Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 20 اگست، 2015

یہود و نصاریٰ کی کتاب اللہ سے ایجاد

یہ تصویر شیئر کرتے ہی فیس بک کے "خاندانی لوگ " تلملا اُٹھے ۔

ہوا یوں ، کہ بشیر بلوچ ، آٹھ اگست کو دوبئی روانہ ہوئے ، تو ہماری رات کی سنگت میں خلل پڑ گیا ، خلل اِس لئے پڑا ، کہ میں اور بشیر بلوچ جو اِس سنگت کے روحِ رواں ہے وہی اینکر پرسن کے فرائض سنبھالتا ،  گفتگو شروع ہوتی ، شہر یار ادبِ دولہا بھائی خاموش رہتا اور رہا آزاد وہ اونگتا ہوا ، خاموش سامع ہوتا ہے ۔ لیکن جب بشیر یا میں کوئی چٹکلا چھوڑتا تو دونوں ، اچھل کر آدبی گفتگومیں حصہ لینے لگتے ۔ ورنہ ہم دونوں کو گلیوں میں چوکیداری کرنے والے کی طرح " جاگدے رہنا " کا نعرہ لگاتے ۔
شہریار ، تو چپکے سے پچھلی گلی سے نکلنے کا ماہر ہے ، ہم ویسے بھی اُسے چھوٹ دیتے ، لیکن جب آزاد کے خراٹے ، ہم تک پہنچے تو سنگت کے خاتمے کا اعلان ہوتا ۔ یہی کوئی ڈیڑھ دو بجے ۔
اب بشیر بلوچ کو معلوم ہے ، کہ میں جب گفتگو میں حصہ لیتا ہوں ، تو ایک کان میں ٹی وی کا ھیڈ فون لگا کر ٹی وی  بھی دیکھ رہا ہوتا ہوں ۔ دوسرے کان سے اُن کی باتیں بھی سُن رہا ہوتا ہوں اور جواب بھی دیتا ہوں ۔ لیپ ٹاپ اور وٹس ایپ پر آنے والے کمنٹس کے جواب بھیی دیتا ہوں اور اپنے بلاگ کے لئے ، ٹائیپ بھی کرتا جاتا ہوں ۔
لہذا جاتے ہوئے نصیحت کی کہ سنگت کو قابو میں رکھنا ۔ اب کسیے قابو کروں ؟
خیر پہلا ہفتہ ، بشیر بلوچ کی غیر موجودگی میں عجیب گذرا ، میں اُس سے ایک دن وٹس ایپ یا سکائپ پر بات کرتا اوردوسرے دن سنگت سے ۔ بازار کا چکر لگا تو ایک یو ایس بی کیمرا اور سپیکر لیتا آیا

پندرہ اگست کو میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا   میں نے بشیر کو وٹس ایپ پر لیا ، آزاد اور شہریا رکو یو فون کانفرنس کال پر لیتا ۔ لیپ ٹاپ کے لئے میں ، یو ایس بی سپیکر لے کر آیا وہ لگایا۔ جس سے بشیر بلوچ ، کو اُن کی آواز  اور بشیر بلوچ کو آواز سنانے کے لئے ، لیپ ٹاپ میں مائک کی تار لگا کر ، موبائل فون ے پاس رکھ کر ، موبائل کا سپیکر آن ، کر دیا ۔ شہریار کے لئے کوڈ بھائی صاحب اور آزاد کے کئے خانصاحب رکھا ۔ ، باتوں کے دوران بھائی صاحب کہا تو شہریار بیچ میں کود پڑا ، لیکن جب خانصاحب کہا تو آزاد بھی آگیا ، یوں ہماری سنگت میں دوبار ہ جان پیدا ہو گئی ۔

میں نے آزاد کو قائل کیا کہ وہ اپنے لیپ ٹاپ پر سکائیپ ڈاون لوڈ کے ، اُس نے ایک ماہر بلایا اور سکائپ ڈاون لوڈ کیا میں نے بھی اپنے پرانے سکائپ آئی ڈی کو ، پاسورڈ تلاش کرکے ، ایکٹو کیا ۔
کہ آزاد کی آواز سنائی دی ، " تصویر آہی ہے ۔ آرہی ہے "
مجھے پرانا وقت یاد آگیا ۔ جب میں چھت پر کھڑا ہو کر ٹی وی کا انٹینا ٹھیک کرتا تو نیچے سے آواز آتی ، بھائی تصویر آرہی ہے ، نہیں ابھی آواز آ رہی ہے "
اسی غلغلے میں آذاد کا اور میرا سکائپ ، تصویر اور آواز دکھانے لگا - آزاد خوش کہ وہ اِس ٹیکنالوجی سے دور کیسے رہا ؟
بہر حال کبھی آواز غائب ہوتی تو کبھی تصویر ۔ ایک قیامت اور میر سر پر گری ۔ میرا آن لائن ہونا تھا - کہ ٹیں ٹاں ، ٹیں ٹاں آفریں آنے لگیں کہ ہم سے بات کرو ۔
آزاد نے پوچھا ، " کون کال کر رہا ہے "،
میں نے کہا ،" پرانے سکائپ کے دوست ، میرے دوبارہ زندہ ہونے پر حیران ہیں "
میں نے اُسے لاگ آؤٹ کر کے ، اپنے فیملی آئی ڈی پر لیا تھا کہ شہریار کی کال آئی ۔
" یار ، آئی ایم او لوڈ کرو ، بہترین وڈیو ٹالک ہوتی ہے "
 تم فی الحال آزاد کے پاس جاؤ۔ وہاں آزاد نے سکائپ لگایا ہے " میں نی بتایا
یوں ، جب ہم چاروں دوست پہلی دفعہ سکائپ پر آن لائن ہوئے ، تو میں نے کہا ، آؤ دعا مانگتے ہیں ۔ میں نے دعا مانگنا شروع کی ۔
" اے تبارک و تعالیٰ ہم چاروں دوست ہزاروں میل دور بیٹھے ہوئے ایک دوسرے کو فرداً دیکھ بھی رہے ہیں اور باتیں بھی کر رہے ہیں ۔
باری تعالیٰ ، یہ سہولت تیرے اُن بندوں کی کتاب اللہ سے ایجاد ہے جنہیں ہم ، یہود و نصاریٰ کہتے ہیں اور تیرا مجرم سمجھتے ہیں ۔
اے تبارک و تعالیٰ تو اُس کے قلوب میں ، انسانیت کا ایمان اپنے ذریعے ڈال کسی مذہبی جنونی کے ذریعے نہیں اور انہیں الصالحین بنا - آمین ثم آمین "



٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
صاحبان عقل و فکر ، فہم و دانش ، آپ کی کیا رائے ہے ؟
مُفت پُور کے مُفتی کے کی  اِس دعائے خیر پر  !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔