Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 28 جنوری، 2021

اسلام آباد کے گاؤں جو ختم ہوگئے۔

 اسلام آباد میں 85 دیہات شامل تھا جو اسلام آباد کی تعمیر سے متاثر ہوئے۔ 

جن میں تقریباً 50 ہزار افراد آباد تھے۔ شکر پڑیاں بھی ان میں سے ایک گاؤں تھا یہاں دو سو سے زائد گھر تھے جو بالکل اس جگہ پر تھے جہاں آج لوک ورثہ موجود ہے۔ لوک ورثہ کے پیچھے پہاڑی پر اس گاؤں کے آثار آج بھی جنگل میں بکھرے پڑے ہیں۔

 85 دیہات کی 45 ہزار ایکٹر زمین جب سی ڈی اے نے حاصل کی تو متاثرین میں اس وقت 16 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے جبکہ انہیں ملتان، ساہیوال، وہاڑی، جھنگ اور سندھ کے گدو بیراج میں کاشت کے لیے 90 ہزار ایکڑ زمین بھی الاٹ کی گئی جس کے لیے 36 ہزار پرمٹ جاری کیے گئے۔
ان میں جو بڑے گاؤں تھے ان میں کٹاریاں بھی شامل تھا جو موجودہ شاہراہ ِ دستور اور وزارت خارجہ کی جگہ آباد تھا۔
 شکر پڑیاں لوک ورثہ کی جگہ،
 بیسٹ ویسٹرن ہوٹل کے عقب میں سنبل کورک
مری روڈ پر سی ڈی اے فارم ہاؤسز کی جگہ گھج ریوٹ،
 جی سکس میں بیچو
ای سیون میں ڈھوک جیون
 ایف سکس میں بانیاں
 جناح سپر میں روپڑاں
جی 10 میں ٹھٹھہ گوجراں
آئی ایٹ میں سنبل جاوہ نڑالہ  اور نڑالہ کلاں
  ایچ ایٹ میں جابو
زیرو پوائنٹ میں پتن  
میریٹ ہوٹل کی جگہ پہالاں
 ایچ ٹین میں بھیگا سیداں
 کنونشن سینٹر کی جگہ بھانگڑی
 آبپارہ کی جگہ باغ کلاں
اسی طرح راول ڈیم کی جگہ راول، پھگڑیل، شکراہ، کماگری، کھڑ پن اور مچھریالاں  نامی گاؤں بستے تھے۔
فیصل مسجد کی جگہ ٹیمبا  اور اس کے پیچھے پہاڑی پر کلنجر  نام کی بستی تھی۔
شکر پڑیاں میں گکھڑوں کی بگیال شاخ کے لوگ آباد تھے جنہیں ملک بوگا کی اولاد بتایا جاتا ہے۔ گکھڑوں نے پوٹھوہار پر ساڑھے سات سو سال حکمرانی کی ہے۔

 راولپنڈی کے گزٹیئر 1884 کے مطابق ضلع راولپنڈی کے 109 دیہات کے مالک گوجر اور 62 گکھڑوں کی ملکیت تھے-


 

٭٭٭٭٭٭٭

اتوار، 24 جنوری، 2021

سپینوزا کا خدا - یاسر پیرزادہ

روزنامہ جنگ میں یاسر پیرزادہ کا مضمون چھپا ۔ 

یہ وہ آفاقی سچ ہے جو کتاب اللہ (کائینات ) کا رمز ہے ۔ آپ حیران ہوں گے کہ یہ منصور نہیں ، بلکہ پردے میں خدا بول رہا ہے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 

آئن سٹائن سے کسی نے پوچھا کہ کیا آپ خدا پر ایمان رکھتے ہیں ؟
وقت کا دھارا بدلنے والے سائنس دان نے جوا ب دیا

 ’’میں سپینوزا کے خدا کو مانتا ہوں۔‘‘

مرا د یہ تھی کہ میں ایسے غیر شخصی خدا کو مانتا ہوں جوکائنات کا خالق تو ہوسکتا ہے مگر انسانوں کی زندگیو ں میں دخیل نہیں ہے،دنیاوی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا ، معجزے تخلیق نہیں کرتااوردعاؤں کی مدد سے اُس کے فیصلے تبدیل نہیں کیے جا سکتے1۔ ایسا خدا ہم انسانوں کے کسی عمل کا محتاج ہے اور نہ منتظر۔ 

سپینوزا کا تصور خدا کا فلسفہ خاصا عجیب ہے ، ایک سطر میں اگر اسے بیان کیا جائے تو

سپینوزا کا خدا کسی انسان کا سرپرست اعلیٰ یا نجات دہندہ نہیں اور نہ ہی یہ خدا انسانوں کی داد رسی کے لیے ہمہ وقت دستیاب ہے۔ بلکہ یہ ایک ایسا غیر شخصی ’جوہر ‘ ہے جو کائنات کو کڑے او ر ناقابل تغیر قوانین کے تحت چلاتا ہے، اِن قوانین کے آگے کسی دعا اور اپیل کی کوئی گنجائش نہیں، یہ قوانین ہر جگہ اٹل ہیں اور کبھی تبدیل نہیں ہوتے۔

 ظاہر ہے کہ یہ تصور خدا بائبل یا دیگر مذاہب کے تصور سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا تھا ۔

اور پادریوں کے لیے تو بالکل ناقابل قبول تھا جو لوگو ں سے پیسے بٹور کر انہیں جنت کا پروانہ جاری کرتے تھے، وہ کیسے سپینوزا کے خداکو مان لیتے؟

تاہم کچھ مغربی مصنفین کا خیال ہے کہ سپینوزا نے خدا کا اچھوتا تصور پیش کرکے ایک طرح سے مذہب پر اٹھائے جانے والے عقلی اعتراضات کا ٹھوس اور شافی جواب دیا ۔

 گو کہ اُس زمانے میں سائنس نے ابھی اتنی ترقی نہیں کی تھی مگر اِس کے باوجود مذہب کے باب میں سوال اٹھنا شروع ہو گئے تھے جن کے جواب کے لیے ایک نئے علم الکلام کی ضرورت تھی، یہ ضرورت سپینوزا نے پوری کی ۔سپینوزا کا تصور خدا بظاہر مودبانہ انداز میں خدا کے وجود کا انکار ہے مگر حقیقت میں سپینوزا خدا کے وجود کاقائل تھا۔ 

سپینوزا کا ایک ’’مقالہ مذہب اور ریاست‘‘ پر بھی ہے جس میں وہ کہتا ہے کہ

 سب صحیفے بنیادی طور پر انسانوں اور تمام نسل انسانی کے لیے لکھے گئے ہیں لہٰذا اِن کا مواد ایسا ہونا چاہیے تھا جسے عوامی طور پر سمجھنا مشکل نہ ہو2،

 اِن صحیفوں میں عّلت و معلول کے کلیے کے تحت معاملات کی تشریح نہیں کی گئی بلکہ انہیں اِس انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو متاثر کیا جا سکے۔ اس کا مقصد انسانی عقل کو ابھار کر قائل کرنا نہیں بلکہ انسانی تخیل کو جھنجھوڑنا ہے، اسی وجہ سے ہمیں اِن میں جا بجا معجزوں کی باتیں اور خدا کا شخصی وجود مصروف عمل نظر آتا ہے۔ 

’’داستان فلسفہ‘‘ میں ول ڈیورنٹ لکھتا ہیں کہ سپینوزا کے مطابق اگر اِس اصول پر بائبل کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو ہمیں اُس میں کوئی تضاد نظر نہیں آئے گالیکن اگر ہم لفظی تشریح کرنے بیٹھیں گے تو پھر معاملہ الجھ جائے گا۔۔۔

دونوں قسم کی تشریحات کا اپنا مقام اور مقصد ہے، لوگوں کو ہمیشہ ایک ایسا مذہب چاہیے ہوگا جس میں کسی مافوق الفطرت وجود کا تصور ہو، اگر ایسے کسی مذہب کا تصور ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی تو لوگ نیا مذہب تخلیق کر لیں گے۔تاہم ایک فلسفی کو یہ علم ہونا چاہیے کہ خدا اور قدرت ایک ہی ہیں جو غیر متغیر قانون کے تحت کام کرتے ہیں (صفحہ 210)۔ 

مشہور مسلم مفکر ابن سینا کا بھی خدا کے بارے میں کسی حد تک یہی غیر شخصی تصور تھا جس پر بعد میں امام غزالی نے سخت تنقید کی۔

 سپینوزا کے تصور خدا کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ کائنات بلا مقصد ہے اور اپنے اِس بیان کی حمایت میں سپینوزا کی دلیل خاصی دلچسپ ہے کہ ’’اگر خدا کسی مقصد کوحاصل کرنے کے لیے کوئی عمل کرتا ہے تو اِس کا مطلب یہ ہوگا کہ اُس مقصد کے حصول سے پہلے خدا کے ہاں کسی قسم کی کوئی کمی ہے لیکن چونکہ خدا کامل اور خود کفیل ہے لہٰذا کمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔3‘‘ 

انسان کے علم کو سپینوزا ناقص قرار دیتا اور کہتا ہے کہ ،

عّلت و معلول کا سلسلہ ہم سے چھپا ہوا ہے اس لیے ہم واقعات کی حقیقت جان نہیں پاتے اوریوں انہیں دوسرے واقعات کے ساتھ غلط انداز میں نتھی کرکے دیکھتے ہیں۔4

 سپینوزا کی اس بات پر تبصرہ کرتے ہوئے ول ڈیورنٹ لکھتا ہے کہ،

 فلسفے میں پہاڑ ایسی غلطیوں کی جڑ اِس بات میں پوشیدہ ہے کہ انسان اپنے مقاصد، میعارات اور ترجیحات کو ایک ایسی کائنات کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کرتا ہے جو کسی مقصد کے تحت تخلیق کی گئی ہے لہٰذا یہیں سے برائی کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے اور ہم انسان اپنی زندگی کی برائیوں اور خامیوں کو خدا کی اچھائی کے ساتھ تطبیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو لا حاصل ہے۔

 اسپینوزا کے الفاظ میں :’’جب بھی کارخانہ قدرت میں ہمیں کوئی بات مضحکہ خیز،بے معنی یا بد لگتی ہے تو اُس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس اشیا کا نا مکمل علم ہوتا ہے اور ہم کائنات کے نظم اور قدرت کی ہم آہنگی سے آشنا نہیں ہوتے اور چاہتے ہیں کہ ہر چیز اُس طرح سے ترتیب میں ہو جیسے ہماری عقل کہتی ہے۔جبکہ ہماری عقل جسے بُرا سمجھتی ہے (ضروری نہیں کہ ) وہ کائناتی نظم اور آفاقی قوانین کے تحت بھی بُری ہو،(عین ممکن ہے کہ) وہ ہمارے اختراع کیے گئے قوانین کے تحت ہی برائی سمجھی جاتی ہو۔5۔۔۔کوئی بھی بات بیک وقت اچھی ، بری اور غیر متعلق بھی ہو سکتی ہے ، مثال کے طور پر اداسی کے موڈ میں موسیقی خوشگوار اثر ڈال سکتی ہے مگر کسی ماتمی موقع پر اسے برا سمجھا جائے گا اور مردہ لوگوں کے لیے یہ بالکل غیر متعلق چیز ہے ۔‘‘ 

سپینوزا دراصل انسانوں کو اِس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ وہ اِس کائنات کے رموز و اسرار اور قوانین کو سمجھیں او ر اِن کے مطابق اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ انسانوں کی زندگی میں پیش آنے والے واقعات، ان دیکھے عوامل کا نتیجہ ہوتے ہیں جنہیں کلی طور پر جاننا انسان کے بس میں نہیں لہٰذا ایسے کسی نا گہانی واقعے سے نمٹنے کے وقت جذبات سے نہیں عقل سے کام لینا چاہیے ، اِس لمحے کو سپینوزا ’Bondage‘ کا نام دیتا ہے6، جہاں جذبات کا ریلہ عقل کو بہا کر لے جاتا ہے۔ اِس لمحے کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دینا ہی کامیابی ہے۔ 

(یاسر پیرزادہ)

٭٭٭٭٭٭٭٭

1۔ 

اسْتِكْبَارًا فِي الْأَرْضِ وَمَكْرَ السَّيِّئِ وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ الْأَوَّلِينَ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبْدِيلًا وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا  [35:43]

2۔ 

وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ  (54/17 )    

3۔ 

اللَّـهُ الصَّمَدُ  (112/2 )

4۔ 

فَلاَ تَضْرِبُواْ لِلّهِ الْأَمْثَالَ إِنَّ اللّهَ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ  (16/74 )

5۔ 

كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ وَعَسَى أَن تَكْرَهُواْ شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَعَسَى أَن تُحِبُّواْ شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ وَاللّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ  (2/216 )

6۔ 

أَفَلاَ يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللّهِ لَوَجَدُواْ فِيهِ اخْتِلاَفًا كَثِيرًا  (4/82 )

 

 

جمعہ، 22 جنوری، 2021

یادوں کے مینڈک

   19 جنوری  کو ایک کورس میٹ کرنل منظور  سے ملنے، اُس کے آفس  جانا ہوا ،وہاں باتوں باتوں میں کمپیوٹر سے بات نکلی اور فوج کی مشہور پسندیدہ پریزینٹیشنز  پر رکی تو یادوں کی دلدل کی گہرائیوں سے پی ڈبلیو  کا مینڈک پھدک کر باہر آگیا  لیکن تھوڑی دیر بیٹھ کر واپس چھلانگ لگا کر غائب ہو گیا ، ابھی تھوڑی دیر پہلے لیپ ٹاپ کھولا تو کراچی گروپ کے  نوجوان محمد وسیم کی پوسٹ  نے یادوں کی گہرائیوں سے یادوں کے مینڈک پھدک پھدک کر آکر بیٹھنا شروع ہو گئے ۔   

آہ نوجوان : کیا خوب لکھا ۔ مزہ آگیا ۔

میں نے اپنا ذاتی کمپیوٹر 1993 میں یعنی       سپر فاسٹ کمپیوٹر  (386) جس میں 10 ایم بی ھارڈ ڈسک ، لیزر پرنٹر ،  بال ماؤس  ، بمع سپیکرز اور خوبصورت کمپیوٹر ٹیبل مبلغ 60 ہزار سکّہ رائج الوقت بمع پلاسٹک کا کوّر تاکہ کمپیوٹر میں گرد کا داخلہ کم سے کم ہوجائے ۔ کوئیک مارکیٹ آرٹ سکول روڈ کوئیٹہ کے شارق (میرا جونیئر سکول فیلو سے) خریدا تھا۔شارق نے مہربانی کی ڈاس کی اوریجنل 5،25 انچ فلاپی ڈسک360کے بی سنگل ڈینسٹی دی اور ہم نےایک ڈبہ 10 فلاپی ڈسک کا بھی لیا ۔محلّے میں دھوم مچ گئی    ۔

   لیکن میں فوج میں رہتے ہوئے ، 1987 میں CASIO-750 P پر , بیسک سیکھ کر ، ہندسوں اور الفاظ کا پروگرامر بن چکا تھا ۔

- پھر 1988 میں لاہور میں ایک دوست سے ایک پرانا کموڈر-64 گیم کمپیوٹر بمع ریکارڈر خریدا۔ساتھ 5 کے بی کی 5،5 انچ کا پورا  بکس بھی تھا  جو بچوں کی گیم سے بھرا ہوا تھا ۔ لیکن بچوں کو اِس گیم سے زیادہ اٹاری پسند تھی جو بڑی سکرین یعنی ٹی وی پر کھیلنا پسند کرتے تھے ۔  

یوں 1991 میں کوئٹہ میں پی سی ۔8088 سے جدید کمپیوٹر کا سفر شروع ہوا۔جس کی ابتداء پریزنٹیشنوں کی سلائیڈ کے پرو گرام پروفیشنل رائٹ (Professional Write 1)سے شروع ہوئی ۔

 1992 میں آفس میں ،286 کمپیوٹر    کا اضافہ ہوا

تومیں فقط  12 گھنٹوں  میں123 پر سپریڈ شیٹ بنا کر کمپیوٹر اکاونٹنگ کی دنیا میں داخل ہوا۔ 

 ہوا یوں کہ ایک دوست سے میں نے اکاونٹ کے پروگرام کا ذکر کیا تو اُس نے مجھے سپریڈ شیٹ کا بتایا میں نے شارق سے پوچھا تو اُسے بھی واجبی سی معلومات تھیں ہاں اُس نے مجھے لٹن روڈ پر ایک گھر میں قائم پیٹرومین سے رابطہ کرنے کا کہا میں وہاں پہنچا تو ایک  مگسی قبیلے کا نوجوان ملا جو وہاں پرنسپل کے فرائض سر انجام دے رہا تھا مجھے  اچھی معلومات دیں میں نے پوچھا کہ اِس کے سیکھنے کا کیا خرچہ اور وقت ہے۔ بتایا کہ ہم تین ماہ میں روزانہ ایک گھنٹہ پڑھا کر ماہر بنا دیتے ہیں۔ اُس کی مہربانی کہ سٹوڈنٹ کوئی نہیں تھا تو اُس نے مجھے  5.25″کی فلاپی ڈسک لانے کو کہا جو میں گاڑی سے نکال لایا کاپی کی ۔ اُس سے میں نے 123 کی ایک ادھارکتاب مانگی جو اُس نے دے دی اور کہا کہ کورس کے جب 4 سٹوڈنٹس ہوں گے تو آپ آجانا اور ہاں  یہ  سپریڈ شیٹ   ہم بنانا سکھاتے ہیں ۔فلاپی ڈسک ، کتاب ۔ اور سپریڈ شیٹ لے کر میں آفس آیا۔اُس نے مجھے اپنا وزٹنگ کارڈ دیا جس پر ایم ایس سی سافٹ وئیر انجنیئرنگ  لندن لکھا تھا ۔39 سالہ بوڑھا سخت امپریس ہوا ۔

 وہاں کیپٹن طاہر مصطفیٰ  نےکہا ، " سر یہ بہت مشکل ہے ۔  کئی دن لگیں گے  "۔ 

میں کہا ، طاہر دنیا میں کوئی کام مشکل نہیں، ہمت مرداں مدد خدا " 

تو اُفق کے پار رہنے والے دوستو! آفس کے بعد گھر جاتا کھانا کھاتا اور واپس آفس آجاتا ، 6 گھنٹے روزانہ کام کر کے دو دن بعد میں، میں ایک فلاپی پر سپریڈ شیٹ لے کر مگسی صاحب کے آفس میں تھا ۔ مگسی صاحب نے پروگرام اوپن کیا دیکھا ۔

پوچھا:" یہ آپ نے بنایا ہے "   

مگسی صاحب نے اُٹھ کر گلے لگایا  " جی سر " میں نے جواب دیا  

" میجر صاحب فوج میں کیا کر رہے ہیں ۔ ؟

بس سر پریزینٹیشنز بنا رہا ہوں اور سکون سے رہ رہا ہوں ۔ چائے پی کر کافی باتیں ہوئی ، میں نے کتاب واپس کی تو اُنہوں نے مجھے فاکس پرو -2 سیکھنے کا مشورہ دیا  اور پروگرام  فاکس پرو 1 کی  ایک کاپی  فلاپی ڈسک پر تحفتاً عنایت کی ۔بوڑھے نے آرٹ سکول روڈ پر ایک نوجوان سے فاکس پرو 2 لیا اورپروگرامر کی دنیا میں پہلا قدم رکھا ۔اورفاکس پرو 2 کی کی فلاپی سے میں نے کوڈ توڑ کر سٹینڈ ایلون سافٹ وئر تیار کرنا شروع کیا تھا اور آرمی پبلک سکول کہکشاں کا سکول سافٹ وئر بنایا تھا ۔

بقول ،   نوجوان محمد وسیم کی  والدہ بوڑھا ، کمپیوٹر وائرس (Virus) کو “جیوڑا” پکڑنے کا ماہر بھی بن چکا تھا ۔ چھوٹے چھوٹے وائرس اُن دنوں ایک فلاپی سے  کمپیوٹر اور کمپیوٹر سے دوسری فلاپیز کے ذریعے   فوجی کمپیوٹرز کی ھارڈ ڈسک میں جاتے اور پروگرامز کی چال میں لر زش اور لغزش پیدا کر دیتے ۔ بلکہ کوئٹہ کا ایک کمپیوٹر  کا کاروبار کرنے والا نوجوان ، ہمارے ہیڈ کوارٹر آیا اور ڈسک سے  گیم پروگرام ایک آفیسر کو دینے کے بہانے وائرس ڈال گیا ۔ بلکہ اُس نے اپنا انٹروڈکشن یو کروایا کہ وہ اپنے ایک آرمی آفیسر دوست کے ساتھ ہیڈ کوارٹر آیا  اُس نے سینیئر آفیسر کے ائر کنڈیشنڈ کمرے میں کمپیوٹر دیکھا تو بڑی تشویش کا اظہار کیا کی جس بے احتیاطی سے آپ نے کمپیوٹر رکھا ہے تو اِس میں وائریس جاسکتا ہے ۔ اور پھر بتایا کہ وائریس کیسے فلاپی پر بیٹھ کر کمپیوٹر میں چلا جاتا ہے ۔

خیر یہ بات بوڑھے تک پہنچی بوڑھے نے  ٹی این ٹی  سافٹ وئر کی چٹاخ پٹاخ اور کڑک کڑاک کے گونجتی آوازوں میں جیوڑا پکڑنے شروع کئے ۔ نارٹن اینٹی وائرس ، ٹارٹن ڈسک مینیجر  اور کئی اینٹی وائروائرس سافٹ وئر بوڑھے کی ڈسک میں سمانے لگے ۔ اور سب سے مزے کی بات جن بوڑھے نے سینیئر آفیسر کو وائرس کی فلاسفی سمجھائی تو وہ نہ مانا ۔ جب اُس نے ٹی این ٹی سافٹ ویر کو کمپیوٹر کی سکرین پر وائرس پکڑتے اور مارتے دیکھا ، تو چلایا ۔

میجرنُک( Maj NUK   ) ، تم غلط تھے وہ نوجوان درست دیکھو کتنے وائرس میرے کمپیوٹر میں گُھسے ہوئے ہیں اور مرتے وقت کیسے کلبلا رہے ہیں ؟

 بوڑھا منہ کھولے اُس سینئر آفیسر کی طرف دیکھ رہا تھا ۔

یوں بوڑھے کا چرچا پھیلنا شروع ہوا بوڑھےکو ٹاسک ملا کہ فوج کے کلرکوں کی کمپیوٹر پر تربیت کی جائے ۔بوڑھے نے بی ڈبلو بیسک پر ابتدائی سلیکشن امتحان کاپروگروام بنا ۔ جس کے مطابق جواب اے بی سی یا 1،2 اور 3  ہوتے تھے وقت ختم ہوتے ہی ، کمپیوٹر پر بیٹھے نوجوان کو معلوم ہوجاتا کہ وہ تربیت کے لئے سلیکٹ ہو چکا ہے یا واپس یونٹ جائے گا ۔ یوں سمجھیں کہ یہ اُس وقت بوڑھے کا این ٹی ایس کا خاکہ تھا ۔

پھر کوئٹہ    گلوسسٹر روڈ پر ،پرانا جادو گھر ہال یا فری میسن بلڈنگ  ، کوئٹہ ٹی وی  ا ور  آخر میں ، بولان کمپلیکس میں بچوں ، نوجوانوں ، کلرکوں اور کچھ ادھیڑ عمروں کو  گرمیوں کی چھٹیوں میں کمپیوٹر کی تعلیم دی ۔ پھر بوڑھا 1993 میں سیاچین چلا گیا اور وہاں اپنی 40 ویں سالگرہ منائی ۔

٭٭٭٭      

 کوئٹہ سے نویں کلاس پڑھنے  اور میرپورخاص سے صرف میٹرک کرنے کے بعد میری بھی بڑی خواہش تھی کہ انجنیئر بنوں ، اس سے پہلے ڈاکٹر بنونے کے لئے والد کی انا آڑے آتی کہ 1970 اگست کے آخر میں نیشنل سروس کور کے لئے ملیر کینٹ آنا پڑا ، پھر بھاگنا پڑا ، بھاگتے بھاگتے یہ سفر فوج میں آکر رکا ۔

 ٭٭  وقت گذاری کے لئے پڑھیں۔ آپ یقیناً لطف اندوز ہوں گے   ٭٭٭

٭- ایک فوجی کی زندگی کی یادیں ۔  رنگ روٹ سے آفیسر تک ۔

٭۔ ایک ریٹائرڈ فوجی بزنس کے جھمیلوں میں  ۔ میرے ڈرامے  اور فرینڈ ایسوسی ایٹس


   

٭٭٭٭٭٭٭

٭۔اگلا مضمون -

٭- بوڑھا ، یونی ٹاور اور کمپیوٹر بزنس۔(زیر طباعت)

 

 

بدھ، 20 جنوری، 2021

اِقراء۔ حکمِ واحد ھے ۔

  دنیا میں سب سے زیادہ ان پڑھ اس مذہب میں ہیں جس مذہب کا سب سے پہلا حکم ہے ۔ "پڑھ" ( جہانزیب خانزادہ)

 // اور وہ "اِقراء" بھی حکمِ واحد ھے ۔ کوئی اجتماعی حکم تو نہیں//

 Mohd Arifuddin

٭٭٭٭٭٭٭٭

الکتاب میں درج اللہ کا حکم -

 اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ۔ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ ۔ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ ۔ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۔ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ۔ (سورۃ 96 )

نوجوان محمد عارف الدین : واقعی یہ فرد واحد کو حکم ہے ، کوئی بھی عربی سے معمولی شدھ بدھ رکھنے والا یہی کہے گا جو آپ نے لکھا ہے ۔ 

اگر آپ کے فہم کے مطابق :۔

   ۔1۔ یہ عربوں میں سے کسی ایک (محمد) نے اپنے سامنے موجود کسی ایک فرد کے لئے کہا ہو ۔ تو درست۔

۔2۔  اُس ایک سننے والے نے آگے اپنے کسی ایک دوست کو بتایا ہو تب بھی درست ۔

۔ 3- یوں یہ الفاظ دوسرے سے تیسرے اور پھر چوتھے تک دھرائے جاتے رہے ہوں گے ۔ 

 ۔4۔  پھر آپ کی طرح کسی " عجمی " صاحبِ عقل و دانش ، فہم و فکر ، شعور و تدبّر ، دانش مند نے ضرور یہ سوال کئے ہوں گے ؟ ۔

 ٭ - بھائی میں تمھارے کسی ایسے ربّ کو نہیں مانتا ۔ جس نے میرے باپ کی جگہ میری پرورش کی ہو! ۔ 

٭ -   بھائی تمھاری یہ بات میں مان لیتا ہوں کہ مجھے میری ماں نے تخلیق کرنے کے بجائے کسی ربّ نے تخلیق کیا ، جو میری ماں کو عَلَقٍ کی صفت دیتا ہے!۔

٭- لیکن اُس ربّ نے مجھے نہ ہی قلم پکڑنا سکھایا  ہاں  میرے اُستاد نے مجھے قلم پکڑنا   سکھایا ۔ 

٭- اگر تم ربّ کو مدرّس ( ٹیچر) کہتے ہو تو یہ بتاؤ اُس کا مدرسّہ کہاں ہے ؟ جہاں میں جاکراقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ کروں۔

٭۔  کیوں کہ میں نے سنا ہے کہ یہ بیان کہنے والا 

 مُحَمَّدٌ ( تاریخ کے مطابق بن عبداللہ ) خود چٹا اُن پڑھ (  الْأُمِّيَّ  ) ہے

اور سب عرب بھی   أُمِّـيُّونَ (یعنی ماں سے پڑھے ہوئے) ہیں ۔
٭۔ کیا 
مُحَمَّدٌ (  الْأُمِّيَّ  ) کے ربّ نے اب مدرسّہ کھول کر دیا ہے ؟ -

 مجھے لے چلو اُس ربّ کے پاس جس سے میں کم از کم یہ تو پوچھوں ، کہ میں کہاں سے پڑھوں؟

٭۔  یہ اُمّی  مُحَمَّدٌ کے ساتھی عرب کیا مدرسّے پڑھے لکھے ہیں جو وہ اقْرَأْ ، اقْرَأْ ، اقْرَأْ کی رٹ ۔ لگا رہے ہیں ؟؟

 ۔7۔  توعارف الدین،  وہ بے چارہ عربی بوکھلا گیا ہوگا ۔ اب وہ دو میں سے ایک کام کرے گا ۔

 اوّل -  آپ کو بے نقط سنائے گا اور ایسے القاب سے نوازے گا جو آپ جیسے باعلم ، عجمی انسان کے لئے انوکھے ہوں گے ۔ 

دوئم ۔ آپ سے درخواست کرے گا ، دوست میں اُمّی ہوں ۔ آؤ ہم محمد ( امّی) کے پاس چلتے ہیں ۔ 

تو آپ دونوں ، عجمی عالم اور اُمّی عربّ ،  دونوں اِن الفاظ کے بیان کرنے والے کے پاس جاتے ہیں۔

 اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ۔ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ ۔ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ ۔ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۔ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ۔ (سورۃ 96 )96 

جن کے متعلق عموماً یہ غلط العام ہے کہ اِن الفاظ کی سب سے پہلے ادائیگی مُحَمَّدٌ (  الْأُمِّيَّ  )نے پہلے شخص کے سامنے کی !


 جب آپ یعنی  عجمی عالم اور اُمّی عربّ ، دونوں ، محمد ( امّی) کے پاس پہنچے ہوں گے تو آپ کی باڈی لینگوئج کو دیکھنے کے بعد ۔  مُحَمَّدٌ (  الْأُمِّيَّ  نے یہ  ضرور پوچھا ہو گا ۔ کہ

 فَإِن كُنتَ فِي شَكٍّ مِّمَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ فَاسْأَلِ الَّذِينَ يَقْرَؤُونَ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكَ لَقَدْ جَاءَكَ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ [10:94] 

 عارف الدین  ،  مُحَمَّدٌ (  الْأُمِّيَّ  )  نے عربی میں کہا  ہے ،   اگر تجھے شک ہے کہ جو میری قرءت  تجھ تک پہنچا ئی گئی ہے تو پریشان مت ہو ۔

 اُن لوگوں میں بیٹھ کر پوچھ جو تجھ سے پہلے   الکتاب کی قرءت کر رہے ہیں ۔  

ہاں سنو عارف میاں ۔ حقیقت میں  یہ قرءت  جو  اِس عربی نے مجھ سے منسوب کرکے    تم تک پہنچا   ،  میرا  بیان نہیں ہے ،  تیرے ربّ  کا بیان ہے  جو  تیری طرف  الْكِتَابَ کی صورت میں  الحق ہے ۔ اِس قلم سے لکھے گئے  علم کو تسلیم کر لے ورنہ  تو کم ترین    ( جاہل )   رہ جائے گا   ۔

اِس بیان نے یقیناً آپ کو پریشان کر دیا ہوگا ، کہ آپ سمجھ رہے تھے کہ یہ عربی آپ کے پاس 20 الفاظ کا بیان لے کر آیا اور مُحَمَّدٌ (  الْأُمِّيَّ  ) نےاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ کے بجائے الَّذِينَ يَقْرَؤُونَ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكَ  کا مدرسّہ کھول دیا ۔

 تو اےصاحبِ عقل و دانش ، فہم و فکر ، شعور و تدبّر ، دانش مند نوجوان ۔

 آپالَّذِينَ يَقْرَؤُونَ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكَ  کو تسلیم کر لیں تو آپ ! فرد واحد ( محمدﷺ ) کے چشمے سے نکل کر ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ کی وسیع جھیل کے کنارے یک دم پہنچ جائیں گے ۔  (مہاجرزادہ)

٭٭٭٭


بدھ، 6 جنوری، 2021

ڈینڈیلین (Dandelion) کی جڑیں

 کبھی موسمِ بہار میں یہ کھیل کھیلا ہے؟
ہم نے تو بچپن میں سکول سے آتے وقت دوڑ کر یہ روئی کےگولے توڑتے   اورانہیں پھونک سے سب سے دور اُڑانے کا مقابلہ کرتے ۔ 
سب سے پہلے اِس کے پودے زمین سے سر نکالتے جن پر   پیلے پھول نکلتے۔ جب پھول کی پتیاں    ہوا سے گر جاتیں ، اِس کے پکنے پر یہ گول  گول  گالے پورے میدان میں  نظر آتے ۔
جن علاقوں میں پانی کی بہتات ہوتی ہے ۔ وہاں یہ ایک سے ڈیڑھ فٹ بلند ہوتے ہیں اور لمبی اور موٹی جڑوں  کے ساتھ اُگتے ہیں ۔ راولپنڈی میں یہ زیادہ سے زیادہ چھ انچ اونے ہوتے ہیں اور اِسی طرح اں کی جڑیں زیادہ لمبی نہیں ہوتیں ہیں۔
کیا ڈینڈیلین کھانے کے قابل ہے؟ یہ ان سوالات میں سے ایک ہے جو لوگ اس پودے کے بارے میں سوچتے ہیں۔ ڈینڈیلین کے پتے اکثر سلاد میں استعمال ہوتے ہیں، ان کا تھوڑا سا کڑوا ذائقہ ایک منفرد ذائقہ ڈالتا ہے۔ پکے ہوئے پتے: ڈینڈیلین کو کیسے کھایا جائے یہ بھی اکثر پوچھے جانے والا سوال ہے۔ سلاد کی شکل میں کھائے جانے کے علاوہ، پتوں کو پکایا جا سکتا ہے، بھونا جا سکتا ہے، ابالا جا سکتا ہے یا سوپ اور سٹو جیسے پالک یا دیگر پتوں والی سبزیاں میں شامل کیا جا سکتا ہے۔  

ڈینڈیلین اپنی غذائیت کی ساخت اور جڑی بوٹیوں کی خصوصیات کی بدولت متعدد ممکنہ صحت کے فوائد پیش کرتا ہے۔ ڈینڈیلین پلانٹ کے فوائد میں شامل ہیں: ڈینڈیلین کے پتے وٹامنز اور معدنیات سے بھرپور ہوتے ہیں، خاص طور پر وٹامن A، C اور K کے علاوہ کیلشیم، پوٹاشیم اور آئرن۔ ڈینڈیلین کا استعمال  انسانی  تاریخ میں جگر کے کام کو سپورٹ کرنے اور  جسم کو نقصان دہ مادوں سے صاف کر نے میں  یہ جگر کے زہریلے مادوں کی صفائی  کے عمل میں مدد کر سکتا ہے اور جگر کی مجموعی صحت کو فروغ دیتا ہے۔
ڈینڈیلین بھوک بڑھا سکتا ہے اور قبض اور اپھارہ جیسی علامات کو دور کر سکتا ہے، اس طرح صحت مند ہاضمہ کو فروغ دیتا ہے۔ ڈینڈیلین میں طاقتور اینٹی آکسیڈینٹ ہوتے ہیں جو آکسیڈیٹیو تناؤ سے لڑنے میں مدد کرسکتے ہیں اور دائمی بیماریوں کے خطرے کو کم کرسکتے ہیں۔
ڈینڈیلین  کی جڑیں قدرتی طور پر بہت سے طبی فوائد رکھتی ہیں اور انہیں روایتی طب میں صدیوں سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے چند اہم فوائد درج ذیل ہیں:۔
جگر کی صفائی۔ ڈینڈیلین کی جڑ جگر کی صفائی کے لیے بہت مفید سمجھی جاتی ہے۔ یہ جگر کے افعال کو بہتر بناتی ہے اور زہریلے مادوں کو جسم سے نکالنے میں مدد دیتی ہے۔
ہاضمے کی بہتری: یہ جڑ معدے اور آنتوں کے لیے مفید ہے۔ یہ ہاضمے کو بہتر بنانے، قبض کو دور کرنے، اور پیٹ کی گیس کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
بلڈ شوگر کنٹرول :ڈینڈیلین کی جڑ انسولین کے اثرات کو بہتر بنا کر بلڈ شوگر لیول کو متوازن رکھنے میں مدد دے سکتی ہے، خاص طور پر ذیابیطس کے مریضوں کے لیے۔
مدافعتی نظام کی مضبوطی: اس میں اینٹی آکسیڈنٹس اور دیگر مفید مرکبات موجود ہوتے ہیں جو مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں اور جسم کو بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔
موٹاپے میں کمی :ڈینڈیلین کی جڑ پیشاب آور  خصوصیات رکھتی ہے، جس سے اضافی پانی اور زہریلے مواد جسم سے خارج ہو جاتے ہیں، جو وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
جلد کے مسائل کا علاج :ڈینڈیلین کی جڑ سے بنی چائے  جلد کے مسائل جیسے مہاسے اور ایگزیما کے علاج میں مددگار ہو سکتی ہے۔ڈینڈیلین کا عرق یا تیل جلد کی حالتوں جیسے کہ ایکنی، ایگزیما اور چنبل کو سکون دینے کے لیے  استعمال کیا جا سکتا ہے۔
  ڈینڈیلین کی جڑ کو عام طور پر خشک کر کے چائے یا قہوہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔آپ روزانہ ایک کپ چائے پی سکتے ہیں ۔ چائےکا ذائقہ ہلکا تلخ اور مٹی جیسا ہوتا ہے ۔ اس کا پاؤڈر سپلیمنٹ کے طور پر بھی دستیاب ہوتا ہے۔یہ خاص طور پر ہاضمہ کی خرابیوں جیسے اپھارہ یا بدہضمی کے لیے اچھا رہے گا۔
احتیاط حاملہ خواتین یا دودھ پلانے والی ماؤں کو اس کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہیں کرنا چاہیے۔ اگر آپ کو کسی قسم کی الرجی یا طبی مسائل ہیں تو استعمال سے پہلے ماہر طب سے مشورہ کریں۔ ڈینڈیلین کی جڑ قدرت کا انمول تحفہ ہے، لیکن اسے مناسب مقدار اور صحیح طریقے سے استعمال کرنا ضروری ہے۔
 اگر آپ کو ڈینڈیلین چائے پینے کے دوران کوئی منفی اثرات یا تکلیف محسوس ہوتی ہے، تو بہتر ہے کہ استعمال بند کر دیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔