Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 23 فروری، 2014

8- کیا دماغی سکون کے لئے سائیکو تھراپی ایک تیکنیک ہے ؟

  ایک دوست کا سوال 
: It's psycho therapy... A technique to RESET MIND.🤔 What do you think ? 
میرا جواب : جی ھاں کہہ سکتے ہیں !
 بنیادی طور پر ذہنی ڈسٹربینس (انتشاری ) یا ھائی بلڈ پریشر ( زیادہ ولٹیج )، دماغی خرابی کا باعث بنتی ہے ، جس سے دماغ (ھارڈ وئر) کے کچھ خلیوں (سیکٹرز) میں خرابی پیدا ہوجاتی ہے ، اور اُن کے دماغ میں موجود ذہن (میموری) میں موجود (سافٹ وئر ) کام نہیں کرتا ، یعنی کرپٹ ہوجاتا ہے ، مکمل یا جزوی  (Partial)
 یاد رہے ، کہ دماغ حواسِ خمسہ سے اپنا سافٹ وئر خود ڈویلپ کرتا ہے ، جسے ذہن کہتے ہیں ۔ 
جیسے اگر، لیپ ٹاپ کے پروسیسر کے فین کے سامنے گرد آجائے اور وہ کولنگ کم کردے تو ایک خاص درجہ حرارت پر ٹرپ کرجاتا ہے ۔ اور اگر اُس کی   منٹیننس نہ کی جائے تو پروسیسر کی سپیڈ کم ہوجاتی ہے اور بالآخر بالکل ڈیڈ ہوجاتا ہے ، کیوں کہ گرمی سے اُس کے پاور کے ٹانکے پِگھل جاتے ہیں -

 اب چونکہ وہ آکسیجن پر نہیں چلتا ، لہذا وہ دوبارہ اگر ہئیر ڈرائیر سے گرم گیا جائے تو ٹانکے جڑ جاتے ہیں اور وہ ٹھیک ہو جاتا ہے ۔ لیکن دماغ کے وہ خلئیے جہاں ، ھائی بلڈ پریشر سے مکمل  کلاٹنگ  ہوتی ہے ، ڈیڈ ہوجاتے ہیں ۔ اور وہاں سے یاداشت جزوی  (Partial) یا مکمل ختم ہوجاتی ہے ، سائیکو تھراپی ، پارشئیل یاداشت کو دوسرے سیکٹرز میں منتقل کرنے اور اُن کے درمیان لاجیکل لنکس پیدا کرنے کا نام ہے ۔
  انسانی یاداشت ، کے دو  اہم ،حصے ہوتے ہیں:-

  1- شعور ( Conscious) ، جو کمپوٹر کی عارضی   یاداشت   (ریم میموری )کی طرح ہوتا ہے -
 2- تحت الشعور ( Sub-Conscious) ، ایک بہت بڑا سٹوریج ہے جس میں  حواسِ خمسہ سے دماغ میں جمع ہونے والی تمام معلومات ، یاداشت ہونے کے ساتھ ، ذخیرہ ہوجاتی ہیں ۔ اور وہ تمام   یاداشت  جو استعمال نہ ہو 45 دن بعد  تخت الشعور کی گہرائیوں میں ڈوبنے لگتی ہیں ،   اگر اُسے ریوائیو(Revive) نہ کیا جائے تو 90 دن بعد وہ اُس کے شعور سے لنک ختم ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔ لیکن رہتی دماغ میں ہے ۔ ضائع نہیں ہوتی ۔
 
جیسے اگر فیس بک میں کسی گروپ   میں ڈالی جانے والی پوسٹ نئی پوسٹ کو وجہ سے گروپ کی گہرائیوں میں جانے لگتی ہے  ۔لیکن جو نہیں کسی دوست نے ، کوئی کمنٹ دیا تو وہ یک دم پہلی پوسٹ کی جگہ  لے لیتی ہے ۔

جیسے اگر میں آپ سے پوچھوں  کہ کیا اپنی پانچویں کلاس کے بارے میں بتا سکتے ہو  یا  پانچویں کلاس کے  ساتھیوں  تو شاید ذہن پر  زور ڈالنے پر اِکا دُکا واقعات  میں  کچھ بتا سکو ۔  لیکن اگر آپ اپنے سکول میں جا کر خالی کلاس روم میں  جاکر اُسی سیٹ پر بیٹھو  جہاں آپ بیٹھتے تھے  یا کلاس کے سب سے آخر کے کونے میں جا کر بیٹھ جاؤ      اور اگر  وہاں کی تمام چیزیں  جوں کی توں ہیں اور اُن سے جو جو یاد ایسوسی ایٹ ہے وہ ساری ، واپس آنا شروع کرے گی  اور اگر ساتھ کلاس فیلو ہو  تو  خود  واپسی (Revival)  کا عمل جلدی ہوجائے گا اور ساتھ ہی ذہن پر زور ڈالنے سے   واقعات تحت الشعور سے شعور میں آنا(Retrieval) شروع ہو جائیں گے ۔ 
مائینڈ سائینسز  کی ایک  مشق کے دوران ،  جب  استاد ( گرو) نے سب کو اپنے ماضی  میں سفر کر کے ، کوئی بھی یاداشت لانے کا کہا ، تو بوڑھے کو اپنی پانچویں کلاس کا ایک سین یاد آیا ، وہ یہ کہ ، " نمّو  اپنی کلاس میں داخل ہوتا ہے ، ماسٹر صاحب کی میز اور کرسی روشن ہے  اور باقی کلاس میں اندھیرا ہے  اور اندھیرے سے شور کی آواز  کلاس میں داخل ہونے سے پہلے سُن رہا ہے ، ماسٹر صاحب کلاس میں نہیں ۔ نمّو کے داخل ہوتے ہی کلاس میں یک دم سناٹا چھا جاتا ہے "

 جب اِس کا ذکر مائینڈ سائینسز   کے ماہر  پروفیسر معیظ  سے کیا  ، تو اُنہوں نے کہا ، اگر آپ چاھیں تو اِس کے لئے   ، مائینڈ تھرا پی کی جاسکتی ہے !
 یہی وجہ ہے کہ سائیکالوجسٹ ، مائینڈ (سافٹ وئیر) رٹریول کے لئے ، مریض کو ، پرانی جگہ اور پرانے لوگوں سے ملنے کا کہتے ہیں ۔ یا 
وہ انسان کو ٹرانس میں لا کر اُسے سوالات کے ذریعے ماضی کو کریدنے کا کہتے ہیں -

 ٹرانس میں لانے کے لئے دو چیزیں ہوتی ہیں ، ایک دوائیں  اور دوسرا ، مراقبہ (جسے ہم دعاؤں جیسے الفاظ کا ہزارروں مرتبہ پڑھنا ہے ) جو   سوچوں کو مرتکز(Concentrate)  کرنے سے   کی بنیاد ہوتا ہے ۔
اب جوچونکہ یہ دعائیں یا کسی اور زبان کے الفاظ ،کسی بُری یاد سے وابستہ نہیں ہوتے ، لہذا دماغ کی کولنگ سے اُس کی ایفی شنسی بڑھ جاتی ہے ۔ 

جس کی وجہ سے دماغ ، لاتعداد سوچوں کو جھٹک کر ، مخصوص اور اہم کاموں کی طرف آجاتا ہے ۔ یوں سمجھو کہ اگر آپ اپنے لیپ ٹاپ پر غیر ضروری ویب سائیٹس اور دیگر ایپلیکیشنز کھول لو تو لیپ ٹاپ کی پرفارمینس پر اثر پڑتا ہے ، چنانچہ ہماری غیر ضروری سوچوں سے یاداشت کی جو ویب سائیٹس کھلتی ہیں وہ بند کرنے سے بھی بند نہیں ہوتیں اور دماغ میں قدرتی ھیٹ سنک کے باوجود گرمی بڑھتی جاتی ہے ۔ اُس گرمی کو ، مراقبے کی ایک مخصوص پروگرامنگ اور ری پروگرامنگ سے کم کرنے سے تمام غیر ضروری سوچوں کی ویب سائیٹس بند کرنے کا ہنر آجاتا ہے ۔ جو دواؤں سے بھی حاصل ہوتا ہے ۔ لیکن دواؤں سے ویب سائیٹس بند کرنے کے باوجود وہ ٹاسک بار میں رہتی ہیں ۔
 سائیکالوجسٹ وہ ویب سائیٹس بند کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ لیکن آپ یا آپ کے ارد گرد کے لوگ وہ یاداشت دوبارہ کھولنے پر مجبور کر دیتے ہیں ، جس میں دماغ کی گرمی بڑھانے کی اُن یادداشتوں  کی بہت بھاری ڈاؤن لووڈز ہوتی  رہتی ہیں ۔

وہ تمام افراد ، جن کے دماغ کی ھیٹ سنک ، دماغ کو بار بار ٹرپ کرتی ہے ، اِس یکلخت شٹ ڈاؤن کی  وجہ سے دماغ میں بیڈ سیکٹر بننے لگتے ہیں اور ذہنی سافٹ وئر ، کرپٹ ہونے لگتا ہے ، انہیں چاھئیے کہ اپنا علاج خود کریں ۔
اگر  وہ کسی ماہر   سائیکالوجسٹ کے پاس نہیں جانا چاہتا ، یا کوئی  مراقبے کا ماہر   اُنہیں نہیں ملتا  تو     وہ    میری رائے کے مطابق ، 
یہ الفاظ اپنے دماغ میں کثرت سے دھرائیں ۔
 مسلمان : اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ  إِلَّا ، هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ۔
 اور دوسرے مذاہب کے : Almighty the immortal
 مذاہب پر یقین نہ رکھنے والے : living being are) Mortal )

نوٹ: بالا  تینو ں ، جملے،  ہومیوپیتھک دواؤں کی طرح ہیں  ۔ ایلوپیتھک نہیں !
 اور اگر روشنی کا مراقبہ ،  کرسکیں تو بہتر ۔
اگلا مضمون :  
9- مراقبہ پر رسپانس 
 پچھلا مضمون:



 


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔