Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 12 جنوری، 2023

ربیتانوز کوپسند نہیں ۔

  اُفق کے پار بسنے والے ، نیک دل  خرگوش پال دوستو۔

خرگوش فارمنگ کی پاکستانی دنیا میں نئے خرگوش فارمرز کو، سبز باغ دکھا کر لوٹا جا رہا ہے ۔ جو یقیناً نئے فارمررز کو پسند نہیں ۔ پاکستان کے مختلف ڈسٹرکٹ میں صارف عدالتوں کا قیام  عمل میں لایا گیا ہے ۔ 

جس کے مطابق :۔

٭۔ کوئی بھی خریداراپنی داد رسی ہے لئے، دکاندار ، ٹریڈر یا کمپنی کے خلاف اپنے ڈسٹرکٹ میں قائم کنزیومر کورٹ سے رجوع کر سکتا ہے ۔(سیکشن 23) ۔  اِس کے لئے

٭۔  اُسے خریداری کی رسید جس پر تاریخ ،اشیاء کی تفصیل ، اشیاء کی مقدار ، قیمت اور فروخت کنندہ کا نام و پتہ درج ہو ۔(سیکشن 19)   

خریدار ایک سادہ کاغذ پر اپنی درخواست ،بمع تمام مہیا کئے گئے کاغذات ، شکایت  کی تفصیل کے ساتھ دکاندار کو رجسٹرڈ پوسٹ بھجوائے گا ۔
     دکاندار کی طرف سے، 15 دن تک  جواب نہ ملنے پر وہ  30 دن سے پہلے ،اپنے ضلع  کی صارف عدالت میں صبح آٹھ بجے جاکررجسٹرار کو اپنی  درخواست دے کر اُسے کہے گا کہ مجھے جج صاحب کے سامنے  پیش کردیں۔

   یاد رہے "صارف عدالت " میں کیس کرنے کی کوئی فیس نہیں ہے اور نہ ہی آپ کو وکیل کی خدمات لینے کی ضرورت ہے۔

·        آپ سادہ کاغذ پر 15دن کا لیگل نوٹس لکھیں اور کاروباری کمپنی، فرم، سروسز پرووائیڈر یا دوکاندارکو بھیج دیں
·        لیگل نوٹس رجسٹرڈ ڈاک کے ذریعے بھجوائیں تا کہ آپ کے پاس نوٹس بھجوانے کا ثبوت  ہو
·        اگر کاروباری کمپنی، فرم، سروسز پرووائیڈر یا دوکاندار آپ کے نوٹس کے جواب میں ازلہ کر دے تو کیس فائل کرنے کی ضرورت نہیں ، بصورت دیگر آپ "صارف عدالت " سے رجوع کریں۔
·        آپ "صارف عدالت "  میں  درخواست (سادہ کاغذ پر لکھ کر) کے ساتھ لیگل نوٹس کی کاپی، شناختی کارڈ کی کاپی،  رسید کی کاپی (اگر ہے تو) اور دیگر دستاویزات بطور ثبوت  منسلک کر کے کیس دائر کر دیں  
·        لیگل نوٹس اور صارف عدالت "  میں کیس فائل کرنے کے لئے آپ کو کوئی فیس دینے  یا  وکیل ہائر کرنے کی قطعاََ ضرورت نہیں
·        عدالت جرم ثابت ہونے پر متعلقہ کاروباری کمپنی، فرم، سروسز پرووائیڈر یا دوکاندارکو دو سال قید یا ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنا سکتی ہے، عدالت دونوں سزائیں ایک ساتھ بھی دے سکتی ہے
 اپنے حق کے لئے آواز اٹھائیے
صارف کے تحفظ کے لئے "صارف عدالت " کا در کھٹکھٹائیے۔  
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 اگر آپ کے علاقے میں صارف کورٹ نہیں ، تو  ڈسٹرکٹ کو آرڈینشن آفیسر (ڈی سی او)  ا دروازہ کھٹکٹائیں ۔
  ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر  (ڈی سی او) کو درخواست دینے  کا طریقہ کار:۔
صارفین غیر معیاری سروسز و مصنوعات ، ریٹ لسٹ کے آویزاں نہ کرنے ، مصنوعات پراجزائے ترکیبی، معیاد و تاریخ کا نہ ہونا اور رسید نہ دینے یا ضروری معلومات  رسید پر نہ ہونے کے خلاف ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر (ڈی سی او) کو بھی درخواست دے سکتے ہیں۔ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر کے اختیارات "ضلعی صارف عدالت " سے کم ہوتے ہیں۔ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسرجرم ثابت ہونے پر متعلقہ کاروباری کمپنی، فرم، سروسز پرووائیڈر یا دوکاندارکو صرف 50،000 تک جرمانہ کر سکتا ہے۔
 پاکستان کے روایتی سسٹم میں "ضلعی صارف عدالتوں " کا قیام اہم پیش رفت ہے، جو کہ خوش آئند ہے۔  عموما ََ لوگوں میں یہ تصور  پایا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں ایسے مسائل کا کوئی حل نہیں اور ان کی شکایت کہیں نہیں سنی جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ناقص اشیاءاور زائد المعیاد چیزیں سر عام فروخت ہوتی ہیں  جبکہ غیر معیاری سہولیات  پر چارہ جوئی کا صارفین میں تصور ہی نہیں پایا جاتا۔ جہاں حکومت  نے "ضلعی صارف عدالتوں " کو قائم  کر کے عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی ہے  وہیں اب یہ ہماری ذمہ داری  بنتی ہے کہ ہم عوام الناس کو یہ آگاہی فراہم کریں کہ ان کے حقوق کو قانونی تحفظ حاصل ہے وہ چاہیں تو کمپنیوں پر ہرجانے کا دعویٰ کر سکتے ہیں،  چاہیں تو نا انصافی پر "ضلعی صارف عدالت " کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں ۔
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ریبٹ انڈسٹری کی بھلائی کے لئے ۔ ہم اپنے معاملات، خود کیوں نہیں نمٹا سکتے ہیں ؟؟
جس کے لئے ایک مصالحتی کمیٹی کا قیام ریبٹ انڈسٹری کے ہر صوبے ، ڈویژن ، ڈسٹرکٹ اور تحصیل میں نہایت ضروری ہے ۔
 تاکہ ریبٹ انڈسٹری میں انصاف کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے فروغ ملے ۔
لیکن ایک نکتہ نہایت ضروری ہے کہ یہ مصلحاتی  کمیٹی نہ بن جائے ۔ جس میں  ۔
من ترا حاجی بگوئم ، تو مرا مُلّا بگو  کا فساد شروع نہ ہو جائے ۔

٭٭٭٭٭٭٭جاری ٭٭٭٭٭٭

   مزید مضامین پڑھنے کے لئے جائیں ۔

 فہرست ۔ خرگوشیات  

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔