Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 8 اپریل، 2015

دل کو جھٹکا لگانے والی تحریر

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مراکش کے دور افتادہ اور پسماندہ گاؤں میں ایک بچہ حمید رھتا تھا ۔ حمید کو تمام کلاس فیلوز اُس کی بے وقوفانہ حرکات کی وجہ سے پسند نہیں کرتے تھے ۔ یہاں تک کہ اُس کی استانی بھی اُس پر چینختی چلاتی رہتی تھی ۔
" حمید تمھیں کب عقل آئے گی "
"حمید جب عقل بٹ رہی تھی تو کیا تم گھاس چرنے گئے تھے "
" حمید گدھا تم سے زیادہ عقلمند ہوتا ہے " 
" حمید کیا تمھاری بڑی کھوپڑی میں دماغ ہے " وغیرہ وغیرہ ۔

ایک دن حمید کی ماں ، حمید کے سکول گئی تاکہ وہ اپنے پیارےے بچے کی تعلیمی قابلیت کے بارے میں معلوم کر سکے ۔
وہاں ٹیچر نے اُسے بتایا کہ اُس کا بیٹا سکول بلکہ گاؤں کا سب سے کُند ذہن بچہ ہے ، اُس کے کلاس میں سب سے کم نمبر ہوتے ہیں ، سوالوں کے جواب وہ دینے سے قاصر ہے ، یہاں تک کہ اُس کی تحریر صرف وہی پڑھ سکتا ہے اور وہ بھی اٹک اٹک کر ۔ بہتر یہ ہے حمید کو پڑھانے کے بجائے ایک گدھا لے کر دے دیا جائے تاکہ وہ تعلیم کے بجائے ، تعلیم برائے روزگار حاصل کرے ۔
لیکن اگر گدھا ، حمید سے ذہین ہوا تو وہ حمید سے کام لینا شروع کردے گا ۔ ٹیچرنے تنبیہہ کی ۔

ماں بہت دکھی ہوئی اور سوچا کہ اُس کے لائق اور ہونہار بیٹے کا اِس خبطی ٹیچر اور بے کار سکول میں رہنا بے کار ہے ۔ چنانچہ اُس نے سوشل سائینسز کے اصولوں کے تحت جو اس نے نہیں پڑھے تھے- لیکن وہ عقلمند اور ذہین تھی  ۔ 
Horizontal Mobility  کا فیصلہ کرتے ہوئے گاؤں سے شہر جانے کا فیصلہ کیا تاکہ اُس کا ہونہار بیٹا  Vertical Mobilty  کے قانون کے تحت ترقی پائے ۔

ٹیچر گاؤں کے بچوں کو پڑھاتی پڑھاتی بوڑھی ہو گئی تھی 25 سال کے بعد اُسے آٹھ اٹیک نہیں بلکہ ھارٹ اٹیک ہوا ، اُس کے بچے اُسے شہر کے ہسپتال لے آئے ، ڈاکٹروں نے اُسے بتایا کہ اُس کی ، اوپن ھارٹ سرجری ہوگی ۔

چنانچہ اُس کے بیٹوں نے ماں سے پوچھ کر ، ڈاکٹروں کو سرجری جیسے عمل سے گذرنے کا عندیہ دے دیا ۔

قارئین ، قصہ یہاں سے دل کو جھٹکا لگانے والا موڑ لیتا ہے ۔

جب ہسپتال کے روشن کمرے کے سفید بستر پر ٹیچر کی آنکھ کھلتی ہے ۔ تو اُس کے سامنے ایک ہینڈسم ڈاکٹر کا چہرہ دکھائی دیتا ہے ، جس کے چہرے پر کامیابی کی مسکراہٹ ہوتی ہے ۔ وہ اُس کی طرف جھکتا ہے ۔

ٹیچر دواؤں کے زیر اثر ادھ کھلی آنکھوں سے ڈاکٹر کا شکریہ ادا کرنے کے لئے لب کھولتی ہے ۔ تو اُس کے لب پھڑپھڑا کر رہ جاتے ہیں ۔ اُس کا چہرہ ایک طرف ڈھلکنے لگتا ہے اور چہرے کی رنگت نیلاہٹ میں تبدیل ہونے لگتی ہے ۔ وہ ہاتھ اُٹھا کر ڈاکٹر کو کچھ کہنا چاہتی ہیں ۔لیکن اُس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر جاتی ہے ۔

ڈاکٹر کو ایک شدید جھٹکا لگتا ہے کہ اُس کا تجربہ اور لیاقت ناکام ہوگئے ۔
ایسا کیوں ہوا ؟
ایسا کیوں ہوا ؟
یہ ناممکن ہے ، تمام آلات آپریشن کی کامیابی کی خبر دے رہے تھے ۔ پھر
ایسا کیوں ہوا ؟

اچانک ہسپتال کے کمرے کی خاموشی میں ایک مانوس سا شور اُٹھتا ہے ۔

ڈاکٹر پیچھے مُڑ کر دیکھتا ہے ۔ اُسے حیرت کا شدید جھٹکا لگتا ہے ۔









جہاں حمید ، وینٹی لیٹر کا پلگ نکال کر، اپنا ویکیوم کلینر لگانے کے بعد تندھی سے ہسپتال کا فرش صاف کرتا نظر آتا ہے ۔

   

1 تبصرہ:

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔