Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 8 اپریل، 2015

اقبال- شاعری ہم وارث پیغمبری است

رومی آن عشق و محبت را دلیل
تشنہ کامان را کلامش سلسبیل
گفت ’’آن شعری کہ آتش اندروست
اصل او از گرمی اﷲ ہوست
آن نوا گلشن کند خاشاک را
آن نوا برھم زند افلاک را
آن نوا بر حق گواہی میدہد
با فقیران پادشاہی میدہد
خون ازو اندر بدن سیار تر
قلب از روح الامین بیدار تر
ای بسا شاعر کہ از سحر ہنر
رہزن قلب است و ابلیس نظر
شاعر ہندی خدایش یار باد
جان او بی لذت گفتار باد
عشق را خنیاگری آموختہ
با خلیلان آزری آموختہ
حرف او چاویدہ و بی سوز و درد
مرد خوانند اھل درد او را نہ مرد
زان نوای خوش کہ نشناسد مقام
خوشتر آن حرفی کہ گوئی در منام
فطرت شاعر سراپا جستجوست
خالق و پروردگار آرزوست
شاعر اندر سینہ
ٔ ملت چو دل
ملتی بی شاعری انبار گل
سوز و مستی نقشبند عالمی است
شاعری بی سوز و مستی ماتمی است
شعر را مقصود اگر آدم گری است
شاعری ہم وارث پیغمبری است‘‘

گفتم از پیغمبری ہم باز گوی
سر او با مرد محرم باز گوی
گفت ’’اقوام و ملل آیات اوست
عصر ہای ما ز مخلوقات اوست
از دم او ناطق آمد سنگ و خشت
ما ہمہ مانند حاصل ، او چو کشت
پاک سازد استخوان و ریشہ را
بال جبریلی دہد اندیشہ را
ہاے و ہوی اندرون کائنات
از لب او نجم و نور و نازعات
آفتابش را زوالی نیست نیست
منکر او را کمالی نیست نیست
رحمت حق صحبت احرار او
قہر یزدان ضربت کرار او
گرچہ باشے عقل کل از وی مرم
زانکہ او بیند تن و جان را بہم
تیز تر نہ پا بہ را یرغمید
تا ببینی آنچہ می بایست دید
کندہ بر دیواری از سنگ قمر
چار طاسین نبوت را نگر‘‘
شوق راہ خویش داند بی دلیل
شوق پروازی ببال جبرئیل
شوق را راہ دراز آمد دو گام
این مسافر خستہ گردد از مقام
پا زدم مستانہ سوی یرغمید
تا بلندیہای او آمد پدید
من چہ گویم از شکوہ آن مقام
ہفت کوکب در طواف او مدام
فرشیان از نور او روشن ضمیر
عرشیان از سرمہ
ٔ خاکش بصیر
حق مرا چشم و دل و گفتار داد
جستجوی عالم اسرار داد
پردہ را بر گیرم از اسرار کل
با تو گویم از طواسین رسل

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔