Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 14 اگست، 2013

پاکستان کے بنیادی نعرے 1940 سے پہلے

نعرے ، لوگو اور چند الفاظ میں پورا بیان  سمجھانا ، یہ شاعروں کی فطرت ہے ۔ نعرے جتنے بھی تخلیق ہوتے ہیں وہ کسی نہ کسی نظم ، غزل یا  فی الدیہہ نثر سے اخذ کئے جاتے ہیں جو انقلابی یا جذباتیت کی تلخیص ہوتی ہے ۔

  جنگ آزادی 1857 میں ہندوؤں سے زیادہ مسلمانوں کو نقصان پہنچایا اُن کے رہے سہے اقتدار کا سورج بالکل غروب ہو گیا ۔ بادشاہوں اور سلاطین دہلی کے دربار میں نوابوں اور امراء کا جو دبدبہ تھا وہ ختم ہو گیا ۔اُن کی حکومت اُن کی جاگیرداری تک محدود ہو گئی اور سوامی دیانند کی ،  آریہ سماج نامی تحریک نے 1875 میں ہندوؤں  برہمنوں کے نسلی تفاخر پر زد لگانا شروع کی  ، ہندو سرکشوں اور انقلابیوں نے سر اُٹھانا شروع کیا۔

وہ جو فہم ہے کہ ہندو اور مسلمان ایک  قوم ہیں لیکن ہندوؤں سے مسلمان بننے پر ،  مذہب نے اُنہیں واضح دو قوموں میں تقسیم کر دیا ۔ جس میں سب سے واضح فرق ۔ گائے کے گوشت کا مسلمانوں کے کھانے میں شامل ہونا جو ہندوؤں کے لئے ایک مقدّس جانور ہے ۔ جِس کی وجہ سے فسادات ہوتے، انسان قتل ہوتے  رہتے ۔ خاص طور پر اُس گائے کی چوری چھپے قربانی سے جو مندروں کی حفاظت میں ہوتیں یعنی وہ مندر کے حوالے کر دی جاتیں ۔ جنگلوں میں آزاد پھرنے والی گایوں  پر زیادہ جھگڑے نہیں ہوتے ۔ 

 بنگال جہاں ،ہندو لیگ (کانگریس ) کے مقابلے میں مسلم لیگ نے30دسمبر  1906 میں  ڈھاکہ میں  نوابوں کی گود میں نواب خواجہ سر سلیم اللہ خان کے محل میں  جنم لیا ،کیوں کہ اُنہوں نے ، 1905 میں بنگال کی تقسیم کے لئے اہم کردار ادا کیا تھا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے بانی ،  نواب وقار المک   ، آغا خان سوئم  ،اور نواب سلیم اللہ خاں سمیت بہت سے اہم مسلم اكابرین     سید امیر علی ،سید نبی اللہ  مولانامحمد علی جوہر٬ مولانا ظفر علی خاں٬ حكیم اجمل خاں٬   اجلاس میں موجود تھے۔ مسلم لیگ كا پہلا صدر انگلش بولنے والے  سر آغا خان كو چنا گیا۔مرکزی دفتر کے لئے ، مشرقی  بنگال  کے شہر ڈھاکہ کے بجائے   علی گڑھ کو چنا گیا  اور دوسرا دفتر لندن میں بنایا گیا۔

    اُس وقت مسلم لیگ بنانا کا واحد مقصد امراء و روساء  کو ہندوستان کی لوگ سبھا میں مسلمانوں کے ووٹ سے ممبر لیجسلیٹو بنانا تاکہ ، ہندو مسلمانوں کا استحصال نہ کر سکیں ۔اور مسلمانوں کو قائل کیا جا سکے ۔ کہ وہ ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمانوں پر لگائی جانے والی مذہبی بندشوں کا روکا جاسکے ۔

علی گڑھ یونیورسٹی آل انڈیا میں مسلمانوں کی واحد علمی درسگاہ تھی جہاں سے برصغیر میں علم و ادب کے سرچشمے پھوٹے ۔ جہاں ہونے والے اجلاس میں یونیورسٹی کے طلباء کو علم و ادب اور شعر و شاعری کی محافل سے روشناس کروایا جاتا ۔ چنانچہ تمام اکابرین کی خدمات پر جذبات میں بھرے سامعین کا مقرین اُنہیں کسی لقب سے نواز دیتے جو ، دنوں میں زبان ہر خاص و عام بن جاتا ۔

٭۔  1938ء تک قائداعظم ؒکو مسٹر جناح کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ اسی برس دہلی کے روزنامہ ’’الامان‘‘ میں محمد علی جناح کے بارے میں ایک مضمون چھپا، جس میں انھیں قائداعظم ؒکا لقب دیا گیا۔ یہ لقب دینے والے اس روزنامے کے مدیر مولوی مظہر الدین  شیرکوٹی (1888۔1939) تھے۔ آغاز میں یہ لقب اخبار پڑھنے والے طبقے تک محدود رہا۔ اسے زیادہ مقبولیت نہ ملی۔

٭۔ 31 دسمبر 1938ء میں پٹنہ کے مقام پر مسلم لیگ کا چھبیسواں اجلاس ہو رہا تھا۔ اس موقع پر مسلم لیگ کے ایک سرگرم کارکن، میاں  فیروز الدین احمد(1901۔1946)  نے اس نعرے کو زندہ کیا۔ اس پرجوش نوجوان نے سٹیج پر چڑھ کر باآواز بلند قائداعظمؒ کہا ،تو جلسے کے شرکا نے فوراً زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ قائداعظمؒ اور جلسے کے شرکاء اور ناظرین نے یہ نعرہ بے حد پسند کیا۔ اس کے بعد یہ نعرہ اس قدر مقبول ہوا کہ بانی پاکستان کو مسٹر جناح کے بجائے قائداعظم ؒلکھا اور پکارا جانے لگا۔ مہاتما گاندھی نے 1940ء میں قائداعظم ؒکے نام اپنے ایک تاریخی خط میں انھیں ’’ڈیئر قائداعظم‘‘ لکھ کرمخاطب کیا ۔

٭۔ 1940ء کی دہائی کے نصف تک مسلمانوں پر یہ عقدہ کھل گیا کہ کانگریس جو خود کو مسلمانوں اور ہندوئوں کی مشترکہ جماعت کہتی تھی، مسلمانوں کی نمائندہ نہ تھی، نہ ہی اسے مسلمانوں کے حقوق اور مطالبات سے سروکار تھا چنانچہ مسلمانان ہند کی بڑی تعداد نے مسلم لیگ کو اپنی نمایندہ جماعت تسلیم کرنا شروع کر دیا ۔

جب متحدہ  ہندوستان  کے منبر و محراب پر قابض مسلمانوں نے محمد علی جناح کی مخالفت کی تو مسلمانوں کو تحریکِ پاکستان میں شامل ہونے پر اُکسانے کے لئے ایک شاعر نے نظم پڑھی :۔

باطل سے نہ ڈر تیرا ہے خدا

پردے سے نکل کر سامنے آ

ایمان کی قوت دل میں بڑھا

مرکز سے سرک کر دُور نہ جا

مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ  

   اترپردیش کے شہر میرٹھ کے قصبہ ہاپور  کے شاعر افضل ہاپوری کی اِس نظم کے آخری مصرع  ، مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ ۔نے سامعین کے دل کو چھو لیا ۔ اور اُس کی شہرت  یوپی سے نکل کر پورے ہندوستان میں پھیل گئی ۔

٭۔ 1940 میں ایک لازوال نعرے    جسے پروفیسر اصغر سودائی  نے تحریک پاکستان کے وقت اپنی طالب علمی  میں پڑھی گئی ،  اپنی نظم ، ترانہءِ پاکستان   

  پاکستان کا مطلب کیا؟
لا الہ الا اللہ 

نے مسلمانوں کو کانگریس کے مقابلے میں ایک وسیع اُفق دے دیا ۔جو ازل سے انسانوں کے لئے کائینات میں تحریر ہے ۔

    ٭۔1945-46ء اسمبلیوں کے انتخابات ہوئے تو مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے رضا کار طلبہ جہاں کہیں مسلم لیگی امیدوار کے حق میں جلوس نکالتے وہاں اس نظم کے مصرعہ ’’پاکستان کا مطلب کیا:لا الہ الا اللہ‘‘ کا نعرہ لگاتے۔ جلد ہی یہ نعرہ ہندوستان کے کونے کونے میں گونجنے لگا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے خلاف مسلمانوں کے چند طبقوں میں بھی بغض پایا جاتا تھا۔ یہ طبقے اور جماعتیں مسلم لیگ کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرنے لگیں، جس کی وجہ سے عام مسلمانوں میں یہ تاثر پیدا ہونے لگا کہ مسلم لیگ کا نقطہ نظر اسلام پر مبنی نہیں اور یہ بے دینوں کی جماعت ہے،مگر جب طلبہ لا الہ الا اللہ کا ورد کرتے ہوئے گلیوں، بازاروں اور محلوں سے گزرتے تو مسلمانوں میں یہ تاثر پیدا ہو جاتا کہ یہ بے دینوں کی نہیں بلکہ مسلمانوں ہی کی جماعت ہے۔ ان پر معنی اور پرجوش نعروں ہی کا اثر تھا کہ برصغیر کے  مسلمان ایک پلیٹ فارم پر ایک جھنڈے تلے جمع ہونے لگے ۔

 ٭٭٭٭٭٭٭٭

٭۔ کیا پاکستان انگریزوں نے بنایا ؟
٭۔ محترمہ فاطمہ جناح 

٭۔مہاجرزادے کا ابنِ مہاجروں کے لئے مقدمہ

٭۔ جگن ناتھ آزاد کا قومی ترانہ: سفید جھوٹ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔