Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 12 ستمبر، 2020

شگفتگو-سوشل میڈیا کی پرلطف سطحی پوسٹیں- ڈاکٹر عزیز فیصل

انسان طبعاً آزاد پیدا ہوا ہے لیکن ڈیجیٹل انسان سمجھتا ہے کہ وہ "کچھ زیادہ" ہی آزاد پیدا ہوا ہے۔ گوکہ ریاضی میں کل دس ڈیجٹ ہوتے ہیں لیکن ڈیجیٹل نسل نو نے آزادی کے نام پر کئی اضافی ڈیجٹ بھی بنا رکھے ہیں جنھیں وہ عشق کی ریاضیاتی تشریح کے دوران استعمال کرتی ہے۔ یہ  "مابعد دس" ڈیجٹ بالکل اسی طرح کے ہیں جیسے کوئی جعلی نوٹ چھاپ رہا ہو یا جیسے حکومت  فالتو نوٹ چھاپ  رہی ہو۔  سوشل میڈیا وہ لاوڈ سپیکر ہے جہاں آپ دوسرے لوگوں کو مولوی سے بھی زیادہ تنگ کر سکتے ہیں۔اس چھیڑ خوانی میں یہ سہولت بھی موجود ہے کہ  کوئی آپ کا بال بیکا بھی نہیں کرسکتا چاہے آ  پ بالکل ہی  گنجے نہ ہوں۔ بڑی عمر کےآزاد خیال لوگوں کی سوچ کا سی ٹی سکین کیا جائے تو اس میں ان سیٹیوں کا عکس بھی نظر آتا ہے جنھیں وہ گلی کوچوں میں بجا بجا کر بوڑھے ہوئے ہیں۔
سوشل میڈیا کے کئی رنگ ہیں جو گرگٹ سے بھی زیادہ تیزی سے بدلتے رہتے ہیں۔ مردوں نے "قبول ہے" تین بار کہہ کر اس دوشیزہ کو منہ بولی بیوی بنایا ہوا ہے  جبکہ خواتین نے   اسے "غیرراز دار ترین "سہیلی کا سٹیٹس دے رکھا ہے۔ساشل میڈیا پر شئیر کی جانے والی سطحی پوسٹوں کی نوعیت درج ذیل ہو سکتی ہے:بھڑاس نکالنی ہو، علمیت جھاڑنی ہو، جہالت کی سیلفی لگانی ہو،  اپنے ذاتی دکھ سکھ  کی وڈیوشئیر کرنا ہو، پگڑی یا ساڑھی اچھالنی ہو،  خیالات بالجبر تھوپنے ہوں، شادی، منگنی، طلاق کا بیانیہ جاری کرنا ہو، کسی خاس برے واقعے  کا اپنے علاوہ سب کو ذمہ دار قرار دینا ہو،   دوسرے کی آنکھ کا تنکا  صراحت سےدکھانا ہو، اپنی آنکھ کا شہتیر چالاکی سے چھپانا ہو، کسی کے مرنے کی اطلاع اس کے ساتھ کھنچوائی گئی تصویر کی مدد سے دینی ہو،  میک اپ سے لے کر خضاب تک کی رونمائی کرنی ہو،  جوانی کا کلپ نشر کرنا ہو ،   مبارکباد دینے کی خارش  پر گڈ مارننگ،جمعہ مبارک، ہیپی رینی ڈے  وغیرہ کا سہارا لینا ہو،  خااندان کے کسی  دور پار کےبڑے چھوٹے عزیز رشتہ دارکی افسوس ناک موت کی اطلاع دینی ہو،  وغیرہ وغیرہ۔
اگر فیس  بک کو چھوڑنے والے خواتین و حضرات کی بات کی جائے تو صاف لگتا ہے کہ یہ محصوص افراد اپنے کسی نفسیاتی عیب یا سچ مچ کے عیب  کی وجہ سے خود کو فیس بک پر اتنے ہی کھٹکنے لگتے ہیں جتنا کوئی اکیلا مرد  خود کو  خواتین کی شعری نشست کی صدارت کرتے ہوئے کھٹکتا ہے۔   فیس بک چھوڑنے میں مردوں کے زنانہ مسائل اور عورتوں کے مردانہ مسائل کا ہاتھ ہوتا ہے بلکہ بسااوقات تو فریق مخالف کا دل اور آنکھ بھی ملوث ہوتے ہیں۔سب سے دلچسپ وہ ٹیکسٹ ہے جس میں فیس بک چھوڑنے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ ایسے ہی کسی دل جلے یا دل جلی نے فیس بک چھوڑنے کا اعلان کچھ یوں کیا۔۔۔"دوستو اللہ حافظ، فیس بک نے مجھے بہت دکھ دیے  ہیں۔ مزید یہاں رہنا ممکن نہیں رہا۔ آپ دوستوں کو چھوڑ کر بہت افسوس ہو رہا ہے لیکن کیا کروں مجھے  ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہاں سے جانا پڑا ہے۔ میرا وٹس ایپ نمبر چوبیس گھنٹے آن رہے گا۔کوئی ایمر جیسی ہو تو فورا مجھ سے رابطہ کرنا، میرے دروازے ہمیشہ آپ کے لئے کھلے ہیں۔" یہ لوگ فیس بک سے اپنی غیرموجودگی کو سب کے لئے اتنا اندوہناک تصور کرتے ہیں جیسے ان کے بغیر  کسی کی گزران کی گاڑی کا ٹائی راڈ ٹوٹ جائے گا،   کسی کے دل کے ہیلی کاپٹر  کے پر جل جائیں گے یا کسی کی زندگی کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کو "نائن الیون" ہو جائے گا۔ سب فیس بکی "نسوڑے"   نہایت خشوع و خضوع سےدفع دور ہونے کی اجازت طلب کرتے ہیں۔ انھیں کوئی کہنے والا نہیں ،جو یہ پوچھے کہ جب فیس بک پر آنے کی ہم سے اجازت نہیں مانگی تھی تو یہ جانے کی اجازت کا تکلف کیسا؟  ایسی پوسٹوں پر اکثر کمنٹس ایسے بھی آتے ہین جن کا سادہ اور سلیس ترجمہ "خس کم جہاں پاک" کے قریب قریب ہوتا ہے۔ دوچار کمنٹس ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں موسوف یا موصوفہ کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اگر تم فیس بک سے رخصت ہوئے تو سارا نظام فیس بک رک جائے گا اور اس کی رونق  کی آستینوں میں شیش ناگ گھومنے لگیں گے۔ اگر فیس بک چھوڑنے والا مرد ہوتو  اس کا نوٹس نسبتا کم لوگ لیتے ہیں لیکن اگر فیس بک چھوڑنے والی حسینہ  بے ضرر اکھ مٹکے کی حوصلہ افزائی کرنے والی بھی ہو تو اسے فیس بک چھوڑنے  کا مشورہ نہ دینے والوں کا تانتا بندھ جاتا ہے۔  اب کمنٹس میں ایک بحث چھڑ جاتی ہے کہ اس "مائنس ون" کا پس ماندگان پر طبی اور کیمیائی اثر کیا ہو گا۔کچھ نرم دل لوگ تو  اس جدائی کے بعد  خود کو ایسا اجڑا اجڑا بیان کرتے ہیں کہ اُتنا تو رانجھا بھی ہیر کی جدائی میں برباد نہیں ہوا ہوگا۔  اس سارے ڈرامے کا ڈراپ سین بہت ہی دلچسپ اور مزیدار ہوتا ہے جب فیس بک چھوڑنے والا بندہ دوبارہ فیس بک پر ہی دندنانے کا اعلان کرتا ہے۔ آج تک کوئی ایسا مائی کا لال یا کوئی مائی ایسے نہیں دیکھے جو اعلان کرنے کے بعد واقعی فیس بک سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چلے گئے ہوں۔ یہ گیم یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ فیس بک پر دوبارہ واپسی   کے بعد ایسے  افراد کی پھرتیاں پہلے سے بھی زیادہ بڑھ جاتی ہیں اور وہ تازہ "مینڈیٹ" کے بعد زیادہ کھل کر کھیلنے لگ جاتے ہیں۔ ایسے افراد اپنے الفاظ کا "پاس" رکھنے میں مکمل طور پر "فیل" ہوتے ہیں۔

٭٭٭٭٭واپس٭٭٭٭٭

شگفتگو- رشتہ دار

شگفتگو- کی 25 ویں ماہانہ محفل مناثرہ

کرونا کی وبا کے شروع ہونے کے بعد ، انیسویں ، بزمِ شگفتہ گوئی ، نے ارشد مرشد صاحب کے ہاں قہقہے بکھیرے ، اُس کے بعد تمام شگفتہ گو اپنے اپنے گھروں میں مقید ہو گئے ۔
جوں جوں بیسویں بزمِ شگفتہ گوئی کی محفل تقریب کی تاریخ قریب آرہی تھی ، شگفتگویاؤں میں بے چینی بھی ڑھتی جارہی تھی ۔
کافی سوچ و بچار کے بعد طے پایا کہ اپنے اپنے مضامین وٹس ایپ کے ذریعے ، ایک دوسرے کو پڑھائے جائیں اور داد بصورت کمنٹس وصول کی جائے -

یوں 20 ویں ، 21 ویں ، 22 ویں اور 23 ویں محفل وٹس ایپ کی زینت بنی ، راقم بمع بڑھیا اور چم چم 13 جولائی کو بذریعہ خلائی سفر اسلام آباد پہنچا، 15 جولائی کا ڈاکٹر عزیز فیصل مرزا کو فون آیا ۔ کہ کیوں نہ 24 ویں محفل حاضرہ و ناظرہ برپا کی جائے ۔ 
مہاجر زاہ ، پی سی میں پہلے 4 دن خود ساختہ قرنطینہ میں تھا، آصف اکبر صاحب چھور میں لالہ ءِ صحرائی بنے ہوئے تھے ۔ قرنطینہ کی مدت بڑھنے کا بھی خدشہ تھا- 
لہذا ڈاکٹر صاحب کو انتظار فرمائیے کا مژدہ سنایا ۔
اور مہاجرزادہ ، مہاجر بنا ہوا تھا سوچا کہ 24 ویں محفل اپنے ہاں برپا کرائی جائے ۔ 14 دن بعد بیٹے کے گھر شفٹ ہوا ۔ جہاں بیٹی اور بہو کے حکم کے مطابق مزید  ہفتہ گذارنے تھے ، کیوں کہ بوڑھا استھیما کی وجہ سے ، ساون کے اندھے کی بجائے ، سخت قسم کی کھانسی میں مبتلاء ہو چکا تھا - انہیلر، دوائیاں اور نیبولائزر کا استعمال بڑھ چکا تھا ، لہذا چوبیسویں شگفتہ گوئی کی بزم بھی وٹس ایپ پر برپا کی گئی۔  
25 ویں نشت نہایت اہم تھی ، کیوں کہ دوسری سالگرہ ہونے جا رہی تھی ، لہذا آصف اکبر صاحب نے ہمت پکڑی اور اپنے گھر میں ، شگفتہ گوئی کی بزم منعقد کر ڈالی ۔ 
یوں 7 ستمبر کی شب رات 10:23 پر ڈاکٹر عزیز فیصل صاحب کا پیغام آیا ،
" بارہ ستمبر 2020 بروز ہفتہ شام چار بجے ، انشا اللہ کرونا کے اختتام پر پہلی بالمشافہ نشست ہوگی۔ جناب آصف اکبر صاحب نے میزبانی کے لیے اپنے گھر  کی آفر کی جو شکریہ کے ساتھ قبول کر لی گئی
احباب اپنی آمد سے مطلع فرمائیں۔"

شاذیہ مُفتی صاحبہ نے 11:16 پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے  لکھا ۔
 ہمیں ویڈیو کال پر سن لیجےء گا
 انشاء اللہ نومبر کے آخری ہفتہ میں اسلام آباد اونگی پھر سب احباب سے ملاقات ہوگی-
 عاطف مرزا نے پھلجڑی چھوڑی ،
 سائنسی ایجادات کے اس دور میں ویڈیو کانفرنس نامی پونی ملاقات طے ہو سکتی ہے، ماہرِ کمپیوٹریات جناب آصف اکبر سے آئندہ ملاقات میں اس طریقہء ملاقات پر رہ نمائی لی جائے گی، تاکہ ایک دوسرے کے 9ضرب4 کے چوکھٹوں کی زیارت بھی نصیب ہو،
 ڈاکٹرعزیز فیصل نے منادی کروائی ۔
تقریباً پانچ ماہ بعد آن لائن نشست کی بجائے آف لائن یا نارمل مناثرہ نشست برپا ہونے جا رہی ہے۔ شہر سے باہر کے تمام احباب ہمیں آن لائن جائن کریں گے۔ ڈاکٹر شاہد اشرف، ڈاکٹر کلیم، شازیہ مفتی اور عابد علی عابد سے التماس ہے کہ اپنے نثر پارے تیار رکھیں اور وٹس ایپ یا کسی اور آن لائن رابطے کے ذریعے نشست میں حصہ لیجیے۔

یوں 12 ستمبر کو عسکری-14 سے گاڑی دوڑاتا مہاجرزادہ ٹھیک 4:00 آصف صاحب کے گھر پہنچا ، جہاں سے  3:47 پر ایک نقشہ اور اعلانِ فتح مندی ، عاطف مرزا وٹس ایپ پر چھاپ چکے تھے- اب نقار خانے میں طوطی کی بھلا کوئی سنتا ہے ؟  
السلام عليكم معزز شگفتگین
میں اس وقت آصف اکبر صاحب کے درِ دولت کے باہر پہنچ چکا ہوں-
سر خالد، سر ارشد مرشد، سر ارشد محمود، ڈاکٹر فیصل، فردوس عالم صاحبان
حبیبہ، ڈاکٹر فاخرہ آپ لوگ کب پہنچ رہے ہیں؟


 جس کا جواب 4:11 پر ڈاکٹر فیصل مرزا نے سطحی طور پر ، سوشل میڈیا  کی پرلطف سطحی پوسٹیں " لگا کر دیا ۔
 جبکہ عاطف مرزا سٹینڈ پر کیمرہ لگا کر ، محفل کا آن لائن حشر و نشر کرنے کی تیاری کر چکے تھے :
 ڈاکٹر عزیز فیصل نے ہمیشہ کی طرح تلاوت سے محفل کا آغاز کیا اب چونکہ کیمرے بلکہ موبائل کی آنکھ کی زد میں تھے -
لہذا اپنے موبائل سے ، اپنی حد سے زیادہ مزاحیہ تحریر

، سوشل میڈیا  کی پرلطف سطحی پوسٹیں " سنانا شروع کردیا ۔


 عزیز فیصل ڈاکٹر-     وڈیو لنک :

 اور یوں قہقہوں کی محفل سج گئے۔ جِس نے کرونا کے بے ثباتیاں بھلا دیں ۔ اب چونکہ یہ سب لائیو ٹیلی کاسٹ ہو رہا تھا ۔ مہاجر زادہ نے گھر آکر سنا، تو اندر کا ایڈیٹر اور پروڈیوسر بیدار ہو گیا ۔ کانٹ چھانٹ کر صوت کو بڑھا کر بغیر سازیوں کے اِس یو ٹیوب کے حوالے کر دیا ،
یوں ۔ 6 وڈیوز کےساتھ مہاجرزادہ کی یو ٹیوب پلے لسٹ میں شگفتگو کا اضافہ ہو ا۔ 

 عاطف مرزا نے موبائل کا رُخ اپنی طرف گھما کر ، اپنے مختصریئے المعروف  نثریئے سنانا شروع کر دیئے ۔ 
 
کہا جاتا ہے ، کہ قائد اعظم اور اردو صرف اتنی آتی تھی ، جتنی مہاجر زادہ اور امھارک (ایتھوپیئن زُبان) ۔ اُن کے ایک تقریر میں بولے جانے والے لفظ کام ، کام اور کام کو عاطف مرزا نے پاکستانی غلط فہمی کے تناظر میں پیش کیا -
Calm, Calm aur Calm
  عاطف مرزا- شگفتگو- وڈیو لنک

بڑے بڑے قدآور شگفتہ گویوں کے درمیان مہاجرزادہ طفلِ مکتب ہے ، جو خود کے ساتھ ہونے والی  گفتگو یا واقعہ کو اپنی انداز میں بیان کرتا ہے ، جس میں نمک بھر مزاح بھی ڈل جاتا ہے ۔ دوست قہقہے کم اور دل رکھنے کو مسکرا دیتے ہیں سوائے آصف اکبر صاحب کے ، چنانچہ چم چم (نواسی) سے ہونے والی عدیس ابابا میں گفتگو کو مہاجر زادہ نے بیان کیا ۔
https://www.youtube.com/watch?v=OIXayQL0OCM&list=PLzcKFFkG4lWMunvQ3Y0egUKZRB24D9cD4&index=2

خالد مہاجر زادہ- شگفتگو- خرّاٹے اور غرّاٹے

  وڈیو لنک :
حبیبہ طلعت ایک کہنہ مشق لکھاری بن چکی ہیں، دو سال سے وہ شگفتگویاؤں کی محفل میں قہقہے بکھیر رہی ہیں ۔ بالکل عمومی اندازِ میں مزاح کی پھلجڑیاں چھوڑتی ہیں ، کہ سننے والا قہقہوں کے ساتھ واہ کا دادِتحسین بھی بلند کرتا ہے-
 شگفتگو- پریشانی سے پریشانی کا علاج
  وڈیو لنک : 

آصف اکبر مزاحیہ تحریریں لکھنے میں کمال رکھتے ہیں اور اِس کے ساتھ دوسروں کے مزاح پر اُن کے جاندار قہقہے ، محفل کی رونق کو دوبالا کردیتے ہیں ، جن سے شگفتہ گو حضرات کرونا کی وجہ سے اور خانگی مصروفیات کی بنا پر سردیاں ، گرمائی میدانوں میں گذارتے ہیں ۔ 
چھور ایسی جگہ جہاں مہاجرزادہ نے 1977 اور 1989 میں اپنی فوجی زندگی کا لڑکپن اور جوانی گذاری ہے ، جہاں کے سانپ راتوں کو سپیروں کی تلاش میں نکلتے اور ہمیں خوفزدہ کرکے سانپوں سے بچنے کے لئے کھودی گئی ریتلی خندق میں تڑپ کر چھلانگ لگاتے ۔ 
وہاں بیٹھ کر بھی آصف صاحب کے حسِ مزاح میں خوف کاشائبہ تک نہ پایا ، یا شائد موبائل کی آواز کی لرزش نے بھرم رکھ لیا ہو ۔ 
ویسے بھی بھرم رکھنے میں اُنہیں یدِ طولا حاصل ہے ، یہی وجہ ہے کہ اِس یدطولا نے آنہیں بجٹ کے بہانے مزاحیہ غبار بیٹے سے بہانہ شروع کیا اور حکومتی بجٹ سے علمِ نجوم کی یونیورسٹی پر لا ٹہرایا ۔

 https://www.youtube.com/watch?v=A-f_ppxuDfQ&list=PLzcKFFkG4lWMunvQ3Y0egUKZRB24D9cD4&index=4&t=253s
 شگفتگو- بجٹ اور علمِ نجوم 
 وڈیو لنک :

شاذیہ مفتی، کا اضافہ شگفتہ گویاؤں کی محفل میں20 ویں وٹس ایپ محفل میں ہوا ۔ اُن کی پہلی تحریرحیلے رزق بہانے موت - پڑھ کر یوں لگا جیسے زمانہ ماضی بعید کی کوئی تحریر ہے ۔  مرزا رجب علی بیگ کا اندازِ تحریر یا رضیہ بٹ کے ناولوں سے لئے گئے الفاظ ۔ پھر چھاپہ پڑ گیا اور کرونا میں مٹر گشت کے بعد اپنی آواز میں پڑھی جانے والی  شگفتگو- یوں بھی ہوتا ہے کئی بار
موبائل کے گلہ خراب ہونے کے باوجود لطف دیا کیوں کہ اپنے گھر میں ہونے والی مغلئی دعوتِ طعام کا پورا حال سنا دیا ۔ 


 وڈیو لنک :

  ڈاکٹر شاہد اشرف ، خود تو نہ آسکے لیکن ایک غزل گو عاشق نامراد کا حال  رشتہ دارکی سرگزشت میں بیان کر دیا ۔ جِس کی حتمی منزل محبوبہ کے عقد میں گواہ بننا تھی ۔


ارشد مرشد اور اُن کے دوست اقبال جان بھی تشریف لائے ، جنہوں نے سننے اور قہقہے لگانے پر اکتفا کیا - 
 
یوں آصف اکبر کے گھر دوسالہ شاندار محفلِ مناثرہ ، شگفتہ گویاؤں کی قہقہہ سے بھرپور شام ایک پُر تکلف شام کی چائے ، حلیم کے مزے ، چٹخارے دارچنا چاٹ ، سینڈوچز دو اقسام کے کیک اور گرم گرم کافی کے ساتھ اختتام کو پہنچی - 



٭٭٭٭٭٭واپس٭٭٭٭٭٭





جمعہ، 11 ستمبر، 2020

ایتھوپیا - متحدہ ہندوستان کے کھانے اور عدیس کے دال سیو

بوڑھے کو ایتھوپیا جانے کا اتفاق ہوا ، جہاں 200 سال سے رہنے والے   ھندوؤں کا معلوم ہوا ۔ یہ اپنے انگریز آقاؤں کی چاکری میں یہاں آئے اور پھر یہاں ہی بس گے اور تو اور اپنے رشتہ داروں کو بھی بلا لیا - 
گوکہ اب ،  ہندوستان سے صرف واجبی سا تعلق ہے  لیکن یہ تعلق ایک مضبوط رسی سے جڑا ہوا ہے ، اور یہ رسی ہندوستان سے آنے والے  مختلف ملازمین کی ہے ۔ جو اِنہیں اپنے باپ داداؤں یا نانا نانیوں کے علاقوں کی خبربتاتے ہیں اور اِس کے علاوہ ہندوستان کے مصالحہ جات  اور وہاں پکنے والے کھانوں   کے تمام  ذائقے ، عدیس ابابا کے ہندوستانی ریستوران میں دستیاب ہیں ، جنہیں ہندوستان سے آئے ہوئے خانساماں بناتے ہیں ۔
عدیس گردی کے دوران  بوڑھے کا کئی ہندوستانی ریستوران میں جانے اور کھانے کا اتفاق ہوا  ، لیکن رہائش کے نزدیک ،" جیول آف انڈیا "  کے خانساماں یادیو شنکر  ، کی ہاتھ کی لذت  اب بھی یاد ہے ۔ 
گو کہ یہاں کی مٹھائیوں  اور پاکستان کی مٹھائیوں میں زیادہ فرق نہیں ، لیکن، نمکین میں   سیو ، چیوڑہ ، مونگ کی دال اور مکس دالی سیو   کا جواب نہیں - واپسی پر آتے ہوئے بڑھیا نے 4 کلو دال سیو پاکستان لانے کے لئے منگوا لئے ۔ اب بوڑھا پریشان  کہ امارات ائر لائن نے 35 کلو فی فرد سے سا مان 20 کلو کر دیا  ، بڑھیا کے کپڑوں کے علاوہ تحائف کا وزن   35 کلو بنتا تھا ۔ اب کیا کیا جائے ؟
خیر بڑھیا ایک کلو دال سیو  لانے میں کامیاب ہوگئی ۔   یہاں نہ تہذیب کے ، نہ شکار پوری کے اور نہ ہی کسی کے دال سیو ، یادیو  شنکرکے ہاتھ کے بنے ہوئے دال سیو کا مقابلہ کرسکتے ہیں ۔
 بڑھیا کو یہی دُکھ کیوں نہ وہ بوڑھے کی تین کلو کافی چھوڑ آتی جو کسی نہ کسی سے بعد میں منگوائی جا سکتی تھی ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
 
حیدرآباد دکن والوں کا ذوق ِ  خورد و نوش اور مہمان نوازی ‎ نواب محمود آباد کا ذوق ِ  خورد و نوش  اپنی وسعت میں ضرب المثل تھا -  اُن کے مطبخ میں 102اقسام کے پکوان تیار ہوتے تھے ۔
 نواب صاحب بھوپال کب کسی سے کم تھے ۔ ان کے خانساماں نے نئے  تجربوں کے ساتھ خوش ذائقہ ، خوش رنگ اور خوشبودار پکوانوں کی فہرست کو 148 پکوانوں تک پہنچایا ۔
  ‎ناشتے میں نان ورقی ، نان پنیری ، مونگ کی کھچڑی، چرونجی کی کھچڑی ، انڈے نیم برشت ، گردہ پالک ، نہاری ، پایہ زبان ، قیمہ ، اچار ، پاپڑ ، پھریری ماش کی دال ، تِل اور پودینے کی چٹنی ، مسور کی کھڑی دال تو ایسی کہ ترشے ہوئے پکھراج ، اسی لئے تو مثل مشہور ہوئی کہ یہ منہ اور مسور کی دال ۔ البتہ مونگ کی دال کا رواج نہ تھا کہ یہ پرہیزی کھانوں میں استعمال ہوتی تھی ۔ 
کباب تو صدیوں سے رائج ہیں لیکن حیدرآباد کی پسند ، ٹٹی کے کباب ، کباب بازاری ، طاس کباب ، برق کباب ، کباب چالکی ، کباب گولر ، جگر کباب ، کباب خطائی ، کباب اکبری ، پتھر کا گوشت ، شامی کباب ، شکم پور ، پسندہ کباب ، پتیلی کباب ، چاپ کباب ، کباب گورک ، کباب ماہی ، کباب ماہی سالم (گل دم)، جھینگوں کے کباب-
 مرغ مسلم ، بھیڑ مسلم ، سالم ران بھونی ہوئی بہت پسندیدہ تھے ۔ 
حیدرآبادی سالن اپنے ذائقے میں منفرد تھے ۔ خاص طور پر آصفیہ دوپیازہ ، آسمان جاہی دوپیازہ ، بھنا گوشت ، گردہ سینہ مغلئی ، کلیجی کا سالن ، اچاری گوشت ، ہری مرچ کا دوپیازہ ، کوفتہ ، آلو کا قورمہ ، سہ منی قورمہ ، شب دیگ شلغم ، مرغ کا قورمہ ، مرغ مغلئی ، ماہی قلیہ آصفجاہی ، ماہی قلیہ آسمان جاہی ، چمکورہ کا قلیہ ، چُگر گوشت ، بھنڈی گوشت ، بھنڈی کا قلیہ ، قیمہ آسمان جاہی ، مچھلی کا قورمہ ، مچھلی تلی ہوئی ، مچھلی کے کوفتے ، جھینگے کا سالن ، انڈوں کا خاگینہ ، خاگینہ سبزی ، مشہور عالم بگھارے بیگن ، پچمڑہ ، مٹر پنیر ، ملونی ترکاری ، دال گوشت ، کچی املی کا دالچہ ، ارہر کی دال محبوب پسند ، دم کی دال آسمان جاہی ، ٹماٹر کا کٹ ، کچے گوشت کے کوفتوں اور ابلے انڈوں کے ساتھ بورانی ، رائتہ آلو ۔ بریانی تو تھی ہی حیدرآباد پر تمام ۔
 بقول پروفیسر آغا حیدر حسن مرحوم 
"بریانی ہے اس شہر پرتمام کہ جیسا ذائقہ یہاں کے الٹے ہاتھ کے پکائے میں آوے سو کسی اور شہر کے دہنے ہاتھ کے پکائے میں نہ آئے" ۔ 
سو حیدرآباد میں کئی اقسام کی بریانی کا رواج تھا مثلاً ، رومی بریانی ، خام بریانی ، دلہن بریانی ، بریانی دوپیازہ ، مجبوبی بریانی ، شانہ بریانی ، مرغ بریانی ، مچھلی بریانی ان کے علاوہ قبولی اور ترکاری کی بریانی کا ذائقہ اور تھا۔ 
یہ سب اپنی جگہ لیکن مٹی کے ہانڈی میں پکی کھٹی دال جس پر رائی زیرہ سرخ مرچ کا تڑکہ دیا جاتا تو محلہ محلہ بگھار کی خوشبو پھیل جاتی ۔
کرڑ کا تیل اور مونگ پھلی کا تیل صرف بگھارے بیگن اور اچار میں استعمال ہوتا تھا ۔
 انباڑے کی بھاجی اور اسکے ہم وزن ہری مرچ پاؤ بھر لہسن نہ ہو تو دوپہر کے کھانے کا ذائقہ کیا ! 
یہ نہیں کہ اہل حیدرآباد کو میٹھا پسند نہ تھا لیکن مٹھائیوں میں یہاں پسند محدود تھی ۔
  شمالی ہندوستان اور بنگال جیسی مٹھائی کی بہت زیادہ خواہش یہاں نہیں رہی ۔

٭٭٭٭واپس ٭٭٭

 

ہفتہ، 5 ستمبر، 2020

پاکستان بنی اسرائیل کمیونٹی کراچی کا واحد شخص

 کراچی میں پیدا ہونے والے بہت سے یہودی جو اس وقت اسرائیل میں مقیم ہیں، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین معاہدے کے بعد پُر امید ہیں کہ وہ اپنے پیدائشی شہر کراچی کا بھی دورہ کرسکیں۔
 پاکستانی نژاد یہودیوں نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنے آبائی وطن کا دورہ کرنا چاہتے ہیں۔
 پاکستان کے قیام کے وقت کراچی میں تقریبا 2500 یہودی رہتے تھے جن کے لیے ایک عبادت گاہ بھی تھی جس کا نام تھا ’میگن شالوم سینگاگ‘ اس پر بنی اسرائیل مسجد درج تھا۔
 یہ عبادت گاہ کراچی کے علاقے رنچھوڑ لائن میں تھی جو کراچی جنوبی ضلع کی ایک قدیم ترین بستی ہے۔
 رنچھوڑ لائن کے کئی پرانے باسیوں کو یہودیوں کی یہ عبادت گاہ بہت اچھی طرح ذہن نشین ہے جب کہ کراچی میں پیدا ہونے والے یہودی اب بھی بڑی اچھی اردو بولتے ہیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے منتقل ہونے والے آخری یہودی خاندان سے جیو نیوز نے رابطہ کیا۔
 متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ٹیلی فون سروس کے آغاز ہونے کے بعد فون پر گفتگو کی۔ یہ یہودی اب بھی کراچی کی ٹھنڈی شامیں اور راوداری کو یاد کرتے ہیں۔
 ایمانوئیل میتات 59 سال کے ہیں اور اسرائیل میں رہتے ہیں، اردو بہت شاندار بولتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے شیدائی ہیں، سبز ہلالی پرچم کے رنگوں سے مزین پاکستانی قومی ٹیم کہیں بھی کرکٹ کھیلے، پاکستانی کے کئی سو میل دور بسے میتات کے دل کی دھڑکن اسرائیل میں کرکٹ دیکھتے ہوئے تیز ہوتی ہے۔
 ایمانوئیل میتات تین دہائی پہلے پاکستان سے منتقل ہوئے۔ فون پر بات ہوئی تو کہنے لگے
 ’بھائی، بریانی تیار کرو، میں دبئی آؤں گا”۔
 ایمانوئیل میتات اب کراچی جانے کی خواہش رکھتے ہیں حالانکہ ابھی یہ ایک خواب ہی ہے لیکن انہوں نے جلد دبئی جانے کا منصوبہ بنالیا ہے۔ 
میتات کا گھرانہ وہ آخری یہودی گھرانہ تھا جو پاکستان سے منتقل ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ جب اُن کے والد کی 1957 میں کراچی میں شادی ہوئی تھی تو کراچی میں یہودیوں کے 600 خاندان رہتے تھے۔ انہوں نے عبداللہ ہارون روڈ  کراچی کے، بائی  ویر بیجی  سپاری والا  پارسی   ھائی سکول ( بی وی ایس ) سے تعلیم حاصل کی۔
 میتات کہتے ہیں،
" ان کے والد ریحیم کاروباری شخصیت تھے، قالین کا کاروبار کرتے تھے اور پوری دنیا سے یہودی قالین کا آرڈر دیتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ والد پاکستان چھوڑنا نہیں چاہتے تھے، مگر کچھ مجبوریاں نہ ہوتی تو وہ بھی پاکستان نہ چھوڑتے"۔
  میتات نے بڑے فخر سے اپنا پرانا پاکستانی پاسپورٹ دکھایا جس پر ان کا مذہب بھی درج ہے۔ وہ کہتے ہیں،
"کراچی کی عبادت گاہ 1893 میں قائم ہوئی ،  شہر کی تمام یہودی آبادی جمع ہوتی تھی، بہت اطمینان سے عبادت کرکے مسلمان تانگے والے ہمیں گھروں تک پہنچاتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ متعدد بار مسلمان تانگے والے پیسے بھی نہیں لیتے تھے"۔ 

 
 Magane Shalom synagogue before destruction at Karachi
میتات نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا،
" جولائی 1988 میں عبادت گاہ کی جگہ شاپنگ پلازہ بنا دیا گیا"۔ 

میتات کے علاوہ کچھ اور یہودیوں نے بھی گفتگو کی مگر انھوں نے اپنا نام میڈیا میں نہ دینے کی شرط پر بتایا ،
"کراچی میں اُن کا بچپن گزرا مگر اب بہت درویاں پیدا ہوچکی ہیں، وہ امید کرتے ہیں کہ وہ بھی کراچی گھومنے کا خواب دیکھتے ہیں۔ کئی نے کہا کہ اُن کے آباؤ اجداد کے قبریں کراچی میں موجود ہیں، اُن قبروں پر جانا چاہتے ہیں"۔

 بشکریہ : جیو نیوز
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 
   عبد اللہ ہارون روڈ پر واقع ایڈورڈ ہاؤس ، اس کا نام سومیک کے بیٹے ، ایلس ایڈورڈ کے نام پر رکھا گیا تھا۔ سومیک کا خاندان اپنے بچوں کی تعلیم کے لئے ستمبر 1922 میں کراچی سے لندن روانہ ہوا ، اور اس امید کے ساتھ کہ ان کے اہل خانہ کو شادی کے لئے مناسب یہودی شراکت دار ملیں گے۔ عظیم معمار کی پوتیوں کے مطابق ، سومیک  کراچی سے رخصت ہونے کے بعد معمار کی حیثیت سے مکمل طور پر ریٹائر ہو گئے۔

1940 میں پولینڈ سے  نکل کر کئی جیوز کراچی آئے اور اُنہوں نے  کراچی میں پناہ لی ۔
اسرائیل کے بننے کے بعد کئی جیوز ،" علیا"  لینے کے لئے اسرائیل شفٹ ہو گئے -1953 تک پاکستان کے مختلف علاقوں میں 500 جیوز رہتے تھے ۔
 ایک شادی میں مہندی کی تقریب :
کراچی میں زیادہ تر 1838 میں مہاراشٹرا  سے آئے ہوئے  بزنس کمیونٹی  جیوز آباد ہوئے ۔  کل آبادی کا تخمینہ تقریباً 1000 سے 2500  جیوز تھا -
پاکستان میں موجود آخری جیو، فیشل بن خالد !
  تیس سال پہلے یہودی ماں اور ایک مسلمان والد کےہاں فیصل خالد کے نام سے پیدا ہوا تھا ، جو پانچ بچوں میں سب سے چھوٹا تھا۔
 ان کے والد خالد لاہور میں پیدا ہوئے اور پاکستان میں سب سے زیادہ آبادی والے شہر کراچی میں سکونت اختیار کی۔ 
"وہ ایک مذہبی مسلم گھرانے سے تھا ، لیکن ان دنوں زندگی آسان تھی اور پاکستان میں کوئی مذہبی جبر نہیں تھا ، جیسا کہ آج بھی ہے۔"
 پاکستان نے اپنے 180 ملین شہریوں میں سے ایک کو 1980 کی دہائی کے بعد پہلی بار جیو مذہب کے طور پر رجسٹر ہونے کی نیشنل ڈیٹا بیس  میں اجازت دی ہے۔
٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔