Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 11 جنوری، 2020

شگفتگو محفل مزاحیہ مناثرہ -2020

٭٭٭  مزاح نگارانِ کی محافل قہقہہ آور٭٭٭
 ٭
ارشدعلی  مرشد محترمہ شازیہ مفتی


  ٭٭٭سال2020 ٭٭٭
نشست سال ماہ تاریخ مقام مبصّر
17 2020 جنوری 11 فردوس عالم حبیبہ طلعت
18 2020 فروری 8 عاطف مرزا عاطف مرزا
19 2020 مارچ 14 ارشد علی مرشد عاطف مرزا
20 2020 اپریل 11 وٹس ایپ عاطف مرزا
21 2020 مئی 8 وٹس ایپ حبیبہ طلعت
22 2020 جون 13 وٹس ایپ حسیب اسیر
23 2020 جولائی 11 وٹس ایپ
24 2020 اگست 8 وٹس ایپ
25 2020 ستمبر 12 آصف اکبر   خالد مہاجرزادہ
26 2020 اکتوبر 10 عاطف مرزا عاطف مرزا
27 2020 نومبر 14 نعیم الدین خالد
28 2020 دسمبر 12 وٹس ایپ

٭٭٭  مزاح نگارانِ کی محافل قہقہہ آور٭٭٭
٭٭٭سال 2018 ٭٭٭
٭٭٭  مزاح نگارانِ کی محافل قہقہہ آور٭٭٭
٭٭٭سال 2019 ٭٭٭

٭٭٭  مزاح نگارانِ کی محافل قہقہہ آور٭٭٭
٭٭٭سال 2021 ٭٭٭


جمعرات، 9 جنوری، 2020

سفرنامہ-ایتھوپیا - سے اسلام آباد

 چم چم کے سکول کی چھٹیاں 20 دسمبر سے شروع ہو رہی تھیں گھومنے کے کئی پروگرام بنے ، بالآخر فیصلہ ہوا کہ اسلام آباد جایا جائے ۔ کیوں کہ چم چم کی ماما کی موبائل فون کی سمیں بائیومیٹرک نہ ہونے کی وجہ سے بلاک ہوئیں ، بنکوں نے انگھوٹھا چھپوائی نہ ہونے کی وجہ سے لین دین سے انکار کردیا ۔ لہذا اُس نے تو جانا ہی جانا تھا مگر دسمبر کے آخر میں ،چم چم ، بوڑھے اور بڑھیا کاویزہ  12 دسمبر کو ختم ہورہا تھا ، لہذا  طے یہ پایا کہ بجائے   300 ڈالر صرف 20 دسمبر تک کے لئے خرچ کرکے ویزہ لگوانا ، اسراف میں قدم رکھوا  دے گا!
چنانچہ 12 دسمبر کو چم چم ، بوڑھا اور بڑھیا  عدیس ابابا سے اسلام آباد بذریعہ دبئی سفر کے لئے  کے لئے ائرپورٹ پر تھے۔

 12 دسمبر کو ایتھوپیا کے وزیر اعظم " ابے محمد"  نوبل پرائز   لے کر عدیس ابابا آرہے تھے اور چم چم کا پروگرام ، ایتھوپیئن مینڈھیاں بنوانے کا تھا۔ لیکن ائر پورٹ مکمل بلاک تھی اور ہم نے ایڈنا مال کے پاس سیلون پر جانا تھا ، لہذا چم چم کی ماما نے  سیلون کی مالکہ سے درخواست کی کہ وہ اپنی کسی ماہر گیسو سنوار کو ہمارے ہاں بھیج دے  ، بوڑھے  نے حساب لگایا ۔
٭-امارات ائر لائن کی فلائیٹ : 13:05
٭-ائرپورٹ پر حتمی پہنچنا : 12:05
٭-رہائش سے روانگی :11:10
٭-چم چم  کا ایتھوپیئن بریڈ بال بنوانا ، وقت :  3:00 گھنٹے ،
٭-سیلون سے ماہرِ  خاتون کا پہنچنا : 08:00
آٹھ بجے ہیلن کا فون آیا کہ وہ رش کی وجہ سے ٹریفک میں پھنس گئی ہے 20 منٹ تک پہنچ جائے گی ۔ ہیلن بی بی 8 کے بجائے 9  بجے پہنچی ،، اپنا سامان بیگ سے نکالا جو ایک  کنگھی پر مشتمل تھا ،
"میں سادھی بریڈصرف ایک گھنٹے میں بنا دوں گی "۔
" نو وے !" چم چم بولی ،" کیا آپ مصنوعی بال نہیں لائی ؟"
" مجھے کسی نے نہیں بتایا " ہیلن بولی
"اب کیا کیا جائے ؟" بڑھیا بولی
 سلامہ ملازمہ نے اُسے امھارک میں ڈانٹا ،" کیا تمھیں سادہ بریڈ( braid)  بنوانے کے لئے بلوایا ہے "
" ماما ، یہاں کونے پر سیلون ہے شائد وہاں سے مصنوعی بال مل جائیں گے ، میں لے کر آتی ہوں"
بوڑھا بولا ،" میرا خیال ہے کہ میں لے کر آتا ہوں "اور ھیلن سے پوچھا "کتنے لانے ہیں ؟"
" دو کافی ہوں گے " ھیلن بولی ۔
بوڑھا نزدیکی سپاء سیلون پر گیا ، وہاں   خاتون نے بتایا کہ اُن کے پاس مصنوعی بال نہیں  وہ چوک کے پاس دکان سے منگواتی ہے  ۔ فوراً  رائیڈ (کریم ٹیکسی ) منگوائی ،   ٹیکسی ڈرائیور کی خاتون سے بات کروائی اُس نے ایڈریس سمجھایا ۔ بوڑھا ایک بڑے سیلون پر پہنچااُس  کے شو کیس میں مختلف رنگوں کے بال لٹکے ہوئے تھے ، احتیاطاً  چار پیکٹ لئے اور واپس پہنچا ۔ 
وقت بچانے کے لئے ، بوڑھے نے  مصنوعی بالوں لے لچھوں سے   چھوٹی چھوٹی لٹیں علیحدہ کرنا شروع کر دیں ۔ھیلن نے اُنہیں  چم چم کی مینڈھیوں میں گوندھنا شروع کیا ، چم چم چونکہ ائرپورٹ جانے کے لئے تیار ہوگئی تھی ، اُس نے نانو کے کہنے کے باوجود  ، پرانی شرٹ نہیں پہنی لہذا ، مصنوعی بال  جو گرتے ، بڑھیا  اُنہیں جھاڑتی ۔ سلامہ   ایتھوپیئن  گھریلو ملازمہ بھی ہیلن  کی مدد پر جڑ گئی، روم سروس   والی ملازمہ فانتو  جو بال زمین پر گریں اُن کو جھاڑو سے ایک طرف کرتی  ۔  اِس  پر بوڑھے کو، " داد انے شلغم اُگایا " والی کہانی یاد آگئی ۔
12:30 پر ہم چم چم کو افریقی بریڈ ھیئر سٹائل کے ساتھ لے کر ائر پورٹ پہنچے ۔
چم چم کی ماما  نے جلدی سے اللہ حافظ کہا اورواپس اپنے آفس کی طرف روانہ ہوگئی ۔

سامان کم تھا کیوں کہ سارے بیگ خالی تھے ، جنہیں پاکستان سے بھر کر واپس لانا تھا ، لہذاچم چم ، بڑھیا اور اور بوڑھا ، سامان کو سکینر مشین سے چیک کروا کر ، ٹکٹ کاونٹر پر پہنچے 3 بیگز  کو سیلوفین میں لپٹوایا ، ظالم نے 900 ایتھوپیئن   روپے لئے  ، جبکہ اپنے اسلام آباد  میں  5 بیگ کے صرف 250 روپے(50  ایتھوپیئن روپے ) لگے ۔  تین بیگ یوں کہ:
٭- ایک 35 کلو کے بیگ میں ، 20 کلو کا بیگ اور اُس میں 7 کلو کا بیگ ۔جس میں، بوڑھے کے  اسلام آباد میں پہننے والے کپڑے ۔کل وزن15کلوگرام
٭- دوسرے  
35 کلو کے بیگ میں ، 20 کلو کا بیگ اُس میں تحفے اور لیپ ٹاپ کا بیگ ۔ کل وزن  25 کلو گرام
٭- تیسرا بڑھیا کا 35 کلو کا بیگ ، جس میں بڑھیا کے  اسلام آباد میں پہننے والے کپڑے ، اور تحفے ۔کل وزن 30 کلو گرام ۔
کل وزن -70 کلو ، اجازت  105 کلو گرام
سامان بُک کروایا اور بورڈنگ پاس لے کر ،ایمیگریشن سے گذرتے ہوئے لاونج میں پہنچے چم چم نے شور مچادیا اُسے بھوک لگی ہے کیوں کہ اُس نے ناشتہ نہیں کیاتھا ۔
بڑھیا کو ٹرانزٹ لاونج میں گیٹ کے پاس بٹھا کر بوڑھا اور چم چم ریسٹورانٹ پہنچے جہاں سے سبزی بھرے سموسے ، پانی اورکوک کی دوبو تلیں لیں  اور بیٹھ گئے، بڑھیا نے ایک سموسہ چکھا اُس کے بھی بھوک جاگ گئی ، بوڑھا جاکر اور سموسے لے آیا۔


سموسے  کھانے ، چائے پینے کے بعد اعلان ہوا جہاز میں تشریف لے جانے کے لئے ڈیپارچر گیٹ کے سامنے آجائیں ، تینوں مسافر باقی مسافروں کے ہمراہ  ،جا کر بیٹھ گئے ۔
اور انتظار کرنے لگے ۔ 10 منٹ بعد،  دو کیبن کیری بیگ یعنی ایک چم چم کا ، جس میں اُس نے دُبئی سے چیزیں لینی تھیں اور ایک بوڑھے کا جس میں بڑھیا اور بوڑھے کے دوجوڑے کپڑے   ، بوڑھے کا لیپ ٹاپ  اور شامل تھے ،لے کر ٹنل سے گذرتے ہوئے  جہاز میں داخل ہوئے ،اوراپنی سیٹوں کی جانب بڑھے ۔
فضائی میزبان نے ہمیں 21 نمبرسیٹوں  پر بٹھا دیا ۔
جہاز   13:20 پر اُڑا ، ایک فضائی میزبان نے چم چم کو  ایک کھلونا لا کر دیا ،جس میں قطبِ شمالی  کے  برفانی جانوروں کی کارٹونی تصاویر تھیں   اور ساتھ ہی اُس سے کھانے کا پوچھا اور دوسری  کے ساتھ ایک پولارائیڈ کیمرے والا فوٹو گرافر آیا  اور چم چم ، بوڑھے اور بڑھیا  کی تصویر  کھینچ کر اُسے دی ، تھوڑی دیر بعد اُس      پر   تصویر اُبھر آئی -
  پھر چم چم  کا کھانا آیا ، بوڑھے  اور بڑھیا کو بھی دوسرے  مسافروں  کی طرح  کھانا  پیش ہوا ۔بوڑھے نے، فلم کو وقفے پر ڈالا ،  کانوں پر سے ہیڈ فون اُتار اور کھانا کھا یا اور پھر فلم دیکھنے میں مصروف ہوگیا  ۔
کہا جاتا ہے کہ اگر نیند لانا ہو  تو، ایسی کتاب پڑھو جو آپ کی بوریت میں اضافہ کردے  یہی حال فلم کا ہے۔

یوں بوڑھے کو   نیند آگئی ۔ بڑھیا نے ہلا یا ، " آپ فلم دیکھ رہے ہیں یا سو گئے ہیں"
بوڑھا اپنی فلمی نیند سے بیدار ہوا ، " دُبئی آنے والا ہے "  بڑھیا نے معلومات دیں ۔
" ابھی چالیس منٹ باقی ہیں ؟" بوڑھے نے جواب دیا
" آپ کو کیسے معلوم ؟ آپ تو سو رہے تھے ؟" بڑھیا نے پوچھا ۔

" وہ سامنے دیکھو ، ٹی وی پر  دبئی کا فاصلہ 414 کلو میٹر لکھا ہے اور جہاز کی رفتار 622 کلو میٹر فی گھنٹہ ، یوں سمجھو اسلام آباد کے لئے ابھی ہم لاہور پر ہیں " اور بوڑھا فلم دیکھنے لگا ۔
دبئی کے 20:05 پر جہاز اترا ۔
اب ہمیں رات  03:00 تک انتظار کرنا تھا ، لہذا ائرپورٹ کے ہوٹل کی طرف دوڑے ، گو کہ بڑھیا نے کافی شور مچایا کہ 6 گھنٹوں کے لئے ہوٹل میں ٹہرنے کی کیا ضرورت ، بیٹی نے کہا پھر مرحبا  لاونج میں ٹہر جائیں ، بڑھیا بُدک گئی، رات کو کرسیوں پر بیٹھنے اور جو مرضی کھانے کے لئے  فی بندہ 300 ڈالر دینے کی کیا ضرور ت ، اِس سے بہتر ہے کہ دبئی ائرپورٹ گھوما جائے ؟ بہرحا ل بوڑھے کے کہنے پر بیٹی نے ہوٹل کا ایک کمرہ بُک کروادیا ، جِس میں اگر پسند آیا تو تینوں ٹہریں گے ورنہ ائرپورٹ کی تفریح کریں گے ۔ بوڑھے کو تو رات بھر جاگنے کی عادت ہے اور ویک اینڈ پر چم چم بوڑھے کے ساتھ جاگتی ہے ۔ بڑھیا  کا  یوپی ایس مغرب کے بعد چارجنگ ختم ہونے کا شور مچانے لگتا ہے  ۔ جہاز سے لے کر ہوٹل پہنچنے تک یہی ہوا ۔
دُبئی ہوٹل پہنچے ، بکنگ کا پوچھا ، موجود تھی ، بڑھیا نے کہا پہلے کمرہ دیکھوں گی ، بکنگ بوائے جو نہایت خوش گُفتار کیرالا کا رہنے والا انڈین تھا ، اُس نے اشارہ کرکے  بتایا،  وہ جو دوسرا کمرہ ہے وہ آپ کو دوں گا ، بوڑھے نے کہا " ڈن" اور اپنا اے ٹی ایم کارڈ دے کر بکنگ کنفرم کروائی اور پلاسٹک کارڈ لے کر تینوں  کمرے کی طرف گئے ۔

  بڑھیا نے اعلان کیا وہ کہیں نہیں جارہی، کھانا کھانے بھی نہیں اور  اب سوئے گی ۔ڈسٹرب نہ کرنا  !!!!


  ہوٹل کا ریسٹورینٹ نہیں تھا ، چنانچہ چم چم اوربوڑھا کمرہ لاک کرکے ، ائرپورٹ والک پر نکل گئے ، چم چم نے کھانا لیا ، بوڑھے نے کھانا لیا ، چم چم نے اپنی دادی ، دادا ، بابا ، پھپھو ، تائی ، چچا اور چھوٹے کزن کے لئے  کھجوریں اور کھلونا لیا ، پھپھو اور تائی  کے لئے بیگ اُس نے ایتھوپیا سے خریدا تھا ۔  لے کر واپس ہوٹل میں آئے ۔ بوڑھے نے بڑے آرام سے تالا کھولا ، لیکن بڑھیا اُٹھ گئی۔ "کون ہے ؟"سوال ہوا۔
" نانو میں اور آوا " چم چم نے جواب دیا اور سو گئی ۔
چم چماور میں نے کھانا کھولا ، کمرے میں خوشبو پھیل گئی ،
" میں نے بھی چکھنا ہے " بڑھیا کی غنودگی میں آواز آئی ۔
"عالی ،نانو سوتے میں بول رہی ہے "بوڑھے نے کہا ۔

" میں جاگ گئی ہوں" بڑھیا نے کہا۔
تینوں نے کھانا کھایا  ، بوڑھے نے اپنی ، بڑھیا کے موبائل میں آلارم لگایا اور تینوں سو گئے ۔ 02:15  پر الارم بجا ، بوڑھے کی آنکھ کھلی ، بڑھیا کی آنکھ کھلی اور چم چم کی آنکھ کھلوانا پڑی ۔
3:00 بجے ہم  
ٹرانزٹ لاونج میں پاکستانیوں کے ہجو م میں بیٹھے تھے ۔ جہاز میں بیٹھنے کا اعلان ہوا ، اور گیٹ کے پاس ہجوم ہو گیا ۔سب کو جلدی تھی شائد جہاز اُنہیں لئے بغیر  نہ اُ ڑجائے  یا وہ پہلے پہنچ کر اچھی سیٹوں پر قبضہ کرلیں ۔  اعلان کے باوجود وہ  رش کم کرنے کے روادار  نہ تھے ، ھجوم میں پہلےA گروپ کا نام پکارا ، مینیجمنٹ ٹکٹ  دیکھتی اورB گروپ  والے بمشکل سامان گھسیٹ  کر رَش میں جہاز کے اندر جانے کے لئے بڑھتے ، یوں E,D,C    ہماری باری کافی دیر  بعد آئی اور ہم  F- 12 جابیٹھے۔


 بڑھیا نے کھڑکی والی سیٹ پر قبضہ کر لیا ۔ تاکہ 12 دسمبر کی صبح   سورج  نکلتا دیکھے ۔ 
سامان رکھنے کی باری آئی ، بوڑھے نے اپنی نشت کے اوپر سامان رکھنے کی کوشش کی تو فضائی  چینی میزبان نے کہا،" یہاں نہ رکھو " اور  بتایا کہ وہاں رکھو ۔غالبا سیٹ 18 کے اوپر والے  خانے میں ۔
" کیوں ؟" بوڑھے نے پوچھا ۔

چینی میزبان بولی ۔" اِس خاتون کا سامان رکھنا ہے "
" یہ کہاں بیٹھی ہے " بوڑھے نے پوچھا ۔
تو پچھلے سیکشن کی طرف اشارہ کیا اور بولی " وہاں"   شاید سیٹ 18Dپر ۔
آہ بٹ اور کندھے کا ملاپ یہاں بھی چل رہا تھا ، کیوں کہ سامان والی خاتون بھی چینی تھی ۔

بوڑھے نے کہا، " بے بی ، یہ میری سیٹ ہے اور یہاں سامان رکھنے کا حق میرا ہے "
فضائی میزبان کا چہرے پر سرخی آگئی  اور وہ بغیر کچھ کہے پیچھے ہٹ گئی ، بوڑھے نے اپنا اور چم چم کا سامان رکھ دیا ، بمع اپنے لیپ ٹاپ بیگ اور بُڑھیا کے بیگ ۔
اِس سے پہلے کے جہاز اُڑے ،بوڑھے نے ہیڈ فون کانوں پر لگایا اور فلمی نیند میں چلا گیا ۔ جہاز اُڑ چکا تھا ۔بوڑھا ابھی کچی نیند میں تھا کہ زور کا دھکا لگا ، بوڑھا ہڑبڑا کر اُٹھا، تو چینی میزبان  پریشانی کے عالم میں سوری سوری کہہ رہی تھی ،
بوڑھا بولا ،" بے بی  کوئی بات نہیں " فضائی میزبان سوری  ویر سوری کہتی چلی گئی ۔ جب کھانا لائی تو کھانے کا پوچھا ، بوڑھے نے  سبزی کا بتایا  ، بڑھیا نے چکن کا اور چم چم بولی ،" میرے لئے بچوں کا کھانا مت لانا ، میں بچی نہیں " چینی میزبان کھانا لائی  بوڑھے نے پوچھا ،

" اچھی لڑکی کیا تم نے سامان نہ رکھنے دینے کا انتقام لیا تھا ؟"
اُس کا منہ کھل گیا ،بولی " نو سر ! یقیناً نہیں ، یہ ایک اتفاقاً حادثہ تھا ، میں دوبارہ سوری کرتی ہوں"
" کیوں بے چاری کو تنگ کررہے ہیں ؟" بڑھیا بولی ۔
وہ کھانا رکھنے کے لئے جھکی تو بوڑھے نے اُس کے سر پرہاتھ رکھ کر کہا،" بے بی میں مذاق کر رہا تھا ۔ آپ ایک اچھی میزبان ہو " ،اُس چینی گڑیا کا رنگ پھر سُرخ تو نہیں البتہ گلابی ہوگیا ۔
بوڑھا کھانا کھا کر پھر فلمی نیند میں چلا گیا ۔ 

8:15 پر برو ز ہفتہ  13 دسمبر کو جہاز   اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر رُکا  تو سب مسافر اپنا اپنا سامان ، اُٹھا کر باہر نکلے ، وہ چینی گڑیا بزنس کلاس کے گیٹ پر کھڑی تھی۔
" گڈ بائے سر "
گڈ بائے بے بی "
" سر میں آپ کو نہیں بھول سکوں گی " وہ بولی
"اور میں بھی آپ کو ایک اچھی میزبان کے طور پر یاد رکھوں گا ۔ گڈ بائے "بوڑھا یہ کہہ کر بڑھیا کے پیچھے چل پڑا ۔

ٹنل کے باہر گالف کارٹ کھڑی تھی اُس پر بیٹھے اور ڈی بارکیشن پوائینٹ پر جااُترے ، اب بڑھیا کا پاسپورٹ نہ ملے ۔
" آپ دیکھیں میں نے آپ کو دیا تھا " بڑھیا جھنجھلاتی ہوئی بولی ۔
" میں نے  فارم بھر کر آپ اور عالی کا فارم بیچ  میں رکھ کر دیا تھا ،اپنی  زنبیل دیکھو !" بوڑھا بولا
خیر کھنگالنے کے بعد پاسپورٹ زنبیل سے ہی نکلا ، مہریں لگوا کر باہر نکلے  ، بوڑھے نے چم چم اور بڑھیا کو کہا ،

 " آپ دونوں باہر جاؤ ، میں سامان لے کر آتا ہوں "
 دونو ں باہر کی طرف چلدیں جہاں  پورا خاندان  انتظار کر رہا تھا ۔

٭٭٭٭واپس ٭٭٭

منگل، 7 جنوری، 2020

ایتھوپیا-فرشتوں کے بنائے ہوئے گرجا گھر

 اگر ایمان ایک معمہ ہے ، تو عیسائی دنیا میں ایسی بہت کم جگہیں ہیں،  جہاں اسراریت  لالی بیلا سے کہیں زیادہ گہری ہے۔


 800 سال پہلے ، ایک ایتھوپیا کے بادشاہ نے عیسائیوں کے لئے ایک نئے دارالحکومت کا حکم دیا تھا۔ 8،000 فٹ   سطح سمندر  سے بلندی پر ، ایتھوپیا کی مرکزی سطح مرتفع پر 11 گرجا گھر کھڑے ہیں -ہرگرجا  بہت بڑی چٹان کو کاٹ کر بنایا گیا ہے، جس میں کوئی اینٹ، گارا ، کوئی ٹھوس شئے یا لکڑی کو وجود نہیں ، صرف چٹان کو تراش کر عمارت بنائی گئی ہے ۔
انہیں کس نے بنایا ؟
کس لئے بنایا ؟
اِس کے بارے میں بہت کم تاریخی  مواد ملتا ہے  ۔ لیکن ایتھوپیا کے آرتھوڈوکس چرچ کے وفادار کہتے ہیں ،
"اِس میں کوئی راز کی بات نہیں خدائے ربّانی کے حکم پر اِن عبادت گاہوں کو  فرشتوں نے بنایا ہے "۔



 ایتھوپیا کے شمالی پہاڑی علاقے 31 ملین سال پہلے اس وقت وجود میں آئے ،  آتش فشاں پہاڑوں کے وجہ سے ایک میل گہری لاوے کی  سیلابی تہہ بن گئی ۔
  لاوے(Basaltic magma )  میں شامل لوہے  اور میگنیشئم کے یک لخت ٹھنڈا ہونے سے اِن میں موجود  گرم گیسیں وہیں مقید ہو گئیں ، گیسوں کے حجم نے اِنہیں مسام دار  یا اِن کے اندر بڑے بڑے خلا بنادیئے۔یوں آتش فشانی چٹانیں (Igneous Rocks)وجود میں آئیں ۔وقت کے ساتھ پانی نے اِن چٹانوں کو جدا کر دیا  ، تو استعاراتی چٹانیں (Metamorphic rocks )وجود میں آئیں اور سورج نے چٹانوں کی شکست و ریخت کا عمل صدیوں جاری رکھا - بارشوں نے  چٹانوں کے شکستہ اجزاء کو بہانا شروع کیا اور سیلابوں نے اِن کی نشیبی علاقوں میں تہیں جمانی شروع کیں ،اِن تہوں کے بوجھ اور زمین کی گرمی نے اِنہیں ٹھوس کرنا شروع کیا یوں تہہ دار چٹانیں(Sedimentary rocks) وجود میں آئیں۔
  کئی عمودی چٹانی میناروں کی طرح اب بھی افریقی زمین کے سینے میں  ایستادہ ہیں ۔جو سیاحوں کے لئے باعثِ کشش ہیں ۔ 
کہا جاتاہے کہ ایتھوپیئن بادشاہ      لالی بیلا (Gebre Mesqel Lalibela) جس  کی حکومت (1181 تا  1221) رہی ۔ اُس نے یروشلم کا  مذہبی  عبادت(pilgrim)  کاسفرکیا اور وہاں مسلمانوں کے قبضے کی وجہ سے اُس نے ایتھوپیا کے   زاگوے قوم(Zagwe dynasty) کے آرتھوڈاکس عیسائیوں  کے لئے     ، مذہبی عبادت کی جگہ کا انتخاب کیا ۔
بادشاہ     لالی بیلاکا ہدف ان لوگوں کے لئے ایک نیا یروشلم بنانا تھا جو مقدس سرزمین کی زیارت نہیں کرسکتے تھے اور صندوقِ عہد  ( Ark of the Covenant) کے ساتھ طاقتور اکسوم  ریاست کے مقابل ، عیسائیوں کا  ایک مقدس شہر بنانا تھا ۔ 
 کچھ اطلاعات کے مطابق ، وہ خود ہی سرزمین مقدس گیا تھا اور جو کچھ اس نے دیکھا اس سے متاثر ہوا۔ لیکن بادشاہ نے یروشلم   کی نقل پر گرجا گھر نہیں بنائے ،   
    لالی بیلا کا مقدس فن تعمیر اس  لئے انوکھا تھا کہ اُس نے  ، ہتھوڑے کا استعمال کرکے چھینی سے پتھروں کو کاٹ کر گرجا گھر تراشے ۔ 

٭-  فاصل جورجیس (Fasil Giorghis) ۔ ایک نہایت انوکھی تعمیر  افریقی یروشلم کے عجائبات میں سے ایک  ،اونچی لاوے سے بنی چٹان کو گہرائی میں کاٹ اور تراش کر ایک اعلیٰ منصوبہ جس نے لالی بیلا کے اقتدار کی بنیاد کو مضبوط کیا ۔یہاں تین گرجا ہیں جنھیں آپس میں سرنگ سے ملایا گیا ہے یا چٹان کے درمیان راستے کو استعمال کیا گیا ہے ۔ 


  چرچ کے اندر گھومنے والے  بڑی حد تک اندھیرے میں   گھومتے ہیں ، فنکاروں نے بہت سے کمرے بنائے،  جن میں خامی کی گنجائش نہیں تھی۔ راہداریاں  ،تہہ خانے اور ستون  روایتی تعمیر   کےمطابق  ہیں ،حالانکہ ٹھوس چٹان میں چھت کو تھامنے کے لئے ستونوں کی  ضرورت نہیں ہے۔ حقیقت میں  اسرار یہی ہے کہ  جب عمارت  بنانے کی آسان تکنیک معلوم تھی تو شاہ،  لالی بیلا  نے بظاہر ناممکن کو کیوں آزمایا؟

 11 گرجا گھروں کا علاقہ  62 ایکڑ پر محیط ہے۔جو شاہ لالی بیلا نامی ندی  کے درمیان منقسم ہے۔ لالی بیلا  گرجا گھروں کی چھتیں زمین کے   برابر ہیں اور گرجا گھر میں جانے کے لئے  تنگ خندقوں میں اترتے  نیچے سیڑھیوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ گرجا گھروں کو سرنگوں اور راہداروں کے ذریعہ منسلک کیا گیا ہے اورگہری کھائیوں کے گرد پھیلا ہوا ہے۔ گرجا گھروں کے داخلی ستون   دعائیں مانگنے والے زائرین  کے ہاتھوں    گھس گھس کر ہموار ہوچکے ہیں ۔
 سب سے بڑا چرچ تقریبا   8   ہزار مربع فٹ پر محیط ہے ، ہر ایک کی چار منزلہ اونچائی  ہے۔ لیکن ان کی انتہائی حیرت انگیزلمبائی  کی پیمائش نہیں کی جاسکتی ہے۔ یہ وہ لمبائی ہے جس وہ محبت کا بلاوہ کہتے ہیں ۔
  اسے  ایک مقدس جگہ سمجھا جاتا ہے اور یہاں ایک عقیدت مند عیسائی کی حیثیت سے آنا ان کے  مضبوط عقیدے کی  علامت ہے۔ کچھ لوگ پیدل چلنے کے لئے سیکڑوں کلومیٹر سفر کرتے ہیں  اور کئی صدیوں سے محبت کے بلاوے کا یہ سفر ہو رہا ہے ۔


 چٹانوں سے کاٹ کر بنائے  ہوئے گرجا گھروں کی  سادہ  مگر خوبصورت نقش و نگار سے مزین نظر آنے والی کھڑکیاں ، مختلف شکلیں اور سائز کے صلیب ، سواستیکا (ایک مشرقی مذہبی نقش) اور یہاں تک کہ خصوصی اسلامی نشان بھی موجود  ہیں۔ کئی گرجا گھروں میں وال پینٹنگز بھی ہیں۔

 ہر چرچ کا اپنا رہائشی راہب ہوتا ہے جو دروازے پر رنگین بروکیڈ لباس میں نظر آتا ہے۔ جو چرچ  کی بڑی سے صلیب کو لئے دروازے پر کھڑا ہوتا ہے یہ صلیب  جو عموما   چاندی سے بنی ہوتی ہیں ، جب راہب کی صلیب کے ساتھ تصویریں بنائی جاتی ہیں تو راہب بہت خوش ہوتا ہے۔
لالی بیلا ،  میں چٹانوں میں تراشے گئے  11  گرجا گھر ہیں ، جن میں سب سے زیادہ حیرت انگیز  بیٹ جیورجس (سینٹ جارج) ہے۔ گرجا گھروں کے جھرمٹ کے مغربی جانب واقع ہے ، اس کو 40 فٹ نیچے کاٹا گیا ہے اور اس کی چھت یونانی صلیب کی شکل کی شکل اختیار کرتی ہے۔ یہ لالی بیلا کی موت کے بعد (c.1220) اس کی بیوہ نےسینٹ  بادشاہ کی یادگار کے طور پر تعمیر کیا تھا۔ یہ  جیومیٹری کے بہترین ڈیزائین کے مطابق نئے یروشلم کی تعمیر کے لالی بیلا کے منصوبوں کا ایک شاندار نمونہ ہے۔

دیگر گرجا گھروں کے برعکس ، سینٹ جارج کا اندر کا رخ صاف ہے۔ ایک پردہ ہولی آف ہولیز کو ڈھانپتا، جس کے  سامنے عام طور پر ایک پجاری کھڑا ہوتا ہے جو زائرین کو کتابیں اور پینٹنگز دکھاتا ہے۔ مصلوبِ چرچ کے ایک بازو کے سائے میں اس کاتابوت یا  صندوقِ عہد (Ark of the Covenant)کی  نقل موجود ہے ۔ ایک کھوجی کو اسے کھولنے کی اجازت دی گئی اور اُس نے اِس تابوت کو خالی پایا گیا۔ کسی کو  بھی نہیں معلوم کہ تابوت کے اندر رکھی ہوئی اشیاء کہاں گئیں۔
  سینٹ جارج سے مرکزی سڑک کے اس پار "شمالی گروپ" میں ، سب سے زیادہ قابل ذکر چرچ بیتا مڈھین ایلم (Beta Medhane Alem)ہے ، جو لالی بیلا کراس کا گھر ہے۔


 اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ دنیا کا سب سے بڑا ایک چٹان سےتراشا ہوا چرچ  ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا تعلق  سینٹ میری آف زوائن۔اکسوم  کی کاپی ہے۔

بیتا مڈھین ایلم (Beta Medhane Alem) راہداریوں  اور سرنگوں کے ذریعہ بیتا مریم (سینٹ میری) سے منسلک ہے ، یہ  سب سے قدیم گرجا  ہے۔ چرچ کی مشرقی دیوار میں ایک عمودی لکیر میں جیومیٹرک کھدی ہوئے ستونوں کی  عمودی لائن میں ایک قطار ہے۔ جو اکسوم کے ستونوں کی طرح ہے ۔
 بیتا مریم کے بعد بیتا گولگوتھا (Beta Golgotha)ہے ، جو اپنے فن پارے کے لئے مشہور ہے جس میں دیواروں پر سینٹ کی بڑے    سائز کی نقاشی بھی شامل ہے۔ یہاں  بادشاہ لالی بیلا کا مقبرہ بھی ہے ، جس کے اوپر سونے   چڑھا ہوا صندوقِ عہد رکھا ہوا ہے ۔ مغربی گروپ  کو سلاسی کے چھوٹے گرجا اور آدم کے مقبرے  مکمل کیا ہے۔


٭٭٭٭واپس ٭٭٭

7 جنوری کی ڈائری- ایتھوپیا - جنید خان کی پارٹی


آج گو کہ منگل  ہے لیکن ایتھوپئین  کے کرسمس  کا دن ہے  - جنید خان کی بیگم عائشہ  اور بچے  سردیوں کی چھٹیوں میں چارسدہ سے پاکستان آئے ، اپنی بیگم اور بچوں کو سب سے تعارف کروانے کے لئے   گرینڈ کوبی ٹرکش ریستوران میں جنید خان نے  پاکستانی  فیملیز کو مدعو کیا ، ٹرکش کھانے سے زیادہ بوڑھے ، بڑھیا ، چم چم اور اُس کی ماما کو       فیملیز سے ملنے کا بہت مزہ آیا
 جنید کے بڑی بیٹی بخت آور  چم چم کی دوست ہے- دوسرے نمبر پر زین  اور چھوٹا بیٹا  سب کو پیارا ہے -
 آصف کے نہ آنے کا افسوس ہوا  کیوں کہ وہ  اپنے بزنس ٹور پر نکلا ہوا تھا ۔ لیکن مسز عنبر آصف اور ایان ،رافع ، اذان اور  شانزے - 

عارف ، افشیں عارف ، ثاقب ، امین اور خضریٰ چم چم کی کلاس فیلو-

جنید نے اپنے انڈین مسلم دوست مسعود خان کو بھی مدعو کیا تھا -


چم چم ، بڑھیا اور بوڑھے نے پاکستان اور دبئی سے لائے ہوئے تحفے مرد و زن و طفلاں  کو محبت بھری مسکراہٹ کے ساتھ پیش کئے ۔
  ٭٭٭٭واپس ٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔