Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 27 نومبر، 2016

17- مراقبہ- طریق کار ۔روشنی کا سفر ساتواں مرحلہ

چھ      اہم مراحل سے گذرنے کے بعد ہم    ساتویں  مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں -
یہاں آپ  محسوس کریں گے کہ مرتکز بننے کے بعد آپ  جب روشنی کے مراقبے میں داخل ہوتے ہیں   تو پہلے پانچ مراحل  میں آپ فوراً داخل ہو جاتے ہیں ۔ 

چھٹے    مرحلے  میں نمودار ہونے والے  سیاہ نقطے / دھبےتھوڑی دیر تو نظر آتے ہیں پھر کافی دیر بعد  نمودار ہوتے ہیں ۔ دراصل یہاں روشنی دماغ میں   چوتھے مرکز سے بر سرے پیکار ہوتی رہتی ہے  اور ہمیشہ رہے گی ،  کیوں کہ  دماغ اور دل کے درمیان رابطے کی کڑی      تاریکیوں   اور روشنی  کے درمیان ایک  تحریک کام کرتی ہے ۔  جسے ہم ادراک (مثبت و منفی قوتوں کو  جانچنے کا نام)   کہتے ہیں ۔

مرتکز  -  ارتکاز (Attenuation)   کے عمل کے لئے  مشق  :
  ٭- میرا یہ عمل 20 منٹ کا ہے ۔ٹھیک 20 منٹ بعد میری آنکھ خود بخود کھل جائے گی ۔

 دو منٹ کا یہ دورانیہ آپ بے شک  اپنی گھڑی سے دیکھیں  اور سانسوں کے اندر لینے اور باہر نکالنے  کو ریگولیٹ کریں ، ٹھیک دو منٹ، آرام سے اپنی آنکھیں موند لیں  اور    ۔۔۔
اب اگلے دو منٹ یہ الفاظ دھرائیں۔

سانس اندر کھینچتے وقت  ۔   روشنی -   روشنی-  روشنی-
سانس باہر نکالتے وقت  ۔  روشنی زندگی کی علامت ہے، 
 ارتکاز   کی  4 منٹ کی مشق کے بعد ہم   روشنی کے مراقبے کی طرف جائیں گے-

اب اپنی   سوچ میں یہ ہدایات دیں اور پہلے   چار مراحل  مرحلے  کی  ہدایات کو اپنے اند رمحسوس کریں :
سانس اندر کھینچتے وقت  ۔   روشنی -   روشنی-  روشنی-
سانس باہر نکالتے وقت  ۔  روشنی زندگی کی علامت ہے، 

1-میرے چاروں طر ف روشنی موجود، جو میرے جسم کو روشن کر رہی ہے، اور میرے سر پر روشنی کا ایک مینار ہی جو میرے سر کے پہلے حصے میں آہستہ     آہستہ داخل ہو رہا ہے-
2-وہاں  سے روشنی داخل ہو کر میری پیشانی کی طرف آ     رہی ہے، میری پیشانی روشن ہو رہی ہے اور یہاں سے تاریکی نیچے کی طرف جا رہی ہے۔
3-روشنی، میرے حلق کی طرف جا رہی ہے، میری گردن اور اوپر کا سارا حصہ روشنی سے بھر چکا ہے، یہاں موجود تاریکی نیچے کی طرف اتر چکی ہے۔
4-  اب یہ میرے  سینے میں دل کے اطراف میں پھیل رہا     ہے اور تاریکی کو مزید نیچے دھکیل رہا ہے۔  مجھے اپنے سینے سے اوپر کا تما م حصہ روشنی سے بھرا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ 
 5 -روشنی میرے دل سے میری ناف کی طرف تاریکیوں کو دھکیلتی ہوئی بڑھ رہی ہے، میرے جسم کا جوحصہ روشنی سے بھرتا جا رہاہے، وہ تاریکی سے خالی     ہوتا جا رہا ہے، تاریکی نیچے زمین کی طرف جارہی ہے، یہ روشنی میرے جسم کو توانا ئی دے رہی ہے۔ میرے جسم میں توانائی پہنچانے کا سب سے پہلا     راستہ، میری ناف تھی، جب میرا سارا جسم روشنی سے بھرا ہوا تھا، روشنی جو توانائی ہے، میرے جسم میں آہستہ آہستہ کم ہوتی گئی لیکن اب وہی توانائی،    کائینات سے روشنی کے مینار کی صورت میں میری سر سے داخل ہوکر، میرے دماغ کے مرکزی حصے سے گذرتی ہوئی، میرے حلق سے سینے میں آئی،     سینے کو منور کرتی ہوئی وہ ناف کے حصے میں پہنچی، اس کا سفر جاری ہے۔

6-    روشنی میری ناف سے میرے اوپر اور نچلے جسم کے مرکزی حصے میں پہنچ چکی ہے اور اس نے یہاں موجود تمام تاریکیوں کو مزیدنیچے دھکیل دیا ہے،     یہاں میری ریڑھ کی ہڈی کا اختتام ہوتا ہے، جس میں توانائی کا خزانہ پوشیدہ ہے یہ توانائی بھرپور زندگی کی امین ہے، میرے پورے بالائی جسم میں     آفاق سے اترتی ہوئی روشنی کی صورت میں توانائی میرے جسم کے بالائی حصے میں بھر چکی ہے اور تاریکی نیچے چلی گئی ہے۔      
سانس اندر کھینچتے وقت  ۔   روشنی -   روشنی-  روشنی-
سانس باہر نکالتے وقت  ۔   روشنی -   روشنی-  روشنی-
    7     -یہ روشنی میرے جسم کے چھ حصوں سے گذرتی  اور تاریکیوں کو دھکیلتی، ساتویں حصے کی طرف بڑھ رہی اور یہ میرے گھٹنوں سے گذرتے ہوئے     پیروں تک پہنچ چکی ہے، میرا سارا جسم روشنی سے بھر چکا ہے۔ میرے جسم کی ساری تاریکیاں میرے جسم سے نکل چکی ہیں اور انہیں زمین نے اپنی     طرف کھینچ لیا ہے۔  میں اپنے جسم کو توانائی اور روشنی سے بھرپور محسوس کر رہا ہوں۔ یہ روشنی اب میرے جسم میں بڑھتی جارہی ہے اس نے پوری     قوت سے تاریکیوں کو میرے جسم سے باہر دھکیل دہا ہے۔  آفاق سے اترتی ہوئی روشنی نے میرے سر سے داخل ہو کر ، میرے دماغ کے مرکزی     حصے سے گذرتی ہوئی، میرے حلق سے سینے میں آئی، سینے کو منور کرتی ہوئی وہ ناف کے حصے سے گذر کر جسم کے نچلے حصے میں پہنچی جہاں ریڑھ کی     ہڈی کا اختتام ہوتا ہے -وہاں سے یہ پیروں میں پہنچی، میرے جسم کا تعلق آفاق سے جڑ چکا ہے اور میرے جسم کے ساتوں حصوں  کے مرکز کو ایک لڑی     میں پرو دیا ہے، اب یہ لڑی قائم رہے گی، تاریکیاں میرے جسم میں نہیں آسکیں گی- 
روشنی زندگی کی علامت ہے، روشنی زندگی کی علامت ہے، روشنی    زندگی کی علامت ہے، روشنی، روشنی، روشنی ۔۔  دھراتے رہیں-



    جیسا کہ پہلی قسط میں بتایا جاچکا ہے کہ ،
روشنی کے اس مینار کو اپنے اندر اتارنا، ایک لمبا سفر ہے۔ یہ چند دنوں کا کام نہیں، لیکن اس کے اثرات، جسم پرجلد ہی ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
 

مراقبہ ہومیوپیتھک دواؤں کی طرح  ہے  ۔ ایلوپیتھک نہیں !
اہم نوٹ : بہت سے احباب نے پوچھا کہ ہم ، آسام مراقبہ کرنا چاہتے ہیں روشنی کا مراقبہ ہمارے لئے مشکل ہے کیوں کہ ہم دوسرے مرحلے تک بھی نہیں پہنچ پاتے ۔ 
کیا کوئی ایسا طریقہ ہے کہ جس سے ہم ذہن کا سکون حاصل کر سکیں ؟
جی کیوں نہیں ؟ 
آئیں ہم آپ کو سب سے آسان مراقبہ سکھاتے ہیں !
٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔