Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 27 مئی، 2014

کتاب اللہ اور تصور ملکیت ۔ 4

   مال انفاق کرتے وقت کن امور کا خیال رکھنا ضروری ہے ۔

لَن تَنَالُوا الْبِرَّ‌ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ وَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّـهَ بِهِ عَلِيمٌ ﴿92﴾ آل عمران
 تم بھلائی کو نہیں پاسکتے حتیٰ کہ تم اس میں سے انفاق کرو جس سے تم ”محبت“ کرتے ہو۔ اور تم جس شئے میں سے انفاق کرو گے بے شک اللہ اس کے ساتھ علیم ہے۔
زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوَاتِ مِنَ النِّسَاء  وَالْبَنِیْنَ وَالْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَالْخَیْلِ الْمُسَوَّمَۃِ وَالأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَلِکَ مَتَاعُ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَاللّٰہُ عِندَہُ حُسْنُ الْمَآبِ (14) آل عمرانلوگوں کے لئے مزین کیں ”محبت“ کی خواہش: عورتوں، بیٹوں، الذھب اور الفضہ کے ڈھیر کے ڈھیر، نشان زدہ اصیل گھوڑے، مویشی اور کھیتی میں سے۔ یہ متاعِ حیات الدنیا ہے۔ اور اللہ، اس کے نزدیک حسن المئاب ہے۔
٭۔  نیکی کیا جو اللہ نے ہمیں بتائی۔

لَّيْسَ الْبِرَّ‌ أَن تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِ‌قِ وَالْمَغْرِ‌بِ وَلَـٰكِنَّ الْبِرَّ‌ نیکی یہ نہیں کے تم اپنے چہرے المشرق یا المغرب کی قبل(سامنے) پھیرو  بلکہ نیکی تو یہ ہے:

مَنْ آمَنَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ‌ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ1- جو اللہ کے ساتھ اور یوم الاخر اور ملائکۃ اور”الکتاب“ اور نبیوں پر ایمان لایا۔

وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْ‌بَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّ‌قَابِ 
2-اورایتائے مال کیا اپنے محبت کرنے والوں پر،ذوی القربیٰ، اور یتامیٰ اورمساکین، ابن السبیل، اور سائلین اورجو الرقاب(مصیبت) میں ہیں۔


وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ
3-    اور اقام الصلوٰۃ اور ایتائے الزکوٰۃ کی۔

وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا ۖ
 4-    اور اپنے عہد کے ساتھ وفا کرنے والے جب عہد کرتے ہیں۔

وَالصَّابِرِ‌ينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّ‌اءِ وَحِينَ الْبَأْسِ ۗ
5- اور مصیت اور ضرر میں اور تنگی کے درمیان صبر کرتے ہیں۔

أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ ﴿177﴾ البقرۃ
یہ وہ لوگ ہیں جو صدیق ہیں اوریہ لوگ متقی  ہیں ۔
ہم نے لوگوں کو صدیق اور متقی سمجھنے کے اپنی میعار بنائے ہیں اور جو میعار اللہ نے بنایا ہے اسے ہم پس پشت ڈال دیتے ہیں ۔ کیوں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اللہ کے مقابلے میں ہم زیادہ  بہترین میعار بنا سکتے ہیں ۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭جاری ہے٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔