Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 27 فروری، 2017

جن کے ھاتھ پہ لگا ہے خون



ملک پر  ہےآسیب کا سایہ    
آؤ قلعوں میں جم کر بیٹھیں

کوئی یہاں نہ  گُھسنے پائے
کوئی یہاں نہ قدم جمائے

جپیں ہم سب امن کی مالا
ہمارا سکون رہے دوبالا

شیطانوں کی ہے کوشش
بدلیں چولا ، پہن کے پوشش

بھکاری کے روپ میں آئیں
ساتھ اپنے مصیبت لائیں

لیکن اِک پہچان ہے یارو
اپنی بولی کیسے چھپائیں

جن کے ھاتھ پہ لگا ہے خون
باڈر پار کے نہیں ہیں، اپنے پشتون
 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔