میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 20 مئی، 2014

فلائیٹ نمبر پی کے - 705

 پی آئی اے کا  جہاز بوئنگ  720   آج سے پچپن برس قبل،  20 مئی  1965  مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے ائیرپورٹ سے دس میل دور گر کے تباہ ہو گیا تھا۔  ریت پر پڑی ایک پلاسٹک کی گڑیا نے   اخبار میں شائع ہوتے ہی پورے پاکستان کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا لی ۔  پورا ملک سوگواری میں ڈوب گیا ۔
 طیارہ میں 113 مسافر اور 14 عملہ کے ارکان سوار تھے۔ یہ ایک ایسا حادثہ تھا جس میں چھ مسافر بچ بھی گئے تھے۔
 19 اکتوبر  1962 کو کامیابی سے پہلی اُڑان کے بعد  ،  سیریل نمبر : 18379-بوئنگ 720 ،156 سیٹرز جہاز  ، 7  نومبر 1962 کو پاکستان کے ہوائی بیڑے کا حصہ بنا ۔ حادثے سے پہلے جہاز  8،378 گھنٹے پرواز کر چکا تھا ۔
 20 مئی 1965  کے دن ،  کراچی سے لندن کے لیے افتتاحی فلائٹ تھی -جو  کراچی -   دہران-قاہرہ - جنیوا    اور اس کے بعد بوئنگ  کو لندن کے ہیتھرو ائیرپورٹ پراترنا  تھا۔
  جس کے لیے پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز نے چوٹی کے صحافیوں اورٹریول ایجنسی کے بزنس سے جڑے چیدہ چیدہ افراد کو دعوت دی تھی۔
یہ ایسا حادثہ تھا جس نے ایک ساتھ بائیس پاکستانی صحافیوں کی جان لی۔ ان میں نیشنل پریس ٹرسٹ کے چیئرمین میجر جنرل حیا الدین کے علاوہ،  ناصر محمود (جنگ)، عرفان چغتائی (نوائے وقت)، ممتاز شاہ (پی پی آئی)، اے کے قریشی (اے پی پی)، صغیر الدین احمد (ڈان)، حمید ہاشمی (امروز)، ابو صالح اصلاحی (مشرق)،ایم بی خالد (بزنس ریکارڈر) اور روزنامہ حریت کے جعفر منصور شامل تھے۔
  شوہر شوکت اے میکلائی پاکستان کی نامور ٹریول ایجنسی یونیورسل ایکسپریس کے مینیجنگ ڈائریکٹر  بھی تھے۔ شوکت اے میکلائی بھی شروع میں اس افتتاحی فلائٹ میں جانے کے حوالہ سے دعوت کو نظر انداز کر چکے تھے۔ اس کے بعد جب وہ اپنی ٹریول ایجنسی کے اچھے بزنس کے باعث اپنا دعوت نامہ لینے میں کامیاب ہوئے تو ان کی اہلیہ مسز بانو شوکت میکلائی جو ٹریول ایجنسی میں ڈائریکٹر تھیں انہوں نے بھی اس فلائٹ میں جانے پہ اصرار کیا۔
 پی آئی اے نے ان سے معذرت کرتے ہوئے بتایا کہ طیارہ میں مزید گنجائش نہیں ہے۔ ایسے میں جب صحافی کے پاسپورٹ منسوخ ہو جانے کے باعث جب ایک سیٹ کی جگہ بنی تو وہ نشست ،  شوکت میکلائی کی اہلیہ مسز بانو شوکت میکلائی کو مل گئی ۔
جہاز میں ایک چینی ائرکرافٹ ڈیزائنرہوانگ  ژیقان   (Huang Zhiqian) بھی تھا ۔جو ایک چینی جیٹ جہاز   Shenyang J-8   کا چیف ڈیزائنر تھا ۔
 جب بوئنگ کے نئے نویلے جہاز نے  121 مسافروں  اور عملے کے ساتھ  جب  کراچی ائیرپورٹ سے اڑان بھری تو تمام  مسافروں کے چہروں  پرمسکراہٹ تھی- کیوں نہ ہوتی یہ وہ خوش نصیب تھے جنہیں اس افتتاحی فلائٹ میں جانے کے لیے چنا گیا تھا۔
 لندن کی منزل تک پہنچنے کے لیے جہاز نے پہلے سعودی عرب کے شہر دہران میں رکنا تھا اس کے بعد اگلا سٹاپ اوور تھا دریائے نیل کے کنارے آباد قاہرہ میں اور اس کے بعد بوئنگ نے  لندن کے ہیتھرو ائیرپورٹ پراترنا تھا۔
 اپنے شیڈول کے عین مطابق یہ پرواز پہلے سعودی عرب کے شہر دہران میں رکی۔تمام مسافر اس وقت بھی بے حد خوش اور پرجوش دکھائی دیتے تھے کیونکہ ان کا اگلا پڑاؤ  قاہرہ  تھا۔ 
 جب  جہاز قاہرہ   ائیرپورٹ سے دور تھا  کہ کپتان نے بتایا کہ   جہاز کے فلیپس میں خرابی پیدا ہو گئی ہے      اور پھر اچانک یوں محسوس ہوا جیسے طوفان آیا ہو۔      مسافر چلا رہے تھے، کچھ دعائیں مانگ رہے تھے کہ جہاز صحرا کی ریت سے ٹکرایا اور ایک زوردار دھماکہ کی آواز آئی۔
 جہاز   میں سوار تمام لوگ ہی عموماً لقمہ اجل نہیں ہوئے  چھ مسافر موت کے فرشتے نے  اُنہیں جہاز سے باہر ریت میں اچھال دیا  -ان خوش نصیبوں میں عارف رضا، ظہور الحق، جلال کریمی، امان اللہ خان، صلاح الدین صدیقی اور یونیورسل ایکسپریس کے ایم ڈی شوکت اے میکلائی شامل ہیں۔باقی جہاز میں آگ لگ گئی -
 شوکت اے میکلائی نے کئی برس بعد ایک اخباری انٹرویو میں بتایا کہ جب طیارہ گرا تو اس میں آگ لگی ہوئی تھی اور زخمی چلا رہے تھے ۔ میری بھی جب آنکھ کھلی تو شور مچا رہا تھا۔  شوکت میکلائی کہتے ہیں طیارہ کو آگ لگی ہوئی تھی ، مجھے ایک اور زخمی نے گھسیٹ کے وہاں سے تھوڑا دور کیا -تو کچھ مقامی لوگ بھاگتے ہوئے آئے جو اللہ اکبر، اللہ اکبر کی صدا بلند کر رہے تھے۔ ہم سمجھے کہ مدد آ گئی ہے لیکن کچھ دیر بعد معلوم ہوا کہ وہ تو سامان لوٹنے والے تھے اور اپنا کام کرتے ہی وہاں سے چلتے بنے-
شوکت میکلائی کے مطابق کافی دیر تک ریسکیو کے لیے کوئی نہیں پہنچ پایا تھا اور جو ہیلی کاپٹر پہنچا اس میں بھی سٹریچر تک نہیں تھا۔ 
 26 مئی  کو قاہرہ  لوکل پولیس نے معلومات دی کہ جہاز کے ڈھانچے سے  ایک ٹرانزسٹر ریڈیو برآمد ہوا ، جس میں سے  120,000مبلغ   ڈالر کے جواہرات برآمد ہوئے -جو سمگل کئے جا رہے تھے - کیوں کہ اُن کا کسی نے کلیم نہیں کیا -
 مصر میں جہاز کے حادثے میں فوت ہونے والوں کی یادگار  وہاں پر موجود پاکستانیوں نے پاکستانی سفارت خانہ کے باہر تعمیر کی ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔