہور تھیں.

بعض لوگ تو لکھتے ہیں قائداعظم نے "اپنے دوست" جگن ناتھ سے کہا. حالانکہ قائد اعظم ان سے 42 سال بڑے تھے، نہ کسی سکول کالج میں اکٹھے پڑھے، نہ پڑوسی رہے، بلکہ ایک ہی شہر میں بھی کبھی نہیں رہے. دوستی کیسے ہوگئی؟
جگن ناتھ آزاد ایک پاکستان مخالف ہندو اخبار میں کام کرتے تھے. اگر کسی مسلم لیگی اخبار میں ہوتے تو تب بھی سوچا جاسکتا تھا کہ شاید تعارف ہو.

قائد اعظم کی 3 جون کی تاریخی تقریر کا اردو ترجمہ نشر کرنے والے سید انصار ناصری نے 7سے 15 اگست 1947 ، قائداعظم کی تمام سرگرمیوں اور ملاقاتوں کی تفصیل لکھی ہے. ان میں جگن ناتھ آزاد کی کسی ملاقات کا ذکر نہیں. قائداعظم کے اے ڈی سی کیپٹن عطا ربانی نے ڈاکٹر صفدر محمود کے پوچھنے پر صاف صاف کہا کہ جگن ناتھ آزاد نامی کسی شخص نے قائداعظم سے ملاقات نہیں کی.
جب جگن ناتھ کے قومی ترانے کا شوشا چھوڑا گیا، میرے دوست علی تنہا ریڈیو پاکستان کے کنٹرولر تھے. انہوں نے اگست 1947 سے 1949 تک کا ریکارڈ چھان مارا. جگن ناتھ کا کوئی ترانہ نہیں ملا.
ریڈیو سٹیشن میں براڈ کاسٹ کئے جانے والے ، روزانہ کے پروگرامز پر بننے والی ، کیو شیٹس پر منٹوں سیکنڈوں کے حساب سے نشریات کی پوری تفصیل درج ہوتی ہے. ان کا نام کہیں نہیں تھا-
جگن ناتھ آزاد نے جگ جگ پاکستان، میرا پیارا وطن جیسا ملی نغمہ لکھا ہوگا. جس طرح ہزاروں دوسرے بھی لکھے گئے ہیں . حتی' کہ اسرار الحق مجاز نے بھی لکھا (راوی کی لہروں پر ناچا، اک چاند اور اک تارا... پاکستان ہمارا) جو پاکستان آئے ہی نہیں، بھارت رہے.

جگن ناتھ نے واقعی قومی ترانہ لکھا ہوتا جو دعوے کے مطابق 15 اگست کو ریڈیو سے نشر ہوا اور ڈیڑھ سال قومی ترانے کے طور پر استعمال بھی ہوتا رہا تو کسی نے اس کی دھن بنائی ہوگی، سازندوں نے اسے شکل دی ہوگی، پانچ چھ یا آٹھ دس گلوکاروں نے گایا ہوگا، ریڈیو کے پروڈیوسر اور افسروں یا ریکارڈنگ کمپنی والوں نے ریکارڈ کیا ہوگا، وہ درجنوں لوگ خاموش کیوں رہے؟ تمغوں کے دعوے کیوں نہ کیے؟ کسی اور نے بھی ایسے کسی شخص کا ذکر نہیں کیا جو اس مبینہ ترانے کی تیاری میں شریک رہا ہو.
14/15 اگست کو ریڈیو سے جوکچھ نشر ہوا، اس کا مکمل ریکارڈ موجود ہے.
لاہور، پشاور اور ڈھاکا اسٹیشنز سے رات 11 بجے آل انڈیا ریڈیو سروس نے اپنا آخری اعلان نشر کیا تھا۔

بارہ بجے سے کچھ لمحے پہلے ریڈیو پاکستان کی شناختی دھن بجائی گئی اور ظہور آذر نے انگریزی زبان میں اعلان کیا کہ آدھی رات کے وقت پاکستان کی آزاد اور خود مختار مملکت معرض وجود میں آ جائے گی۔ رات کے ٹھیک 12 بجے ہزاروں سامعین کے کانوں میں پہلے انگریزی اور پھر اردو میں یہ الفاظ گونجے، "یہ پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس ہے"
انگریزی میں یہ اعلان ظہور آذر نے اور اردو میں مصطفیٰ علی ہمدانی نے کیا۔ اس اعلان کے فوراً بعد مولانا زاہر القاسمی نے قرآن مجید کی سورہ فتح کی آیات تلاوت کیں جس کے بعد ان کا ترجمہ نشر کیا گیا۔ بعد ازاں خواجہ خورشید انور کا مرتب کیا ہوا ایک خصوصی سازینہ بجایا گیا، پھر سنتو خاں اور ان کے ہم نوائوں نے قوالی میں علامہ اقبال کی نظم ’ساقی نامہ‘ کے چند بند پیش کئے۔ ان نشریات کا اختتام حفیظ ہوشیارپوری کی ایک تقریر پر ہوا۔
آدھی رات کے وقت ہی ریڈیو پاکستان پشاور سے آفتاب احمد بسمل نے اردو میں اور عبداللہ جان مغموم نے پشتو میں پاکستان کے قیام کا اعلان کیا. قاری فدا محمد نے تلاوت کلام پاک کی ۔ ان نشریات کا اختتام جناب احمد ندیم قاسمی کے لکھے ہوئے ایک نغمے پر ہوا جس کے بول تھے ’پاکستان بنانے والے پاکستان مبارک ہو۔‘
اسی وقت ایسی ہی نوعیت کا اعلان ریڈیو پاکستان ڈھاکا سے انگریزی میں کلیم اللہ نے کیا جس کا ترجمہ بنگلہ زبان میں نشر کیا گیا۔
15 اگست 1947 کی صبح ریڈیو پاکستان لاہور کی ٹرانسمیشن کا آغاز 8:00 بجے سورہ آل عمران کی منتخب آیات سے ہوا۔ آیات قرآنی کی تلاوت کے بعد انگریزی خبروں کا آغاز ہوا جو نیوز ریڈر نوبی نے پڑھیں۔ خبروں کے بعد ٹھیک ساڑھے آٹھ بجے قائداعظم کی آواز میں ایک پیغام سنوایا گیا جو پہلے سے ریکارڈ شدہ تھا۔ (اس خطاب کی آڈیو کلپ یو ٹیوب پر موجود ہے)
اس دن پہلا ملی نغمہ مولانا ظفر علی خاں کا "توحید کے ترانے کی تانیں اڑانے والے" نشر ہوا.

کوئی بتائے جگن ناتھ کا قومی ترانہ کب بجا؟
ہاں، ابھی چند سال پہلے یعنی اگلی صدی میں آکر ریڈیو پاکستان نے ( پتہ نہیں کیوں؟ شاید کنفیوژن بڑھانے کیلئے ) جگن ناتھ آزاد کا وہ نغمہ ریکارڈ کیا ہے، جس کے پہلا قومی ترانہ ہونے کا دعوی' کیا گیا. لیکن اس کے موسیقار مجاہد حسین اور گلوکار فہیم مظہر 1947 میں پیدا بھی نہیں ہوئے تھے.

جگن ناتھ آزاد کا قومی ترانہ: سفید جھوٹ
بشکریہ: اسلم ملک صاحب
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 
 

جنگل جلیبی


  نوجوان نسل کے بے شمار افراد کے لئے یہ پھل اور اس کا نام اجنبی ہوگا۔ ایک پھل ہے جو دیکھنے میں جلیبی کی طرح لگتا ہے۔ اسی لئے اسے جنگل جلیبی کہتے ہیں۔جنگل جلیبی کادوسرانام گنگا املی بھی ہے۔ اسے انگلش میں
Manila Tamarind) کہتے ہیں۔


کراچی میں یہ پھل ستر اور اسی کی دھائ میں ٹھیلے والے متوسط اور غریب آبادیوں میں گلی گلی پھیری لگا کر فروخت کیا کرتے تھے۔ عام طور پر ان کے پاس جنگل جلیبی۔ املی کٹارے، امرود اور کھٹے لال بادام ہوا کرتے تھے۔ اب تو عرصہ دراز سے کوئ ان کو فروخت کرنے والا نظر نہیں آتا۔البتہ کبھی کبھار ھفتہ بازاروں میں نظر آجایا کرتی ہے۔ اسی دور میں ایک چھوٹے سے ڈبہ نما ٹھیلے پر چورن چٹنی فروخت کرنے والے بھی ہوتے تھے جن کے ٹھیلے پر پانی بھری شیشے کی برنیوں میں ننھی ننھی مچھلیاں بھی ہوا کرتی تھی۔ اس چورن کی ایک خاص بات یہ ہوتی تھی کہ وہ کچھ مختلف سفوف کو کاغز پر رکھ کر ایک سلائ کسی محلول میں ڈبو کر اس سفوف پر رکھتا تو ایک شعلہ سا اٹھتا تھا جس کو بچے بڑی دلچسپی اور شوق سے دیکھتے تھے بلکہ بعضے تو اس شعلے کو دیکھنے کی خاطر ہی یہ چورن لیا کرتے تھے۔ ان کے پاس ایک لال کھٹی میٹھی چٹنی بھی ہوا کرتی تھی۔ بچے اکثر شوق میں مچھلیاں بھی خرید لیا کرتے تھے اور گھر میں ان کو کسی شیشے کے جگ یا بوتل وغیرہ میں پانی بھر کر پالا کرتے تھے۔ ہمارے ایک جاننے والوں کے بچے نے ایک مچھلی چپکے سے گھر کے زیر زمین واٹر ٹینک میں ڈال دی تھی اور وہ مچھلی جب ایک سال بعد گھر والوں کو ٹینک کی صفائ کے دوران نظر آئ تو کوئ بالشت بھر کی ہوچکی تھی۔ اب یہ سب متروک ہوچکے ہیں۔ کراچی کے بچے اب گلی گلی پھرنے والے ٹرائ سائیکل سے اگلو، والز، اور اومور کی آئسکریم خرید کر کھاتے ہیں یا لیز کے چپس اور کیڈبریز کی ڈیری ملک چاکلیٹ۔۔۔
کراچی کے مضافاتی علاقوں ملیر کورنگی وغیرہ میں اب بھی جنگل جلیبی کے درخت نظر آجاتے ہیں۔
جنگل جلیبی ایک سایہ دار درخت ہے اور دوسرا فائدہ پرندے اس کا پھل بڑے شوق سے کھاتے ہیں تو ہم کو اس کی شجر کاری کو فروغ دینا چاہئے۔
یہ قد بڑھانے کے لئے بہت بہترین ہے۔ آئیے اس کے کچھ فوائد کا جائزہ لیتے ہیں۔

1۔قد لمباکرنے کے لئے
جنگلجلیبی ،دوانجیر،پودینے کے چند پتے،شہدایک چمچ،کلونجی ایک چٹکی ،آلوبخار ایک سے دو الے کرتھوڑا پانی ملاکربلینڈ کرکے پی لیں۔
2۔کالی کھانسی
دیسی گھی دوچمچ لے کرجنگل جلیبی کے مغزکاسفید حصہ سات عدد جلاکر چھان کررکھ لیں۔ٹھنڈاکرکے دوچمچ شہد میں ملاکراس آمیزے کاایک چمچ قہوے میں ملاکر پی لیں۔
3۔گھبراہٹ اوربے چینی
ایک گلاس پانی میں ایک چمچ جنگل جلیبی کاپیسٹ ملاکر دوگھنٹے کے لئے رکھ دیں اسکے بعد پی لیں۔
4۔متلی اورقے
ایک کپ پانی میں ایک چمچ جنگلجلیبی پسی ہوئی اورپودینہ کی دس پتیاں ڈال کرایک سے دوابال آنے پر چھان کر پی لیں۔
5۔بالوں میں آئل کاآنا
دہی میں جنگل جلیبی کاپیسٹ اورچند قطرے لیموں کارس ملاکربالوں میں لگائیں۔
6۔چہرے کاماسک
جنگلجلیبی اورگڑ پیس کردونوں کوساتھ ملاکرچہرے پرماسک کے طورپرلگائیں۔
7۔پین کلر آئل
جنگل جلیبی ،سرسوں کاتیل دوسوملی لیٹر،رتن جوت ایک ٹکڑا،آمبہ ہلدی بیس گرام،جائفل تین دانے،لونگ آدھاچمچ تمام اجزاء کوپکاکر ٹھنڈاہونے پرچھان کراستعمال کریں۔
8۔مہروں کادرد
جنگل جلیبی کامغز دس سے بارہ دانے،زیتون کے تیل میں کڑکڑالیں۔پھراسمیں اسگندناگوری،سرنجان شیریں،اجوائن خراسانی ملالیں۔تمام اجزاء کوپیس کر صبح وشام آدھاچمچ لیں۔


اس مضمون میں جنگل جلیبی کے فوائد HTV سے لئے گئے ہیں۔
تحریر
Sanaullah Khan Ahsan
٭٭٭صحت  پر  مضامین پڑھنے کے لئے کلک کریں   ٭واپس٭٭٭٭

منگل، 11 اگست، 2020

رام پیاری اور آزادی

 11 اگست کی ڈائری-
ابر آلود صبح ، بوڑھا گالف کھیل کر نکلا ، تو آواز آئی ۔ " سلام علیکم سر "
مڑ کر دیکھا ،
تو ایک ، نامانوس شناسا چہرہ سفید بالوں کی اوٹ میں نظر آیا -
" وعلیکم السلام سر " -
جب نام بتایا تو ، بوڑھے کی یاداشت لوٹ آئی ۔ گرم جوشی سے گلے ملے ۔
ایک بہت ہی نوجوان , نوجوان آیا ، تعارف کروایا تو راجہ صاحب کا ہونہار بیٹا ۔
باپ بیٹا بھی گالف کھیل کر آرہے تھے ۔
" سر آپ کی گاڑی کا قصہ کیا ہوا ؟ 

خود بخود فرار کیوں ہوئی ؟"
ماجرہ بتایا ، تو خوب انجوائے کیا اور ایسا اپنا بھی ایک واقعہ بتایا ، کہ ایک رات اُن کے بھائی کی گاڑی سٹارٹ ہونے کی آواز آئی جس نے چوکس کر دیا ۔
ریوالور کے فائر کے باوجود بھی گاڑی سٹارٹ ہونے کی کوشش کرتی رہی تو باہر نکل کر دیکھا ،
کہ وہ گاڑی بھی اپنے آپ تار شارٹ ہوجانے کی وجہ سے سٹارٹ ہو رہی تھی ۔

اور گذشتہ روز " رام پیاری " کے خود بخود سٹارٹ ہو کر " خٹک ھاؤس " میں گھسنے کی کوشش بھی اِسی سلسلے کی کڑی تھی ۔ مگر
بوڑھے کے عین ھول سے 3 سینٹی میٹر دور گالف گرین پر بال جیسے دم توڑ دیتی ہے ۔

 بالکل اسی طرح " رام پیاری " نے بھی دم توڑ کر بوڑھے کی عزت رکھ لی -

 ٭٭٭٭

پیر، 10 اگست، 2020

بوڑھے کی رام پیاری کا کرتب


 ٭10 اگست کی ڈائری - بمع صبح کا سلام :

بوڑھا صبح: 4:30 پر چھوٹے دروازے کا تالا کھول کر باہر نکلا ۔
تو گاڑی غائب !!!
واپس پورچ میں دیکھا ، تو بیٹے کی گاڑی نظر آئی ۔
دائیں طرف دور ایک سفید گاڑی ایک گھر کے دروازے کے سامنے ریمپ پرکھڑی نظر آئی ۔

جو یقیناً بوڑھے کی "رام پیاری" کی طرح ہے !
بوڑھا چلتا ہوا ، گاڑی تک پہنچا ۔
حیرانی سے "رام پیاری" کو دیکھا ۔
لیکن یہ گُتھی نہ سلجھا سکا۔
کہ رام پیاری ، بغاوت پر کیوں آمادہ ہوئی ؟؟
کیا کوئی صاحبِ نکتہ رساں و زکاء یہ چیستاں سلجھا سکتا ہے ۔


بنیادی تفشیش ، مسماۃ بغاوتِ رام پیاری :
1- چم چم کو بوڑھا اور بڑھیا ، جو گذشتہ روز، اپنی باسٹھویں منزل عبور کر چکی ہے - اور خوشی منانے کے بعد ، "رام پیاری" پر ، اُس کے دادا کے گھر چھوڑ کر بوڑھا اور بڑھیا ، رات 9:15منٹ پر واپس ہوئے ۔
2: گلی کے نکڑ پر برفی اور اُس کے بابا کو سائیکل چلاتے پایا :
3: بڑھیا ۔ کو گلی کے نکڑ پر اتارا ۔ تاکہ وہ برفی کے ساتھ آئے ۔
4: بوڑھے نے گھر کے سامنے "رام پیاری" کو حسب معمول تمام احتیاط کے ساتھ پارک کیا -
5: برفی ، سائکل چلاتی آئی ، دادا بابا آپ آپیا کو چھوڑ آئے ۔
6: جی چھوڑ آیا لیکن دادی ماں کہاں ہیں ؟
7- وہ اپنے بے بی کے ساتھ آرہی ہیں ۔
8- یہ تو آپ کی ڈیوٹی ہے ۔ آپ جا کر لے کر آئیں۔
9- ٹھیک ہے دادا بابا میں بوڑھی دادی ماں کو لے کرآتی ہوں ۔
بوڑھا گھر میں داخل ہو گیا -
صبح: 4:30 کے بنیادی نکات:
10-بوڑھے نے "رام پیاری" سٹارٹ کرنے کی کوشش کی جو ناکام ہوئی -
11: بوڑھے نے بونٹ کھول کر "رام پیاری" کی بیڑی چیک کی ، جو گرم ہو رہی تھی اور رام پیاری کی بیٹری ختم ہو چکی تھی -
12- بوڑھا اپنی چابیوں سے تالے کھول کر گھر میں داخل ہوا ، خوابگاہ کا درواہ کھولا ۔
13- بوڑھی خضوع اورخشوع سے نماز میں مصروف تھی ۔ دروازہ کھلتے ہی بھیانک چینخ ماری ، بوڑھے کو دیکھ کر چینخ حیرانگی میں تبدیل ہو گئی ۔ آپ گئے نہیں ؟؟
14: میں دروازہ کھول کر باہر نکلا ۔ گاڑی نہیں تھی -
15- بڑھیا نے دوسری چینخ ماری ،" اوئی اللہ چوری ہو گئی "
16: بڑا بدقسمت چور ہو گا جو ، "رام پیاری" پر ہاتھ ڈالے گا ۔ "۔ ۔ہاؤس " کے ریمپ پر کھڑی تھی میں نے اتار کر نیچے کھڑی کر دی ۔
اور کپڑے بدل کر سو گیا ۔
17: بوڑھا سو کر 7:00 بجے اُٹھا ۔ بڑھیا اور خدمت گذار ملازم نے اپنی تفشیش بتائی ، بوڑھا اُن کی دوررسانی کا قائل نہ ہو سکا ۔

آپ کی رائے درکار ہے !

ھاں بوڑھے نے پارکنگ بریک لگائی ، "رام پیاری" گیر میں کھڑی کی ۔ رات کو بارش ہوئی مگے سیلاب نہیں آیا ۔


 ٭٭٭

ہفتہ، 8 اگست، 2020

شگفتگو- نمّو اور بولنے والا پراٹھا - مہاجرزادہ

یہ تصویر مجھے اپنا بچپن  یاد کرا گئی ۔ 

جب سکول سے دیر ہونے پر ، امّی پراٹھے پر اچار کا مصالحہ مسل کر ہاتھ میں پکڑا دیتی اور کہتیں ،
" نمّو راستے میں کھا لینا اور ھاں کسی دوست کو نہ دے دینا "

سکول پہنچتے پہنچے اچار پراٹھا کھا لیا جاتا جو گھر سے سو گز کے فاصلے پر تھا ۔ اور سکول میں لگے ہوئے نلکے سے منہ دھو کراور  پانی پی کر اسمبلی میں جا پہنچتے ۔
پھر جونہی آدھے گھنٹے کی بریک ہوتی ، نمّو  بھاگتے ہوئے گھر آتا، امّی نے چھلیاں ابال کر رکھی ہوتیں ۔آپا اور چھوٹے بھائی (امّو ) کا حصہ بھی امّی کے ھاتھ کی بنائی ہوئی کپڑے کی تھیلی میں لیتا اور راستے میں اپنی چھلی کھاتے ، سکول پہنچ کر دونوں کا حصہ انہیں دے دیتا ۔
امّی کی بنائی ہوئی چھلیوں سے، اصلی گھی کی سوندھی سوندھی خوشبو آتی ۔ ناشتہ  ایک ہی ہوتا یعنی ، پراٹھا اور چائے ۔ پراٹھا بھی ڈبل پرت کا کرکراتا ہوا ہوتا ۔ جس کے اندر نرم چکر دار گودا ہوتا ،
جونہی امی سیدھے توے سے پراٹھا اتارتیں ، نمّو اپنا پراٹھا لے کر چارپائی پر جا بیٹھتا فوراً اُس کی بھاپ نکالتا اوپر کی پرت الگ اور نیچے کی الگ کرتا اور نہیں ٹھنڈا کرنے اور کڑک ہونے کے لئے رکھ دیتا ، ساتھ ہی نرم گودا چائے میں ڈبو کر کھاتا ۔

اُس کے بعد کڑ کڑ کرتی پرتیں ۔ کھاتا لیکن نظریں چھوٹے بھائی پر ہوتیں کہیں وہ پرتوں پر بلّی کی طرح جھپٹا نہ مارے ۔
پھر نّمو گھر سے دور چلا گیا جب چھٹیوں پر گھر آتا تو امّی وہی پراٹھا بنا کر دیتیں ، نمّو چوکی پر بیٹھ کر پراٹھے سے بھاپ نکالتا اور پرتیں علیحدہ کئے امّی سے باتیں کرتا ہوا ، بغیر چوکنا ہوئے کھاتا ، کیوں کہ امّو بھی نوکری پر دور جاچکا تھا ۔ 

پھر نمّو کی شادی ھوگئی ، اُس کی بیوی کو بھی کڑکڑاتا پراٹھا بنانا آتا تھا ، بچے ہوئے ، چھوٹے بچے کی ضد ہوتہ کہ ،
" پپّا کی طرح " بولنے والا پراٹھا " ہی کھاؤں گا ۔

اب کہاں وہ بولنے والا پراٹھا اور کہاں نمّو !

لیکن ، پریشان نہ ہوں !

اب بھی نمّو بولنے والے پاپوں سے کبھی کبھی ناشتہ کرتا ہے اور پراٹھوں کی آوازکا لطف لیتا ہے ۔ 


٭٭٭٭٭واپس٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔