میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 12 جولائی، 2016

کشمیری بربریت سہنے کے عادی ہو چکے ہیں

This message has been sent by a Kashmiri about 36 hours before; need your attention please. 
"I can't directly upload to Facebook for obvious reasons but can you you please upload the following and contact media sources too:

Noone can move. Noone is safe. Bullets are fired indiscriminately. Even hospitals are not being spared. The injured are beaten ruthlessly and  movement restricted from distant places to the city by authorities, causing more deaths. Hospitals are over flowing with the injured and the dead.

PLEASE demand the international community to lift the restrictions imposed by the Indian government and stop killing us. 12 have been killed today and over 150 injured. They've shut down mobile service in many areas and the Internet has been blocked too, so that the truth may never reach the rest of the world
 People who have links in media please help us in spreading the word about what is happening in occupied Kashmir."
Play your part!

بحیثیت پاکستانی میں نے اِس پیغام کو شیئر کر دیا ہے ! لیکن

کیا مغربی ممالک میں رہنے والے کشمیری " زنخے " ہیں کہ وہ اپنے بھائیوں کے لئے آواز نہیں اُٹھا سکتے ؟

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔