Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 7 جولائی، 2016

کیا مذھب میں سوال پوچھنا غلط ہے ؟

انسان کرہءِ  ارض پر   ایک محیر العقول جنس ِ کثیر  ، جس کی واحد  دولت اُس کا  گردن سے اوپر کا حصہ ہے ۔  جسے   Crown Jewel  کہا جاتا ہے ۔ جس میں ایک قلب ہے ، جو پورے جسم پر قابو رکھتا ہے ، تمام تعمیری اور تخریبی سرگرمیوں  کے سرچشمے یہیں سے پھوٹتے ہیں  اور  حواسِ خمسہ میں  چار حواس ،  اِس میں پائے جاتے ہیں اور پانچویں حس  پورے جسم پر تقسیم ہے ۔ 
کیوں ؟
کیسے ؟
کس لئے ؟

انسان کی ترقی کے لئے  سر میں موجود ، انسانی  قلب میں لکھ دئیے گئے ہیں ! جانور اِس سے مبرّا ہیں ۔


 وَلاَ تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَـئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْؤُولاً [17:36]
اورمت        تَقْفُ     ( توقف ) کر جس کا تیرے پاس ،  علم نہیں ،  بے شک السَّمْعَ     اور الْبَصَرَ  اور          الْفُؤَادَ كُلُّ ، اُن سب کا   ، اُن  ( جن کا علم نہیں )  میں   مَسْؤُول ( سوالنامہ  )   ہے  ۔


درج ذیل ترجمے نے سارے ،   تعقّل ، تفکّر او ر تدبّر پر تالے ڈال دئیے :
  اور (اے انسان!) تو اس بات کی پیروی نہ کر جس کا تجھے (صحیح) علم نہیں، بیشک کان اور آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے باز پرس ہوگی


اور اللہ کی اِس آیت کو غلط ثابت کر دیا ۔  أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا ﴿محمد: ٢٤﴾
 کیا وہ القرآن میں “تدبر“ نہیں کرتے ؟ یا ان کے قلوب پر قفل پڑے ہیں ؟ 
 انسان جب ہدایت کے ساتھ  کرہ ارض پر پھیلایا گیا ،  تو اُسے زمین پر رہنے کے لئے تمام بنیادی تعلیم دی گئی ،  یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ کائینات کا ربّ جس نے کرہ ارض پر جینئس مخلوق پھیلائی وہ اسے ، بغیر ہدایت کے چھوڑ دیتا ۔ 


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔